صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمانوں کے نامناسب فعل کی اچھی تاویل کرنا
حضرت ابو عون وغیرہ حضرات کہتے ہیں: حضرت خالد بن ولید ؓ نے یہ دعویٰ کیا کہ انھیں جو بات حضرت مالک بن نُوَیرہ ؓ کی طرف سے پہنچی ہے اس کی بنیاد پر وہ مرتدہو گئے ہیں۔ حضرت مالک نے اس دعویٰ کا انکار کیا اور کہا: میں اسلام پر ہوں میں نے اپنا دین نہیں بدلا۔ حضرت ابو قتادہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے حضرت مالک کے حق میں گواہی دی، لیکن حضرت خالد اپنے فیصلہ پر بر قرار رہے اور انھوں نے حضرت مالک کو آگے کیا اور حضرت ضرار بن اَزور کو حکم دیا جس پر حضرت ضرار نے حضرت مالک کو قتل کر دیا۔ (عدت گذرنے کے بعد) حضرت خالد نے حضرت مالک کی بیوی اُمّ ِمتمّم کو قبضہ میں لے کر اس سے شادی کرلی۔ جب حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت خالد نے حضرت مالک کو قتل کر کے ان کی بیوی سے شادی کرلی ہے تو انھوں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا: حضرت خالد نے زنا کیا ہے آپ اسے رجم کریں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: میں انھیں رجم نہیں کر سکتا، کیوںکہ انھوں نے اجتہاد کیا ہے جس میں ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: انھوں نے ناحق قتل کیا ہے اس لیے بدلہ میں آپ انھیں قتل کریں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: میں انھیں قتل بھی نہیں کروں گا، کیوںکہ انھوں نے اجتہاد کیا ہے جس میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: تو پھر انھیں معزول ہی کر دیں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: جو تلوار اللہ نے کافر وںپر سونتی ہے میں اسے کبھی بھی نیام میں نہیں کر سکتا ۔2