بہادری

سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی بہادری

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوب صورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (کسی آواز کو سن کر) گھبراگئے تو لوگ اس آواز کی طرف چل پڑے۔ انھیں سامنے سے حضورﷺ واپس آتے ہوئے ملے، حضورﷺ ان سے پہلے آواز کی طرف چلے گئے تھے۔ حضورﷺ حضرت ابو طلحہ ؓ کے گھوڑے پر ننگی پشت پر سوار تھے، آپ کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ فرما رہے تھے: ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اور فرمایا: ہم نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح رواں دواں) پایا حالاںکہ مشہور یہ تھا کہ یہ گھوڑا سست اور کمزور ہے (حضورﷺ کی برکت سے تیز ہوگیا)۔ ’’مسلم‘‘ میں حضرت انس ؓ کی روایت میں اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں گھبراہٹ کی بات پیش آئی۔ حضورﷺ نے حضرت ابو طلحہ ؓ سے مندوب نامی گھوڑا مانگ کر لیا اور اس پر سوار ہو کر گئے اور واپس آکر فرمایا: ہمیں گھبراہٹ کی کوئی چیز نظر نہیں آئی، اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا۔ اور جب لڑائی زوروں پر آتی تو ہم لوگ حضورﷺکو آگے کر کے خود کو بچایا کرتے۔1 حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دن مشرکوں کے حملہ سے ہم نے حضورﷺ کی اوٹ لے کر اپنا بچاؤ کیا۔ آپﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ نڈر تھے، بڑی بے جگری سے لڑتے تھے۔2 حضرت ابو اسحاق ؓ کہتے ہیں: یہ بات میں نے خود سنی ہے کہ قبیلہ قیس کے آدمی نے حضرت براء بن عازبؓ سے پوچھا کہ کیا غزوۂ حنین کے دن آپ لوگ حضورﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ حضرت براء نے فرمایا: جی ہاں، لیکن حضورﷺ نہیں بھاگے تھے۔ قبیلہ ہوازن والے بڑے تیر انداز تھے۔ جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو انھیں شکست ہوگئی تو ہم لوگ مالِ غنیمت سمیٹنے پر ٹوٹ پڑے۔ اس وقت انھوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ اپنے سفید خچر پر سوار ہیں اور اس کی لگام حضرت ابو سفیانؓ پکڑے ہوئے ہیں اور حضورﷺ فرما رہے ہیں: أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ۔میںنبی برحق ہوں اور یہ بات جھوٹ نہیں ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے: أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ میںنبی برحق ہوں اوریہ بات جھوٹ نہیںہے۔ میںعبد المطّلب کا پوتا ہوں۔ (لوگوں کو ہمت دلانے کے لیے آپ نے اپنے خاندان کا تذکرہ کیا)۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ ہے کہ پھر حضورﷺ اپنے خچر سے نیچے تشریف لے آئے۔1 حضرت براء ؓ فرماتے ہیں: پھر حضورﷺ نیچے تشریف لے آئے اور اللہ سے مدد طلب فرمائی اور یوں فرمایا: أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اَللّٰھُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اے اللہ! اپنی نصرت نازل فرما۔ اور جب لڑائی زوروں پر آجاتی تو ہم لوگ حضورﷺ کی اَوٹ میں اپنا بچاؤ کیا کرتے تھے اور اس وقت جو حضورﷺ کے شانہ بشانہ لڑتا وہ سب سے زیادہ بہادر شمار ہوتا۔2 جہاد کے باب میں صحابۂ کرام کی بہادری کے ذیل میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضر ت طلحہ، حضرت سعد، حضرت حمزہ، حضرت عباس، حضرت معاذ بن عمرو، حضرت معاذ بن عفراء، حضرت ابو دجانہ، حضرت قتادہ، حضرت سلمہ بن اکوع، حضرت ابو حدرد، حضرت خالد بن ولید، حضرت براء بن مالک، حضرت ابو المحجن، حضرت عمار بن یاسر، حضرت عمرو بن معدیکرب اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے واقعات گزر چکے ہیں۔