حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کو اپنے صحابہ ؓ، گھر والوں، خاندان والوں اور اپنی اُمت سے جو نسبت حاصل ہے اس نسبت کا خیال رکھنا
حضرت کعب بن عجرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک دن ہم لوگ مسجدِ نبوی میں حضورﷺ (کے حجرے) کے سامنے ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس جماعت میں کچھ ہم انصاری، کچھ مہاجر اور کچھ بنی ہاشم کے لوگ تھے۔ ہماری آپس میں اس بات پر بحث شروع ہوگئی کہ ہم میں سے کون حضورﷺ کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہے۔ ہم نے کہا: ہم جماعتِ انصار حضور ﷺ پر ایمان لائے ہیں، اور ہم نے آپ کا اتباع کیا ہے، اور ہم نے آپ کے ساتھ ہوکر کئی مرتبہ (کافروں سے) لڑائی کی ہے۔ ہم حضورﷺ کے دشمن کے مقابلہ میں حضور ﷺ کے لشکر کا دستہ ہیں، لہٰذا ہم حضورﷺ کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہیں۔ اور ہمارے مہاجری بھائیوں نے کہا: ہم نے اللہ اور رسولﷺ کے ساتھ ہجرت کی، اور ہم نے اپنے خاندانوں، گھر والوں اورمال ودولت کو (ہجرت کے لیے) چھوڑا (یہ ہماری امتیازی صفت اور خصوصی قربانی ہے جو آپ انصار کو حاصل نہیں ہے) اور ہم ان تمام مقامات پر حاضر تھے جہاں آپ لوگ حاضر تھے، اور ان تمام جنگوں میں شریک ہوئے جن میں آپ لوگ شریک ہوئے۔ لہٰذا ہم حضورﷺ کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہیں۔ اور ہمارے ہاشمی بھائیوں نے کہا: (ہماری امتیازی صفت یہ ہے کہ) ہم حضورﷺ کے خاندان کے لوگ ہیں، اور ہم ان تمام مقامات پر حاضر تھے جہاں آپ لوگ حاضر تھے، اور ان تمام جنگوں میں شریک ہوئے جن میں آپ لوگ شریک ہوئے، لہٰذا ہم لوگ حضورﷺ کے زیادہ قریب اور زیادہ محبوب ہیں۔
اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم لوگ آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے حضورﷺ کے سامنے اپنی بات عرض کی۔ حضورﷺ نے ہم انصار سے کہا: تم نے ٹھیک کہا، تمہاری اس بات کا کون انکار کر سکتا ہے۔ پھر ہم نے حضورﷺ کو اپنے مہاجری بھائیوںکی بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں، ان کی اس بات کا کون انکار کر سکتا ہے۔ پھر ہم نے حضورﷺ کو اپنے ہاشمی بھائیوں کی بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ بھی ٹھیک کہتے ہیں، ان کی اس بات کا کون انکار کر سکتا ہے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کا فیصلہ نہ کر دوں؟ ہم لوگوں نے کہا: ضرور، یا رسول اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو ں! پھر حضورﷺ نے فرمایا: تم اے جماعتِ انصار! تو میں تمہارا بھائی ہوں۔ اس پر انصار نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ!ربّ ِ کعبہ کی قسم ! ہم حضورﷺ کو لے اڑے۔ اور تم اے جماعتِ مہاجرین! میں تم میں سے ہوں۔ اس پر مہاجرین نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ!ربِّ کعبہ کی قسم! ہم حضورﷺ کو لے اڑے۔ اور تم اے بنو ہاشم! تم میرے ہو اور میرے سپرد ہو۔ اس پر ہم سب راضی ہو کر کھڑے ہوئے اور ہم میںسے ہر ایک حضورﷺ سے خصوصی تعلق حاصل ہونے کی وجہ سے بڑا خوش ہو رہا تھا۔1
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰؓ فرماتے ہیں: حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے حضورﷺ سے حضرت خالد بن ولیدؓ کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے خالد! جنگِ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ (اوریہ عبد الرحمن بھی بدری ہیں) کیوںکہ اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دو تو بھی ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے ہو۔ اس پر حضرت خالد نے کہا: لوگ مجھے برا بھلا کہتے ہیں میں انھیں ویسا ہی جواب دے دیتا ہوں۔ حضورﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: خالد کو تکلیف نہ پہنچا ؤ؟ کیوںکہ یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونتا ہے۔2حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت خالد بن ولید ؓ کے درمیان تو تو میں میں ہوگئی۔ تو حضرت خالد نے کہہ دیا: اے ابنِ عوف! آپ میرے سامنے اس بات کی وجہ سے فخر نہ کریں کہ آپ مجھ سے ایک دو دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ جب یہ بات حضورﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: میری وجہ سے میرے (بدری) صحابہ کو چھوڑے رکھو (انھیں کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ) کیوںکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم (غیربدری صحابہ) میںسے کوئی بھی اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کر دے تو ان کے آدھے مد کے ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔ (آدھا مد سات چھٹانک یعنی آدھا کلو سے کم ہوتا ہے) اس کے بعد حضرت عبد الرحمن اور حضرت زبیرؓ میں کوئی تیز بات ہوگئی توحضرت خالد نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے مجھے حضرت عبد الرحمن سے (جھگڑنے سے) روکا تھا اور یہ حضرت زبیر ان کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دونوں بدری ہیں (در جہ میں برابر ہیں، تمہارا درجہ کم تھا) اس لیے یہ آپس میں ایک دوسروں کو کچھ کہہ سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیںہے۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید اورحضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کے درمیان ایسی بات ہوگئی جیسی لوگوں میں ہو جایا کرتی ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا: میری وجہ سے میرے (بدری) صحابہ کو چھوڑے رکھو، کیوںکہ اگر تم میں سے کوئی آدمی اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے تو ان (بدری صحابہ) میںسے کسی ایک کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔2
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے علاوہ باقی تمام جہاں والوں پر میرے صحابہ کو فضیلت عطا فرمائی۔ اور پھر میرے لیے میرے صحابہ میں سے چار ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کو چنا اور انھیں میرا خاص صحابی بنایا۔ ویسے تو میرے تمام صحابہ میں خیر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کو تمام اُمتوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اور میری اُمت میںسے چار زمانے والوں کو چنا : پہلا زمانہ (خود حضورﷺ کا)، دوسرا زمانہ (حضراتِ صحابۂ کرامؓ کا)، تیسرازمانہ (حضراتِ تابعین ؒ کا)، چوتھا زمانہ (حضرات تبعِ تابعین ؒ کا)۔3
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آیا تو حضراتِ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیںکچھ وصیت فرما دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: مہاجرین میں سے جو سابقینِ اوّلین ہیں میں تمھیں ان کے ساتھ اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ اگر تم اس وصیت پر عمل نہیں کرو گے تو نہ تمہارا نفلی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ فرض۔4
’’بزّار‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ میں سابقینِ اوّلین کے ساتھ، ان کے بعد ان کے بیٹوں کے ساتھ اور ان کے بعد ان کے بیٹوں کے بیٹوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔1
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو بتا دیا کہ اب ان کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ پرانے کپڑوں میں لپٹے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے۔ لوگوں نے اور بازار والوں نے آپ کے بارے میں سنا (کہ منبر پر تشریف فرما ہیں) تو وہ سب مسجد میں آگئے۔ آپ نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! اس قبیلہ انصار سے جو مجھے تعلق ہے اس کی ہمیشہ رعایت رکھو، کیوںکہ یہ لوگ میرے لیے معدہ کی طرح ہیں جس میں میں کھاتا ہوں، اور یہ میرا صندوق ہیں یعنی ان سے مجھے خاص تعلق ہے۔ میرے بہت سے راز اِن کے پاس ہیں۔ یہ میرے خاص معتمد لوگ ہیں، لہٰذا تم ان کے نیک آدمی کے نیک عمل کو قبول کرو اور ان کے برے کو معاف کرو۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے سامنے ایک مرتبہ حضرت مالک بن دُخشن ؓ کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے انھیں برا بھلا کہا اور یہ بھی کہہ دیا کہ یہ تو منافقوں کا سردار ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو چھوڑے رکھو، میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہے گا اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔4
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہے اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے۔5
حضرت سعید بن زید بن عمر و بن نفیل ؓ فرماتے ہیں: تم لوگ مجھے اپنے ساتھیوں کو برا بھلا کہنے کا حکم دے رہے ہو حالاںکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرما چکا اور ان کی مغفرت فرما چکا ہے (اس لیے میں انھیں ہرگز برا نہیں کہوں گا)۔1
حضرت سعید بن جُبَیر ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابنِ عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیں۔ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، اور رسول اللہﷺ کے صحابہ کا برائی سے تذکرہ کرنے سے ہمیشہ بچتے رہنا، کیوںکہ تمھیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا کارنامے انجام دے گئے ہیں۔2
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے آخری بات یہ فرمائی کہ تم لوگ میرے گھر والوں کے بارے میں میری نیابت کرنا، یعنی میرے بعد میری طرح ان کا خیال رکھنا۔3
حضرت اُمِّ سَلَمہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ ایک مرتبہ حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے حضورﷺ کی خدمت میں آئیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں ایک ہانڈی تھی جس میں حضرت حسن کے لیے گرم گرم کھانا تھا۔ حضرت فاطمہ نے جب وہ ہانڈی حضورﷺ کے سامنے رکھ دی تو حضورﷺ نے فرمایا: ابو حسن یعنی حضرت علی ؓ کہاں ہیں؟ حضرت فاطمہ نے کہا: گھر میں ہیں۔ حضورﷺ نے انھیں بلالیا۔ (جب وہ آگئے تو) حضورﷺ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ (پانچوں مل کر) کھانے لگے، اور حضورﷺ نے مجھے کھانے کے لیے نہ بلایا حالاںکہ اس سے پہلے جب بھی حضورﷺ کھانا کھاتے تو مجھے ضرور بلاتے۔ کھانے سے فارغ ہوکر آپ نے ان سب پر اپنی چادر ڈال دی اور فرمایا: اے اللہ! جو اِن سے دشمنی کر ے تو اس سے دشمنی کر، اور جو اِن سے دوستی کر ے تو اس سے دوستی کر۔4
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: اے بنو عبد المطّلب! میں نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگی ہیں: تم میںسے جو (دین پر) قائم ہے اللہ اسے اس پر پختگی عطا فرمائے اور تمہارے جاہل کو علم عطا فرمائے اور تمہارے بے راہ کو سیدھی راہ پر ڈال دے۔ اور میں نے اللہ سے یہ بھی مانگا ہے کہ وہ تمھیں خوب سخی اور رحم دل بنائے۔ اگر کوئی آدمی حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے در میان کھڑا ہو کر عبادت کرے اور نماز پڑھے اور روزہ رکھے (زندگی بھر اتنی بہترین عبادت کرتا رہے) لیکن مرتے وقت اس کے دل میں حضرت محمد (ﷺ) کے گھر والوں سے بغض ہو تو وہ (دوزخ کی) آگ میں داخل ہوگا۔1
حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا کہ جس نے اولادِ عبد المطّلب میں سے کسی کے ساتھ احسان کیا اور وہ اس کے احسان کا بدلہ دنیا میں نہیں دے سکا تو اس کا بدلہ میرے ذمہ ہے۔ کل (قیامت کے دن) جب مجھ سے ملے تو لے لے۔2
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ نے حضرت علی ؓ کی صاحب زادی سے شادی کرلی تو میں نے سنا کہ وہ لوگوں کو فرما رہے ہیں: تم مجھے مبارک باد کیوں نہیں دیتے ہو؟ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن میرے سسرالی رشتہ اور میرے نسب کے علاوہ ہر سسرالی رشتہ اور ہر نسب ٹوٹ جائے گا (اور اس شادی سے مجھے حضورﷺ کا سسرالی رشتہ حاصل ہوگیا ہے اس لیے مجھے مبارک باد دو)۔3
حضرت محمد بن ابراہیم تیمی ؓ کہتے ہیں: حضرت قتادہ بن نعمان ظفری ؓ نے ایک مرتبہ قریش کی مذمت بیان کی اوران کے خلاف بے اکرامی کے بول بول دیے۔ تو حضورﷺ نے فرمایا: اے قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہو، کیوںکہ تمھیں ان میں ایسے آدمی بھی نظر آئیں گے جن کے اعمال وافعال کے سامنے تمھیں اپنے عمل وفعل حقیر نظر آئیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان پر رشک کرو گے۔ اگر مجھے قریش کے سرکش ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو اللہ کے ہاں ان کا جو مقام ہے میںوہ ان کو بتا دیتا۔1
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے جو اِرشاد ات مجھے معلوم ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قریش کو آگے رکھو، ان سے آگے نہ بڑھو۔ اگر مجھے قریش کے اِترانے کا ڈر نہ ہوتا تو اللہ کے ہاں انھیں جو کچھ ملے گا وہ میں انھیں بتا دیتا۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے قریش کے اکڑنے کا ڈر نہ ہوتا تو اللہ کے ہاں انھیں جو کچھ ملے گا وہ میںانھیں بتا دیتا۔3
حضرت ابو ہریر ہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: امانت داری کو قریش میں تلاش کرو، کیوںکہ قریش کے امانت دار آدمی کو دوسروںکے امانت دار پر ایک فضیلت حاصل ہے اور قریش کے طاقت ور آدمی کو دوسروں کے طاقت ور آدمی پر دو فضیلتیںحاصل ہیں۔4
حضرت رِفاعہ بن رافع ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: اپنی قوم کو جمع کرو میں انھیں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر نے انھیں حضورﷺ کے گھر کے پاس جمع فرمایا اور اندر حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں انھیں اندر آپ کی خدمت میں لے آؤں یا آپ باہر اُن کے پاس تشریف لے جائیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: میں ان کے پاس باہر آؤں گا۔ چناںچہ حضورﷺ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور ان سے فرمایا: کیا تمہارے اس مجمع میںدوسری قوم کا بھی کوئی آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! ہے۔ اس مجمع میںہمارے علاوہ ہمارے حلیف، ہمارے بھانجے اور ہمارے غلام بھی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہمارے حلیف، ہمارے بھانجے اور غلام یہ سب ہم میں سے ہی ہیں۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کیوں نہیں سنتے کہ اس (مسجدِ حرام) کے متولی بننے کے لائق صرف متقی لوگ ہیں۔ اگر تم لوگ متقی ہو پھر تو ٹھیک ہے، ورنہ تم لوگ سوچ لو،غور کرلو! ایسا نہ ہو کہ کل قیامت کے دن اور لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ گناہوں کا بوجھ لے کر آؤ۔ اور پھر مجھے (تمہارے گناہ دیکھ کر) منہ دوسری طرف کرنا پڑ جائے۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے لوگو! قریش امانت دار لوگ ہیں، اس لیے جو بھی ان کی خامیاں اور قصور تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نتھنوں کے بل دوزخ میں ڈالیں گے۔ یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: بنو ہاشم اور انصار سے بغض کرنا کفر ہے، اور عر ب سے بغض رکھنا نفاق ہے۔2
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ میرے پاس اندر تشریف لائے۔ آپ فرما رہے تھے: اے عائشہ! تمہاری قوم میری اُمت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آملے گی۔ جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ اندر آتے ہوئے ایسی بات فرما رہے تھے جسے سن کر تو میں ڈر گئی۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ فرما رہے تھے کہ میری قوم آپ کی اُمت میں سے سب سے پہلے آپ سے آملے گی۔ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے یہ بات کہی تھی۔ میں نے کہا: ایسا کس وجہ سے ہوگا؟ آپ نے فرمایا: موت ان کو ہلاک کرتی جائے گی اوراس زمانے کے لوگ ان سے حسد کریں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی لوگوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا: وہ لوگ چھوٹی ٹڈی کی طرح ہوں گے، طاقت ور کمزور کو کھا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی پر قیامت قائم ہوگی۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سے سب سے پہلے تمہاری قوم ہلاک ہوگی۔ میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! کیا وہ سب زہر کھانے سے ہلاک ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ موت انھیںہلاک کرتی جائے گی اور اس زمانے کے لوگ ان سے حسد کریں گے۔ وہ لوگوں میں سے سب سے پہلے ہلاک ہوں گے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعدلوگ کتنا عرصہ دنیا میں رہیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ لوگ تمام لوگوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جب یہ ہلاک ہو جائیں گے تو پھر باقی تمام لوگ بھی (جلد) ہلاک ہو جائیں گے۔1
حضرت عمر بن خطّاب ؓ فرماتے ہیں: میں ایک دن حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضورﷺ نے فرمایا: بتائو ایمان والوں میں سب سے بہتر ایمان والا کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: فرشتے۔ آپ نے فرمایا: وہ تو ہیں ہی ایسے اور انھیں اس طرح ہونا ہی چاہیے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مرتبہ عطا فرما رکھا ہے کیا اس کے لحاظ سے ان کے لیے اس سے کوئی مانع ہے؟ فرشتوں کے علاوہ(بتائو)۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرشتوں کے بعد انبیا ؑ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے رسالت اور نبوّت سے نوازا۔ آپ نے فرمایا: وہ تو ہیں ہی ایسے اور انھیں اس طرح ہو نا ہی چاہیے، اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو مرتبہ عطا فرما رکھا ہے کیا اس کے لحا ظ سے ان کے لیے اس سے کوئی مانع ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! (ان کے بعد تو ) وہ شہدا ہیںجنھیں نبیوں کے ساتھ شہادت کا درجہ ملا۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ تو ہیں ہی ایسے اور انھیں اس طرح ہونا ہی چاہیے، اور جب انھیں اللہ نے شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے تو کیا اس کے لحاظ سے ان کے لیے اس سے کوئی مانع ہے؟ سب سے بہتر ایمان والے تو ان کے علاوہ اور لوگ ہیں۔
صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت اپنے آباء واَجداد کی پشتوں میں ہیں۔ میرے بعد اس دنیا میں آئیں گے اور مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے اور میری تصدیق کریں گے۔
قرآن کے سپاروں کو لٹکا ہوا پائیں گے اور اس قرآن پر عمل کریں گے۔ یہ لوگ ایمان والوں میں سب سے بہتر ایمان والے ہیں۔ (بعد میں آنے والوں کو فضیلت صرف اس اعتبار سے ہے کہ یہ حضورﷺ کو دیکھے بغیر ایمان لائے، لہٰذا ان کا ایمان بالغیب زیادہ ہے ورنہ اس پر اجماع ہے کہ صحابۂ کرام ؓ اُمت میں سب سے افضل ہیں)1
حضرت عمرو ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے فرمایا: بتاؤ قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے بڑا مرتبہ مخلوق میں کس کا ہوگا؟ صحابہ نے عرض کیا: فرشتوں کا۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، اللہ کے اتنا قریب ہوتے ہوئے اس سے ان کے لیے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کے علاوہ بتاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا: نبیوں کا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب ان پر وحی نازل ہوتی ہے تو ان کے لیے اس مرتبہ کے حاصل ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کے علاوہ بتاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ ہی ہمیں بتا دیں۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے اور دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔ وہ قرآن کے سپارے لٹکے ہوئے پائیں گے اور اس پر وہ ایمان لائیں گے۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کا مرتبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ساری مخلوق میں سب سے بڑا ہوگا۔2
حضرت ابو جمعہ ؓ فرماتے ہیں: ایک دن ہم لوگوںنے حضورﷺ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ بھی تھے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور ہم نے آپ کے ساتھ جہاد کیا، کیا کوئی ہم سے بھی افضل ہو سکتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں! وہ لوگ جو میرے بعد ہوں گے اور مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔3
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: ایک مرتبہ خوش خبری ہو اس آدمی کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور پھر مجھ پر ایمان لا یا، اور سات مرتبہ خوش خبری ہو اس آدمی کے لیے جس نے مجھے دیکھا نہیں اور پھر مجھ پر ایمان لایا۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کی تمنا کرے گا کہ میری زیارت کے بدلے میں اپنے اہل وعیال کو، مال ودولت کو فدیہ میںدے دے۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: میری بڑی تمنا ہے کہ کا ش! میں اپنے ان بھا ئیوں کو دیکھ لیتا جو دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔3
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: میری اپنے بھائیوں سے ملاقات کب ہوگی؟ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: تم لوگ تو میرے صحابی (بھی) ہو (اور بھائی بھی ہو) میرے بھائی تو وہ لوگ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔4
حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: میری اُمت کی مثال بارش کی طرح ہے جس کا پتہ نہیں چلتا کہ پہلے حصہ میں خیر ہے یا آخری حصہ میں ۔5
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، اور میری اُمت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے رہتے ہیں۔ میری زندگی تمہارے لیے خیر ہے تم مجھ سے باتیں کرتے ہو (اور اَحکام شرعیہ مجھ سے پوچھتے رہتے ہو) میں (تمہارے سوالوں کا جواب دینے کے لیے) تم سے بات کرتا ہوں۔ اور میری وفات بھی تمہارے لیے خیر ہوگی (اور وہ اس طرح سے کہ) تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے رہیں گے۔ ان اعمال میں جو اچھے عمل مجھے نظر آئیں گے ان پر اللہ کی تعریف کروں گا (کہ اس کی توفیق سے ہوئے) اور جو برے عمل دیکھوں گا ان پر تمہارے لیے اللہ سے استغفار کروں گا۔1
حضرت ابو بُردہ ؓ فرماتے ہیں: میں ابنِ زیاد کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے پاس حضرت عبد اللہ بن یزید ؓ بھی موجود تھے۔ اس کے پاس خارجیوں کے سر کاٹ کر لائے جانے لگے۔ جب وہ کوئی سر لے کر گزرتے تو میں کہتا: یہ دوزخ کی آگ میں جائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن یزید نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! ایسے نہ کہو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اس اُمت ( کے گناہوں) کا عذاب دنیا میں ہوگا (یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ خارجی جو قتل ہو رہے ہیں تو اس دنیاوی سزا کے بعد ان کو آخرت میں عذاب نہ ہو)۔2
حضرت ابو بُردہ ؓ فرماتے ہیں: میں عبید اللہ بن زِیاد کے پاس سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ وہ (خوارج کو) بہت سخت سزا دے رہاہے، تو میں حضورﷺ کے ایک صحابی کے پاس بیٹھ گیا۔ انھوں نے کہا: حضورﷺ نے فرمایاہے: اس اُمت کی سزا (دنیا میں) تلوار سے (قتل کیے جانا) ہوگی۔3