اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر

تقویٰ

حضرت کمیل بن زیاد ؓ کہتے ہیں: میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ باہر نکلا۔ جب آپ قبرستان پہنچے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے قبر والو! اے پرانے ہوجانے والو! اے وحشت والو! تمہارے ہاں کے کیا حالات ہیں؟ ہمارے ہاں کے حالات تو یہ ہیں کہ (تمہارے بعد تمہارے) مال تقسیم کر دیے گئے اور بچے یتیم ہوگئے، اور تمہاری بیویوں نے اور خاوند کر لیے۔ تو یہ ہیں ہمارے ہاں کے حالات۔ تمہارے ہاں کے حالات کیا ہیں؟ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے کمیل! اگر انھیں جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ جواب میں کہتے کہ بہترین توشہ تقویٰ ہے۔ پھر حضرت علی ؓ رونے لگے اور فرمایا: اے کمیل! قبر عمل کا صندوق ہے اور موت کے وقت تمھیں اس کا پتا چلے گا۔3 حضرت قیس بن ابی حازم ؓکہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا: تم لوگ تقویٰ کے ساتھ عمل کے قبول ہونے کا زیادہ اہتمام کرو، کیوںکہ تقویٰ کے ساتھ کیاگیا عمل تھوڑا شمار نہیں ہوتا اور جو عمل قبول ہو جائے وہ تھوڑا کیسے شمار ہو سکتا ہے؟4 حضرت عبدِ خیر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا: تقویٰ کے ساتھ کیا گیا عمل تھوڑا شمار نہیں ہوتا اور جو عمل قبول ہو جائے وہ تھوڑا کیسے شمار ہو سکتا ہے؟1 حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ میرے کسی عمل کو قبول کر لیں گے یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ مجھے اتنا سونا مل جائے جس سے ساری زمین بھر جائے۔2 حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں کہ (آخرت کی تیاری کرنے والے) عقل مند لوگوں کا سونا اور ان کا روزہ نہ رکھنا کتنا اچھا لگتا ہے۔ اور وہ لوگ (آخرت کی تیاری نہ کرنے والے) بے وقوف لوگوں کی شب بیداری اور روزہ رکھنے کو کس طرح عیب لگاتے ہیں؟ تقویٰ اور یقین والے آدمی کی نیکی کا ذرّہ دھوکے میں پڑے ہوئے لوگوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے زیادہ بڑا اور زیادہ فضیلت والا اور (ترازو میں) زیادہ وزنی ہے۔3 حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ایک نماز قبول فرمالی ہے تو یہ مجھے دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے زیادہ محبوب ہوگا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ o}4 خدا تعالیٰ متقیوں ہی کا عمل قبول کرتے ہیں۔5 حضرت اُبیّ بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو آدمی اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز وہاںسے عطا فرمائیں گے جہاں سے ملنے کا اسے گمان نہ ہوگا۔ اور جو اس بارے میں سستی کرے گا اور چیز کو اس طرح لے گا کہ کسی کو پتا نہ چل سکے، تو اللہ اس پر اس سے زیادہ سخت مصیبت وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے مصیبت کے آنے کا اسے گمان بھی نہ ہوگا۔6