صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
کمزور اور فقیر مسلمانوں کا اِکرام کرنا
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں: ہم چھ آدمی حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ میں، حضرت ابنِ مسعود، قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب، حضرت بلالؓ اور دو آدمی اور بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں ان دونوں کے نام بھول گیا۔ تو مشرکوں نے حضورﷺ سے کہا: ان (چھ آدمیوں) کو اپنی مجلس سے باہر بھیج دیں۔ یہ ایسے اور ایسے (یعنی کمزور اور مسکین قسم کے) لوگ ہیں(اور ہم بڑے مال دار اور سردار لوگ ہیں ان غریبوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ہیں)۔ اس پر حضورﷺ کے دل میں ایسا کرنے کا خیال آگیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ}2
اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگارکی عبادت کرتے ہیں جس سے خاص اس کی رضا ہی کا قصد رکھتے ہیں۔3
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ قریش کے چند سردار حضورﷺ کے پاس سے گزرے اس وقت حضورﷺ کے پاس حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خبّاب اور حضرت عمارؓ اور ان جیسے کچھ اور کمزور و شکستہ حال مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سرداروں نے کہا: یارسول اللہ! (از راہِ مذاق حضورﷺ کو یا رسول اللہ! کہہ کر پکارا) کیا آپ کو اپنی قوم میں سے یہی لوگ پسند آئے؟ کیا ہمیں ان لوگوں کے تابع بن کر چلنا پڑے گا؟ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان فرمایا ہے؟ ان لوگوں کو آپ اپنے پاس سے دور کر دیں تو پھر شاید ہم آپ کا اتباع کرلیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ} سے لے کر {فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ o} تک۔1
اور اس قرآن کے ذریعہ سے ان لوگوں کو ڈرائیں جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے پاس ایسی حالت میں جمع کیے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع ہوگا، اس امید پر کہ وہ ڈر جاویں۔ اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح اور شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں جس سے خاص اس کی رضا ہی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں، ورنہ آپ نامناسب کام کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔2
حضرت انس ؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان {عَبَسَ وَتَوَلّٰی} کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ اُمّ مکتوم ؓ حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ اس وقت حضورﷺ (مکہ کے سردار) اُبیّ بن خَلَف سے (دعوت کی) بات کر رہے تھے اس لیے حضورﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر مائی:
{عَبَسَ وَتَوَلّٰی o اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی}3
پیغمبر (ﷺ)چیں بہ جبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا۔
اس کے بعد حضورﷺ ہمیشہ ان کا اکرام فرمایا کرتے تھے ۔4
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ {عَبَسَ وَتَوَلّٰی} نابینا حضرت ابنِ اُمّ مکتومؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہوا کہ یہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: آپ مجھے سیدھا راستہ بتا دیں۔ اس وقت حضورﷺ کے پاس مشرکین کا ایک بڑا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ حضورﷺ نے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ اسی دوسرے کی طرف ہی متوجہ رہے۔ اور حضورﷺ نے اس مشرک سے فرمایا: تمھیں میری بات میں کوئی حرج نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس پر {عَبَسَ وَتَوَلّٰی } نازل ہوئی۔1
حضرت خبّاب بن اَرتّؓ فرماتے ہیں: اَقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حِصْن فزاری آئے تو انھوں نے حضورﷺ کو حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت خبّاب بن اَرتّ ؓ اور دوسرے کمزور نادار مسلمانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ ان دونوں کو یہ لوگ حقیر نظر آئے اس لیے دونوں نے حضورﷺ کو الگ لے جا کر تنہا ئی میں یہ کہا کہ آپ کے پاس عرب کے وفود آتے ہیں، لیکن ہمیں اس بات سے شرم آرہی ہے کہ (ہم لوگ بڑے آدمی ہیں) ہمیں جب عرب کے لوگ ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔ اس لیے جب ہم آپ کے پاس آیا کریں تو آپ انھیں اُٹھا کر بھیج دیا کریں۔ آپ نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر ان دونوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بات لکھ کر دے دیں۔ آپ نے ایک کاغذمنگوایا اور لکھنے کے لیے حضرت علیؓکو بلایا۔ ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت جبرئیل ؑ یہ آیتیں لے کرآئے:
{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوَۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗط مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْْئٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِمْ مِّنْ شَیْْئٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ o وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْا اَہٰـؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ مِّنْ بَیْْنِنَاط اَلَیْْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ وَاِذَا جَائَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ}2
پہلی آیت کا ترجمہ گزر چکا ہے دوسری آیت کا ترجمہ:
اور اسی طور پر ہم نے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمایش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں: کیا یہ لوگ ہیں کہ ہم میں سے ان پر اللہ نے فضل کیا ہے؟ کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق شناسوں کو خوب جانتا ہے۔ اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یوں کہہ دیجیے کہ تم پر سلامتی ہے۔
اس پر آپ نے وہ کاغذ پھینک دیا اور ہمیں بلا لیا۔ ہم آپ کے پاس گئے۔ آپ نے فرمایا: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ پھر ہم حضورﷺ کے اتنے قریب ہوئے کہ ہمارے گھٹنے حضورﷺ کے گھٹنوں سے جا ملے۔ اور پھر حضورﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب ہمارے ساتھ بیٹھے ہوتے اور اٹھنا چاہتے تو ہمیں یوںہی بیٹھا ہوا چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَیْْنٰکَ عَنْہُمْ}1
اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح اور شام (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے نہ ہٹنے پائیں۔
اس کے بعد ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے اور جب حضورﷺ کے اُٹھ کر جانے کا وقت آجاتا تو ہم حضورﷺ کو بیٹھا ہوا چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے اور جب تک ہم کھڑے نہ ہو جاتے آپ بیٹھے ہی رہتے۔2
حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں: عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس اور ان جیسے اور مولفۃٔ القلوب لوگوں نے (یعنی وہ نو مسلم جن کی حضورﷺ دل جوئی کیا کرتے تھے) حضورﷺ کی خدمت میں آکر کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ مسجد کے اگلے حصہ میں بیٹھ جائیں اور حضرت ابو ذر اور حضرت سلمان اور دوسرے مسلمان فُقرا کو اور ان کے جبوں کی بدبو کو ہم سے دور کر دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر خلوص ومودّت کی باتیںکرلیں اور آپ سے (قرآن وحدیث) لے لیں۔ یہ فُقراحضرات اُون کے جبے پہنا کرتے تھے، دوسرے سوتی کپڑے ان کے پاس نہیں ہوتے تھے (ان جبوں سے اُون کی بدبو آیا کرتی تھی)۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں:
{وَاتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖج وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًاo وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ}سے لے کر {نَارًا لا اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَا}1 جن میں اللہ تعالیٰ نے انھیں دوزخ کی دھمکی دی۔
اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعے سے آئی ہے (لوگوں کے سامنے) پڑھ دیا کیجیے، اس کی باتوں کو (یعنی وعدوں کو) کوئی بدل نہیں سکتا، اور آپ خدا کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح اور شام (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضاجوئی کے لیے کرتے ہیں، اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ پائیں، اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے اور اس کا (یہ) حال حد سے گزر گیا ہے۔ اور آپ کہہ دیجیے کہ (یہ دینِ) حق تمہارے رب کی طرف سے (آیا) ہے، سو جس کا جی چاہے ایمان لے آوے اور جس کا جی چاہے کافر رہے، بے شک ہم نے ایسے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس آگ کی قناتیں ان کو گھیر ے ہوں گی۔
اس پر حضورﷺ اٹھے اور ان فقیر مسلمانوں کو تلاش کرنے لگے توحضورﷺ کو مسجد کے آخری حصہ میں بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے مل گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے وفات سے پہلے خود ہی اس بات کا حکم دیا کہ میں اپنی اُمت کے ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا کروں۔ پھر آپ نے فرمایا: میرا مرنا اور جینا سب تمہارے ساتھ ہوگا۔2
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں: قیس بن مطاطیہ ایک حلقہ کے پاس آیا۔ اس حلقہ میں حضرت سلمان فارسی، حضرت صُہَیب رومی اور حضرت بلال حبشی ؓ تشریف فرما تھے۔ قیس نے کہا: یہ اَوس وخزرج (عرب ہیں اور بڑے لوگ ہیں) یہ اس آدمی کی مددکے لیے کھڑے ہوئے ہیں (یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے)، لیکن ان (عجمی غریب وفقیر) بے حیثیت لوگوں کو کیا ہوا (کہ یہ بھی مدد کے لیے کھڑے ہوگئے؟ ان کی مدد سے کیا فائدہ؟) حضرت معاذ نے کھڑے ہوکر قیس کا گریبان پکڑا اور اسے حضورﷺ کی خدمت میں لے گئے اور جا کر حضور ﷺ کو اس کی بات بتائی۔ اس پر حضورﷺ غصہ میں (جلدی کی وجہ سے) چادر گھسیٹتے ہوئے کھڑے ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے اور حضورﷺ نے اعلا ن کے لیے آدمی بھیجا جس نے اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ کہہ کر لوگوں میں اعلان کیا۔ (لوگ جمع ہوگئے، پھر حضورﷺ نے بیان فرمایا) اور اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! بے شک رب ایک ہے (یعنی اللہ تعالیٰ) اور باپ بھی ایک ہے (یعنی حضرت آدم ؑ) اور دین بھی ایک ہے (یعنی اسلام)۔ غور سے سنو! یہ عربیت نہ تمہاری ماں ہے اور نہ تمہارا باپ۔ یہ تو ایک زبان ہے، لہٰذا جو بھی عربی زبان میں بات کرنے لگ جائے وہ خود عربی شمار ہوگا۔ قیس کا گریبان پکڑے ہوئے حضرت معاذ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ اس منافق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ دوزخ میں جائے گا۔ چناںچہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد یہ قیس مرتد ہوگیا اور اسی حال میں مارا گیا۔1