اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر
نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓکا رونا
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
{اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ o وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ o}3
سو کیا (ایسے خوف کی باتیں سن کر بھی) تم لوگ اس کلام ِ (الٰہی) سے تعجب کرتے ہو؟ اور ہنستے ہو اور (خوفِ عذاب سے) روتے نہیں ہو؟
تو اصحابِ صفہ اتنا روئے کہ آنسو اُن کے رخساروں پر بہنے لگے۔ حضورﷺ نے جب ان کے رونے کی ہلکی ہلکی آواز سنی تو آپ بھی ان کے ساتھ رو پڑے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے ڈر سے روئے گا وہ آگ میں داخل نہیں ہوگا، اور جو گناہ پر اِصرار کرے گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور اگر تم گناہ نہ کرو (اور استغفار کرنا چھوڑ دو) تو اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں گے (اور استغفار کریں گے) اور اللہ ان کی مغفرت کریں گے۔4
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ}1 جس کا ایندھن آدمی اور پتھّر ہیں۔
پھر آپ نے فرمایا کہ جہنم میں ایک ہزار سال تک آگ جلائی گئی یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر ایک ہزار سال تک آگ جلائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر ایک ہزار سال اور جلائی گئی یہاں تک کہ وہ کالی ہوگئی۔ اب یہ آگ کالی اور تاریک ہے اس کا شعلہ کبھی نہیں بجھتا۔ حضورﷺ کے سامنے ایک سیاہ رنگ کا آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ یہ سن کر زور زور سے رونے لگا۔ اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آسمان سے اُتر آئے اور انھوں نے پوچھا کہ یہ آپ کے سامنے رونے والے کون ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ حبشہ کے ہیں۔ اور حضورﷺ نے اس کی تعریف کی۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: میری عزّت اور میرے جلال کی قسم! عرش پر میرے بلند ہونے کی قسم! جس بندے کی آنکھ دنیا میں میرے ڈر سے روئے گی میں جنت میں اسے خوب ہنساؤں گا۔2
حضرت قیس بن ابی حازم ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آیا تو حضرت ابو بکرؓ حضورﷺ کے قائم مقام بن چکے تھے۔ پہلے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کی اور پھر خوب روئے۔3
حضرت حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ جمعہ کے خطبہ میں {اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ o} پڑھ رہے تھے۔ {عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا اَحْضَرَتْ o} پر پہنچے تو (رونے کے غلبہ کی وجہ سے) ان کی آواز بند ہوگئی۔4
حضرت حسن ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے یہ آیتیں پڑھیں:
{اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ o مَّالَہٗ مِنْ دَافِعٍ o}5
بے شک آپ کے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا۔
تو ان کا سانس پھول گیا (اور وہ بیمار ہوگئے) اور بیس دن تک (ایسے بیمار رہے کہ) لوگ ان کی عیادت کرتے رہے۔1
حضرت عبید بن عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورۂ یوسف شروع کر دی۔ پڑھتے پڑھتے جب {وَابْیَضَّتْ عَیْْنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَ کَظِیْمٌ o}2 پر پہنچے تو اتنا روئے کہ آگے نہ پڑھ سکے اور رکوع کر دیا۔3
حضرت عبد اللہ بن شدّ اد بن ہاد ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ فجر کی نماز میں سورۂ یوسف پڑھ رہے تھے۔ میں آخری صف میںتھا۔ جب پڑھتے پڑھتے {اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ}4 پر پہنچے تو میں نے آخری صف سے حضرت عمر ؓ کے بلک بلک کر رونے کی آواز سنی۔5
حضرت ہشام بن حسن ؓکہتے ہیں: حضرت عمر ؓ قرآن پڑھتے ہوئے جب (عذاب کی) کسی آیت پر گزرتے تو ان کا گلا گھٹ جاتا اور اتنا روتے کہ نیچے گر جاتے اور پھر (کمزور ہو جانے کی وجہ سے) کئی دن گھر رہتے اور لوگ ان کو بیمار سمجھ کر عیادت کرتے رہتے۔6
حضرت عثمان بن عفان ؓ کے آزادکردہ غلام حضرت ہانی ؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان ؓکسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ڈاڑھی تر ہو جاتی۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں اور نہیں روتے ہیں، لیکن قبر کو یاد کر کے روتے ہیں؟ فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو اس سے سہولت سے چھوٹ گیا اس کے لیے بعد کی منزلیں سب آسان ہیں، اور جو اس میں (عذاب میں) پھنس گیا اس کے لیے بعد کی منزلیں اور بھی زیادہ سخت ہیں۔ اور میں نے حضورﷺ سے یہ بھی سنا ہے کہ میں نے کوئی منظر ایسا نہیں دیکھا کہ قبر کا منظر اس سے زیادہ گھبراہٹ والا نہ ہو۔7
رزین کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ہانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو ایک قبر پر یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا ہے:
فَإِنْ تَنْجُ مِنْھَا تَنْجُ مِنْ ذِيْ عَظِیْمَۃٍ
وَإِلَّا فَإِنِّيْ لَا أَخَالُکَ نَاجِیًا
(اے قبر والے!) اگر تم اس گھاٹی سے سہولت سے چھوٹ گئے تو تم بڑی زبردست گھاٹی سے چھوٹ گئے، ورنہ میرے خیال میں تمھیں آیندہ کی گھاٹیوں سے نجات نہیں مل سکے گی۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے پاس سے گزرے وہ رو رہے تھے۔ حضرت عمر نے پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حضرت معاذ نے کہا: ایک حدیث کی وجہ سے رو رہا ہوں جو میں نے حضورﷺ سے سنی ہے کہ ریا کا ادنیٰ درجہ بھی شرک ہے، اور اللہ کو بندوں میں سے سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو متقی ہوں اور ان کے حالات لوگوں سے چھپے ہوئے ہوں۔ یہ لوگ اگر نہ آئیں تو کوئی انھیں تلاش نہ کرے اور اگر آجائیں تو انھیں کوئی نہ پہچانے، یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔2
حضرت قاسم بن ابی بزّہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک صاحب نے یہ واقعہ مجھ سے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت ابنِ عمر ؓ کو سورتِ {وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ} پڑھتے ہوئے سنا۔ جب وہ
{یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o}3
جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوںگے۔
پر پہنچے تو رونے لگے اور اتنا روئے کہ بے اختیار ہو کر زمین پر گر گئے اور اس سے آگے نہ پڑھ سکے۔4
حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ جب بھی حضرت ابنِ عمر ؓ سورۂ بقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھتے تو رونے لگ جاتے:
{اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ}1
جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں ان کو اگر تم ظاہر کرو گے یا کہ پوشیدہ رکھو گے حق تعالیٰ تم سے حساب لیں گے۔
اور فرماتے: یہ حساب تو بہت سخت ہے۔2
حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر ؓ جب
{اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ}3
کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کے اور جو دینِ حق (من جانب اللہ) نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جاویں۔
پڑھتے تو رونے لگ جاتے اور اتنا روتے کہ چپ کرنا اختیار میں نہ رہتا۔4
حضرت یوسف بن ماہک ؓ کہتے ہیں: میں حضرت ابنِ عمر ؓ کے ساتھ حضرت عبید بن عمیر ؓ کے ہاں گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں میں بیان کر رہے تھے۔ (حضرت ابنِ عمرؓ بیان سننے لگے، تھوڑی دیر بعد) میں نے دیکھا تو حضرت ابنِ عمر کی آنکھوں میں سے آنسو بہہ رہے تھے۔5
حضرت عبید بن عمیر ؓ نے آیت
{فَکَیْْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ}6
سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جب کہ ہم ہر ہر اُمت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے۔
آخر تک پڑھی تو حضرت ابنِ عمر ؓ رونے لگے اور اتنا روئے کہ ان کی ڈاڑھی اور گریبان آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر کے پہلو میں جو شخص بیٹھا ہوا تھا اس نے مجھے بتایا: (جب میں نے حضرت ابنِ عمر کو اتنا زیادہ روتے ہوئے دیکھا تو) میرا دل چاہا کہ میں کھڑے ہوکر حضرت عبید بن عمیر سے کہوں کہ اب آپ بیان ختم کر دیں، کیوںکہ آپ ان بڑے میاں کو بہت تکلیف پہنچا چکے ہیں۔1
حضرت عبد اللہ بن ابی مُلَیکہ ؓکہتے ہیں کہ میں مکہ سے مدینہ تک حضرت ابنِ عباس ؓ کے ساتھ رہا۔ وہ جب بھی کسی جگہ قیام کرتے وہاں وہ آدھی رات اللہ کی عبادت میں کھڑے رہتے۔ حضرت ایوب نے راوی سے پوچھا کہ حضرت ابنِ عباس ؓ کس طرح قرآن پڑھتے؟ انھوں نے کہا: ایک مرتبہ حضرت ابنِ عباس نے
{وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ o}2
اور موت کی سختی حق کے ساتھ (قریب) آ پہنچی، یہ (موت) وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا ہے۔
پڑھی تو خوب ٹھہر ٹھہر کر اسے پڑھتے رہے اور درد بھری آواز سے خوب روتے رہے۔3
حضرت ابو رجاء ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس ؓ کے (چہرے پر) آنسوؤں کے بہنے کی جگہ (زیادہ رونے کی وجہ سے) پرانے تسمہ کی طرح تھی۔4
حضرت عثمان بن ابی سودہ ؓکہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ اس مسجد کی دیوار پر جو وادی جہنم کی طرف ہے سینہ رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے ابو الولید! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں حضورﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ انھوں نے اس جگہ جہنم کو دیکھا تھا۔5
حضرت یعلیٰ بن عطاء ؓکہتے ہیں کہ میری والدہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے لیے سرمہ تیار کیا کرتی تھیں۔ وہ بہت رویا کرتے تھے۔ وہ اپنا دروازہ بند کر کے روتے رہتے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں دُکھنے لگ جاتیں، اس لیے میری والدہ ان کے لیے سرمہ تیار کیا کرتی تھیں۔6
حضرت مسلم بن بشر ؓکہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ ؓ اپنی بیماری میں رو رہے تھے۔ کسی نے عرض کیا: اے ابو ہریرہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: غور سے سنو! میں تمہاری اس دنیا پر تو نہیں رو رہا ہوں بلکہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ سفر بہت دور کا ہے اور میرا توشہ کم ہے، اور میں اس گھاٹی پر چڑھ گیا ہوں جس کے بعد جنت اور دوزخ دونوں کو راستہ جاتا ہے، اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کس کے راستہ پر مجھے چلایا جائے گا۔1