صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

سوال کرنے سے بچنا

حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ بہت زیادہ محتاج اور بد حال ہوگئے تو مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں جا کر کچھ مانگ لوں۔ چناںچہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں میں نے حضورﷺ سے سب سے پہلی جو بات سنی وہ یہ تھی کہ آپ فرما رہے تھے: جو اللہ تعالیٰ سے غنا طلب کرے گا (غنا یہ ہے کہ دل میں دنیا کی طلب وحرص نہ رہے) اسے اللہ تعالیٰ غنا عطا فرما دیں گے۔ اور جو عفّت طلب کرے گا (عفّت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی تمام منع کی ہوئی چیزوں سے اور مانگنے سے رکے، اور پاک دامن ہو) اللہ تعالیٰ اسے عفّت عطا فرمائیں گے۔ اور جو ہم سے کوئی چیز مانگے گا اور وہ چیز ہمارے پاس موجود ہوئی تو ہم اسے اپنے لیے بچا کر نہیں رکھیں گے، بلکہ ہم اسے وہ چیز دے دیں گے۔ یہ سن کر میں نے حضورﷺ سے کچھ نہ مانگا اور ویسے ہی واپس آگیا۔ (ہم نے فقر وفاقہ اور تکلیفوں کے ساتھ دین کی محنت کی جس کے نتیجہ میں) بعد میں دنیا ہم پر ٹوٹ پڑی۔1 حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں: ایک دن میں نے صبح کو بھوک کی شدّت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ تو میری بیوی یا باندی نے مجھ سے کہا: حضورﷺ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے کچھ مانگ لو۔ فلاں آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں جا کر مانگا تھا حضور ﷺ نے اسے عطا فرمایا ہے۔ چناںچہ میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو آپ بیان فرما رہے تھے۔ آپ نے اپنے بیان میں یہ بھی فرمایا: جو اللہ سے عفّت وپاک دامنی طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اسے عفّت وپاک دامنی عطا فرمائیں گے۔ اور جو اللہ سے غناطلب کرے گا اللہ اسے غنی بنا دیں گے۔ اور جو ہم سے مانگے گا ہم یا تو اسے دے دیں گے یا اس کے ساتھ غم خواری کریں گے۔ اور جو ہم سے غنا برتتا ہے اور ہم سے مانگتا نہیں ہے وہ ہمیں مانگنے والے سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ سن کر میں واپس آگیا اور حضورﷺ سے کچھ نہ مانگا۔ (جب میں نے حضورﷺ کی بات پر عمل کیا اور مانگا نہیں اور فاقہ پر صبر کیا اور پھر بھی دین کی محنت پوری طرح کرتا رہا، تو اللہ تعالیٰ نے قربانیوں کے ساتھ دین کی محنت کرنے پر جو برکت ورحمت کا وعدہ فرما رکھا ہے وہ پورا فرمایا) اور پھر اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے رہے یہاں تک کہ اب میرے علم کے مطابق اَنصار میں کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ مال دار نہیں ہے۔2 حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھ سے کچھ وعدہ فرما رکھا تھا۔ جب بنو قریظہ یہودیوں کا علاقہ فتح ہوگیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ اپنا وعدہ پورا فرمائیں اور مجھے عطا فرمائیں۔ میں نے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: جو اللہ سے غنا کو طلب کرے گا اللہ اسے غنی بنا دیں گے، اور جو قناعت اختیار کرے گااللہ اسے قناعت عطا فرما دیں گے۔ (قناعت یہ ہے کہ انسان کو تھوڑی بہت جتنی دنیا ملے اسی پر راضی ہو جائے) جب میں نے یہ سنا تو میں نے اپنے دل میں کہا: ایسی بات ہے تو پھر میں حضورﷺ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔3 حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگے گا میں اس کے لیے جنت کا ضامن بنتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ثوبان کبھی بھی کسی سے کچھ نہیں مانگا کرتے تھے۔1 ’’ابنِ ماجہ‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے حضرت ثوبان ؓ سے فرمایا: لوگوں سے کچھ نہ مانگا کرو۔ چناںچہ حضرت ثوبان سواری پر سوار ہوتے اور ان کے ہاتھ سے ان کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ یہ مجھے اُٹھا دو، بلکہ خود سواری سے نیچے اُتر کر اُٹھا تے۔2 اور اَعمالِ اسلام پر بیعت ہونے کے باب میں حضرت ابو اُمامہ ؓ کی روایت میں گزرا ہے کہ حضورﷺ نے حضرت ثوبان ؓکو اس بات پر بیعت کیا کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ حضرت ابو اُمامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ثوبان ؓکو مکہ مکرّمہ میں بھرے مجمع میں دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہوتے تھے ان کا کوڑا گر جاتا، اور بعض دفعہ وہ کوڑا کسی کے کندھے پر گر جاتا اور وہ آدمی کوڑا ان کو دینا چاہتا تو وہ اس سے کوڑا نہ لیتے، بلکہ خود سواری سے نیچے اُتر کر اس کوڑے کو اٹھاتے۔3 حضرت ابنِ ابی مُلَیکہ ؓ کہتے ہیں: بعض دفعہ حضرت ابو بکر ؓ کے ہاتھ سے اُونٹنی کی نکیل چھوٹ کر زمین پر گر جاتی تو وہ اُونٹنی کی اگلی ٹانگ پر مار کر اسے بٹھاتے اور نکیل کو خود اٹھاتے۔ لوگ ان سے کہتے: آپ ہمیں (اُونٹنی کے اُوپر سے) فرما دیتے ہم آپ کو نکیل پکڑا دیتے۔ تو فرماتے: میرے محبوب حضورﷺ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں لوگوں سے کچھ بھی نہ مانگوں۔4