حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی وفات کے خوف سے صحا بۂ کرام ؓ کا رونا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: انصار کے مرد اور عورتیں مسجد میں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں۔ حضورﷺ نے پوچھا: وہ کیوں رو رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ اس ڈر سے رو رہے ہیں کہ کہیں آپ کا انتقال نہ ہو جائے۔ چناںچہ اس پر حضورﷺ حجرہ سے باہر تشریف لائے اور اپنے منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے تھے جس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈال رکھے تھے اور آپ سر پر ایک میلی پٹی باندھے ہوئے تھے۔ حمد وثنا کے بعد آپ نے فرمایا:
اَما بعد! اے لوگو! آیندہ لوگ زیادہ ہوتے جائیں گے اور اَنصار کم ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ انصار لوگوں میںایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک، لہٰذا جو بھی انصارکے کسی کام کا ذمہ دار بنے اسے چاہیے کہ ان کے بھلا کرنے والے کی بھلائی کو قبول کرے اور ان کے برے سے درگزر کرے۔2
حضرت اُمّ فضل بنتِ حارث ؓ فرماتی ہیں: میں حضورﷺ کے مرض الوفات میں حضورﷺ کی خدمت میں آئی اور میں رونے لگی۔ حضورﷺ نے سر اٹھا کر فرمایا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے انتقال کے خوف سے اور اس وجہ سے کہ پتہ نہیں آپ کے بعد ہمیں لوگوں کی طرف سے کیسا رویہ برداشت کرنا پڑے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں میرے بعد کمزور سمجھا جائے گا۔1