صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کے عیب کو چھپانا
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: ایک آدمی نے آکر حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جسے میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک دفعہ تو زندہ قبر میں دفن کر دیا تھا، لیکن مرنے سے پہلے اسے باہر کر لیا تھا، پھر اس نے ہما رے ساتھ اسلام کا زمانہ پایا اور مسلمان ہوگئی۔ پھر اس سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا جس پر شرعی سزا لازم آتی ہے۔ اس پر اس نے بڑی چھری سے خود کو ذبح کرنے کی کوشش کی، ہم لوگ موقع پر پہنچ گئے اور اسے بچالیا، لیکن اس کے گلے کی کچھ رگیں کٹ گئی تھیں۔ پھر ہم نے اس کا علاج کیا اور وہ ٹھیک ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے توبہ کی اور اس کی دینی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ اب ایک قوم کے لوگ اس کی شادی کا پیغام دے رہے ہیں میں انھیں اس کی ساری بات بتا دوں؟ حضرت عمر نے کہا: اللہ نے تو اس کا عیب چھپایا تھا تم اسے ظاہر کرنا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم نے کسی کو اس لڑکی کی کوئی بات بتائی تو میں تمھیں ایسی سزا دوں گا جس سے تمام شہریوں کو عبرت ہوگی، بلکہ اس کی شادی اس طرح کرو جس طرح ایک پاک دامن مسلمان عورت کی کی جاتی ہے۔1
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: ایک لڑکی سے برا کام ہوگیا جس کی اسے شرعی سزا مل گئی۔ پھر اس کی قوم والے ہجرت کر کے آئے اور اس لڑکی نے توبہ کرلی اور اس کی دینی حالت اچھی ہوگئی۔ اس لڑکی کی شادی کا پیام اس کے چچا کے پاس آیا تو اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے؟ اس کی بات بتائے بغیر شادی کر دے تو یہ بھی ٹھیک نہیں امانت دار ی کے خلاف ہے، اور اگر بتادے تو یہ بھی ٹھیک نہیں سترِ مسلم کے خلاف ہے۔ اس کے چچا نے یہ بات حضرت عمر بن خطّاب ؓکو بتائی تو حضرت عمر نے فرمایا: (بالکل نہ بتاؤ اور) اس کی ایسے شادی کرو جیسے تم اپنی نیک بھلی لڑکیوں کی کرتے ہو۔2
حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: ایک عورت نے آکر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے ایک بچہ ملا اور اس کے ساتھ ایک مصری سفید کپڑا ملا جس میں سو دینار تھے۔ میں نے دونوں کو اٹھا لیا (اور گھر لے آئی) اور اس بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت کا اُجرت پر انتظام کیا۔ اب میرے پاس چار عورتیں آتی ہیں اور وہ چاروں اسے چومتی ہیں۔ مجھے پتا نہیں چلتا کہ ان چاروں میں سے کون اس بچے کی ماں ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: اب جب وہ عورتیں آئیں تو مجھے اطلاع کر دینا۔ (وہ عورتیں آئیں تو) اس عورت نے حضرت عمر کو اطلاع کر دی۔ (حضرت عمر اس کے گھر گئے اور) ان میں سے ایک عورت سے حضرت عمر نے کہا: تم میں سے کو ن اس بچے کی ماں ہے؟ اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے (معلوم کرنے کا) اچھا انداز اختیار نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کے عیب پر پردہ ڈالا ہے آپ اس کی پردہ دری کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ پھر اس پہلی عورت سے کہا: آیند ہ جب یہ عورتیں تمہارے پاس آئیں تو ان سے کچھ نہ پوچھنا، اور ان کے بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرتی رہنا۔ اور پھر حضرت عمر واپس تشریف لے گئے۔1
حضرت صالح بن کرز ؓکہتے ہیں: میری ایک باندی سے زنا صادر ہوگیا۔ میں اسے لے کر حضرت حَکم بن ایوب کے پاس گیا۔ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت انس بن مالک ؓ تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے اور فرمایا: اے صالح! یہ تمہارے ساتھ باندی کیوں ہے؟ میں نے کہا: میری اس باندی سے زنا صادر ہوگیا ہے، اب میں اس کا معاملہ امام کے سامنے لے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اسے شرعی سزا دے۔ حضرت انس نے کہا: ایسا نہ کرو، اپنی باندی کو واپس لے جاؤ اور اللہ سے ڈرو اور اس کے عیب پر پردہ ڈالو۔ میں نے کہا: نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ حضرت انس نے فرمایا: ایسے نہ کرو اور میری بات مانو۔ وہ بار بار مجھ پر اِصرار فرماتے رہے یہاں تک کہ میں باندی کو واپس گھر لے گیا۔2
حضرت عقبہ بن عامرؓ کے منشی حضرت دُخَین ابو الہیثم ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت عقبہ بن عامر سے کہا: ہمارے چند پڑوسی شراپ پیتے ہیں میں ان کے لیے پولیس کو بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں۔ حضرت عقبہ نے کہا: ایسے نہ کرو بلکہ ان کو وعظ ونصیحت کرو اور ا ن کو ڈراؤ۔ میں نے کہا: میں نے انھیں روکا تھا لیکن وہ رکے نہیں، اس لیے اب تو میں ان کے لیے پولیس کوبلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں۔ حضرت عقبہ نے کہا: تمہار ا ناس ہو! ایسے نہ کرو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی (مسلمان کے) عیب کو چھپایا تو گویا اس نے زندہ در گور لڑکی کو زندہ کیا۔3
حضرت بلال بن سعد اشعری ؓ کہتے ہیں: حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابو الدرداء ؓ کو خط میں لکھا کہ دمشق کے بد معاشوں کے نام لکھ کر میرے پاس بھیجو۔ تو حضرت ابو الدرداء نے فرمایا: میرا دمشق کے بد معاشوں سے کیا تعلق؟ اور مجھے ا ن کا کہاں سے پتا چلے گا؟ اس پر ان کے بیٹے بلال نے کہا: میں ان کے نام لکھ دیتا ہوں۔ اور ان کے نام لکھ کر دے دیے۔ حضرت ابو الدرداء نے فرمایا: تمھیں ان کا پتا کہاں سے چلا؟ تمھیں ان کا پتا اس وجہ سے چلا ہے کہ تم بھی ان میں سے ہو، اس لیے ان کے ناموںکی فہرست اپنے نام سے شروع کرو۔ اور ان کے نام حضرت معاویہ کو نہ بھیجے۔1
حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ ایک گھر میں تھے، ان کے ساتھ حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ بھی تھے۔ (اتنے میں کسی کی ہوا خارج ہوگئی جس کی) بدبو حضرت عمر نے محسوس کی تو فرمایا: میں تاکید کرتا ہوں کہ جس آدمی کی ہوا خارج ہوئی ہے وہ کھڑا ہو اور جاکر وضو کرے۔ اس پر حضرت جریر نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! کیا تمام لوگ وضو نہ کرلیں؟ (اس سے مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور جس کی ہوا خارج ہوئی اس کے عیب پر پردہ بھی پڑا رہے گا) حضرت عمر نے فرمایا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ جاہلیت میں بھی بہت اچھے سردار تھے اور اسلام میں بھی بہت اچھے سردار ہیں (پردہ پوشی کی کیسی اچھی ترکیب آپ نے بتائی)۔2