صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کے راز کو چھپانا

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: میری بیٹی حضرت حفصہؓ بیوہ ہوگئیں۔ (ان کے خاوند) حضرت خنیس بن حذافہ سہمیؓ حضورﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے، ان کا مدینہ میں انتقال ہوگیا۔ میری حضرت ابوبکرؓ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حضرت حفصہ بنتِ عمر کا آپ سے نکاح کر دوں۔ انھوں نے مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ چند دن کے بعد حضورﷺ نے حفصہ سے شادی کا پیغام دیا، آخر میں نے حضورﷺ سے اس کی شادی کر دی۔ پھر حضرت ابو بکر مجھے ملے اور انھوں نے کہا: تم نے حفصہ کو مجھ پر پیش کیا تھا میں نے تمھیں اس کا کوئی جواب نہیں دیاتھا، شایدتمھیں اس سے مجھ پر غصہ آیا ہوگا۔ میں نے کہا: ہاں! آیا تو تھا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے اس وقت تمھیں اس لیے جواب نہیں دیا تھا کہ میں نے حضورﷺ کو حضرت حفصہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا (جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ حضورﷺ ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں) اور میں حضورﷺ کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتا تھا، اگرحضورﷺ ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرورکر لیتا۔2 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضورﷺ کی خدمت کی۔ جب میں نے دیکھا کہ میں آپ کی خدمت سے فارغ ہوگیا ہوں تو میں نے (اپنے دل میں) کہا: نبی کریم ﷺ اب دوپہر کو آرام فرمائیں گے، تو میں آپ کے پاس سے باہر چلا گیا۔ باہر بچے کھیل رہے تھے، میں کھڑا ہو کر ان کے کھیل کو دیکھنے لگ گیا۔ اتنے میں حضورﷺ تشریف لے آئے اور بچوں کے پاس پہنچ کر انھیں سلام کیا۔ پھر حضورﷺ نے مجھے بلایا اور کسی کام کے لیے بھیج دیا اور گویا کہ وہ کام میرے منہ میں ہے۔ میں آپ کا کام پورا کر کے آپ کی خدمت میں (بتانے) گیا اور اس طرح میں دیر سے اپنی والدہ کے پاس واپس پہنچا تو انھوں نے پوچھا: آج تم دیر سے کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: حضورﷺ نے کسی کام سے بھیج دیا تھا۔ میری والدہ نے پوچھا: وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ حضورﷺ کی راز کی بات ہے۔ میری والدہ نے کہا: ٹھیک ہے حضورﷺ کا راز چھپا کر رکھنا۔ چناںچہ میں نے آج تک حضورﷺ کا وہ راز کسی انسان کو نہیں بتایا۔ (اے میرے شاگرد!) اگر میں کسی کو بتاتا تو تمھیں تو ضرور بتا دیتا۔1