تقدیر پر اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا
تقدیر پر اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میری صبح کس حالت پر ہوتی ہے۔ میری پسندیدہ حالت پر ہوتی ہے یا ناپسندیدہ حالت پر؟ کیوںکہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ جو میں پسند کر رہا ہوں اس میں خیر ہے یا جو مجھے پسند نہیں ہے اس میں خیر ہے۔2
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کہ کسی نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ مجھے فقر مال داری سے اور بیماری صحت سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت علی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو ذر پر رحم فرمائے! میں تو یہ کہتا ہوںکہ جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ جو حالت بھی اس کے لیے پسند فرماتے ہیں وہ خیر ہی ہے، تو وہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی حالت کے علاوہ کسی اور حالت کی کبھی تمنا نہ کرے گا، اور یہ کیفیت رضا برقضا کے مقام کا آخری درجہ ہے۔3
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے فیصلہ پر راضی ہوگا تو اللہ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تو ہو کر رہے گا، لیکن اسے (اس پر راضی ہونے کی وجہ سے) اَجر ملے گا۔ اور جو اس پر راضی نہ ہوگا تو بھی اللہ کا فیصلہ ہو کر رہے گا، لیکن اس کے نیک عمل ضائع ہو جائیں گے۔1
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر آدمی اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش! وہ دنیا میں گزارے کے قابل ہی کھانا کھاتا۔ اور دنیا میں صبح وشام پیش آنے والے حالات میں انسان کا نقصان تب ہوتا ہے جب ان حالات پر دل میں غصہ اور رنج ہو۔ اور تم میں سے ایک آدمی اپنے منہ میں انگارہ اتنی دیر رکھے کہ وہ بجھ جائے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ جس کام کے لیے اللہ نے ہونے کا فیصلہ کر رکھا ہے اس کے بارے میں وہ یہ کہے کہ کاش! یہ نہ ہوتا۔2