حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی جدائی کے یاد آجانے پر صحابۂ کرام ؓ کا رونا
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ مرض الوفات میں ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے ہم لوگ مسجد میں تھے، آپ نے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی۔ آپ سیدھے منبر کی طرف تشریف لے گئے اور منبر پر بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل کر آپ کے پاس بیٹھ گئے۔ اور آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں اس وقت حوضِ (کوثر) پر کھڑا ہوا ہوں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی، لیکن اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ہے۔ اور تو کوئی نہ سمجھ سکا (کہ اس بندے سے کون مراد ہے؟) البتہ حضرت ابو بکر ؓ سمجھ گئے (کہ اس سے مراد خود حضورﷺ ہیں) اور ان کی دونوں آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ رو پڑے اور یوں کہا: میرے ماں باپ آ پ پر قربان ہوں! ہم اپنے ماں باپ اور اپنا مال اور جان سب آپ پر قربان کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضورﷺ (منبر سے) نیچے تشریف لے آئے اور پھر انتقال تک منبر پر تشریف فرما نہ ہوئے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب { اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ}سورت نازل ہوئی (اور اس میں بتا دیا گیا کہ آپ جس کام کے لیے آئے تھے وہ پورا ہوگیا ہے) تو حضورﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو بلا کر فرمایا: مجھے (اس سورت میں) اپنی وفات کی خبر دی گئی ہے۔ یہ سن کر وہ رو پڑیں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: مت رو، کیوںکہ میرے خاندان میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی۔ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔ حضورﷺ کی ایک زوجہ محترمہ یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ انھوں نے (بعد میں) حضرت فاطمہ سے پوچھا: میں نے تمھیں پہلے روتے ہوئے دیکھا پھر ہنستے ہوئے (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضرت فاطمہ نے بتایا: پہلے حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: مجھے اپنی وفات کی خبر دی گئی ہے، یہ سن کر میں رو پڑی تھی۔ پھر حضو رﷺ نے مجھ سے فرمایا: مت رو، کیوںکہ میرے خاندان میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو میں ہنس پڑی تھی۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ کو اپنے مرض الوفات میں بلا یا اور ان کے کان میں کوئی بات کہی جس پر وہ رو پڑیں۔ حضورﷺ نے پھر انھیں بلا کر ان کے کان میں کوئی بات کہی جس پر وہ ہنس پڑیں۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: حضورﷺ نے پہلے مجھے بتایا کہ اس بیماری میں ان کا انتقال ہو جائے گا تو میں رو پڑی، پھر حضورﷺ نے بتایا کہ میں ان کے خاندان میں سے سب سے پہلے ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنس پڑی۔1
ابنِ سعد نے اسی جیسی حدیث حضرت اُمّ سلمہ ؓ سے بھی نقل کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت اُمّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہؓ سے ان کے پہلے رونے اور پھر ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا: حضورﷺ نے پہلے مجھے بتایا کہ عنقریب ان کا انتقال ہونے والا ہے۔ پھر یہ بتایا کہ میںحضرت مریم بنتِ عمران ؓ کے بعد جنت کی عورتوں کی سردار ہوں، اس پر میں ہنسی تھی۔
حضرت علاء ؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت فاطمہؓ رونے لگیں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اے میری بِٹیا! مت رو۔ جب میرا انتقال ہو جائے تو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھنا، کیوںکہ إِنَّا لِلّٰہِ پڑھ لینے سے انسان کو ہر مصیبت کا بدلہ مل جاتا ہے۔ حضرت فاطمہ نے کہا: یا رسو ل اللہ! آپ کا بدل بھی مل جائے گا؟ حضورﷺ نے فرمایا: میرا بدل بھی مل جائے گا۔2
حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے انھیں یمن بھیجا تو حضورﷺ ان کو ہدایات دینے کے لیے ان کے ساتھ خود بھی (شہر سے) باہر نکلے۔ حضرت معاذ سواری پر تھے اور حضورﷺ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ جب حضورﷺ ہدایات سے فارغ ہوگئے تو فرمایا: اے معاذ! شاید اس سال کے بعد آیندہ تم مجھ سے نہ مل سکو اور شاید تم میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو۔ یہ سن کر حضرت معاذ حضورﷺ کی جدائی کے غم میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ پھر حضورﷺ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور مدینہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: (قیامت کے دن) لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب متقی لوگ ہوں گے جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں (اس کے لیے کسی خاص قوم میں سے ہونا یا میرے شہر میں رہنا ضروری نہیں)۔1
امام احمدنے اسی حدیث کو عاصم بن حمید راوی سے نقل کیا ہے اس میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا: اے معاذ! مت رو، کیوںکہ (پھوٹ پھوٹ کر) رونا شیطان کی طرف سے ہے (اصل رضا بر قضا ہے)۔