حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
صحابۂ کرامؓ کا نبی کریم ﷺ کا اتباع کرنا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ کا ایک بوریا تھا جس کا رات کو حجرہ سا بناکر اس میں آپ نماز پڑھا کرتے اور دن کو اسے بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے۔ آہستہ آہستہ لوگ بھی حضور ﷺ کے پاس آکر آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے (یہ تراویح کی نماز تھی)۔ جب لوگ زیادہ ہوگئے توآپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! تم اعمال اتنے اختیار کرو جتنے اعمال کی پابندی تمہارے بس میں ہے، کیوںکہ جب تک تم ( عمل کرنے سے) نہیں اکتاؤ گے اس وقت تک اللہ تعالیٰ (ثواب دینے کا سلسلہ) نہیں روکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ عمل ہے جو ہمیشہ ہو چاہے تھوڑا ہو۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت محمدﷺ کے گھر والے اور خصوصی تعلق والے جب کوئی عمل شروع کرتے تو پوری پابندی اور اہتمام سے اسے کرتے۔2
حضرت انس بن مالک ؓ نے حضورﷺ کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی (اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھی) تو لوگوں نے انگوٹھیا ں بنوا کر پہن لیں۔ بعد میں حضور ﷺ نے وہ انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اتار دیں۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے وہ اتار دی اور فرمایا: آیندہ میں یہ انگوٹھی کبھی نہیں پہنوں گا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں۔2
حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں: (صلحِ حدیبیہ کے موقع پر) قریش نے خارجہ بن کُرز کو مسلمانوں کی جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے واپس آکر مسلمانوں کی بڑی تعریف کی۔ اس پر قریش نے کہا: تم دیہاتی آدمی ہو، مسلمانوں نے تمہارے سامنے اپنے ہتھیاروں کو ذرا زور سے ہلایا جن کی آواز سے تمہارا دل اُڑ گیا (یعنی مر عوب ہوگیا)۔ تو پھر مسلمانوں نے تم سے کیا کہا اور تم نے ان کو کیا کہا اس سب کا تم کو پتا ہی نہ چل سکا۔ پھر قریش نے عر وہ بن مسعود ؓ کو بھیجا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) انھوں نے آکر کہا: اے محمد! یہ کیا بات ہے؟ آپ اللہ کی ذات کی طرف دعوت دیتے ہو اور مختلف قبیلوں کے گرے پڑے لوگوں کو لے کر اپنی قوم کے پاس آئے ہو، اور آپ ان میں سے بہت سوں کو جانتے ہو اور بہت سوں کو جانتے بھی نہیں ہو۔ اور آپ ان لوگوں کے ذریعہ اپنی قوم سے قطع رحمی کرنا چاہتے ہو، اور ان کی بے عزّتی کر کے ان کا خون بہانا چاہتے ہو، اور ان کے مال پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں تو اپنی قوم کے ساتھ صرف صلہ رحمی کرنے آیا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے دین سے بہتر دین اور ان کی زندگی سے بہتر زندگی ان کو عطا فرمائے۔ چناںچہ انھوں نے بھی واپس جا کر قریش کے سامنے مسلمانوں کی بڑی تعریف کی تو مشرکین کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے انھیں مشرکوں نے اور زیادہ تکلیفیں پہنچانی شروع کر دیں۔
حضورﷺ نے حضرت عمر ؓ کو بلا کر فرمایا: اے عمر! کیا (مکہ جا کر) تم اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو میرا پیغام پہنچانے کے لیے تیار ہو؟ انھوں نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! کیوںکہ اللہ کی قسم! مکہ میں اب میرے خاندان کا کوئی آدمی باقی نہیں رہا۔ اس مجمع میںاور بہت سے ساتھی ایسے ہیں جن کا مکہ میں کافی بڑا خاندان موجود ہے (اور خاندان والے اپنے آدمی کی حفاظت وحمایت کریں گے)۔ چناںچہ حضورﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو بلا کر مکہ مکرّمہ بھیج دیا۔ حضرت عثمان اپنی سواری پر سوار ہو کر چلے اور مشرکوں کے لشکر میں پہنچ گئے۔ مشرکوں نے ان کا مذاق اُڑایا اور ان سے برا سلوک کیا۔ پھر حضرت عثمان کے چچازاد بھائی اِبان بن سعید بن عاص نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اپنے پیچھے زین پر بٹھا لیا۔ جب حضرت عثمان ان کے پاس پہنچے تو اِبان نے ان سے کہا: اے چچازاد بھائی! یہ کیا بات ہے؟ آپ مجھے بہت تواضع اور عاجزی والی شکل وصورت میں نظر آرہے ہو۔ ذرا لنگی ٹخنوں سے نیچے لٹکاؤ (تاکہ کچھ متکبرا نہ شان پیدا ہو)۔ انھوں نے آدھی پنڈلیوں تک لنگی باند ھ رکھی تھی۔ حضرت عثمان نے ان سے فرمایا: (میں لنگی نیچے نہیں کر سکتا، کیوںکہ) ہمارے حضرت کا لنگی باندھنے کا یہی طریقہ ہے۔ چناںچہ انھوں نے مکہ میں جا کر ہر مسلمان قیدی کو حضورﷺ کا پیغام پہنچا دیا۔
ادھر ہم لوگ (حدیبیہ میں) دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ کے منادی نے زور سے اعلان کیا کہ بیعت ہونے کے لیے آجاؤ ، بیعت ہونے کے لیے آجاؤ۔ روح القدس (حضرت جبرائیل ؑ) آسمان سے تشریف لائے ہیں۔ چناںچہ ہم سب لوگ حضور ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوگئے، اس وقت آپ کیکر کے در خت کے نیچے تھے اور ہم آپ سے بیعت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسی واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے:
{لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ}1
با لتحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جب کہ یہ لوگ آپ سے درخت (سمرہ) کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔
چوںکہ اس وقت حضرت عثمان ؓ مکہ میں تھے اور یہاں موجود نہیں تھے اس لیے حضور ﷺ نے ان کی بیعت کے لیے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا کہ یہ عثمان کی بیعت ہوگئی۔ اس پر لوگوں نے کہا: (حضرت عثمان) ابو عبد اللہ کو مبارک ہو (کہ ان کے بغیر ہی ان کی بیعت ہوگئی اور ادھر) وہ بیت اللہ کا طواف کر ر ہے ہیں اور ہم یہاں ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، ہرگز نہیں، چاہے کتنے سال گزر جائیں، جب تک میں طواف نہیں کروں گا عثمان ہرگز طواف نہیں کرے گا۔1
ابنِ سعد کی روایت میں یہ ہے کہ اِبان نے حضرت عثمان ؓ سے کہا: اے میرے چچازاد بھائی! آپ نے بہت تواضع والی شکل وصورت بنا رکھی ہے، ذرا لنگی ٹخنوں سے نیچے لٹکاؤ جیسے کہ آپ کی قوم کا طریقہ ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا: نہیں، ہمارے حضرت ﷺ اسی طرح آدھی پنڈلیوں تک لنگی باندھتے ہیں۔ اِبان نے کہا: اے میرے چچازاد بھائی! بیت اللہ کا طواف کرلو۔ حضرت عثمان نے فرمایا: جب تک ہمارے حضرت ﷺ کوئی کام نہ کر لیں اس وقت تک ہم وہ کام نہیں کرتے، ہم تو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں (اس لیے میں طواف نہیں کروں گا)۔
حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں: جنگِ یمامہ میں مُسَیلمہ کذاب مارا گیا اور اس کا فتنہ اور اس کا لشکر ختم ہوگیا، لیکن اس جنگ میں صحابۂ کرام ؓ بڑی تعداد میں شہید ہوگئے۔ بالخصوص قرآن پاک کے حافظوں کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی تو اس جنگ کے بعد حضرت ابو بکر ؓ نے مجھے بلایا۔ میں ان کی خدمت میں گیا تو وہاں ان کے پاس حضرت عمر بن خطّابؓ بھی تھے۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: یہ (یعنی حضرت عمر ؓ) میرے پاس آئے اور یوں کہا: اس جنگِ یمامہ میں قرآن کے حافظ بہت زیاد ہ تعداد میں شہید ہوگئے ہیں۔ (ایک روایت کے مطابق اس جنگ میں چودہ سو صحابہ شہید ہوئے جن میںسے سات سو صحابہ حافظ تھے)۔ مجھے یہ ڈر ہو رہا ہے کہ اگر آیندہ لڑائیوں میں یوں ہی قرآن کے حافظ بڑی تعداد میں شہید ہوتے رہے تو پھر قرآن مجید کا اکثر حصہ جاتا رہے گا، اس لیے میرا خیال یہ ہے کہ آپ سارا قرآن ایک جگہ لکھوا کر محفوظ کر لیں۔ (اس سے پہلے سارا قرآن حضورﷺ کے زمانہ میں ایک جگہ لکھا ہوا نہیں تھا، بلکہ متفرق صحابہ کے پاس تھوڑا تھوڑا کر کے لکھا ہو ا تھا) میں نے حضرت عمر سے کہا: ہم اس کام کی جرأت کیسے کریں جسے حضورﷺ نے نہیں کیا ہے؟ حضرت عمر نے مجھ سے کہا: یہ کام سراسر خیر ہی خیر ہے۔ حضرت عمر مجھ پر اصرار کرتے رہے اور ضرورت کا اظہار کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی اس کام کے لیے شرح صدر کر دیا جس کے لیے حضرت عمر کا شرح صدر کیا تھا، اور میری رائے بھی حضرت عمر کے موافق ہوگئی۔
حضرت زید کہتے ہیں: اس وقت حضرت عمر حضرت ابو بکر کے پاس خاموش بیٹھے ہوئے تھے کچھ بات نہیں فرما رہے تھے۔ پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم جوان ہو، سمجھ دار ہو، تم پر کسی قسم کی بدگمانی بھی ہمیں نہیں، اور تم حضورﷺ کے فرمانے پر وحی لکھا کرتے تھے اس لیے تم ہی سارے قرآن کو ایک جگہ جمع کر دو۔ حضرت زید کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگرحضرت ابو بکر مجھے کسی پہاڑ کے پتھر اِدھر سے اُدھر منتقل کرنے کا حکم دیتے تو یہ کام میرے لیے قرآن ایک جگہ جمع کرنے سے زیادہ بھاری اور مشکل نہ ہوتا۔ میں نے عرض کیا: آپ حضرات ایسا کام کس طرح کر رہے ہیں جسے حضورﷺ نے نہیں کیا؟ حضر ت ابو بکر نے فرمایا: یہ کام سراسر خیر ہی خیرہے۔ اور حضرت ابوبکر بار بار مجھے فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی اس بارے میں شرح صدر فرما دیا جس بارے میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا فرمایا تھا، اور میری رائے بھی ان دونوں حضرات کے موافق ہوگئی۔ پھر میں نے قرآن کو تلاش کرنا شروع کیا اور کاغذوں پر، سفید پتھروں پر، چوڑی ہڈیوں پر اور کھجور کی ٹہنیوں پر جو قرآن لکھا ہو ا تھا اور جو قرآن حضراتِ صحابہ کے سینوں میں محفوظ تھا اس سب کو جمع کر دیا، یہاں تک کہ {لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ} سے لے کر سورتِ براء ت کے آخر تک کی آیات مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ کے پاس لکھی ہوئی ملیں اور کسی کے پاس نہ مل سکیں۔ (یہ آیات زبانی تو بہت سے صحابہ کو یاد تھیں، لیکن لکھی ہوئی کسی اور کے پاس نہیں تھیں۔ باقی قرآن کی ہر آیت کئی صحابہ کے پاس لکھی ہوئی ملی) پھر یہ صحیفے جن میں سارا قرآن ایک جگہ لکھا گیا تھا حضرت ابو بکر کی ز ندگی میں ان کے پاس رہے، پھر ان کی وفات کے بعد یہ صحیفے حضرت عمر کے پاس ان کی زندگی میں رہے، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت حفصہ بنتِ عمر ؓ کے پاس رہے۔1
پہلے حضرت ابو بکر ؓ کایہ فرمان گزر چکا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جس چیز پر حضورﷺ نے جنگ کی ہے میں اسے چھوڑ دو ں، اس سے زیادہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں آسمان سے (زمین پر) گر پڑوں۔ لہٰذا میں تو اس چیز پر ضرور جنگ کروں گا۔ چناںچہ حضر ت ابو بکر نے (زکوٰ ۃ نہ دینے پر) عربوں سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ پورے اسلام کی طرف واپس آگئے۔1
’’بخاری‘‘،’’مسلم‘‘ اور’’مسندِ احمد‘‘ میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت میںاس طرح ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو آدمی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا (یعنی نماز پڑھے اور زکوٰۃ نہ دے) میں اس سے ضرور جنگ کروں گا، کیوںکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے (جیسے کہ نماز جان کا حق ہے)۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ ایک رسی حضورﷺ کو دیا کرتے تھے اور اب مجھے نہیں دیں گے تو میں اس رسی کی وجہ سے بھی ان سے جنگ کروں گا (دین میں ایک رسی کے برابر کمی بھی برداشت نہیں کرسکتا)۔ اور حضرت ابو بکر ؓ کا یہ ارشاد بھی گذر چکا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! اگر کتے حضورﷺ کی اَزواجِ مُطہّرات کی ٹانگوں کو گھسیٹتے پھریں تو بھی میں اس لشکر کو واپس نہیں بلاؤں گا جسے حضورﷺ نے روانہ فرمایا تھا، اور میں اس جھنڈے کو نہیں کھول سکتا جسے حضورﷺ نے باندھا ہے۔ چناںچہ حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہؓ کا لشکر روانہ فرمایا۔2
حضرت عروہ ؓکی روایت میں یہ بھی گذر چکا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے اٹھاکر لے جائیں گے تو بھی میں حضورﷺ کے حکم کے مطابق اُسامہ کے لشکر کو ضرور روانہ کروں گا چاہے آبادی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تو بھی میں اس لشکر کو روانہ کر کے رہوں گا۔ اور ایک روایت میں ابنِ عساکر نے حضرت عروہ ؓسے نقل کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: کیا میں اس لشکر کو روک لوں جسے حضورﷺ نے بھیجا تھا؟ اگر میں ایسا کروں تو یہ میری بہت بڑی جسارت ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! سارے عرب مجھ پر ٹوٹ پڑیں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس لشکر کو جانے سے روک دوں جسے حضور ﷺ نے روانہ فرمایا تھا۔ اے اُسامہ! تم اپنے لشکر کو لے کر وہاں جاؤ جہاں جانے کا تمھیں حکم ہوا تھا، اور فلسطین کے جس علاقہ میں جا کر لڑنے کا حضورﷺ نے تمھیں حکم دیا تھا وہاں جاکر اہلِ مُوتہ سے لڑو۔ تم جنھیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہو اللہ اُن کے لیے کافی ہیں۔ حضرت سیف نے حضرت حسنؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا: اے ابنِ خطّاب! تیری ماںتجھے گم کرے! حضورﷺ نے تو انھیں امیر بنایا ہے اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں ان کو ہٹا دوں۔ یہ سب روایتیں (جلدِ اوّل میں) تفصیل سے گزر چکی ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں: حضرت حفصہ بنت ِعمر ؓ نے حضرت عمر سے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ اپنے ان (کھردرے) کپڑوں سے زیادہ نرم کپڑے پہنتے، اور اپنے اس کھانے سے زیادہ عمدہ کھانا کھاتے، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے رزق میں بڑی وسعت عطا فرما دی ہے اور مال بھی پہلے سے زیادہ عطا فرما دیاہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہارے خلاف دلیل تم سے ہی مہیا کرتا ہوں۔ کیا تمھیں حضورﷺ کی مشقت اور سختی والی زندگی یاد نہیں؟ چناںچہ حضرت عمر ان کو حضورﷺ کی معیشت کی تنگی کے واقعات یاد دلاتے رہے یہاں تک کہ وہ رونے لگیں۔ پھر ان سے فرمایا: تم نے مجھے یہ کہا ہے، لیکن میرا فیصلہ یہ ہے کہ جہاں تک میرا بس چلے گا میں مشقت اور تنگی والی حضورﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ دونوں حضرات جیسی زندگی گزاروں گا تاکہ مجھے آخرت میں نعمتوں اور راحتوں والی ان دونوں حضرات جیسی زندگی مل سکے۔1
حضرت عمر ؓ کے زہد کے باب میں اس بار ے میں بہت سی مختصراور لمبی روایتیں گزر چکی ہیں۔
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت عمر بن خطّاب ؓ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کھردرا کُرتا پہننے لگے۔ جوں ہی وہ کُرتا ہنسلی کی ہڈی سے نیچے ہوا تو انھوں نے فوراً یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ کَسَانِيْ مَا أُوَارِيْ بِہٖ عَوْرَتِيْ وَأَتَجَمَّلُ بِہٖ فِيْ حَیَاتِيْ۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے یہ دعا کیوں پڑھی؟ ساتھیوں نے کہا: نہیں، آپ بتائیں تو ہمیں پتہ چلے۔ حضرت عمر نے فرمایا: ایک دن میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس نئے کپڑے لائے گئے جنھیں آپ نے پہنا پھر یہ دعا پڑھی : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ کَسَانِيْ مَا أُوَارِيْ بِہٖ عَوْرَتِيْ وَأَتَجَمَّلُ بِہٖ فِيْ حَیَاتِيْ۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا! جس مسلمان بندے کو اللہ تعالیٰ نئے کپڑے پہنائیں اور وہ اپنے پرانے کپڑے کسی مسکین مسلمان بندے کو صرف اللہ کے لیے پہنا دے تو جب تک اس مسکین بندے پر ان کپڑوں کا ایک دھاگہ بھی باقی رہے گا اس وقت تک یہ پہنانے والا اللہ کی حفاظت، پناہ اور ضمانت میں رہے گا چاہے زندہ ہو یا مر کر قبر میں پہنچ جائے۔ پھر حضرت عمر نے اپنے کُرتے کو پھیلا کر دیکھا تو آستین انگلیوں سے لمبی تھی۔ تو حضرت عبد اللہ ؓ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ذرا چوڑی چھری لانا۔ وہ کھڑے ہوئے اور چھری لے آئے۔ حضرت عمر نے آستین کو اپنی انگلیوں پر پھیلاکر دیکھا تو جو حصہ انگلیوں سے آگے تھا اسے چھری سے کاٹ دیا۔ ہم نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا ہم کوئی درزی نہ لے آئیں جو آستین کا کنارہ سی دے۔ حضرت عمر نے کہا: نہیں۔ حضرت ابو اُمامہ کہتے ہیں: بعد میں میں نے دیکھا کہ حضرت عمر کی اس آستین کے دھاگے ان کی انگلیوں پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ انھیں روک نہیں رہے تھے۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے نیا کُرتا پہنا، پھر مجھ سے چھری منگوا کر فرمایا: اے میرے بیٹے! میرے کُرتے کی آستین کو پھیلاؤ اور میری انگلیوں کے کنارے پر دونوں ہاتھ رکھ کر جو انگلیوں سے زائد کپڑا ہے اسے کاٹ دو۔ چناںچہ میں نے چھری سے دونوں آستینوں کا زائد کپڑا کاٹ دیا (وہ چھری سے سیدھا نہ کٹ سکا اس لیے) آستین کا کنارہ ناہموار اونچا نیچا ہوگیا۔ میں نے ان سے عرض کیا: اے ابا جان! اگر آپ اجازت دیں تو میں قینچی سے برابر کر دوں؟ انھوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! ایسے ہی رہنے دو، میں نے حضورﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ چناںچہ وہ کُرتا حضرت عمر ؓ کے بدن پر اسی طرح رہا یہاں تک کہ وہ پھٹ گیا، اور میں نے کئی دفعہ اس کے دھاگے پاؤں پر گرتے ہوئے دیکھے۔1
حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حجرِ اسود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: سن لے، اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھرہے، نہ نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع۔ اگر میں نے حضورﷺکو تیرااستلام کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا استلام نہ کرتا۔ (استلام یہ ہے کہ حجرِ اسود کو آدمی چومے یا اسے ہاتھ یا لکڑی لگا کر اسے چومے) پھر حجرِ اسود کا استلام کیا۔ اس کے بعد فرمایا: ہمیں رَمل سے کیا لینا؟ (رَمل طواف کے پہلے تین چکروں میں اَکڑ کر چلنے کو کہتے ہیں) ہم نے تو رَمل مشرکوں کو (اپنی قوت) دکھانے کے لیے کیا تھا، اب اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا (لہٰذا بظاہر ضرورت نہیں)۔ پھر فرمایا: رَمل ایک ایسا کام ہے جسے حضورﷺ نے کیا اس لیے ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔2
ایک صحابی ؓ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضورﷺ حجرِ اسود کے پاس کھڑے ہوئے فرما رہے ہیں: مجھے یہ معلوم ہے کہ تم ایک پتھر ہو نہ نقصان دے سکتے ہو اور نہ نفع۔ اور پھر حضور ﷺ نے اس کا بوسہ لیا۔ پھر (حضورﷺ کے بعد) حضرت ابو بکر ؓ نے حج کیا اور حجرِ اَسود کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے یہ معلوم ہے کہ تم تو ایک پتھر ہو نہ نقصان دے سکتے ہو اور نہ نفع۔ اگر میں نے حضورﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔3
حضرت یعلیٰ بن اُمیہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عثمان ؓ کے ساتھ طواف کیا تو ہم نے حجرِ اسود کا استلام کیا۔ میں بیت اللہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ جب ہم مغربی رکن یعنی رکنِ عراقی کے قریب پہنچے جو کہ حجرِ اسود کے بعد آتا ہے تو میں نے ان کا ہاتھ کھینچا تاکہ وہ رکنِ عراقی کا استلام کریں۔ تو انھوں نے فرمایا: تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ (میرا ہاتھ کیوں کھینچ رہے ہو؟) میں نے کہا: کیا آپ اس رکن کا استلام نہیں کریں گے؟ انھوں نے فرمایا: کیا تم نے حضور ﷺ کے ساتھ طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا: ہاں! کیا تھا۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم نے انھیں ان دونوں مغربی رکنوں یعنی رکنِ عراقی اور رکنِ شامی کا استلام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے فرمایا: کیا تم حضورﷺ کا اتباع نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کرتا ہوں۔ تو پھر فرمایا: اس کا استلام چھوڑو اور آگے چلو۔1
حضرت بکر بن عبد اللہ ؓکہتے ہیں: ایک دیہاتی نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ آلِ معاویہ پانی میںشہد ملا کر پلاتے ہیں اور آلِ فلاںدودھ پلاتے ہیں اور آپ لوگ نبیذ (پانی میں کچھ دیر کھجور یا کشمش پڑی رہے تو اسے نبیذ کہتے ہیں) پلاتے ہیں۔ کیا آپ لوگ کنجوس ہیں (اللہ نے تو بہت دے رکھا ہے، لیکن کنجوسی کی وجہ سے نبیذ پلاتے ہیں جو کہ سستی ہے) یا سچ مچ آپ لوگ حاجت مند ( اور غریب) ہیں؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: ہم لوگ نہ کنجوس ہیں اور نہ حاجت مند اور غریب، بلکہ نبیذ پلانے کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ سواری پر آپ کے پیچھے حضرت اُسامہ بن زیدؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو ہم نے اس سبیل کی نبیذ آپ کی خدمت میں پیش کی جسے آپ نے پی لیا اور فرمایا: تم نے بہت اچھا انتظام کیا ہے ایسے ہی کرتے رہنا۔2
حضرت جعفر بن تمّام ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے آکر حضرت ابنِ عباسؓ سے کہا: ذرا یہ بتائیں کہ آپ لوگ جو لوگو ں کو کشمش کی نبیذ پلاتے ہیں کیا یہ سنت ہے جس کا آپ لو گ اتباع کر رہے ہیں؟ یا آپ کو اس میں دودھ اور شہد سے زیادہ سہولت ہے؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: حضورﷺ ایک مر تبہ میرے والد حضرت عباس ؓ کے پاس آئے، حضرت عباس لوگو ں کو نبیذ پلا رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے بھی پلائو۔ حضرت عباس نے نبیذ کے چند پیالے منگوائے اور حضورﷺ کی خدمت میں پیش کیے۔ حضورﷺ نے ان میں سے ایک پیالہ لے کر اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: تم لوگوںنے اچھا انتظام کر رکھا ہے، ایسے ہی کر تے رہنا۔ چوںکہ حضورﷺ نے (نبیذ کے انتظا م کو پسند فرمایا اور) فرمایا: تم نے اچھا انتظام کر رکھا ہے ایسے ہی کرتے رہنا، تو اب حضورﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے نبیذ کے بجائے دودھ اور شہد کی سبیل کا ہونا میرے لیے باعثِ مسرّت نہیں ہے۔3
حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں: میں میدانِ عر فات میں حضرت ابنِ عمر ؓ کے ساتھ تھا۔ جب وہ قیام گاہ سے چلے تو میں بھی ان کے ساتھ چلا۔ وہ امام ِ حج کی جگہ پر پہنچے اور اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز ادا کی۔ پھر انھوں نے جبلِ رحمت پر وقوف فرمایا۔ میں اور میرے ساتھی بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ (غروب کے بعد) جب امام عر فات سے مُزدلفہ کی طرف روانہ ہوا تو ہم بھی حضرت ابنِ عمر کے ساتھ وہاں سے چل پڑے۔ جب حضرت ابنِ عمر مازمین مقام سے پہلے ایک تنگ جگہ پہنچے تو انھوں نے اپنی سواری بٹھائی تو ہم نے بھی سواریاں بٹھا دیں۔ ہمارا خیال تھاکہ یہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ توحضرت ابنِ عمر کے غلام نے جو اُن کی سواری کو تھامے ہوئے تھے، اس نے کہا: نہیں، یہ نماز نہیں پڑھنا چاہتے بلکہ انھیں یاد آگیا ہے کہ حضورﷺ جب اس جگہ پہنچے تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے رکے تھے، اس لیے یہ بھی یہاں قضائے حاجت کر نا چاہتے ہیں۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ مکہ اور مدینہ کے در میان ایک درخت کے پاس جب پہنچتے تو اس کے نیچے دوپہر کو آرام فرماتے، اور اس کی وجہ یہ بتایا کرتے کہ حضورﷺ نے اس درخت کے نیچے دوپہر کو آرام فرمایا تھا۔2
حضرت نافع ؓکہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ حضورﷺ کے آثار ونشانات کا بہت زیادہ اتباع کرتے تھے۔ چناںچہ جس جگہ حضورﷺ نے (دورانِ سفر) کوئی نماز پڑھی ہوتی وہاں حضرت ابنِ عمر ضرور نماز پڑھا کرتے تھے۔ حضورﷺ کے آثار کا ان کو اتنا زیادہ اہتمام تھا کہ ایک سفر میں حضورﷺ ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تھے تو حضرت ابنِ عمر اس درخت کا بہت خیال رکھتے اور اس کی جڑ میں پانی ڈالتے تاکہ وہ خشک نہ ہو جائے۔3
حضرت مجاہد ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضرت ابنِ عمر ؓ کے ساتھ تھے۔ چلتے چلتے جب وہ ایک جگہ کے پاس سے گزرے تو راستہ چھوڑ کر ایک طرف کو ہو لیے۔ ساتھیوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ راستہ کیوں چھوڑ دیا؟ انھوں نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو یہاں ایسے ہی کرتے دیکھا تھا اس لیے میں نے بھی ایسے ہی کیا۔1
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ مکہ مکرّمہ کے راستے میں (سیدھا نہیں چلتے تھے بلکہ کبھی راستے کے دائیں طرف) سواری کو موڑ لیا کرتے تھے (اور کبھی بائیں طرف) اور فرمایا کرتے تھے: میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ میری سواری کا پاؤں حضور ﷺ کی سواری کے پاؤں (والی جگہ) پر پڑجائے۔2
حضرت نافع ؓکہتے ہیں: جس وقت حضرت ابنِ عمر ؓ حضورﷺ کے نشاناتِ قدم پر پاؤں رکھ کر چلا کرتے تھے اگر اس وقت تم انھیں دیکھ لیتے توکہتے یہ تومجنون ہیں۔3
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے اپنے اَسفار میں جن مقامات میں قیام فرمایا ان کو جس طرح حضرت ابنِ عمر ؓ تلاش کرتے ہیں اس طرح کوئی بھی تلاش نہیںکرتا۔4
حضرت عاصم احول ؓ اپنے استاذ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ میں اتباعِ سنت کا اتنا زیادہ اہتمام تھا کہ جب ان کو کوئی حضورﷺ کے نشاناتِ قدم تلاش کرتا ہو ا دیکھ لیتا تو وہ یہی سمجھتا کہ ان پر (جنون کا) کچھ اثر ہے۔ حضرت اسلم ؓکہتے ہیں: اگر کسی اونٹنی کا بچہ کسی بیابان جنگل میں گم ہو جائے تو و ہ اپنے بچے کو اتنا زیادہ تلاش نہیں کر سکتی جتنا زیادہ حضرت ابنِ عمر حضورﷺ کے نشاناتِ قدم کو تلاش کیا کرتے تھے۔5
حضرت عبد الرحمن بن اُمیہ بن عبد اللہ ؓ نے حضرت ابنِ عمر ؓ سے پوچھا کہ قرآن میں خوف کی نماز اور مقیم کی نماز کا ذکر تو ہمیں ملتا ہے، لیکن مسافر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں ملتا؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ہم عرب والے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اُجڈ اور کم علم تھے، پھر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا تو ہم نے حضورﷺ کو جیسے کرتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی ویسے ہی کریں گے۔ (چناںچہ حضورﷺ نے مسافر والی نماز پڑھی ہے تو ہم بھی پڑھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر حکم کا قرآن میں ذکر ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ بہت سے احکام حضورﷺ کی حدیث سے ثابت ہوتے ہیں)۔1
حضرت اُمیّہ بن عبد اللہ بن خالد بن اَسید ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ خوف کی نماز کو قصر کرنے کا حکم تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ملتا ہے، لیکن سفرکی نماز کو قصر کرنے کا حکم نہیں ملتا؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: ہم نے اپنے نبی کریم ﷺ کو جو کام بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے ہم تو اسے ضرور کریں گے (اس کا قرآن میں مذکور ہونا ضروری نہیں ہے)۔2
حضرت وارد بن ابی عاصم ؓ کہتے ہیں: منیٰ میں میری ملاقات حضرت ابنِ عمر ؓ سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا: سفر میں نماز کی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں؟ انھوں نے کہا: دو رکعتیں۔ میں نے کہا: اس وقت ہم لوگ منٰی میں ہیں (ہماری تعداد بھی بہت ہے اور ہر طرح کا امن بھی ہے، تو کیا یہاں بھی دو ہی رکعتیں ہی پڑھی جائیں گی؟) اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میرے اس سوال سے انھیں بڑی گرانی ہوئی اور فرمایا: تیرا ناس ہو! کیا تم نے حضورﷺ کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا:جی ہاں! سنا ہے اور میں ان پر ایمان بھی لایا ہوں۔ اس پر انھوں نے فرمایا: حضورﷺ جب سفر میں تشریف لے جایا کرتے تو دو رکعت نماز پڑھا کرتے۔ اب تمہاری مرضی ہے چاہے دو رکعت نماز پڑھو چاہے چھوڑ دو۔3
حضرت ابو منیب جُرَشی ؓکہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمر ؓ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
{وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ}4
اور جب تم زمین میں سفر کرو سو تم کو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا کہ تم نماز کو کم کر دو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم کو کافر لوگ پریشان کریں گے۔
(اب اللہ تعالیٰ نے نماز قصر کرنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ کافروں کے ستانے کا ڈر ہو اور) یہاں منٰی میں اس وقت ہم لوگ بڑے امن سے ہیں کسی قسم کا خوف اور ڈر نہیں ہے۔ تو کیا یہاں بھی ہم نماز کو قصرکریں؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: حضورﷺ تمہارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہیں (لہٰذا جب انھوں نے منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے تو تم بھی دو رکعت ہی پڑھو)۔1
حضرت زید بن اسلم ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عمرؓ کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے کُرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی ہیں۔ (نماز کے بعد) میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔2
حضرت قُرّہ ؓ فرماتے ہیں: میں قبیلہ مُزَیْنہ کی ایک جماعت کے ساتھ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم آپ سے بیعت ہوئے۔ جب ہم آپ سے بیعت ہوئے اس وقت آپ کی گھنڈیاںکھلی ہوئی تھیں۔ میں نے آپ کے کُرتے کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر مہرِنبوت کو چھوا۔ حضرت عروہ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ (حضرت قُرّہ کے صاحب زادے) حضرت معاویہ کی اور حضرت معاویہ کے بیٹے کی گھنڈیاں گر می سردی ہر موسم میں ہمیشہ کھلی رہا کرتی تھیں۔3