نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا شکر

نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کا شکر

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک سائل حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورﷺ کے فرمانے پر اسے ایک کھجور دے دی گئی۔ اس نے وہ کھجور پھینک دی۔ پھر ایک اور سائل آیا تو آپ نے فرمایا: اسے بھی ایک کھجور دے دو۔ اس نے کھجور لے کر کہا: سبحان اللہ! حضورﷺ کی طرف سے ایک کھجور(یہ تو بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اس کیفیت سے خوش ہو کر) حضور ﷺ نے باندی سے فرمایا:اُمّ سَلَمہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ان کے پاس جو چالیس درہم ہیں وہ اس سائل کو دے دیں۔1 حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کہ ایک سائل نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا، حضور ﷺ نے اسے ایک کھجور دے دی۔ اس آدمی نے کہا: سبحان اللہ! نبیوں میں سے اتنے بڑے نبی اور وہ ایک کھجور صدقہ میںدے رہے ہیں۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا: کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ اس ایک کھجور میں بہت سارے ذرّے ہیں؟ پھر حضورﷺ کے پاس دوسرا سائل آیا، حضور ﷺ نے اسے بھی ایک کھجور دی۔ اس نے (خوش ہو کر) کہا: یہ کھجور مجھے نبیوں میں سے ایک نبی کی طرف سے ملی ہے، جب تک میں زندہ رہوں گا یہ کھجور میرے پاس رہے گی اور مجھے اُمید ہے کہ اس کی برکت ہمیشہ ملتی رہے گی۔ پھر حضورﷺ نے (لوگوں کو) اس کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ مال دار ہوگیا۔2 حضرت سلیمان بن یسار ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ (مکہ اور مدینہ کے درمیان) ضَجْنَان مقام کے پاس سے گزرے تو فرمانے لگے: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں (بچپن میں اپنے والد) خطّاب کے جانور اس جگہ چرایا کرتا تھا، لیکن اللہ کی قسم! میری معلومات کے مطابق وہ سخت مزاج اور دُرشت گو تھے۔ پھر میں حضرت محمد ﷺ کی اُمت کا والی بن گیا ہوں۔ پھر یہ شعر پڑھا: لَا شَيْئَ فِیْمَا تَرٰی إِلَّا بَشَاشَتُہٗ یَبْقٰی الإِلٰہُ وَیُوْدِي الْمَالُ وَالْوَلَدُ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو اس میں (ظاہری) بشاشت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی ذات باقی رہنے والی ہے باقی تمام مال اور اولاد فنا ہو جائے گی۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے اُونٹ سے فرمایا: چل۔3 حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر میرے پاس دو سواریاں لائی جائیں ایک شکر کی دوسری صبر کی تو مجھے اس کی پروا نہیں ہے کہ میں کس پر سوار ہوا۔4 حضرت عکرمہ ؓکہتے ہیں: حضرت عمرؓ ایک ایسے مصیبت زدہ آدمی کے پاس سے گزرے جو کوڑھی، نابینا، بہرا اور گونگا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تمھیں اس میں اللہ کی کوئی نعمت نظر آرہی ہے؟ ساتھیوں نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس میں بھی اللہ کی نعمت ہے۔ کیا آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کہ یہ پیشاب کرلیتا ہے، پیشاب قطرہ قطرہ کر کے نہیں آتا ہے اور نہ مشکل سے نکلتا ہے بلکہ آسانی سے نکل آتا ہے، یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔1 حضرت ابراہیم ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! میں اپنی ساری جان اور سارا مال تیرے راستہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم لوگ خاموش کیوں نہیں رہتے؟ اگر کوئی مصیبت آجائے تو صبرکرو، اور اگر عافیت ملے تو شکر کرو۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: یہ بات میں نے خود سنی ہے کہ حضرت عمر ؓ کو ایک آدمی نے سلام کیا، حضرت عمر نے سلام کا جواب دیا اور اس سے پوچھا: تم کیسے ہو؟ اس نے کہا: میں آپ کے سامنے اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہی جواب میں تم سے سننا چاہتا تھا۔3 حضرت حسن بصری ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو یہ لکھا کہ جتنی دنیا ملے اس پر قناعت کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو روزی زیادہ دیتے ہیں اور بعض کو کم۔ وہ اس طرح ہر ایک کو آزمانا چاہتے ہیں، لہٰذا جسے روزی زیادہ دی ہے اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کا شکر کیسے ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کا جو حق بندے پربنتا ہے اس کی ادائیگی یہ ہے کہ بندہ اس کا شکر ادا کرے۔4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: شکر والوں کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ نعمتیں بڑھتی رہتی ہیں، لہٰذا تم نعمتوں کی زیادتی طلب کرو کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ}1اگر تم شکر کرو گے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا۔2 حضرت سلیمان بن موسیٰ ؓکہتے ہیں: حضرت عثمان بن عفان ؓ کو کسی نے بتایا کہ کچھ لوگ برائی میں مشغول ہیں آپ ان کے پاس جائیں۔ حضرت عثمان وہاں گئے، دیکھا کہ وہ لوگ تو سب بکھر چکے ہیں البتہ برائی کے اثرات موجود ہیں۔ تو انھوں نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ انھوں نے ان لوگوں کو برائی پر نہ پایا اور ایک غلام آزاد کیا۔3 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: نعمت ملنے پر فوراً اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ شکر اور نعمت کا بڑھنا ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں۔ جب بندہ شکر ادا کرنا چھوڑے گا تب اللہ کی طرف سے نعمت کا بڑھنا بند ہوگا۔4 حضرت محمد بن کعب قُرظی ؓکہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا: ایسے نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی کے لیے شکر کا دوازہ تو کھول دیں اور اپنی طرف سے نعمت بڑھانے کا دروازہ بند کر دیں، اور دعا کا دروازہ تو کسی کے لیے کھول دیں اور قبولیتِ دعا کا دروازہ بند رکھیں، اور توبہ کا دروازہ تو کسی کے لیے کھول دیں اور مغفرت کا دروازہ بند رکھیں۔ میں تمھیں (اس کی تائید میں) اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں سے پڑھ کر سناتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ}5مجھ کو پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ} اور فرمایا ہے: {فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ}6 ان (نعمتوں) پر مجھ کو یاد کرو میں تم کو (عنایت سے) یاد رکھوں گا۔ اور فرمایا ہے: {وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا o}1 اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان کا ضرر کرے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑی مغفرت والا، بڑی رحمت والا پائے گا۔2 حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں کہ میں صبح اور شام اس حال میں کروں کہ لوگ مجھ پر کوئی مصیبت نہ دیکھیں تو میں مصیبت سے محفوظ رہنے کو اپنے اوپر اللہ کی طرف سے بہت بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔3 حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں: جو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کی نعمت صرف کھانا پینا ہے تو اس کی سمجھ کم ہے اور اس کا عذاب نزدیک آچکا ہے۔4 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جو بندہ خالص پانی پیے اور وہ پانی بغیر کسی تکلیف کے اندر چلا جائے اور پھر بغیر کسی تکلیف کے (پیشاب کے ذریعہ سے) باہر آجائے تو اس پر شکر ادا کرنا واجب ہوگیا۔5 جب حضرت ابنِ زبیر ؓ شہید کر دیے گئے تو (ان کی والدہ محترمہ) حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ؓ کی وہ چیز گم ہوگئی جو حضورﷺ نے ان کو عطا فرمائی تھی اور ایک تھیلے میں رکھی رہتی تھی۔ وہ اسے تلاش کرنے لگیں، جب وہ چیز مل گئی تو سجدے میں گر پڑیں۔6