صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
پڑوسی کا اکرام کرنا
حضرت معاویہ بن حَیدہؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پڑوسی کا کیا حق ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: اگر وہ بیمار ہو جائے تو تم اس کی عیادت کرو، اور اس کا انتقال ہو جائے تو تم اس کے جنازے میں جاؤ، اور اگر وہ تم سے قرض مانگے تو تم اسے قرض دے دو، اور اگر وہ فقیر اور بد حال ہو جائے تو تم اس کی پردہ پوشی کرو (کہ ایسے چپکے سے اس کی مدد کرو کہ کسی کو اس کا پتا نہ چلے)، اور اگر اسے کوئی اچھی چیز حاصل ہو جائے تو تم اسے مبارک باد دو، اور اگر اس پر کوئی مصیبت آئے تو تم اس کو تسلی دو، اور اپنی عمارت اس کی عمارت سے اونچی نہ بناؤ اس سے اس کی ہوا بند ہو جائے گی، اور جب بھی تم ہنڈیا میں کوئی سالن پکاؤ تو چمچہ بھر کر اس میں سے اسے بھی دو ورنہ تمہارے سالن کی خوش بو سے اسے بے چینی اور تکلیف ہوگی (کیوںکہ اس کے گھر میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے ہاں ہے)۔1
بیہقی نے ’’شعب الایمان‘‘ میں ایسی ہی روایت حضرت معاویہؓ سے نقل کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اگر وہ ننگا ہو تو اسے تم پہناؤ۔2
حضرت محمد بن عبد اللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میرے پڑوسی نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: صبر کرو۔ کچھ عرصہ بعد میں نے دوبارہ جا کر عرض کیا کہ میرے پڑوسی نے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: صبر کرو۔ میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا: میرے پڑوسی نے تو مجھے تنگ کر دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنے گھر کا سارا سامان اٹھا کر گلی میں ڈال لو اور تمہارے پاس جو آئے اسے یہ بتاتے رہنا کہ میرے پڑوسی نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا ہے۔ اس طرح سب اس پر لعنت بھیجنے لگ جائیں گے۔ (پھر آپ نے فرمایا:) جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کا اکرام کرنا چاہیے۔ اور جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔ اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ یا تو وہ خیر کی بات کہے یا چپ رہے۔3
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ غزوہ میں تشریف لے جانے لگے تو فرمایا: آج ہمارے ساتھ وہ نہ جائے جس نے اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچائی ہو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کی جڑ میں پیشاب کیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم آج ہمارے ساتھ مت جاؤ۔1
حضرت مقداد بن اسود ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: زنا کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: زنا تو حرام ہے، اللہ اور رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے، یہ قیامت تک حرام رہے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: آدمی دس عورتوں سے زنا کرلے اس کا گناہ پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے سے کم ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: آپ لوگ چوری کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: چوںکہ اللہ اور رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے اس لیے یہ حرام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: آدمی دس گھروں سے چوری کرلے اس کا گناہ پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے سے کم ہے۔2
حضرت مُطَرِّف بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں: مجھے لوگوں کے واسطہ سے حضرت ابو ذر ؓ کی ایک حدیث پہنچی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ خود اُن سے میری ملاقات ہو جائے (تاکہ وہ حدیث ان سے براہِ راست سن لوں)۔ چناںچہ ایک دفعہ ان سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا: اے ابو ذر! مجھے آپ کی طرف سے ایک حدیث پہنچی ہے، میں (اس حدیث کو براہِ راست آپ سے سننے کے لیے) آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ انھوں نے فرمایا: اللہ تیرے باپ کا بھلا کرے! اب تو تمہاری مجھ سے ملاقات ہوگئی ہے، بتاؤ (وہ کون سی حدیث ہے؟) میں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضورﷺ نے آپ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو پسند کرتا ہے اور تین آدمیوں سے بغض رکھتا ہے۔ حضرت ابو ذر نے کہا: میرے خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ میں حضورﷺ کی طرف سے جھوٹ بیان کروں۔ میں نے کہا: وہ تین آدمی کو ن سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ایک تو وہ آدمی ہے جو اللہ کے راستہ میں جم کر ثواب کی اُمید میں غزوہ کرے اور زوردار جنگ کرے اور آخرکار وہ شہید ہو جائے، اور اس آدمی کا تذکرہ تمھیں اپنے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب میں مل جائے گا۔ پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّـہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ o}1
اللہ تعالیٰ توا ن لوگوں کو (خاص طور پر) پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح سے مل کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک عمارت ہے جس میں سیسہ پلایا گیا ہے ۔
میں نے کہا: دوسرا کون ہے؟ انھوں نے فرمایا: دوسرا وہ آدمی ہے جس کا پڑوسی برا آدمی ہے جو اسے تکلیف پہنچاتا رہتا ہے اور وہ اس کی تکلیفوں پر مسلسل صبر کرتا رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اس پڑوسی کی اصلاح فرما کر) اسے اور زندگی دے دے یا اسے دنیا سے اٹھا لے۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔2
حضرت قاسم ؓ کہتے ہیں: حضرت ابوبکر ؓ اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمن ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: اپنے پڑوسی سے جھگڑا نہ کرو، کیوںکہ پڑوسی تو یہاں ہی رہے گا اور (لڑانے والے) باقی لوگ چلے جائیں گے۔3