غور و فکر کرنا اور عبرت حاصل کرنا

نفس کا محاسبہ

حضرت ابو بکر ؓ کے آزادکردہ غلام کہتے ہیں کہ جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس سے بغض رکھے گا (اور اس کی نہیں مانے گا بلکہ اس کی مرضی کے خلاف اللہ والے کام نفس سے کروائے گا) تو اسے اللہ تعالیٰ اپنے غصہ سے محفوظ رکھیں گے۔3 حضرت ثابت بن حجاج ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے فرمایا: تم اپنے نفسوں کا اس سے پہلے جائزہ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا جائزہ لے، اور تم اپنے نفسوں کا اس سے پہلے خود محاسبہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا حساب لے۔ تم آج اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو گے اس سے کل کو حساب میں آسانی ہوگی۔ اور (قیامت کے دن کی) بڑی پیشی کے لیے (نیک اعمال اختیار کرکے) سنور جاؤ۔ {یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ o}4 جس روز (خدا کے رو بہ رو حساب کے واسطے) تم پیش کیے جاؤ گے (اور) تمہاری کوئی بات (اللہ تعالیٰ سے) پوشیدہ نہ ہوگی۔5 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ساتھ باہر نکلا۔ چلتے چلتے حضرت عمرایک باغ میں داخل ہوگئے (میں باہر رہ گیا)۔ وہ باغ کے اندر تھے، اور میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار ہی تھی۔ میں نے سنا کہ وہ اپنے آپ کو خطاب کر کے کہہ رہے ہیں: اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! تجھے اللہ سے ضرور ڈرنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ تجھے ضرور عذاب دیں گے۔1