نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا دعوت دینے کے لیے پیدل سفر فرمانا
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو حضورِ اکرم ﷺ طائف والوں کو اِسلام کی دعوت دینے کے لیے طائف پیدل تشریف لے گئے ۔ آپ نے اُن کو اِسلام کی دعوت دی لیکن انھوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ آپ وہاں سے واپس ہوئے، راستہ میں ایک درخت کے سایہ میں دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ دعا مانگی:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَشْکُوْا إِلَیْکَ ضُعْفَ قُوَّتِيْ وَہَوَانِيْ عَلَی النَّاسِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ إِلٰی مَنْ تَکِلْنِيْ؟ إِلٰی عَدُوٍّ یَّتَجَہَّمُنِيْ أَمْ إِلٰی قَرِیْبٍ مَّلَّکْتَہٗ أَمْرِيْ، إِنْ لَّمْ تَکُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلاَ أُبَالِيْ غَیْرَ أَنَّ عَافِیَتَکَ أَوْسَعُ لِيْ۔ أَعُوْذُ بِوَجْہِکَ الَّذيْ أَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلَحَ عَلَیْہِ أَمْرُ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ أَنْ یَّنْزِلَ بِيْ غَضَبُکَ أَوْ یَحِلَّ بِيْ سَخَطُکَ، لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی، وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
اے اللہ ! تجھ ہی سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی۔ اے ارحم الراحمین! تو ارحم الراحمین ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے؟ کسی ایسے دشمن کے جو مجھے دیکھ کر تُرش رُو ہوتا ہے اور منہ چڑاتا ہے، یا ایسے رشتہ دار کے جس کو تو نے مجھ پر قابو دے دیا۔ اے اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تومجھے کسی کی بھی پروا نہیں ہے، تیری حفاظت مجھے کافی ہے۔ میں آپ کے اس چہرے کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوگئیں اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں، اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو۔ تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو۔ اللہ کے سوا کسی سے نیکی کی طاقت نہیں ملتی ۔ 1
یہی حدیث دعوت الی اللہ کی وجہ سے تکلیفیں برداشت کرنے کے باب میں حضرت زُہری وغیرہ کی روایت سے اور تفصیل سے آئے گی ۔