نبی کریم ﷺ کا ملکوں کے بادشاہوں کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا اہلِ نجران کے نام گرامی نامہ
عبدِ یسوع کے دادا پہلے عیسائی تھے بعد میں مسلمان ہوئے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ سورۂ طٰس سلیمان (یعنی سورۂ نمل) کے نازل ہونے سے پہلے حضورﷺ نے اہلِ نجران کو یہ خط لکھا (مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ذکر ہے، اس لیے اس سورت کے نازل ہونے کے بعد حضورﷺ اپنے خطوں کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے لگے۔چوں کہ یہ خط سورت کے نازل ہونے سے پہلے لکھا گیا ہے اس لیے اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے)۔
بِاسم إِلٰہِ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ (حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ؑ کے پروردگار کے نام سے شروع کرتا ہوں) اللہ کے نبی اور اس کے رسول محمد ﷺ کی جانب سے نجران پادری اور نجران والوں کے نام۔
تم سلامتی میں رہو! میں تمہارے سامنے حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کے معبود کی تعریف بیان کرتا ہوں۔ اما بعد! میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت چھوڑ کر اللہ کی عبادت اختیار کرو اور بندوں کی دوستی چھوڑ کر اللہ سے دوستی لگاؤ۔ اگر تم میری اس دعوت کو نہ مانو تو پھر جزیہ ادا کرو، اور اگر تم جزیہ سے بھی اِنکار کرتے ہو تو پھر میری طرف سے تمہارے لیے اعلانِ جنگ ہے۔ والسلام!
جب پادری کو حضورﷺ کا یہ خط ملا اور اس نے پڑھا تو وہ ایک دم گھبرا گیا اور بہت زیادہ خوف زدہ ہوگیا۔ اور اس نے اہلِ نجران میں سے ایک آدمی کو بلایا جس کا نام شرحبیل بن وداعہ تھا اور وہ قبیلہ ہمدان کا تھا اور کسی بھی مشکل امر کے پیش آنے پر اس سے پہلے کسی کو نہیں بلایا جاتا تھا، حتی کہ َایہم اور سیّد اور عاقب کو بھی اس سے پہلے نہیں بلایا جاتا تھا (یہ تینوں اُن کے اہم عہدوں کے نام ہیں)۔ شرحبیل کے آنے پر پادری نے اس کو حضورﷺ کا خط دیا۔ اس نے غور سے خط پڑھا ۔ پادری نے پوچھا: اے ابو مریم ! اس خط کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت اِسماعیل ؑ کی اولاد میں نبی بھیجنے کا جو وعدہ کر رکھا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے کہ یہ آدمی وہی نبی ہو اور میں نبوت کے معاملہ میں کوئی رائے نہیں دے سکتا ہوں۔ اور اگر دنیا کا کوئی معاملہ ہوتا تو میں آپ کو سوچ سمجھ کر اپنا مشورہ پیش کردیتا ۔ پادری نے شرحبیل سے کہا: ایک طرف ہوکر بیٹھ جاؤ۔ چناں چہ شرحبیل ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ پھر پادری نے آدمی بھیج کر اہلِ نجران میں سے ایک اور آدمی کو بلایا جس کا نام عبداللہ بن شرحبیل تھا اور وہ قبیلہ حمیر کی ذی اصبح شاخ میں سے تھا۔ پادری نے اسے خط پڑھنے کے لیے دیا اور اس خط کے بارے میں اس کی رائے پوچھی، اس نے بھی شرحبیل جیسا جواب دیا تو اس پادری نے کہا: ایک طرف ہوکر بیٹھ جاؤ۔ چناں چہ وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
پھر پادری نے آدمی بھیج کر اہلِ نجران کے ایک اور آدمی کو بلایا جس کا نام جبار بن فیض تھا اور وہ قبیلہ بنو الحارث بن کعب کی شاخ بنو الحماس میں سے تھا۔ اسے بھی پڑھنے کے لیے خط دیا اور اس خط کے بارے میں اس کی رائے پوچھی، اس نے بھی شرحبیل اور عبداللہ جیسا جواب دیا۔ پادری کے کہنے پر وہ بھی ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ جب ان سب نے اس بارے میں ایک ہی رائے دی تو پادری کے حکم دینے پر گھنٹا بجایا گیا اور گرجا گھروں میں آگ روشن کی گئی اور ٹاٹ کے جھنڈے بلند کیے گئے۔ دن میں جب گھبراہٹ کی بات پیش آتی تو وہ لوگ ایسا ہی کیا کرتے، اور اگر رات کو گھبراہٹ کی بات پیش آتی تو صرف گھنٹا بجاتے اور گرجا گھروں میں آگ روشن کرتے ۔چناں چہ جب گھنٹا بجایا گیا اور ٹاٹ کے جھنڈے بلند کیے گئے تو وادی کے تمام اوپر نیچے کے رہنے والے جمع ہوگئے۔ اور وہ وادی اتنی لمبی تھی کہ تیز سوار اسے ایک دن میں طے کرے اور اس میں تہتر بستیاں اور ایک لاکھ بیس ہزار جنگ جو جوان تھے۔ پادری نے اُن سب کو حضورﷺ کا خط پڑھ کر سنایا اور ان سے اس خط کے بارے میں رائے پوچھی۔ تو ان کے تمام اہلِ شوریٰ نے یہ رائے دی کہ شرحبیل بن وداعہ ہمدانی اور عبداللہ بن شرحبیل اصبَحِی اور جبار بن فیض حارثی کو حضورﷺ کے پاس بھیج دیا جائے اور یہ تینوں حضورﷺ کے تمام حالات معلوم کرکے آئیں۔ چناں چہ ان تینوں کا وفد گیا۔
جب یہ مدینہ پہنچے تو انھوں نے اپنے سفر کے کپڑے اتار دیے اور یمن کے بنے ہوئے مزیّن اور لمبے جوڑے پہن لیے جو زمین پر گھسٹ رہے تھے اور ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں پہن لیں۔ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کیا لیکن آپ نے اُن کے سلام کا جواب نہ دیا۔ وہ لوگ دن بھر حضورﷺ سے گفتگو کا موقع تلاش کرتے رہے، لیکن آپ نے اُن سے کچھ گفتگو نہ فرمائی کیوں کہ انھوں نے وہ جوڑے اور سونے کی انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں۔ پھر وہ تینوں حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓکی تلاش میں چلے ،ان لوگوں کی ان دونوں حضرات سے جان پہچان تھی۔ وہ دونوں حضرات مہاجرین اور اَنصار کی ایک مجلس میں مل گئے تو ان لوگوں نے کہا: اے عثمان! اور اے عبدالرحمن ! تمہارے نبی نے ہمیں خط لکھا جس کی وجہ سے ہم یہاں آئے ہیں ۔ ہم نے ان کی خدمت میں جاکر سلام کیا لیکن انھوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ اور دن بھر ہم ان سے گفتگو کا موقع تلاش کرتے رہے لیکن انھوں نے ہمیں کوئی موقع نہیں دیا۔ ہم تو اب تھک گئے تو آپ دونوں کا کیا خیال ہے؟ کیا ہم واپس چلے جائیں؟
حضرت علیؓ بھی اسی مجلس میں موجود تھے تو ان دونوں حضرات نے حضرت علی سے فرمایا: اے ابوالحسن ! ان لوگوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو حضرت علی نے ان دونوں حضرات سے فرمایا کہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے یہ جوڑے اور انگوٹھیاں اتاردیں اور اپنے سفر والے کپڑے پہن لیں اور پھرحضورﷺ کی خدمت میں جائیں۔ چناں چہ ان لوگوںنے ایساہی کیا اور خدمت میں حاضر ہوکر سلام کیا تو حضورﷺ نے ان کے سلام کا جواب دیا اور پھرآپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے! یہ لوگ جب پہلی مرتبہ میرے پاس آئے تھے تو اِبلیس بھی ان کے ساتھ تھا۔ پھر حضورﷺ نے ان سے حالات پوچھے اور انھوں نے حضورﷺ سے اپنے سوالات کیے۔ یونہی سوالات کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے حضورﷺ سے یہ پوچھاکہ آپ عیسیٰ ؑ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟کیوں کہ ہم عیسائی ہیں، ہم اپنی قوم کے پاس واپس جائیں گے۔ اگر آپ نبی ہیں تو ہماری خوشی اس میں ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آپ کے خیالات سن کر جائیں۔آپ نے فرمایا:آج تومیرے پاس اُن کے بارے میںکچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ آج تم لوگ ٹھہر جاؤ میرا ربّ عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو کچھ بتائے گا میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ اگلے دن صبح کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِِ کَمَثَلِ اٰدَمَ} سے لے کر {الْکَاذِبِیْنَ }1 تک۔
بے شک عیسیٰ ؑ کی مثال اللہ کے نزدیک جیسے مثال آدم ؑ کی، بنایا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو کہ ہوجا، وہ ہوگیا ، حق وہ ہے جو تیرا رب کہے۔ پھرتو مت رہ شک لانے والوں سے۔
پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی، تو تو کہہ دے آؤ بلاویں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان، پھر التجا کریں ہم سب اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں۔
(حضورﷺ نے اُن کو یہ آیات سنائیں لیکن ان آیات کو سن کر ) انھوں نے ان کو ماننے سے انکار کردیا (اور مباہلہ کے لیے تیار ہوگئے) ۔چناں چہ اگلے روز حضورﷺ مباہلے کے لیے تشریف لائے اور اپنی چادر میں حضرت حسن اور حضرت حسینؓکو لپیٹے ہوئے تھے اور حضرت فاطمہؓ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں، اور اس دن آپ کی بہت سی بیویاں تھیں۔ (یہ منظر دیکھ کر) شرحبیل نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ جب وادی کے اوپر اور نیچے کے رہنے والے لوگ جمع ہوجاتے ہیں تو سب میرے فیصلہ پر ہی مطمئن ہوکر واپس جاتے ہیں۔ اور اللہ کی قسم! میں بہت مشکل اور کٹھن بات دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ آدمی واقعی غصہ سے بھرا ہوا ہے (اور ہم ان کی بات نہیں مانتے ہیں) تو ہم عربوں میں سب سے پہلے ان کی آنکھوں کو پھوڑنے والے اور ان کے امر کی سب سے پہلے تردید کرنے والے ہوجائیں گے، تو پھر ان کے اور ان کے ساتھیوں کے دل سے ہمارا خیال اس وقت تک نہیں نکلے گا یعنی ان کا غصہ اس وقت تک ٹھنڈا نہیں پڑے گا جب تک یہ ہمیں جڑ سے نہیں اُکھیڑ دیتے ہیں۔ اور ہم عربوں میں ان کے سب سے قریبی پڑوسی ہیں ،اور اگر یہ آدمی واقعی نبی اور رسول ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کرلیا تو رُوئے زمین کے ہم تمام عیسائی ہلاک ہوجائیں گے، ہم میں سے کسی کا بال اور ناخن تک نہیں بچے گا۔
تو شرحبیل کے دونوں ساتھیوں نے کہا: اے ابو مریم! تو پھر تمہارا کیا خیال ہے؟ شرحبیل نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ میں ان کو حَکَم بنالیتا ہوں، کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایسے انسان ہیں جو کبھی بھی بے جا شرط نہیں لگائیں گے۔ ان دونوں نے کہا: اچھا! تم جیسے مناسب سمجھو۔ چناں چہ شرحبیل حضورﷺ کی خدمت میں ملاقات کے لیے گیا اور اس نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ مباہلہ سے بہتر ایک بات میری سمجھ میں آئی ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: (ہم آپ سے صلح کرلیتے ہیں)آپ رات بھر سوچ کر کل صبح ہمیں اپنی شرطیں بتادیں، آپ جو بھی شرطیں لگائیں گے وہ ہمیں منظور ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری مخالفت کریں اور یوں صلح کرنے پر تم پر اعتراض کریں۔ شرحبیل نے کہا: آپ میرے ان دونوں ساتھیوں سے پوچھ لیں۔ آپ نے ان دونوں سے پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ ہماری وادی کے تمام لوگ شرحبیل کے فیصلہ کو دل جان سے مان لیتے ہیں۔ چناں چہ حضورﷺ و اپس تشریف لے گئے اور ان سے مباہلہ نہ فرمایا۔ اگلے دن وہ تینوں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حضور ﷺ نے اُن کو یہ خط لکھ کر دیا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے نبی محمد رسول اللہ نے نجران والوں کے بارے میں لکھا ہے کہ محمد کا اُن کے بارے میں یہ فیصلہ ہے کہ تمام پھل، سونا اور چاندی اور غلام وغیرہ سب نجران والوں کے پاس رہے گا اور یہ محمد کی طرف سے اُن پر فضل و احسان ہے۔ اور اس کے بدلہ میں وہ دو ہزار جوڑے دیا کریںگے ایک ہزار جوڑے رجب میں اور ایک ہزار جوڑے صفر میں۔
اور باقی تمام شرطیں بھی ذکر کیں۔1
’’البدایۃ ‘‘ (۵/۵۵)میںاس کے بعد یہ مضمون ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرب اور حضرت غیلان بن عمرو اور بنی نصر کے حضرت مالک بن عوف اور اَقرع بن حابس حنظلی اور حضرت مغیرہ ؓ اس معاہدہ پر گواہ بنے اور آپ نے یہ معاہدہ لکھوایا۔ معاہدہ نامہ لے کر وہ نجران کو واپس چل پڑے ۔ جب یہ لوگ نجران پہنچے تو پادری کے پاس اس کا ماں جایا چچازاد بھائی موجود تھا جس کا نام بشیر بن معاویہ اور جس کی کنیت ابو علقمہ تھی۔ ان لوگوں نے حضورﷺ کا معاہدہ نامہ اس پادری کو دیا۔ وہ پادری اور اس کا بھائی ابو علقمہ دونوں سواری پر جارہے تھے اور پادری حضورﷺ کا معاہدہ نامہ پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں بشیر کی اونٹنی ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گری اور بشیر بھی گرگیا اور اس نے حضورﷺ کا صاف نام لے کر حضورﷺ کے لیے ہلاکت کی بد دعا کی اس میں اشارے یا کنایہ سے کام نہیں لیا۔ اس پر پادری نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ایک نبی اور رسول کی ہلاکت کی بد دعاکی ہے۔ (اس جملہ سے متأثر ہوکر) بشیر نے پادری سے کہا کہ اگر وہ واقعی نبی اوررسول ہیں تو پھر میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے اپنی اونٹنی کے کجاوے کی کوئی بھی گرہ نہیں کھولوں گا۔
چناں چہ بشیر نے اپنی اونٹنی کا منہ مدینہ کی طرف موڑ دیا۔ پادری نے بھی اپنی اونٹنی ان کی طرف موڑ دی اور اس سے کہا: ذرا میری بات سمجھ تو لو، میں نے تو یہ بات ڈرتے ڈرتے صرف اس لیے کہہ دی تھی تاکہ میری طرف سے عربوں کو یہ بات پہنچ جائے کہ ہم نے آپ کے حق ہونے کو مان لیا ہے، یا ہم نے آپ کی آواز (دعوائے نبوت کو) قبول کرلیا ہے، یاہم نے عاجز ہوکر آپ کی بات کا اِقرار کرلیا ہے جس کا تمام عربوں نے بھی اِقرار نہیں کیا، حالاں کہ ہم عربوں میں زیادہ عزت والے اور زیادہ گھروں والے (یعنی آبادی والے ) ہیں۔ بشیر نے اس سے کہا کہ نہیں نہیں، اللہ کی قسم ! جو بات تم اب کہہ رہے ہو میں اسے کبھی بھی نہیںمانوں گا۔ اس کے بعد بشیر نے اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کرنے کے لیے اسے مارا اور پادری کو پس پشت چھوڑ گئے اور وہ یہ رجز یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے :
إِلَیْکَ تَغْدُوْ قَلِقًا وَّضِیْنُہَا
مُعْتَرِضًا فِيْ بَطْنِہَا جَنِیْــنُہَا
مُخَالِفًا دِیْنَ النَّــصَارٰی دِیْنُـہَا
یا رسول اللہ ! میری یہ اونٹنی آپ ہی کی طرف چل رہی ہے۔ اس کی پیٹی تیز چلنے کی وجہ سے خوب ہل رہی ہے اور اس کے پیٹ میں اس کا بچہ ٹیڑھا پڑا ہوا ہے اور اس کا دین یعنی اس کے سوار کا دین نصاریٰ کے دین سے مختلف ہوچکا ہے۔
چناں چہ بشیر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ کر مسلمان ہوگئے اور پھر زندگی بھر حضورﷺ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ (ایک غزوہ میں ) وہ شہید ہوگئے ۔ بہرحال وہ تین آدمیوں کا وفد نجران کے علاقہ میں پہنچا ۔پھر یہ وفدا بنِ ابی شمر زُبَیدِی راہب کے پاس گیا جو کہ اپنے گرجے کے اوپر خلوت خانے میں تھا۔ اور وفد نے اسے یہ بتایا کہ تہامہ میںایک نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ اور پھر انھوں نے اس راہب کو اپنے سفر کی کار گزاری سنائی کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں گئے، حضورﷺ نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی لیکن انھوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا، اوربشیر بن معاویہ حضورﷺ کی خدمت میں جاکر مسلمان ہوچکا ہے۔ تو اس راہب نے کہا: مجھے اس بالاخانہ سے نیچے اتارو ورنہ میں اپنے آپ کو نیچے گرادوں گا۔چناں چہ لوگوں نے اسے نیچے اتارا اور وہ چند ہدیے لے کر حضورﷺ کی طرف چل دیا۔ ان ہدیوں میں وہ چادر بھی تھی جو خُلَفا اوڑھا کرتے تھے اور ایک پیالہ اورایک لاٹھی بھی تھی۔ اور کافی عرصہ تک حضورﷺ کی خدمت میں ٹھہر کر وحی کو سنتا رہا، لیکن اس کے مقدر میں اِسلام نہیں تھا اور جلد واپس آنے کا وعدہ کرکے اپنی قوم کی طرف چلا گیا، لیکن حضورﷺ کی خدمت میں واپس آنا بھی اس کے مقدر میں نہیں تھا یہاں تک کہ حضورﷺ کا انتقال ہوگیا۔ اور ابوالحارث پادری سیّد اور عاقب اور اپنی قوم کے ممتاز لوگوں کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آیا اور سب لوگ وہاں ٹھہر کر آسمان سے اترنے والے قرآن کو سنتے رہے۔ حضورﷺ نے نجران کے اس پادری کے لیے اور دوسرے پادریوں کے لیے یہ تحریر لکھ کر دی :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے نبی محمد کی طرف سے یہ تحریر ابو الحارث پادری اور نجران کے دوسرے پادریوں اور کاہنوں اور راہبوں کے لیے ہے۔
تھوڑی یا زیادہ جتنی چیزیں ان کے قبضہ میں ہیں وہ سب ان ہی کے پاس رہیں گی، ان سب کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ کسی پادری اور راہب اور کاہن کو اس کے منصب سے نہیں ہٹایا جائے گا، اور ان کے حقوق اور ان کے اقتدار اور ان کے عہدوں کو نہیں چھینا جائے گا، اور اللہ و رسول کی یہ پناہ اس وقت تک ہے جب تک کہ یہ ٹھیک ٹھیک چلیں اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتے رہیں، نہ ان پر ظلم کیا جائے گا ،نہ یہ کسی پر ظلم کریں ۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے یہ تحریر لکھی تھی۔