صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

والدین کا اکرام کرنا

حضرت بُرَیدہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی ماں کو سخت گرم وپتھریلی زمین میں اپنے کندھوں پر اُٹھا کر دو فرسخ یعنی چھ میل لے گیا۔ وہ اتنی گرم تھی کہ میں اگر اس پر گوشت کا ایک ٹکڑا ڈال دیتا تو وہ پک جاتا۔ تو کیا میں نے اس کے احسانات کا بدلہ ادا کر دیا؟ حضورﷺ نے فرمایا: شاید دردِ زہ کی ایک ٹیس کا بدلہ ہوگیا ہو (لیکن اس کے احسانات تو اس کے علاوہ اور بہت ہیں)۔2 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا، اس کے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا: اے فلانے! یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ میرے والد ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان کے آگے نہ چلو، اور ان سے پہلے نہ بیٹھو، اور ان کا نام لے کر نہ پکارو، اور ان کو گالی دیے جانے کا ذریعہ نہ بنو (کہ تم کسی کے باپ کو گالی دے دو، وہ جواب میں تمہارے باپ کو گالی دے دے)۔1 حضرت ابو غسان ضبّی ؓ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ (مدینہ منوّرہ کے) پتھریلے میدان میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں حضرت ابو ہریرہؓ سے ملاقات ہوگئی۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا: یہ میرے والد ہیں۔ انھوں نے فرمایا: ان کے آگے مت چلا کرو، بلکہ ان کے پیچھے یا ان کے ساتھ پہلو میں چلا کر و۔ اور کسی کو اپنے اور ان کے درمیان نہ آنے دو۔ اور اپنے والد کے مکان کی ایسی چھت پر نہ چلو جس کی منڈیر نہ ہو، کیوںکہ اس سے ان کے دل میں (چھت سے تمہارے نیچے گرجانے کا) خطرہ پیدا ہوگا (اور وہ اس سے پریشان ہوں گے)۔ اور اگر گوشت والی ہڈی پر تمہارے والد کی نگاہ پڑ چکی ہو تم اسے نہ کھاؤ، ہوسکتا ہے وہ اسے کھانا چاہتے ہوں۔2 حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں کی خدمت کرو (ان کے محتاجِ خدمت ہونے کی وجہ سے) تمہارا جہاد یہی ہے۔3 ’’مسلم‘‘ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت ہونا چاہتا ہوں، اور اللہ سے اس کا اجر لینا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، دونوں ہی زندہ ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے اجر لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس واپس چلے جاؤ اور ان کی اچھی طرح خدمت کرو۔ اور ’’ابو داؤد‘‘ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ اس آدمی نے کہا: میں آپ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت ہونے آگیا ہوں، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کے پاس واپس جاؤ اور انھیں (خوش کر کے) ایسے ہی ہنساؤ جیسے تم انھیں (پریشان کر کے) رلا کر آئے ہو۔ ’’ابو داؤد ‘‘ کی ایک روایت میں حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں: یمن کا ایک آدمی ہجرت کر کے حضورﷺ کے پاس آیا تو حضورﷺ نے اس سے پوچھا: تمہارا یمن میں کوئی ہے؟ اس نے کہا: میرے والدین ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا ان دونوں نے تمھیں یہاں آنے کی اجازت دے دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے کہا: تم ان دونوں کے پاس واپس جاؤ اور ان سے اجازت مانگو۔ اگر وہ تمھیں اجازت دے دیں پھر تو تم جہاد میں جاؤ ورنہ ان ہی کی خدمت کرتے رہو۔ ابو یعلیٰ اور طبرانی ؒ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، لیکن مجھ میں (جہاد میں جانے کی) قدرت نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: میری والدہ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: میری والدہ زندہ ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنی والدہ کی خدمت کرتے ہوئے اللہ کے سامنے حاضر ہو جاؤ (یعنی مرتے دم تک تم اس کی خدمت کرتے رہو)، جب تم یہ کرو گے تو گویا تم نے حج، عمرہ اور جہاد سب کچھ کرلیا۔1 حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے اعلان فرمایا: تم اس بستی میں جانے کی تیاری کرلو جس کے رہنے والے بڑے ظالم ہیں، اِن شاء اللہ اللہ تعالیٰ وہ بستی فتح کر کے تمھیں دیں گے۔ حضورﷺ کا مقصد خیبر جانا تھا۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا: میرے ساتھ اَڑیل سواری والا اور کمزور سواری والا ہرگز نہ جائے۔ یہ سن کر حضرت ابو ہریرہؓ نے جا کر اپنی والدہ سے کہا: میرا سامانِ سفر تیار کر دو، کیوںکہ حضورﷺ نے غزوہ کی تیاری کا حکم فرمایا ہے۔ ان کی والدہ نے کہا: تم جا رہے ہو حالاںکہ تمھیں معلوم ہے کہ میں تمہارے بغیر اندر آجا نہیں سکتی۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا: میں حضورﷺ سے پیچھے نہیں رہ سکتا۔ ان کی والدہ نے اپنا پستان نکال کر اپنے دودھ کا واسطہ دیا (لیکن حضرت ابو ہریرہ نہ مانے) تو ان کی والدہ نے چپکے سے حضورﷺ کی خدمت میں آکر ساری بات حضورﷺ کو بتا دی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تمہارا کام تمہارے بغیر ہی ہو جائے گا۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تو حضورﷺ نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے اِعراض فرما رہے ہیں، ضرور میری طرف سے آپ کو کوئی بات پہنچی ہے جس کی وجہ سے آپ ایسا فرما رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ نے اپنا پستان نکال کر تمھیں اپنے دودھ کا واسطہ دیا، لیکن تم نے پھر بھی ان کی بات کو نہ مانا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم اپنے دونوں والدین کے پاس یا دونوں میں سے ایک کے پاس رہو گے تو تم اللہ کے راستے میں نہیں ہو؟ آدمی جب والدین کے پاس رہ کر ان کی خدمت اچھی طرح کرتا ہے اور ان سے حسنِ سلوک کر کے ان کا حق ادا کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہی ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں: اس کے دو سال بعد میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے انتقال تک کسی غزوہ میں نہیں گیا۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔1 طبرانی نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ پانی پینے کی جگہ پر کھڑے تھے (جہاں قریش حاجیوں کو پانی پلایا کرتے تھے) کہ اتنے میں ایک عورت اپنا بیٹا لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا: میرا یہ بیٹا غزوہ میں جانا چاہتا ہے، لیکن میں اسے روک رہی ہوں۔ حضورﷺ نے اس کے بیٹے سے فرمایا: جب تک تمہاری والدہ تمھیں اجازت نہ دے یا اس کا انتقال نہ ہو جائے اس وقت تک تم ان کی خدمت میں رہو، اس میں تمھیں ثواب زیادہ ملے گا۔ ’’طبرانی‘‘ کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی اور اس کی والدہ دونوں حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ وہ آدمی جہاد میں جانا چاہتا تھا اور اس کی والدہ اسے روک رہی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنی والدہ کے پاس ٹھہرے رہو، تمھیں ان کی خدمت میں رہنے پر اتنا ہی اجر ملے گا جتنا جہاد میں جانے سے ملے گا۔1 حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی ؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: والدہ کے پیروں سے چمٹ جاؤ تمہاری جنت وہیں ہے۔2 حضرت جاہمہؓ فرماتے ہیں: میں جہاد میں جانے کے بارے میں مشورہ کے لیے حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے والدین ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: دونوں کی خدمت میں لگے رہو، کیوںکہ تمہاری جنت ان دونوں کے قدموں کے نیچے ہے۔3 حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی ؓکہتے ہیں کہ حضرت جاہمہؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میں غزوہ میں جانا چاہتا ہوں میں اس بارے میں آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں۔ حضورﷺ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ ہے؟ انھوں نے کہا: ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان کی خدمت میں لگے رہو، کیوںکہ تمہاری جنت ان کے قدموں کے نیچے ہے۔ حضرت جاہمہ دوسری تیسری مرتبہ مختلف مجلسوں میں جا کر حضورﷺ سے یہی پوچھتے رہے اور حضورﷺ یہی جواب دیتے رہے۔4 حضرت اُمّ سلمہؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت نُعَیم ؓکہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ حج کرنے گئے۔ چلتے چلتے وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے پاس پہنچے تو اسے پہچان لیا اور اس کے نیچے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: میں نے دیکھا تھا کہ حضورﷺ اس درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اس گھاٹی سے ایک آدمی آیا اور حضورﷺ کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: یارسول اللہ! میں اس لیے آیاہوں تاکہ میں آپ کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کروں، اور میری نیت صرف اللہ کو راضی کرنے اور آخرت اچھی بنانے کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: واپس جا کر ان کی خدمت کرو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔ وہ آدمی یہ سن کر جہاں سے آیا تھا وہاں ہی واپس چلا گیا۔1 حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت اُمّ کلثوم سے شادی کا پیام (ان کے والد حضرت علیؓ کو) دیا۔ حضرت علی نے ان سے کہا: ابھی تو وہ چھوٹی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے تعلق اور رشتہ کے علاوہ ہر تعلق اور رشتہ قیامت کے د ن ٹوٹ جائے گا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ (اس نکاح کے ذریعہ سے) میرا حضورﷺ سے تعلق اور رشتہ قائم ہو جائے۔ حضرت علی نے حضر ت حسن اور حضرت حسین ؓ سے فرمایا: تم اپنے چچا کی شادی (اپنی بہن سے) کر دو۔ ان حضرات نے کہا: وہ بھی عورتوں میں سے ایک مستقل عورت ہے، اسے اپنا اختیار ہے۔ حضرت علی غصہ میں وہاں سے کھڑے ہوگئے تو حضرت حسن نے ان کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا: اے ابا جان! میں آپ کے چھوٹنے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ حضرت علی نے کہا: تو پھر دونوں حضرت عمر سے اس کی شادی کر دو۔2 حضرت محمد بن سیرین ؓکہتے ہیں: حضرت عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں کھجور کے ایک درخت کی قیمت ہزار درہم تک پہنچ گئی۔ حضرت اُسامہؓ نے (درخت بیچنے کے بجائے) اندر سے کھود کر کھجور کے درخت کو کھوکھلا کر دیا اور اس کا گودا نکال کر اپنی والدہ کو کھلا دیا۔ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا، حالاںکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک کھجور کی قیمت ہزار درہم تک پہنچ چکی ہے؟ انھوں نے کہا: میری والدہ نے کھجور کا گودا مجھ سے مانگا تھا، اور میری عادت یہ ہے کہ جب میری والدہ مجھ سے کچھ مانگتی ہیں اور اس کا دینا میرے بس میں ہو تو میں وہ چیز ضرور ان کو دیتا ہوں۔1