صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
گناہ سے نفرت کرنا، گنا ہ کرنے والے سے نفرت نہ کرنا
حضرت ابو قلابہ ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس سے کوئی گناہ صادر ہوگیا تھا اور لوگ اسے برا بھلا کہہ رہے تھے۔ حضرت ابو الدرداء نے لوگوں سے کہا: ذرا یہ تو بتاؤ اگر تمھیں یہ آدمی کہیں کنوئیں میں گرا ہوا ملتا تو کیا تم اسے نہ نکالتے؟ لوگوں نے کہا: ضرور نکالتے۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: تم اسے برا بھلا نہ کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمھیں اس گناہ سے بچا رکھا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ کو اس آدمی سے نفرت نہیں ہے ؟ انھوں نے فرمایا: مجھے اس کے برے عمل سے نفرت ہے۔ جب یہ اسے چھوڑ دے گا تو پھر یہ میرا بھائی ہے۔1
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: جب تم دیکھو کہ تمہارے بھائی سے کوئی گناہ صادر ہوگیا ہے تو اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جا ؤ کہ یہ بد دعائیں کرنے لگ جاؤ کہ اے اللہ! اسے رسوا فرما۔ اے اللہ! اس پر لعنت بھیج، بلکہ اللہ سے اس کے لیے اور اپنے لیے عافیت مانگو۔ ہم حضرت محمدﷺ کے صحابہ اس وقت تک کسی آدمی کے بارے میں کوئی بات نہیں کہتے تھے جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ اس کی موت کس حالت پر ہوئی ہے۔ اگر اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا تو ہم یقین کرلیتے کہ اسے بڑی خیر حاصل ہوئی ہے، اور اگر اس کا خاتمہ برا ہوتا تو ہم اس کے بارے میں ڈرتے رہتے۔2