نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی دعوت دینے کے لیے جماعتوں کو بھیجنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو بلا کر فرمایا: تم تیاری کرلو، کیوں کہ میں تمہیں ایک جماعت کے ساتھ بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد طویل حدیث ذکر کی گئی ہے جس میں یہ مضمون ہے کہ چناں چہ حضرت عبدالرحمن روانہ ہوئے اور اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے ۔ اورپھر یہ حضرات وہاں سے آگے چلے حتیٰ کہ دُوْمۃُ الجندل مقام پر پہنچ گئے۔ (یہ مدینہ منورہ اور ملک ِشام کے درمیان ایک قلعہ تھا جس کے ساتھ کئی بستیاں تھیں) چناں چہ جب دُوْمہ میں حضرت عبدالرحمن داخل ہوئے تو انھوں نے دُوْمہ والوں کو تین دن اِسلام کی دعوت دی۔ تیسرے دن اَصْبغ بن عمرو کلبی ؓ مسلمان ہوگئے جو کہ نصرانی تھے اور اپنی قوم کے سردار تھے۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن نے قبیلہ جُہَینہ کے ایک آدمی حضرت رافع بن مکیثؓ کے ہاتھ حضورﷺ کی خدمت میں ایک خط بھیجا جس میں تمام حالات لکھے تو حضورﷺ نے ان کو جواب میں یہ تحریر فرمایا کہ تم اصبغ کی بیٹی سے شادی کرلو۔ چناں چہ انھوں نے اس سے شاد کرلی۔ حضرت اصبغ کی اس بیٹی کا نام تُماضِر ہے جن سے حضرت عبدالرحمن کے بیٹے ابوسلمہ پیدا ہوئے۔ 1
حضرت محمد عبدالرحمن تمیمیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے حضرت عمر وبن العاصؓ کو بھیجا تاکہ وہ عربوں کو اِسلام کی طرف جلدی آنے کی دعوت دیں۔ چوں کہ اُن کے والدعاص بن وائل کی والدہ یعنی اُن کی دادی قبیلہ بنو بلی سے تھیں اس وجہ سے انھیں قبیلہ بنو بلی کی طرف بھیجا۔ آپ اس خاندانی رشتہ د اری کی وجہ سے اس قبیلہ کو مانوس کرنا اور اس سے جوڑ بٹھانا چاہتے تھے۔ حضرت عمرو علاقہ جذام کے سلاسل نامی ایک چشمہ پر پہنچے۔ اسی چشمہ کی وجہ سے اس غزوۂ کا نام غزوۂ ذات السلاسل مشہور ہوگیا۔ جب یہ وہاں پہنچے اور انھیں زیادہ خطرہ محسوس ہوا تو انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں آدمی بھیج کرمزید مدد طلب کی۔ چناں چہ حضورﷺ نے ابو عبیدہ بن الجراحؓکو مہاجرین اولین کے ہمراہ ان کے پاس بھیجا جن میں حضرت ابوبکر وعمرؓ بھی تھے۔ آگے حدیث اور بھی ہے جیسے اَمارت کے باب میں ان شاء ا للہ آئے گی ۔ 2
حضرت براءؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓکو اِسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا۔حضرت خالد بن ولید کے ساتھ جانے والی جماعت میں میں بھی تھا۔ ہم چھ مہینے وہاں ٹھہرے۔ حضرت خالد اُن کو دعوت دیتے رہے لیکن انھوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر حضورﷺ نے حضرت علی بن طالبؓکو وہاں بھیجا اور ان سے فرمایا کہ حضرت خالد کو تو واپس بھیج دیں اور اُن کے ساتھیوں میں سے جو حضرت علی کے ساتھ وہاں رہنا چاہیں وہ رہ جائیں۔ چناں چہ حضرت براء فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جو حضرت علی کے ساتھ ٹھہر گئے۔ جب ہم اہلِ یمن کے بالکل نزدیک پہنچے تو وہ بھی نکل کر ہمارے سامنے آگئے۔ حضرت علی نے آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر انھوں نے ہماری ایک صف بنائی اور ہم سے آگے کھڑے ہوکر اُن کو حضورﷺ کا خط پڑھ کر سنایا۔ چناں چہ قبیلہ ہمدان سارا ہی مسلمان ہوگیا۔ حضر ت علی نے حضورﷺ کی خدمت میں قبیلہ ہمدان کے مسلمان ہونے کی خوش خبری کا خط بھیجا۔ جب حضورﷺ نے وہ خط پڑھا تو (خوشی کی وجہ سے) فوراً سجدہ میں گر گئے۔ پھرآپ نے (سجدے سے) سر اٹھا کر قبیلہ ہمدان کو دعا دی کہ ہمدان پر سلامتی ہو، ہمدان پر سلامتی ہو ۔ 1
حضورﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو بنو حارث بن کعب کے پاس نجران بھیجااور اُن سے فرمایا کہ قبیلہ بنو حارث سے لڑنے سے پہلے اُن کو تین دن اِسلام کی دعوت دینا۔ پھر اگر وہ اِسلام کی دعوت کو قبول کرلیں تو تم بھی اُن کے اِسلام لانے کو تسلیم کرلینا، اور اگر وہ اس دعوت کو قبول نہ کریں تو پھر تم اُن سے لڑائی کرنا۔ چناں چہ حضرت خالد مدینہ سے روانہ ہوئے اور قبیلہ بنو حارث کے پاس پہنچ گئے، تو حضرت خالد نے ہر طرف سواروں کو گشت کرنے کے لیے بھیج دیا جو یہ کہتے ہوئے اِسلام کی دعوت دے رہے تھے : أَیُّہَا النَّاسُ أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا (اے لوگو! اسلام لے آؤ سلامتی پالو گے)۔ چناں چہ وہ سب لوگ مسلمان ہوگئے اور جس اِسلام کی انھیں دعوت دی گئی تھی اس میں وہ داخل ہوگئے۔ حضورﷺ نے حضرت خالد کو حکم دیا تھا اگر قبیلہ بنو حارث مسلمان ہوجائیں اورجنگ نہ کریں تو حضرت خالد اُن میں ٹھہر کر اُن کو اِسلام اور قرآن و حدیث سکھائیں۔ چناں چہ حضرت خالد اُن میں ٹھہر کر اُن کو اِسلام اور قرآن وحدیث سکھانے لگے ۔ پھر حضرت خالد نے حضورﷺ کی خدمت میں خط بھیجا جس کا مضمون یہ تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت جناب حضرت نبی رسول اللہ، من جانب خالد بن الولید ۔
السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ و برکاتہ! میں آپ کے سامنے اُس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اما بعد! یا رسول اللہ صلی اللہ علیک۔ آپ نے بنو حارث بن کعب کی طرف مجھے بھیجا تھا اور آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ جب میں اُن کے پاس پہنچ جاؤں تو اُن سے تین دن جنگ نہ کروں بلکہ اُن کو اسلام کی دعوت دوں۔ اور اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو اُن کے اِسلام کو تسلیم کرلوں اور ان کو اِسلام کے احکام، قرآن اور حدیث سکھاؤں۔اور اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو اُن سے جنگ کروں۔ چناں چہ جیسے اللہ کے رسول کا حکم تھا میں نے اُن کے پاس پہنچ کر اُن کو تین دن اِسلام کی دعوت دی اور اُن میں گشت کرنے کے لیے سواروں کی جماعتوں کو بھیج دیا جو یوں دعوت دیتے تھے: اے بنو حارث! مسلمان ہوجاؤ سلامتی پالوگے۔ چناں چہ وہ مسلمان ہوگئے اور انھوں نے جنگ نہیں کی۔ اور اب میں ان میں ٹھہرا ہوا ہوں اور جن کاموں کے کرنے کا اللہ نے ان کو حکم کیا ہے ان کو ان کاموں کاحکم دے رہا ہوں، اور جن کاموں سے اللہ نے روکا ہے ان کو ان کاموں سے روک رہا ہوں، اور ان کو اِسلام کے احکام اور حضورﷺ کی سنت سکھا رہا ہوں۔ اب آیندہ کیا کرنا ہے میں اس کے بارے میں اللہ کے رسول کے خط کا منتظر ہوں ۔ والسلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضورﷺ نے حضرت خالدؓ کو یہ جواب اِرسال فرمایا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد نبی رسول اللہ کی طرف سے خالد بن ولید کے نام۔
سلام علیک !میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اما بعد! تمہارا خط تمہارے قاصد کے ساتھ میرے پاس پہنچا جس سے یہ معلوم ہوا کہ بنو حارث بن کعب تمہارے جنگ کرنے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے اور انھوں نے تمہاری دعوتِ اِسلام کو قبول کرلیا اور کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ لیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی ہدایت سے نواز دیا۔ لہٰذا اب تم اُن کو خوش خبری سناؤ اور اللہ کے عذاب سے ڈراؤ اور پھر تم واپس آجاؤ اور تمہارے ساتھ اُن کا ایک وفد بھی یہاں آئے۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
چناں چہ حضرت خالد ؓ حضورﷺ کی خدمت میں واپس آگئے اور اُن کے ساتھ بنو حارث بن کعب کا وفد بھی آیا۔ جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ نے اُن کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستان کے آدمی معلوم ہوتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ بنو حارث بن کعب ہیں۔ جب وہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے تو انھوں نے حضورﷺ کو سلام کیا اور کہا کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
پھر آپ نے فرمایا: کیا تم وہی لوگ ہو جن کو جب دھکا دیا جائے تو پھر وہ کام کے لیے آگے بڑھتے ہیں؟ سب خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ نے دوبارہ سہ بارہ پوچھا، پھر بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر آپ نے چوتھی مرتبہ پوچھا تو حضرت یزید بن عبد المَدَان ؓ نے کہا:جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم ہی وہ لوگ ہیں جن کو جب دھکا دیا جائے تو پھر وہ کام کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ اور یہ بات انھوں نے چار دفعہ کہی (کیوں کہ حضورﷺ نے چار دفعہ پوچھا تھا)۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت خالد مجھے یہ نہ لکھتے کہ تم مسلمان ہوگئے ہو اور تم نے جنگ نہیں کی ہے تو آج میں( تمہارے سر کٹواکر) تمہارے پیروں تلے ڈلوادیتا۔ حضرت یزید بن عبدالمدان نے عرض کیا: حضرت! (اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں) ہم نے نہ آپ کی تعریف کی ہے اور نہ حضرت خالد کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: پھر تم نے کس کی تعریف کی ہے؟ تو ان سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم نے اس اللہ کی تعریف کی ہے جس نے آپ کے ذریعہ ہمیں ہدایت سے نوازا۔ آپ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: زمانہ ٔجاہلیت میں تم اپنے مقابل دشمن پر کس وجہ سے غالب آتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم تو کسی پر غالب نہیں آتے تھے۔آپ نے فرمایا:کیوں نہیں؟ تم لوگ تواپنے مقابل دشمن پر غالب آجایا کرتے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم اپنے مقابل دشمن پر اس بات کی وجہ سے غالب آتے تھے کہ ہم متحد رہتے تھے اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے اور کسی پر ظلم کرنے میں پہل نہیں کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر آپ نے حضرت قیس بن حصینؓ کو اُن کا امیر مقرر فرمادیا۔ 1