تقویٰ اور کمالِ احتیاط
نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓکا تقویٰ اور کمالِ احتیاط
حضرت محمد بن سِیْرِین ؓ کہتے ہیں کہ میرے علم میں حضرت ابو بکرؓ کے علاوہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس نے کھانا کھا کر قے کر دیا ہو۔ ان کا قصہ یہ ہے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جسے انھوں نے کھا لیا۔ پھر انھیں کسی نے بتایاکہ یہ کھانا تو حضرت ابنِ نُعَیمانؓ لائے تھے۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم نے مجھے ابنِ نُعَیمان کے منتر پڑھنے کی اُجرت میں سے کھلا دیا؟ پھر انھوں نے قے فرمائی۔2
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ نُعَیمان ؓ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور بڑے خوب صورت تھے۔ کچھ لوگوں نے ان کے پاس آکر کہا: کیا آپ کے پاس ایسی عورت کا کوئی علاج ہے جس کو حمل نہیں ٹھہرتا؟ انھوں نے کہا: ہے۔ ان لوگوں نے پوچھا: وہ علاج کیا ہے؟ حضرت ابنِ نُعَیمانؓ نے کہا: یہ منتر ہے: اے نافرمان رحم! چپ کر اور خون بہانے کا کام چھوڑ دے۔ اس عورت کو زیادہ بچے جننے سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اے کاش! یہ زیادہ بچے جننا اس نافرمان رحم میں ہوتا۔ یہ عورت حاملہ ہوجائے یا اسے افاقہ ہو جائے۔ اس منتر کے بدلے میں ان لوگوں نے انھیں بکری اور گھی ہدیہ میں دیا۔ (یہ واقعہ زمانۂ جاہلیت میں پیش آیا تھا) حضرت ابنِ نُعَیمان اس میں سے کچھ لے کر حضرت ابو بکر ؓ کی خدمت میں آئے۔ حضرت ابو بکر نے اس میں سے کچھ کھا لیا (پھران کو اس واقعے کا پتا چلا) تو کھانے سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر اٹھے اور جو کچھ کھایا تھا وہ سب قے کر دیا اور پھر فرمایا: آپ لوگ ہمارے پاس کھانے کی چیز لے آتے ہو اور ہمیں بتاتے بھی نہیں کہ یہ چیز کہاں سے آئی ہے۔1
حضرت زید بن اَرقمؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا ایک غلام تھا جو مقررہ مقدار میں کما کر انھیں دیا کرتا تھا۔ ایک رات وہ کچھ کھانا لایا، حضرت ابو بکر نے اس میں سے ایک لقمہ نوش فرما لیا۔ غلام نے عرض کیا کہ آپ ہر رات دریافت فرمایا کرتے تھے (کہ کہاں سے کما کر لائے ہو؟) لیکن آج رات آپ نے مجھ سے نہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا: بھوک کی شدت کی وجہ سے نہ پوچھ سکا۔ اب بتاؤ یہ کھانا کہاں سے لائے ہو؟ اس نے کہا: میں زمانۂ جاہلیت میں ایک قوم کے پاس سے گزرا تھا اور میں نے ان کے ایک بیمار پر دم کیا تھا۔ انھوں نے مجھے کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ آج میرا گزر اُدھر کو ہوا تو ان کے ہاں شادی ہو رہی تھی انھو ںنے مجھے یہ دیا۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم تو مجھے ہلاک کرنے لگے تھے۔ اس کے بعد حلق میں انگلی ڈال کر قے کرنے کی کوشش کی مگر ایک لقمہ اور وہ بھی بھوک کی شدت میں کھایا گیا نہ نکلا۔ کسی نے عرض کیا: پانی سے ہی قے ہوسکتی ہے۔ انھوں نے پانی کا بہت بڑا پیالہ منگوایا اور پانی پی پی کر قے فرماتے رہے یہاں تک کہ مشکل سے وہ لقمہ نکالا۔ کسی نے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم فرمائیں! یہ ساری مشقت اس ایک لقمہ کی وجہ سے برداشت فرمائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری جان کے ساتھ بھی یہ لقمہ نکلتا تو بھی میں اس کو نکالتا۔ میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ جو بدن حرام مال سے پرورش پائے آگ اس کے لیے بہتر ہے۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ میرے بدن کا کوئی حصہ اس لقمہ سے پرورش نہ پا جائے۔1
حضرت زید بن اسلم ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ دودھ نوش فرمایا جو انھیں بہت پسند آیا۔ جن صاحب نے پلایا تھا ان سے دریافت فرمایا کہ تمھیں یہ دودھ کہاں سے ملا؟ انھوں نے بتایا کہ میں فلاں پانی پر گیا تھا وہاں صدقہ کے جانور پانی پینے آئے ہوئے تھے، ان لوگوں نے ان جانوروں کا دودھ نکال کر ہمیں دیا، میں نے اپنے اس مشکیزہ میں وہ دودھ ڈال لیا۔ یہ سن کر حضرت عمر نے منہ میں انگلی ڈال کر وہ سارا دودھ قے کر دیا۔2
حضرت مِسْوَر بن مخرمہ ؓ فرماتے ہیں: تقویٰ اور احتیاط سیکھنے کے لیے ہم لوگ ہر وقت حضرت عمرؓ کے ساتھ لگے رہتے تھے۔3
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ ایک دن کوفہ میں باہر نکلے اور ایک دروازے پر کھڑے ہو کر انھوں نے پانی مانگا تو اندر سے ایک لڑکی لوٹا اور رومال لے کر نکلی۔ آپ نے اس سے پوچھا: اے لڑکی! یہ گھر کس کا ہے؟ اس نے کہا: فلاںدرہم پرکھنے والے کا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: میںنے حضورﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ درہم پرکھنے والے کے کنوئیں سے پانی نہ پینا اور ٹیکس وصول کرنے والے کے سایہ میں ہرگز نہ بیٹھنا۔4
حضرت یحییٰ بن سعید ؓکہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کی دو بیویاں تھیں۔ ان میں سے جس کی باری کا دن ہوتا اس دن دوسری کے گھر سے وضو نہ کرتے۔ پھر دونوں بیویاں حضرت معاذ کے ساتھ ملکِ شام گئیں اور وہاں دونوں اکٹھی بیمار ہوئیں اور اللہ کی شان دونوں کا ایک ہی دن انتقال ہوا۔ لوگ اس دن بہت مشغول تھے اس لیے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ حضرت معاذ ؓ نے دونوں میں قرعہ ڈالا کہ کس کو قبر میں پہلے رکھا جائے۔1
حضرت یحییٰ ؓکہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کی دو بیویاں تھیں۔ جب ایک کے پاس ہوتے تو دوسری کے ہاں سے پانی بھی نہ پیتے۔2
حضرت طاؤس ؓ کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابنِ عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو لبیک پڑھتے ہوئے سنا اس وقت ہم لوگ عرفات میں کھڑے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے عرفات سے کب کوچ فرمایا؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ (یہ انھوں نے احتیاط کی وجہ سے فرمایا) لوگ حضرت ابنِ عباس ؓ کی اس احتیاط سے بہت حیران ہوئے۔3