حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی وفات پر صحابۂ کرامؓ کی حالت اور ان کا حضورﷺ کی جدائی پر رونا
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے دیکھا کہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کر رہے ہیں۔ حضرت ابو بکر نے اپنے غلام سے فرمایا: جاؤ اور سنو کہ لوگ چپکے چپکے کیا باتیں کر رہے ہیں، پھر مجھے آکر بتاؤ۔ اس نے واپس آکر بتایا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے۔ حضرت ابو بکر یہ سنتے ہی تیزی سے چلے اور وہ فرما رہے تھے کہ ہائے! میری کمر ٹوٹ رہی ہے۔ انھیں اتنا زیادہ غم تھا کہ لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ مسجد تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بہرحال وہ ہمت کر کے کسی طرح مسجد پہنچ ہی گئے۔2
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نے دنیا سے پردہ فرما لیا تو حضرت ابوبکرؓ حضورﷺ کے حجرہ سے مسجد میں تشریف لائے۔ اس وقت حضرت عمرؓ مسجد میں لوگوں میں بیان کر رہے تھے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اے عمر! بیٹھ جاؤ۔ (اس پر حضرت عمر بیٹھ گئے) حضرت ابو بکر نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور کلمۂ شہادت کے بعد فرمایا:
اَما بعد! تم میں سے جو آدمی حضرت محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رہیں گے ان کو موت نہیں آسکتی۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاoئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ}1 آخر تک۔
اور محمد (ﷺ) نرے رسول ہی تو ہیں۔ آپ سے پہلے اور بھی بہت رسول گزر چکے ہیں۔ سواگر آپ کا انتقال ہو جاوے یا آپ شہید ہی ہو جاویں تو کیا تم لوگ اُلٹے پھر جاؤ گے؟
حضرت ابنِ عباس ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ گویا لوگ حضرت ابو بکر کی تلاوت سے پہلے اس آیت کو جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ بھی اُتری ہے۔ تمام لوگوں نے حضرت ابو بکر سے اس آیت کو ایک دم لے لیا اور ہر آدمی اسے پڑھنے لگا۔ اور حضرت عمر بن خطّاب نے فرمایا: اللہ کی قسم! جوں ہی میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو میں تو دہشت کے مارے کانپنے لگ گیا اور میرے پیروں میں اُٹھانے کی سکت نہ رہی اور میں زمین پر گر گیا۔ اور جب میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تب مجھے پتہ چلا کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے ۔2
حضرت عثمان بن عفّان ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کا انتقال ہوا تو حضورﷺ کے صحابہ ؓ کو اس کا اتنا زیادہ رنج وصدمہ ہوا کہ بعض صحابہ کو تو یہ وسوسہ بھی آنے لگ گیا (کہ اب اسلام مٹ جائے گا)۔ میں بھی ان ہی لوگوں میں تھا۔ ایک دن میں مدینے کی ایک حویلی میں بیٹھا ہو ا تھا اورحضرت ابو بکر ؓ کی بیعت ہو چکی تھی کہ اتنے میں حضرت عمر ؓ میرے پاس سے گزرے، لیکن شدتِ غم کی وجہ سے مجھے اُن کے گزرنے کا بالکل پتا نہ چلا۔ حضرت عمر سیدھے حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! کیا میں آپ کو ایک عجیب بات نہ بتاؤں؟ میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا اور میں نے انھیں سلام کیا، لیکن انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ آگے اور حدیث بھی ہے جیسا کہ سلام کے با ب میں آئے گی۔1
حضرت عبد الرحمن بن سعید بن یربوع ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت علی بن ابی طالب ؓ آئے، انھوں نے سر پر کپڑا ڈالا ہوا تھا اور بہت غمگین تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے بڑے غمگین نظر آرہے ہو؟ حضرت علی نے کہا: مجھے وہ زبردست غم پیش آیا ہے جو آپ کو نہیں آیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: سنو! یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں تمھیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہارے خیال میں کوئی آدمی ایسا ہے جسے مجھ سے زیادہ حضورﷺ کا غم ہوا ہو۔2
حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ (کا انتقال ہو چکا تھا اور ان) کا جنازہ ہمارے گھروں میں رکھا ہوا تھا۔ ہم سب اَزواجِ مُطہّرات جمع تھیں اور رو رہی تھیں اور اس رات ہم بالکل نہ سوئی تھیں۔ ہم آپ کو چارپائی پر دیکھ کر خود کو تسلی دے رہی تھیں کہ اتنے میں آخر شب میں حضورﷺ کو دفن کر دیا گیا اور قبر پر مٹی ڈالنے کے لیے ہم نے پھاؤڑوں کے چلنے کی آواز سنی تو ہماری بھی چیخ نکل گئی اور مسجد والوں کی بھی، اور سارا مدینہ اس چیخ سے گونج اٹھا۔ اس کے بعد حضرت بلالؓ نے فجر کی اذان دی تو جب انھوں نے اذان میں حضور ﷺ کا نام لیا یعنی أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو زور زور سے رو پڑے اور اس سے ہما را غم اور بڑھ گیا۔ تمام لوگ آپ کی قبر کی زیارت کے لیے اندر جانے کی کوشش کرنے لگے اس لیے دروازہ اندر سے بند کرنا پڑا۔ ہائے! وہ کتنی بڑی مصیبت تھی۔ اس کے بعد جو بھی مصیبت ہمارے اوپر آئی تو حضور ﷺ (کے جانے) کی مصیبت کا یاد کرنے سے وہ مصیبت ہلکی ہوگئی۔3
حضرت ابو ذُؤیب ہُذلی ؓ فرماتے ہیں: میں مدینہ منوّرہ آیا تو میں نے دیکھا کہ مدینہ والے اونچی آواز سے ایسے زور زور سے رو رہے ہیں جیسے کہ سارے حاجی اِحرام کی حالت میں زور سے لبیک کہہ رہے ہوں۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا: حضورﷺ کا انتقال ہوگیا ہے (اس وجہ سے سب لوگ رو رہے ہیں)۔1
حضرت عبید اللہ بن عمیر ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت مکہ مکرّمہ اور اس کے آس پاس کے علاقہ کے امیر حضرت عتّاب بن اُسید ؓ تھے۔ جب مکہ والوں کو حضور ﷺ کے انتقال کی خبر ملی تو مسجدِ حرام میں بیٹھے ہوئے سارے مسلمان زور زور سے رونے لگ گئے اور شدّتِ غم کی وجہ سے حضرت عتّاب تو مکہ مکرّمہ سے باہر ایک گھاٹی میں چلے گئے (تاکہ تنہائی میں بیٹھ کر روتے رہیں)۔ حضرت سہیل بن عمروؓ نے آکر حضرت عتّاب کو کہا: (تنہائی چھوڑو اور) کھڑے ہو کر لوگوں میں بات کرو۔ انھوں نے کہا: حضورﷺ کے انتقال کی وجہ سے مجھ میں بات کرنے کی ہمت نہیں۔ حضرت سہیل نے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں، آپ کی جگہ میں بات کر لوں گا۔ چناںچہ دونوں اس گھاٹی سے نکل کر مسجدِ حرام آئے اور حضرت سہیل نے کھڑے ہو کر بیان کیا۔ انھوں نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد اپنے بیان میں وہ تمام باتیں کہہ دیں جو حضرت ابو بکر ؓ نے مدینہ میں فرمائی تھیں، ان میں سے ایک بات بھی تو نہ چھوڑی (اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مکہ والوں کے سنبھالنے کا ذریعہ بنا لیا)۔ جنگِ بدر کے موقع پر حضرت سہیل بن عمرو بھی کافر قیدیوں میں تھے۔ حضرت عمر اُن کے آگے کے دانت نکالنا چاہتے تھے تو ان سے حضورﷺ نے فرمایا تھا: ارے عمر! تم کیوں ان کے آگے کے دانت نکالنے لگے ہو؟ انھیں چھوڑ دو، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ انھیں (اپنے دین کی خدمت کے لیے) کھڑے ہونے کا ایسا زبر دست موقع دے جس سے تمھیں بہت زیادہ خوشی ہو۔ چناںچہ یہ وہی موقع تھا جس کی حضورﷺ نے خبر دی تھی۔ اور ان کے اس بیان کا بہت اثر ہوا اور مکہ مکرّمہ اور اس کے آس پاس کے سارے علاقے کے مسلمان سنبھل گئے اور حضرت عتّاب کی اما رت اور مضبوط ہوگئی۔1
حضرت ابو جعفرؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ (کے انتقال) کے بعد کبھی حضرت فاطمہ ؓ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، ہاں صرف تھو ڑا سا مسکرا لیتیں جس سے چہرے کی ایک جانب ذرا لمبی ہو جاتی۔2