خاموشی اور زبان کی حفاظت

خاموشی اور زبان کی حفاظت

حضرت سماک ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا: کیا آپ حضورﷺ کی مجلس میں حاضری دیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، اور حضورﷺ اکثر اوقات خاموش رہا کرتے تھے۔2 حضرت ابو مالک اشجعی ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اس وقت ہم لوگ نوجوان لڑکے تھے۔ میں نے حضورﷺ سے زیادہ خاموش رہنے والا کسی کو نہیںدیکھا۔ جب آپ کے صحابہ آپس میں گفتگو کرتے اور بہت زیادہ باتیں کرتے تو آپ سن کر مسکرا دیتے۔3 حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے۔ آپ کے صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے، ان میں سے کوئی بھی آپ کے آگے نہیں چل رہے تھا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے (مرنے کے) دن کو آپ کے (انتقال کے) دن سے پہلے کر دے۔ اللہ ہمیں آپ (کے انتقال) کا وہ دن نہ دکھائے، لیکن اگر وہ دن دیکھنا پڑگیا تو پھر ہم آپ کے بعد کون سے اعمال کیا کریں؟ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ہم جہاد فی سبیل اللہ کیا کریں؟ حضورﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بہت اچھاعمل ہے اور لوگوں کو اس کی عادت بھی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ (نفس کو) قابو میں لانے والا عمل ہے۔ حضرت معاذ نے کہا: روزہ اور صدقہ؟ حضورﷺ نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بہت اچھے عمل ہیں اور لوگوں کو ان کی بھی عادت ہے، لیکن ان سے بھی زیادہ (نفس کو) قابو میں لانے والا عمل ہے۔ چناںچہ حضرت معاذ ؓ کو جتنے بھی خیر والے عمل معلوم تھے انھوں نے ان میں سے ہر ایک کا نام لیا، حضورﷺ ہر ایک کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ لوگوں کو اس کی عادت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ (نفس کو) قابو میں لانے والا عمل ہے۔ آخر حضرت معاذ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو ان تمام اعمال کے کرنے کی عادت ہے تو ان سے بھی زیادہ (نفس کو) قابو میں لانے والا عمل کون سا ہے؟ حضورﷺ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: خاموش رہنا اور صرف خیر کی بات کرنا۔ حضرت معاذ نے عرض کیا: جو کچھ ہم زبان سے بولتے ہیں کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہوگا؟ حضورﷺ نے حضرت معاذ کی ران پر ہاتھ مار کر کہا: تیری ماں تجھے گم کرے! ایسے ایک دو جملے اور کہے اور فرمایا: لوگوں کو ان کے نتھنے کے بل جہنم میں ان کی زبانوں کی باتیں ہی تو گرائیں گی۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے اور شر سے خاموش رہے۔ تم لوگ خیر کی بات کہو تو (اَجر وثواب کو) غنیمت میں پاؤ گے اور شر سے خاموش رہو (دونوں جہاں کی آفتوں سے) بچے رہو گے۔1