حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا

فتح مکہ زَادَہَا اللّٰہُ تَشْرِیْفًا کا قصہ

حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور اپنے پیچھے حضرت ابو رُہم کلثوم بن حصین غِفاری ؓکو مدینہ کا امیر بنایا۔ آپ دس رمضان کو روانہ ہوئے۔ آپ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ روزہ رکھا۔ عُسْفان اور اَمج کے درمیان کَدِید نامی چشمے پر پہنچ کر روزے رکھنے چھوڑ دیے۔ پھر وہاں سے چل کر دس ہزار مسلمانوں کی ہمراہی میں مرُّ الظَّہرَان مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ مُزَینہ اور سُلَیم کے ایک ہزار آدمی بھی تھے،ہر قبیلہ سامان اور ہتھیار سے لیس تھا۔ اس سفر میں تمام مہاجرین اور اَنصار حضورﷺ کے ساتھ تھے، ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا تھا۔ قریش کو پتہ بھی نہ چلا اور آپ مرُّ الظَّہرَان پہنچ گئے۔ حضورﷺ کی کوئی خبر اُن تک نہ پہنچ سکی اور وہ یہ جان نہ سکے کہ حضورﷺ کیا کرنے والے ہیں۔ ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حِزام اور بُدَیل بن ورقاء اس رات معلومات حاصل کرنے اور دیکھ بھال کرنے کی غرض سے نکلے کہ کہیں سے کچھ پتہ چلے یا کسی سے کوئی خبر سنیں۔ حضرت عباس بن عبدالمطّلبؓ راستہ میں حضورﷺ کے ساتھ مل گئے تھے۔ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطّلب (حضورﷺ کے چچا زاد بھائی) اور عبداللہ بن ابی اُمیّہ بن مغیرہ (حضورﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ کی زوجۂ محترمہ حضرت اُمِّ سَلَمہؓکے بھائی) مدینہ اور مکہ کے درمیان حضورﷺ کے پاس پہنچ گئے ۔ان دونوں نے آپ کی خدمت میں حاضری کی درخواست کی۔ حضرت اُمِّ سَلَمہؓ نے حضورﷺ سے ان دونوں کی سفارش کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان میں سے ایک تو آپ کا چچا زاد بھائی ہے اور دوسرا آپ کا پھوپھی زاد بھائی اور سسرالی رشتہ دار (سالا) ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے ان دونوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس چچازاد بھائی نے تو مجھے مکہ میں بہت ہی بے عزت کیا تھا، اور اس پھوپھی زاد بھائی اور سالے نے مکہ میں بہت سخت باتیں کہی تھیں۔ جب ان دونوں کو حضورﷺ کے اس جواب کا پتہ چلا تو ابو سفیان کی گود میں اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا تو اس نے کہا: یا تو حضورﷺ مجھے (اپنی خدمت میں حاضری کی) اجازت دے دیں، نہیں تو میں اپنے اس بیٹے کی انگلی پکڑ کر جنگل کو نکل جاؤں گا اور وہیں کہیں بھوکے پیاسے ہم دونوں مرجائیں گے۔ جب یہ بات حضورﷺ تک پہنچی تو آپ کو ان دونوں پر ترس آگیا۔ آپ نے ان دونوں کو آنے کی اجازت دے دی۔ وہ دونوں حاضرِ خدمت ہوکر مسلمان ہوگئے۔ جب حضورﷺ مرُّ الظَّہرَان میں ٹھہرے ہوئے تھے تو حضرت عباس نے کہا: ہائے قریش کی ہلاکت! اگر حضور ﷺ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور مکہ والوں نے حضورﷺ سے اَمن طلب نہ کیا تو قریش ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ حضرت عباس فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے سفید خچر پر سوار ہوکر چلا یہاں تک کہ میں اَرَاک مقام پر پہنچ گیا۔ میں نے سوچا شاید مجھے کوئی لکڑیاں چننے والا یا دودھ والا یعنی چرواہا یاکوئی ضرورت سے آیا ہوا آدمی مل جائے جو مکہ جاکر حضورﷺ کی آمد کی ان کو خبر دے دے تاکہ وہ حضورﷺکے فاتحانہ داخل ہونے سے پہلے ہی حضورﷺ سے اَمن لے لیں۔ میں خچر پر چلا جارہا تھا اور کسی آدمی کی تلاش میں تھا کہ اتنے میں مجھے ابو سفیان اور بُدَیل بن ورقاء کی آواز سنائی دی، وہ دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ابوسفیان کہہ رہا تھا کہ میں نے آج تک نہ اتنی بڑی تعداد میں جلتی ہوئی آگ دیکھی اور نہ کبھی اتنا بڑا لشکر دیکھا۔ بُدَیل کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! یہ آگ قبیلہ خُزاعہ کی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ لڑائی کے ارادے سے نکلے ہیں۔ ابو سفیان نے جواب دیا کہ خزاعہ کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ وہ اتنی جگہ آگ جلائیں اور ان کا اتنا بڑا لشکر ہو۔ حضرت عباس فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو سفیان کی آواز کو پہچان لیا۔ میں نے ان کو آواز دی: اے ابو حنظلہ! انھوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: تم ابو الفضل ہو؟میں نے کہا: ہاں۔ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! اس وقت تم یہاں کیسے؟ میں نے کہا: اے ابو سفیان ! تیرا ناس ہو! یہ رسول اللہﷺ لوگوں کو لے کر آئے ہوئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہائے قریش کی ہلاکت! اس نے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! اب بچنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ میں نے کہا: اگر تم ان کے ہاتھ لگ گئے تو تمہاری گردن ضرور اڑادی جائے گی۔ تم میرے ساتھ اس خچر پر سوار ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں حضورﷺ کی خدمت میں لے جا کر تمہیں ان سے امن دلوا دوں۔ چناں چہ اس کے دونوں ساتھی تو واپس چلے گئے اور وہ میرے پیچھے سوار ہوگئے۔ میں ابو سفیان کو تیزی سے لے کر چلا۔ جب بھی میں مسلمانوں کی کسی آگ کے پاس سے گزرتا وہ پوچھتے:یہ کون ہے؟ لیکن حضورﷺ کے خچر کو دیکھ کر کہتے یہ تو حضورﷺ کے چچا حضورﷺ کے خچر پر جارہے ہیں، یہاں تک کہ میں حضرت عمر بن الخطّابؓ کی آگ کے پاس سے گزرنے لگا، تو حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اور کھڑے ہوکر میرے پاس آگئے۔ جب انھوںنے میرے پیچھے خچر پر سوار ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے تم پر قابو دے دیا ہے اور اس وقت ہمارا تمہارا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ اور وہ حضورﷺکی طرف دوڑ پڑے، اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی اور میں اُن سے آگے نکل گیا اور ظاہر ہے کہ سوار پیدل آدمی سے آگے نکل جاتا ہے۔ آگے جاکرمیں خچر سے کود پڑا اور حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اتنے میں حضرت عمربھی آگئے اور انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ابو سفیان ہے جس پر اللہ نے قابو دے دیا ہے اور اس کا ہمارا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں ان کو پناہ دے چکا ہوں۔ پھر میںنے حضور ﷺ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا: اللہ کی قسم ! آج رات تو بس میں اکیلے ہی ان سے بات چیت کروں گا۔ جب حضرت عمر نے اُن کے بارے میں زیادہ زور لگایا تو میں نے کہا: اے عمر! بس کرو۔ اگر یہ بنو عدی بن کعب خاندان میں سے ہوتے تو تم اتنی باتیں نہ کرتے، لیکن تمہیں پتہ ہے یہ بنو عبدِ مناف میں سے ہے (اس لیے اتنا زور لگارہے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے عباس! ٹھہرو، تمہارے اِسلام لانے سے مجھے جتنی خوشی ہوئی اگر میرا باپ اِسلام لاتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہارا اِسلام لانا حضورﷺ کے لیے میرے باپ خطّاب کے اِسلام لانے سے زیادہ باعث ِخوشی تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے عباس ! اس وقت تو تم ان کو اپنی قیام گاہ میں لے جاؤ، صبح میرے پاس لے آنا۔ چناں چہ ان کو میںاپنی قیام گاہ پر لے آیا، انھوں نے میرے پاس رات گزاری ۔ صبح میں ان کو حضورﷺ کی خدمت میں لے گیا، ان کو دیکھ کر حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو سفیان! تیرا بھلا ہو، کیا تمہارے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انھوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!آپ تو بہت بزرگ اور بہت حِلم والے اور بہت زیادہ جوڑ لینے والے ہیں۔ اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہوتا تو میرے کسی کام تو آتا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سفیان! تیرا بھلا ہو، کیا تمہارے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ تم اس بات کا یقین کرلو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو بہت بزرگ اور بہت حِلم والے اور بہت زیادہ جوڑ لینے والے ہیں، اس کے بارے میں ابھی تک دل میں کچھ کھٹک ہے۔ حضرت عباس نے کہا: اے ابو سفیان ! تیرا ناس ہو! مسلمان ہوجاؤ قبل اس کے کہ تمہاری گردن اُڑا دی جائے، تم کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لو۔ چناں چہ ابو سفیان نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا اور مسلمان ہوگئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ابو سفیان اپنے لیے اِعزاز و اِفتخار پسند کرتے ہیں، ان کو آپ کوئی خاص رعایت دے دیں۔ آپ نے فرمایا: جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا اسے امن ہے، جو اپنے دروازے کو بند کرلے گا اسے امن ہے اور جو مسجد ِ(حرام ) میں داخل ہوجائے گا ا سے امن ہے۔ جب حضرت ابو سفیان ؓ واپس ہونے لگے تو حضور ﷺ نے فرمایا: اے عباس! ان کو لے جاکر وادی میں اس جگہ کھڑا کردو جہاں پہاڑ کا کچھ حصہ ناک کی طرح سے آگے نکلا ہوا ہے (وہ جگہ پہاڑوں کے درمیان تنگ تھی) تاکہ یہ وہاںسے تمام لشکروں کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔ چناں چہ میں ان کو لے کر گیا اور وادی کی اس تنگ گھاٹی میں لے جاکر کھڑا کردیا جہاں کاحضورﷺ نے فرمایا تھا۔ وہاںسے قبائل اپنے جھنڈے لے کر گزرنے لگے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابوسفیان پوچھتے کہ یہ کون لوگ ہیں اے عباس ؟ میں کہتا: یہ بنو سُلَیم ہیں۔وہ کہتے: مجھے بنو سُلَیم سے کیا واسطہ۔ پھر کوئی قبیلہ گزرتا وہ کہتے: یہ کون لوگ ہیں؟ میں کہتا:یہ مُزَینہ ہیں۔ وہ کہتے :مجھے مُزَینہ سے کیا واسطہ۔ یہاں تک کہ تمام قبیلے گزر گئے۔ جو بھی قبیلہ گزرتا وہ پوچھتے: یہ کون لوگ ہیں؟ میں کہتا: یہ بنو فلاں ہیں۔ وہ کہتے: ان سے مجھے کیا واسطہ، یہاں تک کہ حضورﷺ لوہے سے لیس سیاہ دستہ میں گزرے ان میں مہاجرین اور انصار تھے۔ ان کی آنکھوں کے علاوہ اورکچھ نظر نہ آتا تھا (یعنی سب نے خَود اور زِرہیں پہن رکھی تھیں اور ہر طرح کے ہتھیار لگا رکھے تھے)۔ تو انھوں نے (حیران ہوکر)کہا: سبحان اللہ! یہ کون لوگ ہیں اے عباس؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ مہاجرین وانصار میں تشریف لے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے ابو الفضل! اللہ کی قسم! ان سے مقابلہ کی تو کسی میں ہمت اور طاقت نہیں ہے۔ آج تو تمہارے بھتیجے کی بادشاہت بہت بڑی ہوگئی ہے۔ میں نے کہا: (یہ بادشاہت نہیں ہے) یہ نبوت ہے۔ انھوں نے کہا :ہاں یہی (نبوت ہی) سہی۔ میںنے کہا :اب تو اپنی قوم کی جاکر فکر کرو۔ چناں چہ وہ گئے ا ورمکہ میںپہنچ کر اونچی آواز سے یہ اعلان کیا: اے قریش! یہ محمد تمہارے ہاں اتنا بڑا لشکر لے کر آرہے ہیں جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکتے ہو، لہٰذا جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوجائے گا اسے امن مل جائے گا۔ (اس اعلان پر غصہ ہوکر ) اُن کی بیوی ہند بنت عتبہ نے کھڑے ہوکر ان کی مونچھیں پکڑ لیں اورکہنے لگی: اس کالے کلوٹے کمینے کو قتل کردو (ان کو دشمن کی جاسوسی کے لیے بھیجا تھا) یہ تو بڑی بری خبر لانے والا ہے۔ انھوں نے کہا: تمہاراناس ہو! ا س عورت کی باتوں سے دھوکے میں نہ آجانا، کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ محمد (ﷺ) ایسا لشکر لے کر آئے ہیں جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکتے ہو۔ جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوجائے گا اسے امن مل جائے گا۔ لوگوں نے کہا: تیرا ناس ہو!کیا تمہارا گھر ہم سب کو کافی ہوجائے گا؟ انھوں نے کہا: اور جو اپنا دروازہ بند کرلے گا اسے بھی امن ہے اور جو مسجدِ (حرام) میں داخل ہوجائے گا اسے بھی امن ہے ۔ (یہ سن کر ) تمام لوگ اپنے گھروں اور مسجد کو دوڑ پڑے۔ 1 ابنِ عساکر نے بھی واقدی کے حوا لہ سے حضرت ابنِ عباس ؓ سے طبرانی کی پچھلی حدیث جیسی حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ جب حضرت ابو سفیان ؓ (حضورﷺ کے پاس سے) چلے گئے تو حضورﷺ نے حضرت عباس کو فرمایا: انھیں لے جاکر وادی کی اس تنگ جگہ میں کھڑا کردو جہاں پہاڑ کا کچھ حصہ ناک کی طرح آگے نکلا ہوا ہے تاکہ یہ وہاں سے اللہ کے لشکروں کو گزرتا ہوا دیکھ لیں۔ حضرت عباس فرماتے ہیں: عام راستہ کو چھوڑ کر میں نے اُن کو وادی کی اس جگہ پر لے جاکر کھڑا کر دیا۔ جب میں نے وہاں جاکر اُن کو روک لیا تو انھوں نے کہا: اے بنی ہاشم! کیا مجھے دھوکہ دینا چاہتے ہو؟(وہ سمجھے کہ شاید مجھے یہاں روک کر مارنا چاہتے ہیں) حضرت عباس نے فرمایا: اہلِ نبوت دھوکہ نہیں دیا کرتے، میں تو تمہیں کسی ضرورت سے یہاں لایا ہوں۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: تم نے مجھے شروع میں کیوں نہیں بتادیا کہ تم مجھے کسی ضروت سے یہاں لاناچاہتے ہو تاکہ میرا دل مطمئن رہتا۔ حضرت عباس نے کہا: میر ا خیال نہیں تھا کہ تم اس طرح سوچو گے۔ حضورﷺ اپنے صحابہ کے لشکر کی ترتیب دے چکے تھے۔ ہر قبیلہ اپنے امیر کے ہمراہ گزرنے لگا اور ہر دستہ اپنا جھنڈا لہراتا ہوا جارہا تھا۔ حضور ﷺ نے سب سے پہلے جس دستے کو بھیجا اس کے امیر حضرت خالد بن ولیدؓ تھے۔ یہ دستہ بنی سُلَیم کا تھا ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔ ان میں ایک چھوٹا جھنڈا حضرت عباس بن مرد اسؓکے ہاتھ میں تھا اور دوسرا چھوٹا جھنڈا حضرت خُفاف بن نُدْبہؓ کے ہاتھ میں تھا، اور ایک بڑا جھنڈا حجاج بن عِلاط ؓ نے اٹھا رکھا تھا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ خالد بن ولید ہیں۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: ارے وہی نو عمر لڑکا؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ جب حضرت خالد حضرت عباس کے سامنے سے گزرنے لگے اوروہاں ان کے ساتھ حضرت ابو سفیان بھی کھڑے ہوئے تھے تو حضرت خالد کے لشکر نے تین مرتبہ بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا اور آگے بڑھ گئے۔ پھر ان کے بعد حضرت زُبیر بن عوّامؓ پانچ سو کے دستے کو لے کر گزرے جن میں کچھ مہاجرین اور کچھ غیر معروف لوگ تھے اور اُن کے ساتھ ایک کالا بڑا جھنڈا تھا۔ جب حضرت زُبیر حضرت ابو سفیان کے سامنے سے گزرنے لگے تو انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تین مرتبہ بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت عباس نے کہا: یہ زُبیر بن عوّام ہیں۔ انھوں نے کہا: تمہارے بھانجے ؟ حضرت عباس نے کہا: ہاں۔ پھر غِفار قبیلہ کے تین سو آدمی گزرے جن کا بڑا جھنڈا حضرت ابو ذر غِفاری ؓ نے اٹھا رکھا تھا، بعض کہتے ہیں کہ حضرت اِیماء بن رَحَضَہؓ نے اٹھا رکھا تھا۔ ان لوگوں نے بھی حضرت ابوسفیان کے سامنے آکر تین مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ بلند آواز سے کہا۔ انھوں نے پوچھا: اے ابوالفضل! یہ لوگ کون ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ بنو غِفار ہیں۔ انھوں نے کہا: مجھے بنو غِفار سے کیا واسطہ ؟ پھر بنو اسلم کے چار سو آدمی گزرے اُن کے دو چھوٹے جھنڈے تھے، ایک حضرت بُریدہ بن حُصَیب ؓ کے ہاتھ میں اور دوسرا حضرت ناجیہ بن اعجم ؓ کے ہاتھ میں تھا۔ انھوں نے بھی حضرت ابو سفیان کے سامنے پہنچ کر بلند آواز سے تین مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا :یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: بنو اسلم ۔ انھوں نے کہا: اے ابوالفضل ! مجھے بنواسلم سے کیا واسطہ؟ ہمارے اور ان کے درمیان کبھی کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ حضرت عباس نے کہا : یہ مسلمان لوگ ہیں اِسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ پھر بنو کعب بن عمرو کے پانچ سو آدمی گزرے جن کا جھنڈا حضرت بشر بن شَیْبانؓ نے اٹھا کر رکھا تھا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ بنو کعب بن عمرو ہیں۔ انھوں نے کہا: اچھا! یہ تو محمد (ﷺ ) کے حلیف ہیں۔ انھوں نے بھی حضرت ابو سفیان کے سامنے پہنچ کر بلند آواز سے تین مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ پھر مُزَینہ قبیلہ کے ایک ہزار آدمی گزرے جن میں سوگھوڑے اور تین چھوٹے جھنڈے تھے، جنھیں حضرت نعمان بن مقرِّن اور حضرت بلال بن حارث اور عبداللہ بن عمرو ؓ نے اٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے بھی ان کے سامنے آکر بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ مُزَینہ ہیں۔ حضرت ابوسفیان نے کہا: اے ابوالفضل ! مجھے مُزَینہ سے کیا واسطہ؟ لیکن یہ بھی پہاڑوں کی چوٹیوں سے ہتھیاروں کو کھٹکھٹاتے ہوئے یہاں میرے سامنے آگئے ہیں۔ پھر جُہَیْنہ کے آٹھ سو آمی اپنے امیروں کے ساتھ گزرے ان کے چار چھوٹے جھنڈے تھے جنھیں ابو زُرْعہ ، معبد بن خالد اور سُوَید بن صخر اور رافع بن مَکِیْث اور عبداللہ بن بدر ؓ نے اٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے بھی ان کے سامنے پہنچ کر تین مرتبہ بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُکہا۔ پھر کنانہ بنو لیث اور ضمرہ اور سعد بن بکر کے دو سو آدمی گزرے ان کاجھنڈا ابو واقدلیثی نے اٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے بھی ان کے سامنے پہنچ کر تین مرتبہ بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ بنو بکر ہیں۔ انھوں نے کہا: اچھا!یہ تو بڑے منحوس ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے تو محمد (ﷺ) نے ہم پر چڑھائی کی ہے۔ (صلحِ حدیبیہ کے بعد قبیلہ خُزاعہ نے حضورﷺ سے معاہدہ کرلیا تھا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش سے۔ اور قریش اور بنو بکر نے قبیلہ خُزاعہ پر زیادتی کی اور یوں انھوں نے خلاف ورزی کرکے صلح ختم کردی جس کی وجہ سے حضورﷺ کو مکہ پر چڑھائی کا جواز مل گیا ۔ ابو سفیان اسی طر ف اشارہ کررہے ہیں) ذرا سنو تو سہی۔ اللہ کی قسم!(قریش نے خزاعہ کے ساتھ جو زیادتی کی تھی) اس کے بارے میں مجھ سے مشورہ نہیں کیا تھا اور نہ مجھے اس کا پتہ چل سکا اور جب مجھے اس کی خبر ہوئی تو میں نے اس پر ناپسندیدگی کا اِظہار کیا تھا، لیکن جو مقدر میں لکھا تھا وہ ہوگیا۔ حضرت عباس نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کی تم پر چڑھائی میں بھی اللہ نے تمہارے لیے خیر مقدر فرما رکھی ہے، یوں تم سب اِسلام میں داخل ہوجاؤ گے۔ واقدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو عمرو بن حِماس نے فرمایا کہ بنو لیث اکیلے گزرے ان کی تعداد ڈھائی سو تھی۔ان کا جھنڈا حضرت صَعْب بن جَثّامہؓ نے اٹھا رکھا تھا۔ گزرتے وقت انھوں نے تین مرتبہ بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا ۔ حضرت ابو سفیان نے پوچھا :یہ کون ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: بنولیث ہیں ۔پھر سب سے آخر میں قبیلہ اشجع گزرا۔یہ تین سو تھے، ان کا ایک جھنڈا حضرت معقل بن سِنانؓ کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا نُعَیم بن مسعود ؓ کے ہاتھ میں۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: یہ لوگ عربوں میںسے حضور ﷺ کے لیے سب سے زیادہ سخت تھے۔ حضرت عباس نے کہا: اللہ نے اپنے فضل سے اب تو اِسلام ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔ حضرت ابو سفیان کچھ دیر خاموش رہے اور پھر پوچھا کہ ابھی تک محمد ( ؑ ) نہیں گزرے؟ حضرت عباس نے کہا: ابھی تک نہیں گزرے۔ جس دستہ میں حضور ﷺ ہیں اگر تم اس کو دیکھوگے تو تمہیں لوہا ہی لوہا اور گھوڑے ہی گھوڑے اوربڑے بہادر آدمی نظر آئیں گے، اور ایسا لشکر دیکھو گے جس کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں ہے۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: اللہ کی قسم! اے ابوالفضل! اب تو مجھے بھی اس کا یقین ہوگیا ہے، اور ان سے مقابلہ کی طاقت کس میں ہوسکتی ہے؟ جب حضورﷺ کا دستہ نمودار ہوا تو ہر طرف لوہا ہی لوہا اور گھوڑوں کے سُموں سے اُڑنے والا غبار نظر آنے لگا اور لوگ لگاتار گزر رہے تھے۔ حضرت ابو سفیان ہر مرتبہ پوچھتے: کیا ابھی محمد (ﷺ) نہیں گزرے؟ حضرت عباس کہتے: نہیں۔ اتنے میں حضورﷺ اپنی قَصْواء اونٹنی پر گزرے، آپ کے دائیں بائیں حضرت ابو بکر اور حضرت اُسید بن حضیرؓ تھے۔ آپ ان دونوں سے بات کررہے تھے۔ حضرت عباس نے کہا: یہ رسول اللہ (ﷺ ) اپنے سیاہ دستہ میں تشریف لے جارہے ہیں، اس میں مہاجرین اور انصار ہیں، اس میں چھوٹے بڑے بہت سے جھنڈے ہیں۔ ہر انصاری بہادر کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈا ہے اور ایک چھوٹا۔ سب لوہے سے ایسے ڈھکے ہوئے ہیں کہ آنکھ کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ حضرت عمر ؓ پر لوہا ہی لوہا ہے اور وہ اپنی بلند اور گرجدار آواز سے لشکر کو ترتیب سے چلارہے ہیں۔ حضرت ابوسفیان نے پوچھا: ابو الفضل! یہ اونچی آواز سے بولنے والا کون ہے؟ حضرت عباس نے کہا: عمر بن الخطّاب۔ ابوسفیان نے کہا: بنو عدی (حضرت عمر ؓ کا خاندان) تو بہت کم تھے، بڑے ذلیل تھے، اب تو اُن کی بات بڑی اونچی ہوگئی۔ حضرت عباس نے کہا: اے ابوسفیان! اللہ تعالیٰ جسے چاہیں جیسے چاہیں اونچا کردیں۔ حضرت عمر اُن لوگوں میں سے ہیں جن کو اِسلام نے اونچا کیا ہے۔ اور راوی کہتے ہیں کہ اس دستہ میں دو ہزار زِرہیں تھیں۔ حضورﷺ نے اپنا جھنڈا حضرت سعد بن عُبَادہ ؓکو دے رکھا تھا، وہ دستہ کے آگے چل رہے تھے۔ جب حضرت سعد ؓ حضورﷺ کا جھنڈا لے کر ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو انھوں نے اُن کو آواز دے کر کہا: آج کا دن خون ریزی کا دن ہے۔ آج کے دن حرم ِ مکہ کی حرمت اٹھالی جائے گی۔ آج اللہ تعالیٰ قریش کو ذلیل کر دیں گے۔ جب حضور ﷺ آگے بڑھے اور ابو سفیان کے سامنے پہنچ گئے تو انھوں نے حضورﷺ کو پکار کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کرنے کا حکم دے دیا ہے؟ سعد اور اُن کے ساتھی ہمارے پاس سے گزرتے ہوئے کہہ گئے ہیں کہ آج کا دن خون ریزی کا دن ہے، آج کے دن حرم ِ مکہ کی حرمت اٹھالی جائے گی، آج اللہ تعالیٰ قریش کو ذلیل کردیں گے۔ میں آپ کو آپ کی قوم کے بارے میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ تو لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ جوڑ لینے والے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں خطرہ ہے کہیں سعد قریش پر حملہ نہ کردیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوسفیان! آج تو رحم کرنے کادن ہے۔ آج تو اللہ تعالیٰ قریش کو عزت دیں گے۔ پھر حضورﷺنے حضرت سعدکے پاس آدمی بھیج کر اُن کومعزول کردیا اورفرمایا کہ جھنڈا قیس کو دے دیں۔ آپ نے یہ سوچا کہ جب جھنڈا سعد کے بیٹے قیس کو مل جائے گا تو گویا سعد کے ہاتھ سے جھنڈانہیں نکلا، لیکن حضرت سعد نے فرمایا کہ جب تک حضورﷺ کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئے گی وہ جھنڈا نہیں دیں گے۔ چناں چہ حضورﷺ نے اُن کے پاس اپنی پگڑی بھیجی جسے پہچان کر حضرت سعد نے جھنڈا اپنے بیٹے قیس کو دے دیا۔1 حضرت ابو لیلیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ (فتحِ مکہ کے سفر میں) ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ابوسفیان اس وقت مقام ِ اَراک میں ہیں۔ ہم لوگوں نے وہاںجاکر ان کو پکڑ لیا۔ مسلمان اُن کو تلواروں سے گھیرے ہوئے حضورﷺ کی خدمت میں لے آئے ۔ آپ نے فرمایا: اے ابوسفیان ! تیرا بھلا ہو، میں تمہارے پاس دنیا و آخرت دونوں لے کر آیا ہوں، تم مسلمان ہوجاؤ سلامتی پالوگے۔ حضرت عباسؓ اُن کے دوست تھے، انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ابوسفیان شہرت پسند ہیں۔ چناں چہ آپ نے ایک مُنادِی کو مکہ بھیج دیا جو یہ اِعلان کرے کہ جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا اسے امن ہے اور جس نے اپنے ہتھیار ڈال دیے اسے امن ہے اور جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوا اسے امن ہے۔ پھر حضورﷺ نے حضرت عباس کو ان کے ساتھ بھیجا۔ یہ دونوں جاکر گھاٹی کے کنارے بیٹھ گئے تو وہاں سے بنو سُلَیم گزرے۔ ابو سفیان نے کہا: اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا :یہ بنو سُلَیم ہیں۔ انھوں نے کہا: مجھے بنو سُلَیم سے کیا واسطہ؟ پھر حضرت علی بن ابی طالب ؓ مہاجرین کو لے کرگزرے، تو انھوں نے پوچھا: اے عباس!یہ کون لوگ ہیں؟حضرت عباس نے کہا: یہ حضرت علی بن ابی طالب مہاجرین کولے کرجارہے ہیں۔ پھر حضور ﷺ انصار کے ساتھ گزرے۔ انھوں نے پوچھا: اے عباس! یہ کون ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ لوگ سرخ موت ہیں (یعنی دشمن کا خون بہا دینے والے ہیں) یہ اللہ کے رسول ﷺ اور انصار ہیں۔ ابوسفیان نے کہا: میں نے کسریٰ اور قیصر کی بادشاہت دیکھی ہے، لیکن تمہارے بھتیجے جیسی بادشاہت نہیں دیکھی۔ حضرت عباس نے کہا: (یہ بادشاہت نہیں) یہ تو نبوت ہے۔ 1 حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ مہاجرین اور اَنصار اور اسلم اور غِفار اورجُہَیْنہ اور بنو سُلَیم کے بارہ ہزار کے لشکر کو لے کر چلے۔ یہ لشکر گھوڑوں پر ا س تیزی سے چلا کہ یہ لوگ (مکہ کے قریب) مَرَّ الظَّہْران پہنچ گئے اور قریش کو پتہ بھی نہ چلا۔ قریش نے تو حکیم بن حِزام اور ابو سفیان کو (مدینہ) حضورﷺ سے بات کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا کہ آپ سے ہماری سلامتی کا عہد و پیمان لے کر آئیں یا اِعلانِ جنگ کرکے آئیں۔ انھیں راستہ میں بُدَیل بن ورقاء ملے تو انھیں بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی یہ لوگ مکہ سے چل کر رات کو اَراک پہنچے ہی تھے تو انھوں نے وہاں بہت سے خیمے اور لشکر دیکھا، اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں سنیں تو یہ تینوں ڈر گئے اور بہت گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ یہ بنو کعب ہیں جو لڑنے کے لیے تیار ہوکر آئے ہیں۔ بُدَیل نے کہا کہ ان کی تعداد تو بنو کعب سے زیادہ ہے، وہ تو سارے مل کر بھی اتنے نہیں ہوسکتے ۔تو کیا ہوازِن ہمارے علاقہ میں گھاس کی تلاش میں آگئے ہیں؟ مگر اللہ کی قسم! یہ بات بھی معلوم نہیں ہوتی، اتنا مجمع تو حاجیوں کا ہوا کرتا ہے۔ اور حضورﷺ نے بھی اپنے لشکر سے آگے سوار بھیج رکھے تھے جو جاسوسوں کو گرفتار کرکے لائیں اور (حضورﷺ کے حلیف) قبیلہ خُزاعہ والے بھی اسی راستے پر رہتے تھے جوکسی کو جانے نہیں دیتے تھے۔ جب ابوسفیان اور اُن کے ساتھی مسلمانوں کے لشکر میں داخل ہوئے تو انھیں ان سواروں نے رات کی تاریکی میں گرفتار کرلیا اور انھیں لے کر (مسلمانوں میں) آئے۔ ابوسفیان اور اُن کے ساتھیوں کو ڈر تھا کہ انھیں قتل کردیا جائے گا۔ حضرت عمر بن الخطّابؓ نے کھڑے ہوکر ابوسفیان کی گردن پر زور سے ہاتھ مارا اور سب لوگ ان کو چمٹ گئے اور ان کو حضورﷺ کی خدمت میں لے چلے۔ انھیں ڈرتھاکہ انھیں قتل کردیا جائے گا۔ حضرت عباس بن عبدالمطّلبؓ اُن کے جاہلیت میں بڑے گہرے دوست تھے اس لیے ابو سفیان نے بلند آواز سے کہا کہ تم لوگ مجھے عباس کے سپرد کیوں نہیں کردیتے؟ حضرت عباس (آواز سن کر) آگئے اور انھوں نے ان سے لوگوں کو ہٹایا اور حضورﷺ کی خدمت میں یہ درخواست کی کہ ابو سفیان کو ان کے حوالہ کردیں اور سارے لشکر میں ابوسفیان کے آنے کی خبر پھیل گئی۔ حضرت عباس ؓ نے رات ہی میں ابو سفیان کو سواری پر سارے لشکر کا گشت کرایا، تمام لشکر والوں نے بھی ابو سفیان کو دیکھ لیا۔ حضرت عمرؓنے ابوسفیان کی گردن پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا کہ تم مر کر ہی حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ سکتے ہو۔ ابو سفیان نے حضرت عباس ؓ سے مدد مانگی اور کہا: میں تو مارا گیا۔ ابو سفیان پر لوگوں کے حملہ کرنے سے پہلے ان کو حضرت عباس نے اپنی پناہ میں لے لیا۔ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ لوگ اتنے زیادہ ہیں اور سب فرماں بردار ہیں تو کہنے لگے: میں نے آج رات جیسا کسی قوم کا مجمع نہیں دیکھا۔ حضرت عباس نے ان کو لوگوں کے ہاتھ سے چھڑا کر کہا کہ اگر تم مسلمان نہ ہوئے اور حضور ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی نہ دی تو تم کو قتل کردیا جائے گا۔ ابو سفیان ہر چند کلمۂ شہادت پڑھنا چاہتے تھے لیکن اُن کی زبان چل کر نہ دیتی تھی۔ انھوں نے وہ رات حضرت عباس کے ساتھ گزاری۔ ان کے دونوں ساتھی حکیم بن حِزام اور بُدَیل بن ورقاء حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے اور حضور ﷺ ان دونوں سے اہلِ مکہ کے حالات پوچھتے رہے۔ جب فجر کی اذان ہوئی تو سب لوگ جمع ہوکر نماز کا انتظار کرنے لگے۔ ابوسفیان نے گھبرا کر پوچھا: اے عباس!آپ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: یہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہیں۔ تو حضرت عباس اُن کو لے کر باہر نکلے۔ ابو سفیان نے مسلمانوں کودیکھ کر کہا: اے عباس! حضورﷺ اُن کو جس بات کا حکم دیتے ہیں یہ اسی کو کرنے لگتے ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: ہاں، اگر حضورﷺ ان کو کھانے پینے سے روک دیں تو بھی یہ اُن کی فرماں برداری کریں گے۔ ابوسفیان نے کہا: اے عباس! حضورﷺ سے اپنی قوم کے بارے میں بات کرو کہ کیا وہ اُن کو معاف کرسکتے ہیں؟ ابو سفیان کو لے کر حضرت عباس ؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ ابو سفیان ہیں۔ ابو سفیان نے کہا :میں نے اپنے معبود سے مدد مانگی اور آپ نے اپنے معبود سے مدد مانگی۔ اللہ کی قسم! اب تو یہ صاف نظر آرہا ہے کہ آپ مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ اگر میرا معبود سچا اور آپ کا معبود جھوٹا ہوتا تو میں آپ پر غالب آتا۔ اور اس کے بعد حضرت ابوسفیان نے کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّإِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ لیا۔ حضرت عباس نے کہا :یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں، میں آپ کی قوم کے پاس جاؤں اور جو مصیبت ان پر آپڑی ہے اس سے انھیں ڈراؤں اور انھیں اللہ ورسولﷺ کی طرف دعوت دوں۔ حضورﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ حضرت عباس ؓنے پوچھا: یا رسول اللہ! میں اُن کو کیا کہوں؟ آپ مجھے ان کو اَمن دینے کے بارے میں ایسی واضح بات بتادیں جس سے ان کو اطمینان ہوجائے۔ آپ نے فرمایا: ان سے کہہ دینا کہ جس نے کلمہ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ لیا اسے امن ہے اور جو ہتھیار ڈال کر کعبہ کے پاس بیٹھ گیا اسے بھی امن ہے، جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا اسے بھی امن ہے۔ حضرت عباس نے کہا: یا رسول اللہ! ابو سفیان ہمارے چچازاد بھائی ہیں اوروہ میرے ساتھ واپس جانا چاہتے ہیں، آپ انھیں کچھ امتیازی اِعزاز دے دیں۔ آپ نے فرمایا: اور جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو گیااسے بھی امن ہے، اور جو ہاتھ روک کر حکیم بن حِزام کے گھر میں داخل ہوگیا اسے بھی امن ہے۔ (آپ نے یہ دو گھر اس لیے متعین فرمائے کہ) ابو سفیان کا گھر مکہ کے اوپر والے حصہ میں تھا اور حکیم بن حِزام کا گھر مکہ کے نیچے والے حصہ میں تھا۔ ابو سفیان حضورﷺکے ان تمام اعلانات کو اچھی طرح سمجھنے لگے۔ حضورﷺنے حضرت دِحیہ کلبی ؓکا دیا ہوا اپنا سفید خچر حضرت عباس ؓکو دے دیا۔ وہ اس پر اپنے پیچھے حضرت ابو سفیان کو بٹھاکر چل پڑے۔ جب حضرت عباس روانہ ہوئے تو حضورﷺنے ان کے پیچھے چند آدمی بھیجے کہ جاکر عباس کو میرے پاس واپس لے آؤ۔ آپ کو حضرت ابو سفیان سے جس بات کا خطرہ تھا وہ بات ان جانے والوں کو بتائی۔ قاصد نے حضرت عباس کو واپسی کا پیغام پہنچایا۔ حضرت عباس نے و اپسی کو اچھا نہ جانا اور کہا: کیا حضورﷺ کو اس بات کا خطرہ ہے کہ (مکہ کے) تھوڑے سے (کافر) لوگوں کو دیکھ کر ابو سفیان لوٹ جائیں گے اور مسلمان ہوکر پھر کافر ہوجائیں گے؟ قاصد نے کہا: ان کو یہاں ہی روکے رکھو۔ چناں چہ حضرت عباس نے ابو سفیان کو وہاں روک لیا۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: اے بنو ہاشم! کیا مجھ سے عہد شکنی کرنے لگے ہو؟ حضرت عباس نے کہا: ہم کسی سے عہد شکنی نہیں کرتے لیکن مجھے تم سے کچھ کام ہے۔ ابو سفیان نے کہا: کیا ہے؟ میں تمہارا کام کروں گا۔ حضرت عباس ؓنے کہا: جب خالد بن ولید اور زُبیر بن عوّام ؓ آئیں گے تب تمہیں اس کام کا پتہ چل جائے گا۔ حضرت عباس مَرَّ الظَّہْران اور اَراک سے پہلے تنگ گھاٹی کے کنارے ٹھہرگئے اور حضرت ابو سفیان ؓ نے حضرت عباس کی بات کو ذہن میں رکھا۔ پھر حضور ﷺ یکے بعد دیگر ے گھوڑے سواروں کے دستے بھیجنے لگے۔ حضور ﷺ نے گھوڑے سواروں کے دو حصے کردیے تھے، حضرت زُبیر کو آپ نے آگے بھیجا اور ان کے پیچھے اسلم اور غِفار اور قُضاعہ کے گھوڑے سوار تھے (حضرت خالدؓ بھی حضرت زُبیرؓ کے ساتھ تھے)۔ ابو سفیان ؓ نے کہا: اے عباس! کیا یہ رسول اللہ ﷺ ہیں؟ حضرت عباس نے کہا: نہیں، یہ تو خالد بن ولید ہیں۔ حضور ﷺ نے اپنے سے آگے اَنصار کے ایک دستے کے ساتھ حضرت سعد بن عُبادہ ؓکو بھیجا تھا۔ حضرت سعد نے کہا: آج کا دن خون ریزی کا دن ہے۔ آج کے دن (حرم ِمکہ کی) حرمت اٹھالی جائے گی۔ پھر حضورﷺ ایمان کے دستہ میں یعنی مہاجرین و انصار کے دستہ میں تشریف لائے۔ جب ابو سفیان نے اتنے بڑے مجمع کو دیکھا جس کو وہ پہچانتے نہیں تھے تو انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے اپنی قوم پر اس جماعت کو ترجیح دے دی؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے اور تمہاری قوم کے برتاؤ کا نتیجہ ہے۔ جب تم نے مجھے جھٹلایا اس وقت انھوں نے میری تصدیق کی اور جب تم نے مجھے (مکہ سے) نکال دیا اس وقت انھوں نے میری مدد کی۔ اس وقت حضورﷺ کے ساتھ اَقرع بن حابس اور عباس بن مرد اس اور عُیَیْنہ بن حِصن بن بدر فزاری ؓ تھے۔ جب حضرت ابو سفیان نے ان لوگوں کو حضورﷺ کے اِرد گرد دیکھا تو پوچھا: اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریمﷺ کا دستہ ہے، یہ مہاجرین اور اَنصار ہیں، ان کے ساتھ سرخ موت ہے۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: ا ب چلو۔ اے عباس! میں نے تو آج کے دن جیسا بڑا لشکر اور اتنی بڑی جماعت کبھی نہیں دیکھی۔ حضرت زُبیر ؓ اپنے لشکر کو لے کر حجون مقام پر آکر ٹھہر گئے۔ حضرت خالد ؓ اپنے لشکر کو لے کر مکہ کے نچلے حصے کی طرف سے داخل ہوئے، ان سے بنو بکر کے کچھ آوارہ گرد لوگوں نے مقابلہ کیا۔ حضرت خالد نے ان سے لڑائی کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی۔ ان میں سے کچھ حَزْوَرہ مقام پر مارے گئے اور کچھ اپنے گھروں میں گھس گئے، اور جو گھوڑے سوار تھے وہ خَنْدمہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کیا۔ حضور ﷺ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ہوئے اور ایک مُنادِی نے اعلان کیا کہ جس نے اپنا ہاتھ روک کر اپنے گھرکا دروازہ بند کرلیا اسے امن ہے۔ اور حضرت ابو سفیان نے مکہ میں بلند آواز سے یہ دعوت دی: اے لوگو! اِسلام لے آؤ سلامتی پالوگے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ عزّوجل نے حضرت عباس کے ذریعہ اہلِ مکہ کی حفاظت فرمائی۔ (یہ سن کر حضرت ابو سفیان کی بیوی) ہند بنتِ عتبہ نے ان کی ڈاڑھی کو آگے بڑھ کر پکڑ لیا اور زور سے کہا: اے آلِ غالب! اس بے وقوف بڈھے کو قتل کردو۔ حضرت ابو سفیان نے فرمایا: میری ڈاڑھی چھوڑ دے۔ میں ا للہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں! اگر تو اِسلام نہ لائی تو تیری گردن اُڑا دی جائے گی۔ تیرا ناس ہو! حضورﷺ حق بات لے کر آئے ہیں، اپنی مسہری میں چلی جا اور چپ ہوجا۔ 1 حضرت سہیل بن عمر وؓ فرماتے ہیں: جب حضور ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور (اہلِ مکہ پر) غالب آگئے تو میں اپنے گھر میں گھس گیا اور میں نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا اورمیں نے اپنے بیٹے عبداللہ بن سہیل کو بھیجا کہ جاکر محمد (ﷺ) سے میرے لیے امن لے آؤ، کیوں کہ مجھے خطرہ ہے کہ مجھے قتل کردیا جائے گا۔چناں چہ عبداللہ بن سہیل نے جاکر حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ میرے باپ کو اَمن دے دیں گے؟ حضورﷺ نے کہا :ہاں! وہ اللہ تعالیٰ کے اَمن میں ہیں وہ باہرنکل آئیں۔ پھر حضورﷺ نے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ سے کہا: تم میں سے جو بھی سہیل سے ملے وہ اُن کو گھور کر بھی نہ دیکھے تاکہ وہ (بے خوف وخطر) باہر آجاسکیں۔ میری عمر کی قسم! (اس وقت تک اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت نہیں آئی تھی) سہیل تو بڑی عقل و شرافت والا ہے اور سہیل جیسا آدمی بھی کبھی اِسلام سے ناواقف رہ سکتا ہے؟ اور اب تو وہ دیکھ چکا ہے کہ جس راستہ پر وہ محنت کررہا تھا اس سے کچھ نفع نہ ملا۔ حضرت عبداللہ نے جاکر اپنے والد کو حضورﷺ کی ساری بات بتادی۔ سہیل نے کہا: حضور ﷺ تو بچپن میں بھی نیک تھے وہ اب بڑے ہوکر بھی نیک ہیں۔ چناں چہ حضرت سہیل حضور ﷺ کے پاس آیا جایا کرتے تھے ۔ حالتِ شرک میں ہی وہ غزوۂ حنین میں حضورﷺ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ وہ جَعِرَّانہ میں مسلمان ہوگئے، اور اس دن حضورﷺ نے اُن کو مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ دیے۔1 حضرت عمر بن الخطّابؓ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر صفوان بن اُمیّہ اور ابو سفیان بن حرب اور حارث بن ہشام کو بلایا۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: میں نے کہا: آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان پر قابو دیا ہے، انھوں نے آج تک جو کچھ ہمارے ساتھ کیا ہے وہ سب میں ان کو میں یاد دلائوں گا، کہ اتنے میں حضورﷺنے اُن سے یہ فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال تو ایسی ہے جیسے کہ حضرت یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ السَّلَامُ نے اپنے بھائیوں کو فرمایا تھا: {لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْْکُمُ الْیَوْمَ ط یَغْفِرُ اللّٰہُُ ز لَـکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ}2 کچھ اِلزام نہیں تم پر آج ، بخشے اللہ تم کو، اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: (حضورﷺ کی طرف سے یوں اعلانِ معافی سن کر) شرم کے مارے میں پانی پانی ہوگیا ۔ اگر بے سوچے سمجھے میری زبان سے کوئی بات نکل جاتی تو کتنا برا ہوتا جب کہ حضور ﷺ اُن سے یہ فرمارہے ہیں۔ 1 حضرت ابنِ ابی حسین ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے مکہ فتح فرمالیا تو آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے ۔ پھر آپ نے باہر آکر دروازے کے دونوں بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر (کفار سے) فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ سہیل بن عمرو نے کہا: ہم آپ کے بارے میں بھلائی کا گمان رکھتے ہیں۔ آپ کرم فرما بھائی ہیں اور کرم فرما بھائی کے بیٹے ہیں اور اب آپ ہم پر قابو پاچکے ہیں (اور یہ بات مشہور ہے کہ کریم آدمی قابو پاکر معاف کردیا کرتا ہے)۔ آپ نے فرمایا: میں بھی تم سے وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی حضرت یوسف ؑ نے (اپنے بھائیوں سے ) کہا تھا : {لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْْکُمُ الْیَوْمَ} کچھ اِلزام نہیں تم پر آج ۔2 حضرت ابو ہریرہ ؓ ایک لمبی حدیث بیان فرماتے ہیں جس میں یہ ہے کہ پھر آپ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر آپ نے فرمایا: تم (میرے بارے میں) کیا کہتے ہو اور کیا گمان رکھتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے بھتیجے اور چچازاد بھائی ہیں، اور بڑے بُرد بار اور مہربان، رحم کرنے والے ہیں۔ اور انھوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی۔ آپ نے فرمایا: میں بھی تم کو وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف ؑ نے (اپنے بھائیوں کو ) کہا تھا: {لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْْکُمُ الْیَوْمَ ط یَغْفِرُ اللّٰہُُ ز لَـکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ} کچھ اِلزام نہیں تم پر آج، بخشے اللہ تم کو، اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: (آپ کی یہ بات سن کر) وہ کفارِ مکہ مسجد سے نکلے اور وہ اتنے خوش تھے کہ جیسے ان کو قبروں سے نکالا گیا ہو اور پھر وہ اِسلام میں داخل ہوگئے۔ اِمام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس قصہ میں امام شافعی نے حضرت امام ابو یوسف سے یہ نقل کیا ہے کہ جب کفار مسجد میں جمع ہوگئے تو حضورﷺ نے ان سے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا ؟ انھوں نے کہا: (آپ ہمارے ساتھ) بھلا کریں گے۔ آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ تم سب آزاد ہو۔1