حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا
حضرت عکرمہ بن ابی جہل ؓ کے اسلام لانے کا قصہ
حضرت عبداللہ بن زُبیر ؓ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن حضرت عِکْرِمہ بن ابی جہلؓ کی بیوی اُمِّ حکیم بنت الحارث بن ہشام ؓمسلمان ہوگئیں۔ پھر حضرت اُم حکیم نے کہا: یا رسول اللہ ! عِکْرِمہ آپ سے ڈر کر یمن بھاگ گئے ہیں، انھیں ڈر تھا کہ آپ انھیں قتل کردیں گے۔ آپ اُن کو اَمن دے دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: انھیں امن ہے۔ اپنے ساتھ اپنا رومی غلام لے کر وہ عِکْرِمہ کی تلاش میں نکلیں۔ اس غلام نے حضرت اُم حکیم کو پھسلانا چاہا، وہ اسے امید دلاتی رہیں یہاں تک کہ قبیلہ عُکْ میں پہنچ گئیں تو انھوں نے اس قبیلہ والوں سے اس غلام کے خلاف مدد طلب کی، انھوں نے اس غلام کو رسیوں میں جکڑ دیا۔ حضرت اُمِّ حکیم عِکْرِمہ کے پاس جب پہنچیں تو وہ تہامہ کے ایک ساحل پر پہنچ کر کشتی پر سوار ہوچکے تھے اور کشتی بان اُن سے کہہ رہا تھا کہ کلمۂ اِخلاص پڑھ لو۔ عِکْرِمہ نے پوچھا : میں کیا کہوں ؟ اس نے کہا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہو۔ عِکْرِمہ نے کہا: میں تو صرف اسی کلمہ سے ہی بھاگ رہا ہوں۔
اتنے میں حضرت اُمّ حکیم وہاں پہنچ گئیں اور (کپڑے ہلاکر ) ان کی طرف اشارہ کرنے لگیں (یا اُن پر اصرار کرنے لگیں) اور وہ ان سے کہہ رہی تھیں: اے میرے چچازاد بھائی! میں تمہارے پاس ایسی ذات کے پاس سے آرہی ہوں جو لوگوں میں سب سے زیادہ جوڑ لینے والے اور سب سے زیادہ نیکی کرنے والے اور سب سے زیادہ بہترین انسان ہیں۔ اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔ چناں چہ عِکْرِمہ یہ سن کر رک گئے اور وہ اُن کے پاس پہنچ گئیں اور اُن سے کہا: میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ سے امن لے چکی ہوں۔ انھوں نے کہا: واقعی تم لے چکی ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں! میں نے اُن سے بات کی تھی انھوں نے تمہیں امن دے دیا ہے۔چناں چہ وہ ان کے ساتھ واپس چل پڑے۔ حضرت اُمِّ حکیم نے عِکْرِمہ کو اپنے رومی غلام کی ساری بات بتائی، انھوں نے (غصہ میںآکر) اس غلام کو قتل کردیا اوروہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اور جب یہ مکہ کے قریب پہنچے تو حضورﷺ نے اپنے صحابہ ؓکو فرمایا کہ عِکْرِمہ بن ابی جہل تمہارے پاس مؤمن اور مہاجر بن کر آرہے ہیں۔ آیندہ اس کے باپ کو برا بھلا نہ کہنا، کیوں کہ مرے ہوئے کو برا کہنے سے اس کے زندہ رشتہ داروں کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ اس مردہ تک پہنچتا نہیں۔
(راستہ میں ) عِکْرِمہ نے اپنی بیوی سے صحبت کرنی چاہی لیکن انھوںنے انکار کردیا اور یہ کہا: تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں۔ عِکْرِمہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے کہ جس کام نے تم کو میری بات ماننے سے روکا ہے وہ بہت بڑا کام ہے۔ حضورﷺ عِکْرِمہ کو دیکھتے ہی لپکے اور جلدی کی وجہ سے آپ کے جسمِ اَطہر پر چادر تک نہ تھی، کیوں کہ آپ اُن (کے آنے) سے بہت خوش تھے۔ پھر حضورﷺ بیٹھ گئے اور وہ حضورﷺ کے سامنے کھڑے رہے اور اُن کے ساتھ اُن کی بیوی نقاب پہنے ہوئے تھیں۔ انھوں نے کہا: اے محمد! میری اس بیوی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے اَمن دے دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ سچ کہتی ہے تمہیں اَمن ہے۔ عکرمہ نے کہا: اے محمد! آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور تم نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور فلاں فلاں کام کرو۔ آپ نے اِسلام کے چند اَعمال گنائے، تو عِکْرِمہ نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ نے حق بات کی اور اچھی اور عمدہ بات کی دعوت دی ہے۔ اللہ کی قسم! آپ تو اس دعوت کے کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی ہم میں سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ نیکوکارتھے۔ پھر حضرت عکرمہ نے کلمۂ شہادت پڑھا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ آپ ان کے اِسلام لانے سے بہت خوش ہوئے۔ پھر انھوں نے کہا: یارسول اللہ!آپ مجھے پڑھنے کے لیے کوئی بہترین چیز بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: أَشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھا کرو۔
حضرت عکرمہؓ نے کہا :کچھ اور بتادیں ۔ آپ نے فرمایا: یہ کہو کہ میں اللہ تعالیٰ کو اور تمام حاضرین کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں مسلمان اور مجاہد اور مہاجر ہوں۔ حضرت عِکْرِمہ نے یہ کہہ دیا ۔ حضورﷺ نے (خوش ہوکر) کہا: تم مجھ سے آج جو بھی ایسی چیز مانگو گے جو میں دے سکتا ہوں وہ میں تمہیں ضرور دے دوں گا۔ حضرت عِکْرِمہ نے کہا: میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ میں نے آپ کی جتنی دشمنی کی ہے، یا آپ کے خلاف جتنے سفر کیے ہیں، اور آپ کے خلاف جتنی جنگیں کی ہیں، یا آپ کو آپ کے سامنے، یا آپ کے پسِ پشت جتنی نازیباں باتیں کہی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو معاف کردے۔ حضورﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! انھوں نے مجھ سے جتنی دشمنی کی ہے اور آپ کے نور کو بجھانے کے لیے جتنے سفر کیے ہیں ان سب کو معاف فرمادے، اور انھوں نے میرے سامنے یا میرے پسِ پشت جتنی میری آبرو ریزی کی ہے وہ سب معاف فرمادے۔ حضرت عکرمہ نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں خوش ہوگیا ہوں۔ اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ! اب تک میں اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنا مال خرچ کرچکا ہوں اب آیندہ اللہ کے راستہ میں اس سے دگنا (ان شاء اللہ) خرچ کروں گا ۔اور اب تک اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنی جنگ کرچکا ہوں اب اللہ کے راستہ میں اس سے دُگنی جنگ کروں گا۔ چناں چہ حضرت عِکْرِمہ پورے زور شور سے جہاد میں شریک ہوتے رہے یہاں تک کہ (اللہ کے راستہ میں) شہید ہوگئے۔ حضورﷺ نے (تجدیدِ نکاح کے بغیر ہی) پہلے نکاح کی بنیاد پر ہی حضرت اُمّ حکیم کو اُن کے نکاح میں باقی رکھا۔
واقدی نے اپنی سند سے یہ نقل کیا ہے: غزوۂ حنین کے دن (جب شروع میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو) سہیل بن عمرو نے کہا: محمد ( ؑ) اور اُن کے صحابہ کو قبیلہ ثقیف اور قبیلہ ہوازِن کا پہلے سے اندازہ نہ تھا۔ تو ان کو حضرت عِکْرِمہ نے کہا: یہ بات نہیں ہے بلکہ فتح اور شکست تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، محمد ( ؑ) کے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔ اگر آج اُن کو شکست ہوگئی ہے تو کل کو اُن کے حق میں اچھا نتیجہ نکل آئے گا۔ سہیل نے کہا: ارے !کچھ دن پہلے تک تو تم اُن کے بڑے مخالف تھے (اب ان کے بڑے حامی ہوگئے ہو)۔ حضرت عکرمہ نے کہا: اے ابو یزید! اللہ کی قسم! ہم لوگ بالکل غلط راستہ پر محنت کرتے رہے۔ ہماری عقل بھی کوئی عقل تھی کہ ہم ایسے پتھروں کی عبادت کرتے رہے جو نہ نفع دے سکتے تھے نہ نقصان۔ 1
حضرت عبداللہ بن زُبیر ؓ کی ایک حدیث میں یہ مضمون ہے کہ حضرت عِکْرِمہ ؓ جب حضور ﷺ کے دروازے پر پہنچے تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور اُن کے آنے کی اسی خوشی کی وجہ سے آپ کھڑے ہوکر فوراً اُن کی طرف لپکے۔ اور حضرت عُروہ بن زُبیر کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عِکْرِمہ بن ابی جہل ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا تو میں نے کہا: اے محمد! (میری ) اس (بیوی) نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے اَمن دے دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں! تمہیں اَمن ہے۔ میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور آپ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ اور آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ وعدہ کو پورا کرنے والے ہیں۔ حضرت عِکْرِمہ فرماتے ہیں کہ میں یہ سب کچھ کہہ تو رہا تھا لیکن شرم کے مارے میں نے اپنا سر جھکا یا ہوا تھا۔ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمادیں کہ میں نے آپ کی آج تک جتنی دشمنی کی ہے اور شرک کو غالب کرنے کی کوشش اور محنت کرنے میں میں نے جتنے سفر کیے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو معاف فرمادے۔ حضورﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس عِکْرِمہ نے آج تک جتنی میری دشمنی کی ہے اور آپ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنے سفر کیے ہیں ان سب کو معاف فرما دے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ جو کچھ جانتے ہیں اس میں سے بہترین بات مجھے بتائیں تاکہ میں بھی اسے جان لوں (اور اس پر عمل کروں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: کہو أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔
پھر حضرت عِکْرِمہ نے کہا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنا مال خرچ کرچکا ہوں اب اس سے دُگنا مال اللہ کے راستہ میں خرچ کروں گا، اور اب تک اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جتنی جنگ کرچکا ہوں اب اللہ کے راستہ میں اس سے دُگنی جنگ کروں گا۔ چناںچہ حضرت عِکْرِمہ پورے زور و شور سے جہادمیں شریک ہوتے رہے اور حضرت ابو بکر ؓ کے زمانۂ خلافت میں غزوۂ اَجنادَین میں شہید ہوئے۔ حضورﷺ نے حجۃ الوداع والے سال اُن کو ہوازِن سے صدقات وصول کرنے بھیجا تھا۔ جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت حضرت عِکْرِمہ تبالہ (یمن) میں تھے۔ 1