حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی وفات پر صحابۂ کرامؓ نے کیا کہا
حضرت اسحاق ؓ کہتے ہیں: حضورﷺ کے انتقال پر حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: آج ہم وحی سے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے آنے والے کلام سے محروم ہوگئے۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت اُمّ ایمنؓ رونے لگیں تو کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ حضورﷺ کے انتقال پر کیوں رو رہی ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: (میں حضورﷺ کے انتقال پر نہیں رو رہی ہوں) کیوںکہ مجھے یقین تھا کہ حضور ﷺ کا عنقریب انتقال ہو جائے گا، میں تو اس پر رو رہی ہوں کہ وحی کا سلسلہ اب بند ہوگیا۔4
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا: آؤ، حضرت اُمّ ایمنؓ کی زیارت کرنے چلتے ہیں۔ (میں بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ گیا) جب ہم حضرت اُمّ ایمن کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ ان حضرات نے ان سے فرمایا: آپ کیوں روتی ہیں؟ اللہ کے ہاں جا کر اللہ کے رسول ﷺ کو جو کچھ ملا ہے وہ ان کے لیے یہاں سے (ہزاروں گنا) بہتر ہے۔ حضرت اُمّ ایمن نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وجہ سے نہیں رو رہی کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ کے ہاں جا کر اللہ کے رسول ﷺ کو جو کچھ ملا ہے وہ ان کے لیے یہاں سے (ہزاروں گنا) بہتر ہے، بلکہ میں تو اس وجہ سے رو رہی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔ یہ بات ایسی مؤثر تھی کہ اسے سن کر وہ دونوں حضرات بھی رونے لگ پڑے۔1
حضرت طارق ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقا ل ہوا تو حضرت اُمّ ایمنؓ رونے لگیں۔ کسی نے ان سے کہا: اے اُمّ ایمن! آپ کیوں روتی ہیں؟ انھوں نے فرمایا: میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ اب آسمان کی خبریں ہمارے پاس آنی بند ہوگئی ہیں۔2
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت اُمّ ایمنؓ نے فرمایا: میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ دن رات ہمارے پاس آسمان کی خبریں تازہ بتازہ آیا کرتی تھیں یہ سلسلہ اب بند ہو گیا ہے، میں اس پر رو رہی ہوں۔ حضرت اُمِّایمنؓ کی اس بات پر لوگوں کو بہت تعجب ہوا۔3
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے انتقال پر لوگ رونے لگے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہماری تمنا یہ تھی کہ ہم حضورﷺ سے پہلے مر جاتے، کیوںکہ اب ہمیں خطرہ ہے کہ آپ کے بعد کہیں ہم فتنوں میں نہ مبتلا ہو جائیں۔ اس پر حضرت معن بن عدی ؓ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! میری تمنا تو یہ نہیں تھی کہ میں حضورﷺ سے پہلے مر جاتا، بلکہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جیسے میں نے حضورﷺ کی زندگی میں حضورﷺ کو سچا مانا اور ان کی تصدیق کی ایسے ہی ان کے انتقال کے بعد ان کی تصدیق کروں۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی بیماری اور بڑھ گئی اور آپ بہت زیادہ بے چین ہوگئے تو حضرت فاطمہ ؓ نے کہا: ہائے ابا جان کی بے چینی! حضورﷺ نے ان سے فرمایا: آج کے بعد تمہارے والد پر کبھی بے چینی نہیں آئے گی۔ پھر جب حضورﷺ کا انتقال ہو گیا تو حضرت فاطمہ نے فرمایا: ہائے ! میرے ابا جان نے ربّ کی دعوت قبول کرلی۔ ہائے! میرے ابا جان کا ٹھکانا جنت الفردوس بن گیا۔ ہائے میرے ابا جان! ان کی موت پر ہم حضرت جبرائیل سے تعزیت کرتے ہیں۔ پھر جب حضورﷺ دفن ہوگئے تو حضرت فاطمہ نے فرمایا: اے انس! تمہارے دل حضورﷺ پر مٹی ڈالنے کے لیے کیسے آمادہ ہوگئے؟1
حضرت فاطمہؓ نے فرمایا: اے انس! تمہارے دل کیسے آمادہ ہوگئے کہ تم حضورﷺ کو مٹی میں دفنا کر واپس آگئے؟ حضرت حماد کہتے ہیں: جب حضرت ثابت ؓ یہ حدیث بیان کرتے تو اتنا روتے کہ پسلیاں ہلنے لگتیں۔2
حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں کہ (حضورﷺ کی پھوپھی) حضرت صفیہ بنتِ عبد المطلب ؓ نے حضور ﷺ کی وفات پر چند اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے:
۱۔ میرا دل غمگین ہے اور میں نے رات اس آدمی کی طرح گزاری جس کا سب کچھ چھن گیا ہو، اور میں نے انتظار میں اس آدمی کی طرح ساری رات جاگ کر گزاری جو لُٹ گیا ہو اور اس کے پاس کچھ نہ بچا ہو۔
۲۔ اور یہ سب کچھ ان غموں اور پریشانیوں کی وجہ سے ہے جنھوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے۔ کاش کہ مجھے موت کا جام اس وقت پلا دیا جاتا۔
۳۔ جب کہ لوگوں نے کہا: مقدر میں لکھی ہوئی موت حضورﷺ پر آگئی ہے ۔
۴۔ جب ہم حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس گئے تو ہماری گردن کے بال غم کی وجہ سے سفید ہوگئے۔
۵۔ جب ہم نے آپ کے گھروں کو دیکھا کہ اب وہ وحشت ناک ہوگئے ہیں اور میرے حبیبﷺ کے بعد اب ان میں کوئی نہیں رہا۔
۶۔ تو اس سے مجھ پر بہت بڑا غم طاری ہوگیا جو بہت دیر تک رہے گا، اور جو میرے دل میں ایسا پیوست ہوا کہ وہ دل رعب زدہ ہوگیا۔
اور یہ اشعار بھی حضرت صفیہؓ نے کہے جن کا ترجمہ یہ ہے:
۱۔ غور سے سنو! یا رسول اللہ! آپ ہمارے ساتھ سہولت کا معاملہ کرنے والے تھے، آپ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے اور سخت معاملہ کرنے والے نہ تھے۔
۲۔ آپ ہمارے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرنے والے اور نہایت مہربان اور ہمارے نبی ﷺ تھے، اور ہر رونے والے کو آج آپ پر رو لینا چاہیے۔
۳۔ میری زندگی کی قسم! میں نبی کریم ﷺ کی موت کی وجہ سے نہیں رو رہی ہوں، بلکہ آ پ کے بعد آنے والے فتنوں اور اختلافات کی وجہ سے رو رہی ہوں۔
۴۔ حضرت محمد ﷺ کے تشریف لے جانے اور ان کی محبت کی وجہ سے میرے دل پر گرم لوہے سے داغ لگے ہوئے ہیں۔
۵۔ اے فاطمہ! حضرت محمد ﷺ کا ربّ اللہ تعالیٰ اس قبر پر رحمت بھیجے جو یثرِب میں آپ کا ٹھکانا بنی ہے۔
۶۔ میں حضرت حسنؓ کو دیکھ رہی ہوں کہ آپ نے اسے یتیم کر دیا، اور اسے اس حال میں چھوڑ دیا کہ وہ رو رو کر دور چلے جانے والے اپنے نانا کو پکار رہا ہے۔
۷۔ میری ماں، خالہ، چچا اور میری جان اور میری آل اولاد سب اللہ کے رسولﷺ پر قربان ہیں۔
۸۔ آپ نے صبر فرمایا اور انتہائی صداقت کے ساتھ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ او ر آپ کا انتقال اس حال میں ہو ا کہ آپ دین میں مضبوط اور آپ کی ملّت واضح اور آپ کا دین بالکل صاف ستھرا ہے۔
۹۔ اگر عرش کا مالک آپ کو ہم میں باقی رکھتا تو ہم بڑے خوش قسمت ہوتے، لیکن (آپ کے انتقال فرمانے کا) اللہ کا فیصلہ پورا ہو کر رہا۔
۱۰۔ اللہ کی طرف سے آپ پر سلام اور تحیہ ہو اور آپ کو خوشی خوشی جناتِ عدن میں داخل کیا جائے۔1
حضرت محمد بن علی بن الحسینؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت صفیہؓ (حضورﷺ کے سامنے) اپنی چادر سے اشارہ کر کے یہ شعر پڑھ رہی تھیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
آپ کے بعد پریشان کن حالات اور سخت مصیبتیں پیش آگئی ہیں، اگر آپ اس موقع پر تشریف فرما ہوتے تو یہ حالات اور مصیبتیں اتنی زیادہ نہ ہوتیں۔1
حضرت غنیم بن قیسؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے والد کو سنا کہ وہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے جن کا ترجمہ یہ ہے:
۱۔ ہوش سے سنو! حضرت محمدﷺ کے تشریف لے جانے کی وجہ سے میں ہلاک ہوگیا۔ حضورﷺ کی زندگی میں میرا خاص ٹھکانا تھا۔
۲۔ جہاں میں ساری رات صبح تک امن وچین سے گزارتا تھا۔2