خاموشی اور زبان کی حفاظت
نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کی خاموشی
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میں ایک آدمی قتل ہوگیا تو ایک عورت نے اس پر روتے ہوئے کہا: ہائے شہید ہونے والے! حضورﷺ نے فرمایا: خاموش رہو، تمھیں کیسے پتا چلا کہ وہ شہید ہے؟ ہوسکتا ہے کہ وہ لایعنی باتیں کرتا رہا ہو یا ایسی چیزوں کے خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتا رہا ہو جن کے خرچ کرنے سے اسے کسی طرح کی کمی نہ آتی ہو۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی جنگِ اُحد میں شہید ہوا اور بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا، تو اس کی ماں اس کے چہرے سے مٹی صاف کرنے لگی اور کہنے لگی: اے میرے بیٹے! تجھے جنت مبارک ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں کیسے پتا چلا (کہ یہ جنتی ہے؟) شاید یہ لایعنی بات کرتا رہا ہو یا ایسی چیزوں کو روک کر رکھتا ہو جن کے خرچ کرنے میں کوئی نقصان نہ ہو۔1
حضرت خالد بن نمیر ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسرؓ بہت زیادہ خاموش، غمگین اور بے چین رہتے اور عام طور پر فرمایا کرتے کہ میں اللہ تعالیٰ کی آزمایش سے اسی کی پناہ چاہتا ہوں۔2
حضرت ابو ادریس خولانی ؓکہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک حضرت دیکھے جن کے سامنے کے دانت بہت چمک رہے تھے اور وہ بہت زیادہ خاموش رہنے والے تھے۔ اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے ان کی کیفیت یہ تھی کہ ان کا آپس میں کسی معاملہ میں اختلاف ہو جاتا تو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرتے اور پھر یہ اس معاملہ میں جو فیصلہ کرتے سب اس سے مطمئن ہو جاتے۔ میں نے پوچھا: یہ حضرت کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت معاذ بن جبلؓ ہیں۔3
حضرت اسلم ؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ کی طرف جھانک کر دیکھا تو وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۔ حضرت عمر نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اسی نے تو مجھے ہلاکتوںکی جگہوں پر لاکھڑا کیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے: جسم کا ہر عضو زبان کی تیزی کی شکایت کرتا ہے۔4
حضرت ابو وائل ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ؓ ایک مرتبہ صفا پہاڑی پر چڑھے اور زبان کو پکڑ کر کہنے لگے: اے زبان! خیر کی بات کہہ غنیمت حاصل کرے گی، بری بات نہ کہہ بلکہ چپ رہ ندامت سے بچ جائے گی اور سلامتی میں رہے گی۔ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابنِ آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے صادر ہوتی ہیں۔1
حضرت سعید جریری ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے یہ واقعہ سنایا کہ میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان کی نوک کو پکڑ کر کہہ رہے ہیں: تیرا ناس ہو! خیر کی بات کہہ غنیمت حاصل کرے گی اور بری بات نہ کہہ بلکہ چپ رہ سلامتی میں رہے گی۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: اے ابنِ عباس! کیا بات ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی زبان کی نوک پکڑ کر یہ بات کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بندہ کو قیامت کے دن جتنا غصہ اپنی زبان پر آئے گا اتنا اور کسی چیز پر نہیں آئے گا۔2
حضرت ثابت بنانی ؓکہتے ہیں کہ حضرت شدّ اد بن اَوس ؓ نے ایک دن اپنے ایک ساتھی سے کہا: دستر خوان لاؤ تاکہ ہم اس میں مشغول ہو جائیں۔ تو ان کے ایک اور ساتھی نے کہا: میں نے جب سے آپ کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کبھی آپ سے ایسی بات نہیں سنی۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! بس یہی ایک بات میری زبان سے اچانک نکل گئی ہے ورنہ جب سے میں حضورﷺ سے جدا ہوا ہوں ہمیشہ میری زبان سے نپی تلی بات نکلی ہے (یعنی ہمیشہ سوچھ سمجھ کر بولتا رہا ہوں بس آج ہی چوک ہوگئی ہے) آیندہ ایسا نہیں ہوگا۔3
حضرت سلیمان بن موسیٰ ؓکہتے ہیں کہ حضرت شدّاد بن اَوسؓ نے ایک دن کہا: دستر خوان لاؤ تاکہ ہم بھی اس کے ساتھ کھیل لیں۔ تو اس بول پر ساتھیوں نے ان کی گرفت کی اور یوں کہا: حضرت ابو یعلیٰ (یہ حضرت شداد ؓ کی کنیت ہے) کو دیکھو، آج ان کی زبان سے کیسی بات نکلی ہے۔ انھوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجو! جب سے میںحضورﷺ سے بیعت ہوا ہوں ہمیشہ میں نے سوچ سمجھ کر نپی تلی بات ہی کہی ہے، بس یہی ایک بات اچانک کہہ بیٹھا ہوں، یعنی مجھ سے چوک ہوگئی ہے۔ اس بات کو چھوڑو اور تم اس سے بہتر بات لے لو اور وہ یہ دعا ہے: اے اللہ! ہم تجھ سے ہر کام میں جلدی نہ کرنے اور ثابت قدمی کو مانگتے ہیں اور رُشد و ہدایت پر پختگی کو مانگتے ہیں، اور تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور تیری اچھی طرح عبادت کرنے کی توفیق کو مانگتے ہیں، اور تجھ سے قلبِ سلیم اورسچی زبان مانگتے ہیں، اور تیرے علم میں جتنی خیر ہے اسے مانگتے ہیں اور ان شرور سے پناہ چاہتے ہیں جنھیں تو جانتا ہے۔ یہ دعا مجھ سے لے لو اور وہ بات جو اچانک نکل گئی ہے اسے چھوڑ دو۔1
پھر ابو نعیم نے دوسری سند سے اس جیسی روایت بیان کی ہے جس میں یہ ہے کہ جو بات میری زبان سے نکل گئی ہے اسے تم یاد نہ رکھو بلکہ اب جو میں تمھیں کہوں گا اسے یاد کرلو۔ اور وہ یہ ہے کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ جب سونا اور چاندی کا خزانہ جمع کرنے لگ جائیں تو تم ان کلمات کو خزانہ بنا لینا، یعنی انھیں کثرت سے پڑھتے رہنا۔ اے اللہ! میں آپ سے ہر کام میں ثابت قدمی اور رُشد وہدایت پر پختگی مانگتا ہوں۔ پھر پچھلی حدیث جیسے الفاظ ذکر کیے اور مزید یہ دعا بھی ذکر کی: اور تو میرے جتنے گناہوں کو جانتا ہے میں تجھ سے ان تمام گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں، بے شک تو ہی غیب کی تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔2
حضرت عیسیٰ بن عقبہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے زبان سے زیادہ عمرِ قید کی ضرورت ہو۔3
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: میں تمھیں بے کار باتیں کرنے سے ڈراتا ہوں اور بقدرِ ضرورت بات کرنا ہی تمہارے لیے کافی ہے۔4
حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ خطائیں ان لوگوں کی ہوں گی جو دنیا میں فضول بحث مباحثہ کرتے رہتے تھے۔1
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زبان سارے بدن کی اصلاح کی بنیاد ہے، جب زبان ٹھیک ہوجائے تو سارے اعضا ٹھیک ہو جاتے ہیں اور جب زبان بے قابو ہو جاتی ہے تو تمام اعضا بے قابو ہو جاتے ہیں۔2
ابنِ ابی الدنیا کی ایک روایت میں یہ ہے کہ اپنی شخصیت کو چھپا پھر تیرا ذکر نہیں ہوا کرے گا (اور تو بگڑنے سے بچ جائے گا) اور خاموشی اختیار کر تو سلامتی میں رہے گا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ خاموشی جنت کی طرف بلانے والی ہے۔ ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے یہ شعر منقول ہیں:
لَا تُفْشِ سِرَّکَ إِلَّا إِلَیْکَ
فَإِنَّ لِکُلِّ نَصِیْحٍ نَصِیْحًا
اپنا بھید اپنے تک محفوظ رکھ اور کسی پر ظاہر نہ کر، کیوںکہ ہر خیر خواہ کے لیے کوئی نہ کوئی خیر خواہ ہوتا ہے۔
فَإِنِّيْ رَأَیْتُ غُوَاۃَ الرِّجَالِ
لَا یَدَعُوْنَ أَدِیْمًا صَحِیْحًا
کیوںکہ میں نے گمراہ انسانوں کو دیکھا ہے کہ وہ کسی آدمی کو بے داغ صحیح نہیں رہنے دیتے۔3
حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ جیسے تم لوگ بات کرنا سیکھتے ہو ایسے ہی خاموش رہنا بھی سیکھو، کیوںکہ خاموش رہنا بہت بڑی بُردباری ہے۔ اور تمھیں بولنے سے زیادہ سننے کا شوق ہونا چاہیے۔ اور کبھی لایعنی کا بول نہ بولو، ہنسی کی بات کے بغیر خواہ مخواہ مت ہنسو اور بلا ضرورت کسی جگہ مت جاؤ۔4
حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں کہ مؤمن کے جسم میں کوئی عضو اللہ تعالیٰ کو اس کی زبان سے زیادہ محبوب نہیں ہے، اس کی وجہ سے اللہ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اور کافر کے جسم میں کوئی عضو اللہ تعالیٰ کو اس کی زبان سے زیادہ مبغوض نہیں ہے، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔5
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بندے کو سب سے زیادہ جس عضو کو پاک کرنے کی ضرورت ہے وہ اس کی زبان ہے۔1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی زبان کی حفاظت نہ کرے۔2