اللہ پر توکل

نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓکا توکل

حضرت یعلیٰ بن مرّہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضرت علیؓ مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں وہ نفل نماز پڑھنے لگے۔ ہم نے وہاں جا کر پہرہ دینا شروع کر دیا۔ جب حضرت علی نماز سے فارغ ہوگئے تو وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ ہم نے کہا: ہم آپ کا پہرہ دے رہے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: آسمان والوں سے پہرہ دے رہے ہو یا زمین والوں سے؟ ہم نے کہا: زمین والوں سے۔ انھوں نے فرمایا: زمین پر اس وقت تک کوئی چیز ہو نہیں سکتی جب تک آسمان میں اس کے ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ اور ہر انسان پر دو فرشتے مقرر ہیں جو ہر بلا کو اس سے دور کرتے رہتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس کی تقدیر کا لکھا آجائے، اور جب تقدیر کا کوئی فیصلہ آجاتا ہے تو یہ دونوں فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے میری حفاظت کا بڑا مضبوط انتظام ہے، جب میری موت کا وقت آجائے گا تو انتظام مجھ سے ہٹ جائے گا۔ اور آدمی کو ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک اس کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کچھ اچھا یا برا اسے پہنچا ہے وہ اس سے خطا کرنے والا نہیں تھا اور جو اس سے خطا کر گیا وہ اسے پہنچنے والا نہیں تھا۔2 حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت علی ؓ کی زندگی کی آخری رات آئی تو انھیں قرار نہیں تھا (کبھی اندر جاتے کبھی باہر)۔ گھر والوں کو خطرہ محسوس ہوا (کہ ان کے ساتھ کچھ ہو نہ جائے) تو انھوں نے آپس میں چپکے سے مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ حضرت علی کو باہر نہیں جانا چاہیے اور انھوں نے یہ بات ان کی خدمت میں خداکا واسطہ دے کر عرض کی۔ انھوں نے فرمایا: ہر بندے کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں کہ جب تک تقدیر کے لکھے ہوئے کا وقت نہ آجائے اس وقت تک وہ ہر بلا اس بندے سے دور کرتے رہتے ہیں، اور جب تقدیر کا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ دونوں فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ پھر حضرت علی ؓ مسجد تشریف لے گئے جہاں انھیں شہید کر دیا گیا۔1 حضرت ابو مجلَز ؓکہتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس آئے، حضرت علی نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز کے بعد حضرت علی کی خدمت میں اس نے عرض کیا: قبیلہ مراد کے کچھ لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ اپنی حفاظت کا انتظام کر لیں۔ حضرت علی نے فرمایا: ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو ہر اس بلا سے اس کی حفاظت کرتے ہیں جو اس کے مقدر میں لکھی ہوئی نہ ہو، اور تقدیر کا جب وقت آجاتا ہے تو یہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ بے شک مقررہ وقت ایک مضبوط ڈھال ہے۔2 حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ؓ اور دیگر حضرات کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیا ہم آپ کا پہرہ نہ دیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: ہر آدمی کی موت اس کا پہرہ دے رہی ہے۔3 حضرت جعفر ؓ کے والد حضرت محمد ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت علیؓ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے آئے۔ حضرت علی ان دونوں کو لے کر ایک دیوار کے نیچے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ دیوار گرنے والی ہے۔ انھوں نے فرمایا: اپنا کام کرو اللہ ہماری حفاظت کے لیے کافی ہے۔ پھر ان دونوں کی بات سن کر فیصلہ فرمایا اور وہاں سے کھڑے ہوئے، پھر وہ دیوار گر گئی۔4 حضرت ابو ظبیہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہؓ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو حضرت عثمان بن عفان ؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: آپ کو کیا شکایت ہے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: اپنے گناہوں کی شکایت ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: میںاپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں۔ حضرت عثمان نے کہا: کیا میں آپ کے لیے طبیب کو نہ بلا لاؤں؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: طبیب نے ہی (یعنی اللہ ہی نے) تو مجھے بیمار کیا ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا: کیا میں آپ کے لیے بیت المال میں سے عطیہ نہ مقرر کر دوں؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: وہ عطیہ آپ کے بعد آپ کی بیٹیوں کو مل جائے گا۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: کیا آپ کو میری بیٹیوں پر فقر کا ڈر ہے؟ میں نے اپنی بیٹیوں کو کہہ رکھا ہے کہ وہ ہر رات سورۂ واقعہ پڑھ لیا کریں۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی ہر رات سورۂ واقعہ پڑھے گا اس پر کبھی فاقہ نہیں آئے گا (لہٰذا عطیہ کی ضرورت نہیں ہے)۔1 بیماریوں پر صبر کرنے کے عنوان میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت ابو الدرداء ؓ کا ایسا ہی قصہ گزر چکا ہے، البتہ اس میں سورۂ واقعہ کاذکر نہیں ہے۔