صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان سے در گزر کرنا اور اسے معاف کرنا

حضرت علیؓ فرماتے ہیں: مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد ؓ کو حضورﷺ نے بھیجا اور فرمایا: تم لوگ یہاں سے چلو اور روضہ خاخ (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے بارہ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے) پہنچ جائو۔ وہاں ایک ہودہ نشین عورت ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ اس سے لے آؤ۔ چناںچہ ہم لوگ وہاں سے چلے اور ہمارے گھوڑے ایک دوسرے سے مقابلے میں خوب تیز دوڑ رہے تھے۔ جب ہم روضہ پر پہنچے تو ہمیں وہاں ایک ہودہ نشین عورت ملی۔ ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا: خط نکال دے، نہیں تو تیرے سارے کپڑے اُتار دیں گے (اور تیری تلاشی لیں گے، کیوںکہ جاسوس سے مسلمانوں کے راز کا خط لینے کے لیے اس کی آبروریزی کرنا درست ہے)۔ چناںچہ اس نے اپنے سر کے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر دے دیا۔ وہ خط لے کر ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں آئے تو وہ خط حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کی طرف سے مکہ کے چند مشرک لوگوں کے نام تھا جس میں انھوں نے حضورﷺ کی راز کی با ت لکھی ہوئی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں۔ میں قبیلہ قریش میں سے نہیں ہو ں بلکہ ان کا حلیف ہوں۔ اور آپ کے ساتھ جو مکہ کے مہاجرین ہیں ا ن سب کی مشرکینِ مکہ سے رشتہ داری ہے، اس رشتہ داری کی وجہ سے وہ مشرک مسلمانوںکے جو گھر والے اور مال ودولت مکہ میں ہیں ان سب کی حفاظت کرتے ہیں۔ (میرے بھی رشتہ دار مکہ میں ہیں) میں نے سوچا کہ قریش سے میرا نسبی رشتہ تو ہے نہیں اسی لیے میں (آپ کا راز بتا کر) ان پر احسان کر دیتا ہوں، اس وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ کام اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں اپنے دین سے مرتد ہوگیا ہوں، یا اسلام کے بعد مجھے کفر پسند آگیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سنو! یہ تم سے بات سچی کہہ رہے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ تمھیں کیا خبر شاید اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کی طرف جھانک کر فرما دیا ہو تم جو چاہے کرو میں نے تمھیں بخش دیا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی: {یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ} سے لے کر {فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ o}1 تک۔ اے ایمان والو! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو، حالاںکہ تمہارے پاس جو دینِ حق آچکا ہے وہ اس کے منکر ہیں۔ رسول کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لا چکے ہو شہر بدر کر چکے ہیں، اگر تم میرے راستہ پر جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونٖڈنے کی غرض سے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو۔ تم ان سے چپکے چپکے دوستی کی باتیں کرتے ہو، حالاںکہ مجھ کو سب چیزوں کا علم ہے تم جو کچھ چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور (آگے اس پر وعید ہے کہ) جو شخص تم میں سے ایسا کرے گا وہ راہِ راست سے بھٹکے گا۔1 امام احمد نے یہی حدیث حضرت جابرؓ سے نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت حاطبؓ نے عرض کیا: میں نے نہ تو یہ کام حضورﷺ کو دھوکہ دینے کے لیے کیا ہے، اور نہ منافق ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو غالب فرمائیں گے، اور حضورﷺ کے دین کو کمال تک پہنچائیں گے۔ (میں حضورﷺ کا رازکفارِ مکہ کو بتاؤں گا اس سے حضورﷺ کا کوئی نقصان نہ ہوگا)۔ اصل بات یہ تھی کہ میں قریش میں اجنبی باہر کا آدمی ہوں اور میری والدہ ان کے ساتھ رہتی ہیں، تو میں نے چاہا کہ ان پر احسان کر دوں۔ حضرت عمر نے حضور ﷺ سے کہا: کیا میں اس کا سر نہ اُڑا دوں؟ حضور ﷺ نے فرما یا: کیا تم اہلِ بدر میں سے ایک آدمی کو قتل کرو گے؟ تمھیں کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کی طرف جھانک کر فرما دیا ہو کہ تم جو چاہے کرو۔2 حضرت ابو مطر ؓکہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ اس آدمی نے اُونٹ چوری کیا ہے۔ حضرت علی نے کہا: میرے خیال میں تو تم نے چوری نہیں کی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، میںنے چوری کی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا: شاید تمھیں شبہ ہوگیا ہو (کہ تمہارا اونٹ ہے یا کسی اور کا)۔ اس نے کہا: نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا: اے قنبر! اسے لے جاؤ، اس کی انگلی باندھ دو۔ آگ جلالو اور جلاد کو ہاتھ کاٹنے کے لیے بلالو اور میرے واپس آنے کا انتظار کرو۔ جب حضرت علی واپس آئے تو اس آدمی سے کہا: کیا تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت علی نے اسے چھوڑ دیا۔ اس پر لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! جب وہ ایک دفعہ آپ کے سامنے اقرار کر چکا ہے تو آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ حضرت علی نے فرمایا: میں نے اسی کی بات پر اسے پکڑا تھا اور اسی کی بات پر اسے چھوڑا ہے۔ پھر حضرت علی نے فرمایا: حضورﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے چوری کی تھی، حضورﷺ کے فرمانے پر اس کا ہاتھ کاٹا جانے لگا تو حضورﷺ رو پڑے۔ میں نے عرض کیا: آپ روتے کیوں ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: میں کیوں نہ رؤوں جب کہ میرے اُمتی کا ہاتھ تم سب کی موجودگی میں کاٹا جا رہا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: آپ نے اسے معاف کیوں نہ کر دیا؟ آپ نے فرمایا: وہ بہت برا حاکم ہے جو شرعی سزا کو معاف کر دے، ہاں تم لوگ آپس میں یہ جرائم ایک دوسرے کو معاف کر دیا کرو (شرعاً ثابت ہونے کے بعد حاکم معاف نہیں کر سکتا)۔1 حضرت ابو ماجد حنفی ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی حضرت ابنِ مسعود ؓ کے پاس اپنے بھتیجے کو لے کر آیا، اس کا بھتیجا نشہ میں مدہوش تھا۔ اس آدمی نے کہا: میں نے اسے نشہ میں مدہوش پایا۔ حضرت ابنِ مسعود نے فرمایا: اسے خوب اچھی طرح ہلاؤ اور جھڑ جھڑاؤ اور اس کے منہ سے بو سونگھو۔ لوگوں نے اسے خوب ہلایا اور سونگھا تو اس کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی۔ حضرت ابنِ مسعود نے حکم دیا تو اسے جیل خانہ میں ڈال دیا گیا۔ اگلے دن اسے جیل سے باہر نکالا اور فرمایا: کوڑے کی گانٹھ کو کوٹ دو تاکہ چابک جیسا ہو جائے۔ چناںچہ اسے کوٹ دیا گیا۔ پھر جلاد سے فرمایا: اسے مارو لیکن ہاتھ اتنا نہ اٹھاؤ کہ بغل نظر آنے لگے اور ہر عضو کو اس کا حق دو۔ حضرت عبداللہ نے اسے اس طرح کوڑے لگوائے جو زیادہ سخت نہ تھا اور جلاد کا ہاتھ بھی زیادہ اوپر نہیں اٹھتا تھا۔ کوڑے لگوانے کے وقت اس آدمی نے جبہ اور شلوار پہنی ہوئی تھی۔ پھر حضرت ابنِ مسعود نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آدمی یتیم کا بہت برا سرپرست ہے۔ (اے فلانے!) تم نے اسے تمیز نہ سکھائی اور نہ اسے اچھی طرح ادب اور سلیقہ سکھایا۔ اس نے رسوائی والا کام کر لیا تھا لیکن تم نے اس پرپردہ نہ ڈالا۔ پھر حضرت عبد اﷲ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں، اور جب کسی حاکم کے سامنے کسی کا جرم شرعاً ثابت ہو جائے تو اب اس حاکم پر لازم ہے کہ وہ اس مجرم کو شرعی سزا دے۔ پھر حضرت عبد اللہ سنانے لگے کہ مسلمانوں میں سب سے پہلے جس کا ہاتھ کاٹا گیا وہ ایک انصاری آدمی تھا۔ جب اسے حضورﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو غم کے مارے حضورﷺ کا برا حال ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کہ حضورﷺ کے چہرے پر راکھ چھڑکی گئی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس آدمی کے لائے جانے سے بہت گرانی ہو رہی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے گرانی کیوں نہ ہو جب کہ تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بنے ہوئے ہو؟ (تمھیں وہیں اسے معاف کر دینا چاہیے تھا) اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں اور وہ معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں (میں معاف نہیں کر سکتا، کیوںکہ) جب حاکم کے سامنے کوئی جرم شرعاً ثابت ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ اس جرم کی شرعی سزا نافذ کرے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: {وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا}1 اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور در گذر کریں ۔2 حضرت عمر وبن شعیب ؓ فرماتے ہیں: اسلام میں سب سے پہلے جو حدِ شرعی قائم کی گئی اس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ پھر اس کے خلاف گواہوں نے گواہی دی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ جب اس آدمی کا ہاتھ کاٹا جانے لگا تو لوگوں نے دیکھا کہ حضورﷺ کا چہرہ غم کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس پر راکھ چھڑک دی گئی ہو۔ صحابہ نے عر ض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس کے ہاتھ کے کٹنے سے سخت صدمہ ہو رہا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے صدمہ کیوں نہ ہو جب کہ تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بنے ہوئے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: آپ اسے چھوڑ دیتے (اور ہاتھ کاٹنے کا حکم نہ دیتے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا (میں نہیں چھوڑ سکتا، کیوںکہ) امام کے سامنے جب حدِ شرعی ثابت ہو جائے تو وہ اسے روک نہیں سکتا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: میں حج یا عمرہ میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھا۔ ہم نے ایک سوار آتے ہوئے دیکھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ یہ ہمیں تلاش کر رہا ہے۔ اس آدمی نے آکر رونا شروع کر دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اگر تم مقروض ہو تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تمھیں کسی کا ڈر ہے تو ہم تمھیں امن دیں گے۔ لیکن اگر تم نے کسی کو ناحق قتل کیا ہے تو پھر تمھیں بھی اس کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا، اور اگر تمھیں کسی قوم کے پڑو س میں رہنا پسند نہیں ہے تو ہم تمھیں وہاں سے کسی اور جگہ لے جائیں گے۔ اس نے کہا: میں قبیلہ بنو تیم کا آدمی ہوں، میں نے شراب پی تھی جس پر حضرت ابو موسیٰ ؓ نے مجھے کوڑے بھی لگوائے اور میرے سر کے بال بھی منڈوائے اور میرا منہ کالا کر کے لوگوں میں میراچکر بھی لگوایا اور لوگوں میں یہ اعلان کرایا کہ تم لوگ نہ اس کے پاس بیٹھو اور نہ اس کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ اس پر میرے دل میں تین باتیں آئی ہیں: یا تو میں تلوار لے کر حضرت ابو موسیٰ کو قتل کر دوں، یا میں آپ کے پاس آجاؤں اور آپ میری جگہ بدل دیں اور مجھے ملکِ شام بھیج دیں کیوںکہ ملکِ شام والے مجھے جانتے نہیں ہیں (اس لیے وہا ں رہنا میرے لیے آسان ہوگا)، یا میں دشمن کے ساتھ جا ملوں اور ان کے ساتھ کھاؤں یا پیوں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ رو پڑے اور فرمایا: تم دشمن سے جا ملو اور مجھے بے انتہا مال مل جائے تب بھی مجھے اس سے ذرّہ برابر خوشی نہیں ہوگی۔ اور میں تو زمانۂ جاہلیت میں سب سے زیادہ شراب پینے والا تھا اور یہ شراب پینا زنا جیسا (جرم) نہیں ہے۔ اور حضرت ابو موسیٰ ؓ کو یہ خط لکھوایا: سلام علیک! اَما بعد! قبیلہ بنو تیم کے فلاں بن فلاں نے مجھ سے اس اس طرح بیان کیا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر آیندہ تم اس طرح دوبارہ کرو گے تو میں تمہارا منہ کالا کر کے لوگوں میں تم کو پھراؤں گا۔ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم اس کے حق ہونے کو جاننا چاہتے ہو تو یہ حرکت دوبارہ کر کے دیکھو، لہٰذا لوگوں میں یہ اعلان کراؤ کہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھا کریں اور اس کے ساتھ کھایا کریں۔ اگر وہ (آیندہ شراب پینے سے) توبہ کرلے تو تم اس کی گواہی قبول کرو۔ پھر حضرت عمر نے اسے سواری بھی دی اور دو سو درہم بھی دیے۔1