صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کے احترام میں کھڑا ہونا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو بات چیت میں اور اٹھنے بیٹھنے میں حضرت فاطمہؓ سے زیادہ حضورﷺ کے مشابہ ہو۔ حضورﷺ جب حضرت فاطمہ کو آتے ہوئے دیکھتے تو ان کو مرحباً کہتے، پھر کھڑے ہو کر ان کا بوسہ لیتے، پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر لا کر انھیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ اور جب حضورﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ مرحباً کہتیں، پھر کھڑے ہو کر حضورﷺ کا بوسہ لیتیں۔ مرض الوفات میں وہ حضورﷺ کی خدمت میں آئیں تو حضورﷺ نے انھیں مرحباً کہا اور ان کا بوسہ لیا اور پھر چپکے سے ان سے کچھ بات کی جس پر وہ رونے لگ گئیں۔ حضورﷺ نے دوبارہ ان سے چپکے سے کچھ بات کی جس پر وہ ہنسنے لگ گئیں۔ میں نے عورتوں سے کہا: میں تو سمجھتی تھی کہ ان کو یعنی حضرت فاطمہ کو عام عورتوں سے بہت زیادہ فضیلت حاصل ہے، لیکن یہ بھی ایک عام عورت ہی نکلیں پہلے رو رہی تھی پھر ایک دم ہنسنے لگ گئیں۔ پھر میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ حضورﷺ نے تم سے کیا کہا تھا؟ انھوں نے کہا: (یہ راز کی بات ہے اگر میں آپ کو بتا دوں تو) پھر تو میں راز فاش کرنے والی ہو جاؤں گی۔ جب حضورﷺ کا انتقال ہوگیا تب حضرت فاطمہ نے بتایا کہ حضور ﷺ نے مجھے چپکے سے پہلے یہ کہا تھا کہ میرا انتقال ہونے والا ہے، اس پر میں رونے لگ گئی تھی۔ اس کے بعد پھر چپکے سے یہ فرمایا تھا کہ تم میرے خاندان میں سے سب سے پہلے مجھ سے آملو گی، اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور یہ بات مجھے بہت اچھی لگی (اس پر میں ہنسنے لگی)۔1
حضرت ہلال ؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریمﷺ باہر تشریف لاتے تو ہم آپ کے لیے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ آپ دوبارہ اپنے گھر تشریف لے جاتے۔2
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ ہم آپ کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں (ہاتھ باندھ کر) کھڑے ہو جاتے ہیں تم ایسے مت کھڑے ہو۔3
حضرت عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکرؓ پر رحم فرمائے! انھوں نے کہا: کھڑے ہو جاؤ، ہم اس منافق کے خلاف مقدمہ حضورﷺ کے سامنے پیش کریں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کھڑے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہونا چاہیے کسی اور کے لیے نہیں ہونا چاہیے (آنے والے کے دل میں یہی جذبہ ہو نا چاہیے کہ لوگ میرے لیے کھڑے نہ ہوں)۔4
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓ کو حضورﷺ کی زیارت جتنی محبوب تھی اتنی کسی اور کی نہیں تھی، لیکن جب حضورﷺ کو (آتا ہوا) دیکھ لیا کرتے تو کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے کیوںکہ انھیں معلوم تھا کہ کھڑا ہونا حضورﷺ کو پسند نہیں ہے۔ (حضورﷺ چاہتے تھے کہ صحابہ کے ساتھ بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ رہیں تکلّفات نہ ہوں)1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔ اور حضرت ابنِ عمر کا معمول یہ تھا کہ جب ان کے لیے کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو جاتا تو اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔2
حضرت ابو خالد والبی ؓکہتے ہیں: ہم لوگ کھڑے ہوئے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ آگے بڑھیں کہ اتنے میں وہ باہر آئے اور فرمایا: کیا بات ہے تم لوگ سینہ تان کر (فوجیوں کی طرح) کھڑے ہوئے نظر آرہے ہو۔3
حضرت ابو مِجلَز ؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ باہر آئے۔ باہر حضرت عبد اللہ بن عامر اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عامر تو کھڑے ہو گئے لیکن حضرت ابنِ زبیر بیٹھے رہے، اور ان دونوں میںحضرت ابنِ زبیر بلند مرتبہ اور وزنی تھے۔ حضرت معاویہؓ نے کہا:حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کو اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ اللہ کے بندے اس کے لیے کھڑے ہوں اسے دوزخ کی آگ میں اپنا گھر بنا لینا چاہیے۔4