صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحب زادیوں حضرت اَسماء اور حضرت عائشہ ؓ کا مال واپس کر نا

حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں: قُتَیلہ بنتِ عبد العزّیٰ بن عبدِ اسعد جو کہ بنو مالک بن حِسْل قبیلے میں سے تھیں۔ وہ ابھی مشرک ہی تھیں کہ وہ گوہ، روٹیاں اور گھی ہدیہ میں لے کر اپنی بیٹی حضرت اَسماء بنتِ ابی بکر ؓ کے پاس آئیں۔ تو حضرت اسماء نے ان کا ہدیہ لینے سے انکار کر دیا اور انھیں اپنے گھر آنے سے روک دیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے اس بارے میں حضورﷺ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {لَایَنْھٰـکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ} 3 اور اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ چناںچہ حضورﷺ نے حضرت اَسماء ؓ کو کہا کہ وہ اپنی والدہ کا ہدیہ قبو ل کرلیں اور انھیں اپنے گھر آنے دیں۔1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک مسکین عورت میرے پاس آئی۔ وہ مجھے تھوڑی سی چیز ہدیہ کرنا چاہتی تھی۔ مجھے اس کی غربت پر ترس آیا اس لیے مجھے اس سے ہدیہ لینا اچھا نہ لگا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ تم اس سے ہدیہ قبول کرلیتیں اور پھر اسے ہدیہ کے بدلے میں کچھ دے دیتیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ تم نے اس عورت کو حقیر سمجھا ہے۔ اے عائشہ! تواضع اختیار کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ تواضع کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔2