نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا افراد کو اللہ ورسول کی دعوت دینے کے لیے بھیجنا
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ جب انصار نے حضورﷺ کی بات سن لی اور اس پر انھیں یقین آگیا اور اُن کے دل آپ کی دعوت سے پوری طرح مطمئن ہوگئے، تو انھوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لے آئے، اور یہ لوگ (سارے عالَم کے لیے) بھلائی اور خیر کا سبب بنے۔ اور انھوں نے اگلے سال موسمِ حج میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا وعدہ کیا اور اپنی قوم میں واپس چلے گئے اور حضورﷺ کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس اپنے ہاں سے ایک ایسا آدمی بھیج دیں جو لوگوں کو کتاب اللہ کی دعوت دے، کیوں کہ آدمی کے آنے سے لوگ بات جلدی مان لیں گے۔ تو حضور ﷺ نے حضرت مُصْعب بن عمیر ؓکو اُن کے ہاں بھیج دیا۔ حضرت مُصْعب قبیلہ بنو عبد الدار میں سے تھے۔حضرت مُصْعب قبیلہ بنی غنم میں حضرت اَسعد بن زُرَارہؓ کے پاس ٹھہرے۔ اوروہ لوگوں کو حضورﷺ کی باتیں سناتے اور قرآن شریف پڑھ کر سناتے۔ پھر حضرت مُصْعب حضرت سعد بن معاذؓ کے پاس ٹھہر کر دعوت کے کام میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں لوگوں کو ہدایت دیتے رہے، حتیٰ کہ انصار کے ہر گھر میں کچھ نہ کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، اور ان کے سرداروں نے بھی اِسلام قبول کرلیا، اور حضرت عمرو بن الجموحؓ بھی مسلمان ہوگئے اور ان کے بت توڑ دیے گئے۔ حضرت مُصْعب بن عمیر حضورﷺ کے پاس واپس چلے گئے اور ان کو مقریٔ (پڑھانے والے) کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔2
’’طبرانی‘‘ میں حضرت عروہ کی یہ حدیث اور زیادہ تفصیل سے مذکور ہے اور اس میں حضورﷺ کے اَنصار پر دعوت کو پیش فرمانے کا ذکر بھی ہے جیسے کہ امرِ اَنصار کی ابتدا کے باب میں اِن شاء اللہ آئے گا۔ اور اس حدیث میں یہ مضمون ہے کہ انصار اپنی قوم میں واپس چلے گئے اور خفیہ طور پر دعوت دینے لگے اوران کو رسول اللہﷺ کی خبر دی اور جو دین دے کر اللہ نے آپ کو بھیجا ہے اس کے بارے میں ان کو بتایا اور قرآن سنا کر انھیں حضورﷺ کی اور دین کی دعوت دی۔ چناںچہ اَنصار کے ہر گھر میں کچھ نہ کچھ افراد مسلمان ہوگئے۔ پھر انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس اپنے ہاں سے ایک ایسا آدمی بھیج دیں جو لوگوں کو کتاب اللہ سنا کر اللہ کی طرف دعوت دے ، کیوں کہ آدمی کے آنے سے لوگ جلدی مان لیں گے۔ چناں چہ حضورﷺ نے قبیلہ بنی عبدالدار کے حضرت مُصْعب بن عمیرؓ کو اُن کے ہاں بھیج دیا اور وہ قبیلہ بنی غنم میں حضرت اَسعد بن زُرارہ ؓ کے پاس ٹھہرے اور لوگوں کو دعوت دینے میں مشغول ہوگئے۔ اِسلام پھیلنے لگا اور اِسلام والے زیادہ ہونے لگے اور وہ خفیہ طور پر دعوت دے رہے تھے۔
پھر حضرت عروہ نے حضرت مُصْعب کے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو دعوت دینے کا اور حضرت سعدکے مسلمان ہونے اور قبیلہ بنو عبدالاشہل کے مسلمان ہونے کا تذکرہ کیا جیسے کہ حضرت مُصْعب کے دعوت دینے کے باب میں آگے آئے گا۔ پھر حضرت عروہ نے فرمایا کہ بنی نجار نے حضرت مُصْعب بن عمیر کو اپنے ہاں سے چلے جانے کو کہا اور (اس بارے میں ان کے میزبان) حضرت اَسعد بن زُرارہؓ پر انھوں نے سختی کی۔ چناں چہ حضرت مُصْعب بن عمیر حضرت سعد بن معاذ کے ہاں منتقل ہوگئے اور وہ دعوت کے کام میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں لوگوں کو ہدایت دیتے رہے، حتیٰ کہ انصار کے ہر گھر میں کچھ نہ کچھ افراد ضرور مسلمان ہوگئے اور ان کے سردار اور شُرَفا مسلمان ہوگئے اور حضرت عمرو بن الجموح ؓ بھی مسلمان ہوگئے اور ان کے بت توڑ دیے گئے اور مسلمان ہی مدینہ میں زیادہ معزّز شمار ہونے لگے اور ان کا معاملہ ٹھیک ہوگیا۔ اور حضرت مُصْعب بن عمیرؓ حضورﷺ کی خدمت میں واپس چلے گئے اور ان کو مقریٔ (پڑھانے والے) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ 1
ابونعیم نے زہری سے ’’حلیہ ‘‘میں یہ روایت اس طرح بیان کی ہے کہ انصارِ مدینہ نے حضرت معاذ بن عفراء اور حضرت رافع بن مالک ؓ کو حضورﷺ کی خدمت میں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ اپنے ہاں سے ہمارے پاس ایک ایسا آدمی بھیج دیں جو لوگوں کو کتابُ اللہ سنا کر اللہ کی دعوت دے، کیوں کہ اُن کی بات ضرور قبول کرلی جائے گی۔ چناںچہ حضورﷺ نے حضرت مُصْعب بن عمیرؓ کو اَنصار کے ہاں بھیج دیا ۔ آگے کا مضمون پچھلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ نے میری قوم کے پاس بھیجا تاکہ میں اُن کو اللہ عزّوجل کی دعوت دوں اور اُن پر اِسلام کے احکام کو پیش کروں۔ چناں چہ جب میں اپنی قوم کے پاس پہنچا تو وہ اپنے اونٹوں کو پانی پلاچکے تھے اور ان کا دودھ نکال کر پی چکے تھے۔ جب انھوں نے مجھے دیکھا تو (خوش ہوکر ) کہا:صُدِّی بن عجلانـ کو خوش آمدید ہو۔ (صُدِّی حضرت ابواُمامہؓـ کا نام ہے) اور انھوں نے یہ کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ تم اس آدمی کی طرف مائل ہوگئے ہو۔ میں نے کہا: نہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور مجھے اللہ کے رسول نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تم پر اسلام اور اس کے اَحکام پیش کروں۔ فرماتے ہیں کہ ہماری یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ وہ کھانے کا ایک بڑا پیالہ لے آئے اور اسے بیچ میں رکھ کر سب اس کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اس میں سے کھانے لگے اور مجھ سے کہا: اے صُدِّی ! تم بھی آؤ۔ میں نے کہا: تمہارا بھلا ہو! میں تمہارے پاس ایسی ذاتِ گرامی کے پاس سے آرہا ہوں جو اللہ کا نازل کردہ حکم یہ بتاتے ہیںکہ جو جانور ذبح نہ کیا جائے وہ تم پر حرام ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ اس کے بارے میں انھوںنے کیا بتایا ہے؟ میں نے کہا : یہ آیت نازل ہوئی ہے:
{حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ}سے لے کر { وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلاَمِ }تک ۔1
حرام ہوا تم پر مردہ جانور اور لہو اور گوشت سور کا ‘‘ سے لے کر ’’اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے ‘‘ تک۔
چناںچہ میں اُن کو اِسلام کی دعوت دینے لگا ، لیکن وہ اِنکار کرتے رہے ۔ میں نے کہا: تمہارا بھلا ہو! ذرا مجھے پانی تو لادو میں بہت پیاسا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں، ہم تمہیں پانی نہیں د یں گے تاکہ تم ایسے ہی پیاسے مرجاؤ۔ میرے پاس ایک پگڑی تھی میں نے اس میں اپنا سر لپیٹ لیا۔ اور میں سخت گرمی میں ریت پر لیٹ گیا میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس شیشے کا گلاس لے کر آیا، اس گلاس سے زیادہ خوب صورت گلاس کسی نے نہ دیکھا ہوگا اور اس میںایک ایسی پینے کی چیز ہے جس سے زیادہ لذیذ اور پُرکشش کسی نے نہ دیکھی ہوگی۔اس نے وہ گلاس مجھے دے دیا جسے میں نے پی لیا۔ جب میں پی چکا تو میری آنکھ کھل گئی اور اللہ کی قسم ! اس کے بعد مجھے کبھی پیاس نہیں لگی اور اب مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ پیاس کیا چیز ہوتی ہے۔1
ابو یعلیٰ نے یہ حدیث مختصر بیان کی ہے جس کے آخر میں یہ ہے کہ میری قوم کے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ تمہاری قوم کے سرداروں میں سے ایک آدمی آیا ہے اور تم نے اس کی کوئی خاطر تواضع نہیں کی۔ چناں چہ وہ میرے پاس دودھ لے کر آئے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے اس دودھ کی ضرورت نہیں (اور میں نے اُن کو خواب کا واقعہ بتایا) اور پھر اپنا (بھرا ہوا) پیٹ ان کو دکھایا جس پر وہ سب مسلمان ہوگئے ۔ بیہقی نے ’’دلائل‘‘ میں جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے اُن کو اُن کی قوم باہلہ کی طرف بھیجا تھا ۔ 2
حضرت اَحنف بن قیس ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمانؓ کے زمانے میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ اتنے میں بنو لیث کے ایک آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کرکہا: کیا میں تم کو ایک خوش خبری نہ سنادوں؟ میں نے کہا: ضرور۔ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے کہ مجھے حضورﷺ نے تمہاری قوم کے پاس بھیجا تھا، میں ان پر اسلام کو پیش کرنے لگا اور ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا تو تم نے کہا تھاکہ تم ہمیں بھلائی کی دعوت دے رہے ہو اور بھلی بات کا حکم کررہے ہو اور وہ (حضورﷺ) بھلائی کی دعوت دے رہے ہیں۔ تو حضورﷺ کو جب تمہاری یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ(اے اللہ ! اَحنف کی مغفرت فرما) ۔ حضرت اَحنفؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ہے جس پر مجھے حضورﷺ کی اس دعا سے زیادہ امید ہو۔ 1
اما م احمد اور امام طبرانی نے اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے کہ مجھے حضورﷺ نے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اِسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا، تو تم نے (دعوت سن کر) کہا تھا کہ وہ (حضورﷺ ) بھلائی کی بات کہہ رہے ہیں یا کہا تھا کہ میں اچھی بات ہی سن رہاہوں۔ پھر میں نے حضورﷺ کی خدمت میں واپس آکر تمہاری بات بتائی جس پر حضورﷺ نے فرمایا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ ( اے اللہ !اَحنف کی مغفرت فرما)۔ حضرت اَحنفؓ نے فرمایا: مجھے حضورﷺ کی اس دعا پر جتنی امید ہے اتنی اور کسی عمل پر نہیں ہے۔2
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کو زمانۂ ٔجاہلیت کے ایک بڑے سردار کے پاس اللہ تبارک وتعالیٰ کی دعوت دینے کے لیے بھیجا۔ (دعوت کو سن کر) اس سردار نے کہا: تم مجھے اپنے جس ربّ کی دعوت دے رہے ہو، وہ کس چیز کا بنا ہوا ہے لوہے یا تانبے کا؟ چاندی یا سونے کا؟ اُن صحابی نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر سارا قصہ بتایا۔ حضورﷺ نے ان کو اس کے پاس (دعوت دینے کے لیے) دوبارہ بھیج دیا، اس دفعہ بھی اس نے وہی بات کہی۔ انھوں نے آکر حضورﷺ کو پھر بتادیا۔ حضورﷺ نے تیسری مرتبہ اُن کو اس کے پاس بھیجا، اس نے پھر وہی بات کہی ۔ انھوں نے آکر حضورﷺ کو پھر بتادیا تو حضورﷺ نے فرمایا :اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سردار پر بجلی گرائی جس نے اسے جلادیا۔ چناں چہ یہ آیت نازل ہوئی:
{ِ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِہَا مَنْ یَّشَآئُ وَہُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہِ وَہُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِO}1
اور بھیجتا ہے کڑک بجلیاں پھر ڈالتا ہے جس پر چاہے، اور یہ لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں، اوراس کی پکڑ سخت ہے۔2
ابویعلیٰ اور بزّار کی ایک حدیث اسی جیسی اور ہے جس میں یہ مضمون ہے کہ حضورﷺ نے ایک صحابی کو عرب کے فرعونوں میں سے ایک فرعون کی طرف بھیجا تو اُن صحابی نے اس آدمی کے بارے میں کہا: یا رسول اللہ ! وہ تو فرعون سے بھی زیادہ سرکش ہے۔ اور اس روایت میں بھی یہ ہے کہ ان صحابی نے اس آدمی کے پاس جاکر تیسری مرتبہ پھر اپنی وہی بات دہرائی (یعنی تیسری مرتبہ پھر اس کو اللہ کی دعوت دی)۔ ابھی یہ صحابی اس آدمی سے بات کر ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے سر پر ایک بادل بھیجا جو زور سے گرجا ،پھر اس بادل میں سے ایک بجلی اس آدمی پر گری جس نے اس کی کھوپڑی کو اُڑادیا ۔ 3
اور حضرت خالد بن سعیدؓ کی حدیث پہلے میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے باب میں صفحہ ۱۵۱ پر گزر چکی ہے۔ وہ فرماتے ہیںکہ حضورﷺ نے مجھے یمن بھیجا اور فرمایا کہ عرب کے جس قبیلہ پر تمہارا گزر ہو اور تمہیں اس قبیلہ سے اذان کی آواز سنائی دی تو ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، اورجس قبیلہ سے تمہیں اذان کی آواز سنائی نہ دے ان کو اسلام کی دعوت دینا۔ اور حضور ﷺ کا حضرت عمرو بن مرہ ؓ کو ان کی قوم کی طرف بھیجنے کا قصہ عنقریب آئے گا۔