صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
بچوں کے ساتھ شفقت کرنا اور ان سب کے ساتھ برابر سلوک کرنا
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورﷺ منبر پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں بیان فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسین بن علیؓ (گھرسے) نکلے۔ ان کے گلے میں کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا جو لٹک رہا تھا اور زمین پر گھسٹ رہا تھا کہ اس میں ان کا پاؤں اُلجھ گیا اور وہ زمین پر چہرے کے بل گر گئے۔حضورﷺ انھیں اٹھانے کے ارادے سے منبر سے اُترنے لگے۔ صحابہؓ نے جب حضرت حسین کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھیں اٹھا کر حضورﷺ کے پاس لے آئے۔ حضورﷺ نے انھیں لے کر اٹھا لیا اور فرمایا: شیطان کو اللہ مارے! اولاد تو بس فتنہ اور آزمایش ہی ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو پتا ہی نہ چلاکہ میں منبر سے کب نیچے اتر آیا۔ مجھے تو بس اس وقت پتا چلا جب لوگ اس بچے کو میرے پاس لے آئے۔2
حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ سجدے میں تھے کہ حضرت حسن بن علیؓ آکر آپ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے۔ پھر حضورﷺ انھیں ہاتھ سے پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ پھر جب حضورﷺ رکوع میں گئے تو وہ حضورﷺ کی پشت پر کھڑے ہوگئے۔ پھر حضورﷺ نے اٹھ کر انھیں چھوڑ دیا تو وہ چلے گئے۔3
حضرت زبیرؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورﷺ سجدے میں ہیں کہ اتنے میں حضرت حسن بن علیؓ آکر حضورﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے۔ آپ نے انھیں نیچے نہ اُتارا (بلکہ یوں ہی آپ سجدے میں رہے) یہاں تک کہ وہی خود نیچے اترے اور کبھی آپ ان کے لیے دونوں ٹانگیں کھول دیا کرتے اور وہ ایک طرف سے آکر حضورﷺ کے نیچے سے گزر کر دوسری طرف سے نکل جاتے۔1
حضرت بَہِی ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے پوچھا کہ آپ مجھے بتائیں کہ لوگوں میں سے کس کی شکل حضورﷺ سے سب سے زیادہ ملتی تھی۔ انھوں نے کہا: حضرت حسن بن علیؓ کی شکل حضورﷺ سے سب سے زیادہ ملتی تھی اور حضورﷺ کو ان سے سب سے زیادہ محبت تھی۔ بعض دفعہ حضورﷺ سجدے میں ہوتے یہ آکر حضورﷺ کی پشت مبارک پر پڑجاتے اور جب تک یہ الگ نہ ہو جاتے حضورﷺ سجدے سے نہ اُٹھتے۔ بعض دفعہ یہ حضورﷺ کے پیٹ کے نیچے داخل ہو جاتے تو آپ ان کے لیے اپنے پاؤں کھول دیتے تو وہ ان کے درمیان سے نکل جاتے۔2
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ بعض دفعہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جب آپ سجدے میں جاتے تو حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کود کر آپ کی پشت پر بیٹھ جایا کرتے۔ جب لوگ ان دونوں کو روکنا چاہتے تو حضورﷺ انھیں اشارہ فرما دیتے کہ انھیں چھوڑ دو (جو کرتے ہیں انھیں کرنے دو) اور نماز پوری کر کے انھیں (سینے سے لگاتے اور پھر) اپنی گود میں بٹھا لیتے اور ارشاد فرماتے کہ جسے مجھ سے محبت ہے اسے ان دونوں سے بھی محبت کرنی چاہیے۔3
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: بعض دفعہ حضورﷺ سجدے میں ہوتے، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ میںسے کوئی ایک آکر حضورﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو جاتے، حضور ﷺ ان کی وجہ سے سجدہ لمبا فرما دیتے۔ بعد میں لوگ کہا کرتے: یانبی اللہ! آپ نے بڑا لمبا سجدہ کیا؟ آپ فرماتے: میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لیا تھا اس لیے مجھے جلدی اُٹھنا اچھا نہ لگا۔1
حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریمﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے کندھے پر (آپ کی نواسی) حضرت اُمامہ بنتِ ابی العاص ؓ بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے اسی طرح نماز پڑھنی شروع کر دی۔ جب رکوع میں جاتے تو انھیں نیچے اُتار دیتے اور جب (سجدے سے) سر اُٹھا تے تو انھیں پھر اٹھاکر بٹھا لیتے۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ آپ کے ایک کندھے پر حضرت حسنؓ بیٹھے ہوئے تھے اور دوسرے کندھے پر حضرت حسینؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کبھی اسے چومتے اور کبھی اسے۔ آپ یوں ہی چلتے چلتے ہمارے پاس پہنچ گئے تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو ان دونوں سے محبت ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔3
حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ حضرت حسن بن علیؓ کی زبان اور ہونٹ کو چوس رہے تھے، اور جس زبا ن اور ہونٹ کو حضورﷺ نے چوسا ہو اُسے کبھی عذاب نہیں ہو سکتا۔4
حضرت سائب بن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے حضرت حسن ؓ کا بوسہ لیا تو اقرع بن حابسؓ نے حضورﷺ سے عرض کیا: میرے تو دس بچے پیدا ہوئے، میں نے تو ان میں سے ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں فرماتے۔1
حضرت اسود بن خلف ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے پکڑ کر حضرت حسن کا بوسہ لیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آدمی اولاد کی وجہ سے کنجوسی کرتا ہے اور نادانی والے کام کرتا ہے (بچوں کی وجہ سے لڑ پڑتا ہے) اور اولاد کی وجہ سے آدمی بزدلی اختیار کر لیتا ہے (کہ میں مر گیا تو میرے بعد بچوں کا کیا ہوگا؟)۔2
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ شفقت کرتے تھے۔ حضورﷺ کا ایک صاحب زادہ تھا جو مدینہ کے کنارے کے محلہ میں کسی عورت کا دودھ پیا کرتا تھا۔ اس عورت کا خاوند لوہار تھا۔ ہم اسے ملنے جایا کرتے تو اس لوہار کا سارا گھر بھٹی میں اِذخر گھاس جلانے کی وجہ سے دھوئیں سے بھرا ہوا ہوتا۔ حضورﷺ اپنے اس بیٹے کو چوما کرتے تھے اور ناک لگا کر اسے سونگھا کرتے۔3
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ایک عورت اپنی دو بیٹیاں لے کر حضرت عائشہؓ کے پاس آئی۔ حضرت عائشہؓ نے اسے تین کھجوریں دیں اس نے ہر بیٹی کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں رکھنے لگی۔ وہ دونوں بچیاں اسے دیکھنے لگیں۔ اس پر اس نے (اس کھجور کو نہ کھایا بلکہ) اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا اور چلی گئی۔ پھر حضور ﷺ تشریف لائے تو اس عورت کا یہ قصہ انھوں نے حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ اپنے اس (مشفقانہ رویہ کی) وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی ہے ۔4
حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں: ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں آئی اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے۔ اس نے حضورﷺ سے کچھ مانگا، حضورﷺ نے اسے تین کھجوریں دے دیں ہر ایک کے لیے ایک کھجور۔ اس عورت نے ہر ایک کو ایک کھجور دی۔ وہ دونوں بچے اپنے حصے کی کھجور کھا کر اپنی ماں کو دیکھنے لگ گئے۔اس پر اس عورت نے اپنے حصہ کی اس تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ہر ایک کو آدھی کھجور دے دی۔ اس پرحضورﷺ نے فرمایا: چوںکہ اس عورت نے اپنے بیٹوں پر رحم کیا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما دیا ہے۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں آیا اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جسے وہ (از راہِ شفقت) اپنے ساتھ چمٹانے لگا۔ حضورﷺ نے پوچھا: کیا تم اس بچے پر رحم کر رہے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اس پر جتنا رحم کھا رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر رحم فرما رہے ہیں، وہ تو اَرحم الراحمین ہیں تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔2
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں اس کا بیٹا آیا اس نے اسے چوم کر اپنی ران پر بٹھا لیا۔ پھر اس کی ایک بیٹی آگئی اس نے اسے اپنے سامنے بٹھا لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے دونوں سے ایک جیسا سلوک کیوں نہیں کیا؟ (بیٹی کو نہ چوما اور نہ اسے ران پر بٹھایا)3