نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا
نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ اندر تشریف لائے اور تین مرتبہ فرمایا: اے ابنِ مسعود! میں نے بھی جواب میں تین مرتبہ عرض کیا: لبیک یا رسول اﷲ! پھر حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: اﷲ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل وہ ہے جس کے عمل سب سے اچھے ہوںبشرطیکہ اسے دین کی سمجھ حاصل ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ابنِ مسعود! میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اﷲ! آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ میں نے عرض کیا: اﷲ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ ہے کہ جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو وہ (حالات سے متأثر نہ ہو بلکہ) اس موقع پر اس کی سب سے زیادہ نگاہ حق پر ہو چاہے وہ عمل میں کچھ کم ہو اور اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو۔ مجھ سے پہلے جو لوگ تھے ان کے بہتّر فرقے بن گئے تھے، ان میں سے صرف تین فرقوں کو نجات ملی اور باقی سب ہلاک ہوگئے۔ ایک تو وہ فرقہ جنھوں نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا، اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے دین کی وجہ سے اور اپنے دین کی وجہ سے ان بادشاہوں سے جنگ کی۔ بادشاہوں نے انھیں پکڑ کر قتل کیا، آروں سے چیر کر ان کے ٹکڑے کر دیے۔ دوسرا فرقہ وہ تھا جن میں بادشاہوں سے مقابلہ کی سکت نہیں تھی اور ان میں رہ کر ان کو اﷲ کی اورحضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے دین کی دعوت دینے کی ہمت نہیں تھی، یہ لوگ مختلف علاقوں کی طرف نکل گئے اور رہبانیت اختیار کر لی۔ ان ہی کے بارے میں اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَرَہْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیْہِمْ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ}1
اور انھوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کر لیا ہم نے اس کو ان پر واجب نہ کیا تھا لیکن انھوں نے حق تعالیٰ کی رضا کے واسطے اس کو اختیار کیا تھا، سو انھوں نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت نہ کی۔
پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور میری اتباع کرے وہ اس رہبانیت کی پوری رعایت کرنے والا شمار ہوگا۔جو میرا اتباع نہ کریں یہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک فرقہ تو جابر بادشاہوں کے پاس ٹھہرا رہا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت دیتا رہا، جس پر انھیں پکڑ کر قتل کر دیا گیا، آروں سے چیرا گیا، آگ میں زندہ جلا دیا گیا۔ انھوں نے جان دے دی لیکن صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ہے۔2
حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم اپنے رب کی طرف سے ایک واضح راستہ پر رہو گے جب تک تم میں دو نشے ظاہر نہ ہو جائیں: ایک جہالت کا نشہ، دوسرا زندگی کی محبت کا نشہ۔ اور تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہوگے اور اﷲ کے راستہ میں جہاد کرتے رہو گے، لیکن جب دنیا کی محبت تم میں ظاہر ہو جائے گی پھر تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کر سکو گے، اور اﷲ کے راستے میں جہاد نہ کر سکو گے۔ اس زمانے میں قرآن وحدیث کو بیان کرنے والے ان مہاجرین اور انصار کی طرح ہوں گے جو شروع میں اسلام لائے تھے۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسے لوگ نہ بتلائوں جو نہ نبی ہوں گے اور نہ شہید، لیکن ان کو اﷲ کے ہاں اتنا اونچا مقام ملے گا کہ قیامت کے دن نبی اور شہید بھی انھیں دیکھ کر خوش ہوں گے اور وہ نور کے خاص منبروں پر ہوں گے اور پہچانے جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اﷲ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو اﷲ کے بندوں کو اﷲ کا محبوب بناتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کو اس کے بندوں کا محبوب بناتے ہیں اور لوگوں کے خیر خواہ بن کر زمین پر پھرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اﷲ کو اس کے بندوں کا محبوب بنائیں، لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اﷲ کے بندوں کو اﷲ کا محبوب کیسے بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ لوگ اﷲ کے بندوں کو ان کاموں کا حکم دیں گے جو کام اﷲ کو محبوب اور پسند ہیں، اوران کاموں سے روکیں گے جو اﷲ کو نا پسند ہیں۔ وہ بندے جب ان کی بات مان کر اﷲ کے پسندیدہ کام کرنے لگ جائیں تو یہ بندے اﷲ کے محبوب بن جائیں گے۔1
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اﷲ! امر بالمعروف اور نہی عن المنکرنیک لوگوں کے اعمال کے سردار ہیں، ان دونوں کو کب چھوڑ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: جب تم میں وہ خرابیاں پیدا ہو جائیں گی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: یا رسول اﷲ! بنی اسرائیل میں کیا خرابیاں پیدا ہوگئیں تھیں؟ آپ نے فرمایا: جب تمہارے نیک لوگ دنیا کی وجہ سے فاجر لوگوں کے سامنے دینی معاملات میں نرمی برتنے لگیں اور دینی علم بد ترین لوگوں میں آجائے اور بادشاہت چھوٹوں کے ہاتھ لگ جائے، تو پھر اس وقت تم زبردست فتنہ میں مبتلا ہو جائو گے، تم فتنوں کی طرف چلو گے اور فتنے بار بار تمہاری طرف آئیں گے۔2
حضرت قیس بن ابی حازم ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بنے تو وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْج لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ}1
اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے تو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔
اور اس کا غلط مطلب لیتے ہو۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ جب کسی برائی کو دیکھیں اور اسے نہ بدلیں تو اﷲ تعالیٰ (برائی کرنے والوں اور نہ کرنے والوں) سب کو سزا دیں گے (کرنے والوں کو کرنے کی وجہ سے اور نہ کرنے والوں کو نہ روکنے کی وجہ سے)۔2
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیںکہ جس دن حضرت ابو بکر ؓ کا نام خلیفۂ رسول اﷲ رکھا گیا یعنی وہ خلیفہ بنے، اس دن وہ منبر پر بیٹھے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور حضورﷺ پر درود بھیجا۔ پھر حضورﷺ منبر پر جہاں بیٹھا کرتے تھے دونوںہاتھ بڑھا کر وہاں رکھے، پھر فرمایا: میں نے حبیب ﷺ سے یہاں بیٹھے ہوئے یہ سنا کہ آپ آیتِ شریفہ {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} کا مطلب بیان فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ہاں! جس قوم میں برائی کے کام ہونے لگیں اور قبیح کاموں کے ذریعہ فساد پھیلایا جانے لگے اور وہ نہ اسے تبدیل کریں اور نہ اس کو برائی سمجھیں تو اﷲ تعالیٰ ان سب کو ضرور سزا دے گا اور ان کی دعا قبول نہ ہوگی۔ پھر اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال کر فرمایا: اگر میرے دونوں کانوں نے یہ باتیں حبیب ﷺ سے نہ سنی ہوں تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔3
حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: جب کچھ لوگ ایسے لوگوں کے سامنے گناہ کے کام کریں جو اُن سے زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوں اور وہ ان کو ان کاموں سے نہ روکیں تو ان سب پر اﷲ تعالیٰ ایسا عذاب نازل فرمائیں گے جسے ان سے نہیں ہٹائیں گے۔1
حضرت عمر ؓ نے فرمایا: جب تم کسی بے وقوف کو دیکھتے ہو کہ وہ لوگوں کی بے عزّتی کر رہا ہے تو تم اس پر انکار کیوں نہیں کرتے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کی زبان درازی سے ڈرتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس طرح تو تم (قیامت کے دن نبیوں کے) گواہ نہیں بن سکو گے۔2
حضرت عثمانؓ نے فرمایا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے رہو، مبادا وہ وقت آجائے کہ تمہارے بروں کو تم پرمسلط کر دیا جائے، اور ان بروں کے خلاف نیک لوگ بد دعا کریں اور وہ قبول نہ کی جائے۔3
حضرت علیؓ نے فرمایا: تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اہتمام سے کرتے رہو اور اﷲ کے دین کے لیے کوشش کرتے رہو، ورنہ ایسے لوگ تم پر مسلط ہو جائیں گے جو تمھیں دردناک عذاب دیں گے اور اﷲ تعالیٰ انھیں عذاب دے گا۔4
حضرت علیؓ نے فرمایا: تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرضرور کرتے رہنا ورنہ تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کر دیے جائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگ بھی دعا کریں گے تو قبول نہیں ہو گی۔5
حضرت علیؓ نے ایک بیان میں ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ لوگ گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان کے ربانی عُلَما اور دینی مشایخ نے انھیں ان گناہوں سے روکا نہیں۔ جب وہ گناہوں میں حد سے بڑھ گئے اور ربانی عُلَما اور دینی مشایخ نے انھیں نہ روکا تو آسمانی سزائوں نے انھیں پکڑ لیا۔ اس لیے تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ تم پر بھی وہی سزائیں نازل ہوں گی جو اُن پر ہوئی تھیں۔ اور اس بات کا یقین رکھو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرسے روزی ختم نہیں ہوتی اور موت کا وقت قریب نہیں آتا۔6
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جہاد کی تین قسمیں ہیں: ایک ہاتھ سے جہادکرنا، دوسرا زبان سے جہاد کرنا، تیسرا دل سے جہاد کرنا۔ سب سے پہلے ہاتھ والا جہاد ختم ہوگا، پھر زبان والا ختم ہوگا، پھر دل والا۔ جب دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ وہ نیکی کو نیکی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ سمجھے تو اسے اوندھا کر دیا جاتا ہے، یعنی اس کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا جاتا ہے (پھر خیر اور نیکی کا جذبہ اس میں نہیں رہتا)۔1
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے تم ہاتھ والے جہاد کے سامنے بے بس اور مغلوب ہو گئے، پھر دل والے جہاد کے سامنے ۔ لہٰذا جس دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ وہ نیکی کو نیکی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ سمجھے تو اس کے اوپر والے حصے کو ایسے نیچے کر دیا جا ئے گا جیسے تھیلے کو الٹا کیا جاتا ہے اور پھر تھیلے کے اندر کی ساری چیزبکھر جاتی ہیں۔2
حضرت طارق بن شہاب ؓکہتے ہیں کہ حضرت عِتْرِیس بن عُرقوب شیبانی نے حضرت عبد اﷲ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: جو آدمی نیکی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوگیا۔ حضرت عبد اﷲ نے فرمایا: (یہ تو آگے کی بات ہے) وہ آدمی بھی ہلاک ہو گیا جس کا دل نیکی کو نیکی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ سمجھے ۔3
حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: تین قسم کے انسانوں میں تو خیر ہے ان کے علاوہ کسی میں خیر نہیں ہے۔ ایک وہ آدمی جس نے دیکھا کہ ایک جماعت اﷲ کے راستہ میں دشمن سے جنگ کر رہی ہے، یہ اپنا مال اور جان لے کر ان کے ساتھ لڑائی میں شریک ہو گیا۔ دوسرا وہ آدمی جس نے زبان سے جہاد کیا اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے روکا۔ تیسرا وہ آدمی جس نے دل سے حق کو پہچانا۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ منافقوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرو، لیکن اگر اس کی طاقت نہ ہو اور ان کے سامنے تیوری چڑھا کر اپنی ناگواری کا اظہار کر سکتے ہو تو پھر یہی کر لینا۔1
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: جب تم کسی برائی کو ہوتے ہوئے دیکھو، اور اسے بند کرنے اور روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو، تو تمہاری نجات کے لیے اتنا کافی ہے کہ اﷲ کو معلوم ہو جائے کہ تم اس برائی کو دل سے برا سمجھتے ہو۔2
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: کسی جگہ اﷲ کی نافرمانی کا کام ہو رہا ہو اور کوئی آدمی اس موقع پر موجود ہو لیکن وہ دل سے اسے برا سمجھتا ہو، تو وہ ان لوگوں کی طرح شمار ہوگا جو اس نافرمانی کے موقع پر موجود نہیں ہیں۔ اور جو نافرمانی کے موقع پر موجود تو نہ ہو لیکن وہ اس نافرمانی پر دل سے راضی ہو، تو وہ ان لوگوں کی طرح ہوگا جو اس نافرمانی کے موقع پر موجود ہیں۔3
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ عنقریب بہت سے غلط کام ہوں گے، جو ان کاموں کے موقع پر موجود تو نہ ہو لیکن دل سے ان پر راضی ہو، تو وہ اس آدمی کی طرح شمار ہو گا جو موقع پر موجود تھا، اور جو موقع پر موجود تھا لیکن دل سے اسے برا سمجھ رہا تھا، وہ اس آدمی کی طرح شمار ہوگا جو موقع پر نہیں تھا۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نیک لوگ اس دنیا سے پہلے جائیں گے، پھر شک والے باقی رہ جائیں گے جو نہ کسی نیکی کو نیکی سمجھیں گے اور نہ کسی برائی کو برائی سمجھیں گے۔5
حضرت ابو رُقَاد ؓ کہتے ہیں کہ میں نو عمر لڑکا تھا۔ ایک مرتبہ میں اپنے آقا کے ساتھ گھر سے نکلا اور چلتے چلتے حضرت حذیفہؓکی خدمت میں پہنچ گیا۔ وہ فرما رہے تھے کہ حضورﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کوئی بول بولتا تھا جس کی وجہ سے وہ منافق ہو جاتا تھا اور اب میں سنتا ہوں کہ تم لوگ وہ بول ایک مجلس میں چار چار دفعہ بول لیتے ہو۔ دیکھو! تم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرضرور کرتے رہو اور خیر کے کاموں کی ضرور ترغیب دیتے رہو ورنہ اﷲ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے ہلاک کر دے گا، یا پھر تم پر تمہارے بروں کو امیر بنا دے گا اور تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے لیکن وہ تمہارے حق میں قبول نہ ہوگی۔1
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو ہم میں سے نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرتے رہو ورنہ تم آپس میں لڑنے لگوگے، اور تمہارے برے تمہارے نیک لوگوں پر غالب آکر قتل کر دیں گے پھر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا باقی نہ رہے گا۔ پھر اللہ تم سے ایسے ناراض ہوں گے کہ تم اللہ سے دعا کرو گے لیکن وہ تمہاری کوئی دعا قبول نہ کرے گا۔2
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں تم میں سب سے بہترین آدمی وہ شمار ہوگا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے (اپنی اصلاح کی فکر کرے دوسروں کی اصلاح نہ کرے، لیکن ابھی وہ زمانہ نہیں آیا )۔3
حضرت عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں: بہت سے کام ایسے ہیں جن کو گذشتہ زمانے میں برا سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ آج نیکی کے کام شمار ہوتے ہیں۔ اور بہت سے کام آج برائی کے شمار ہوتے ہیں لیکن آیندہ زمانہ میں انھیں نیکی کا کام سمجھا جانے لگے گا۔ اور تم لوگ اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تم اس کام کو نیکی نہ سمجھنے لگو جسے تم برائی سمجھتے تھے اور اس کام کو برائی نہ سمجھنے لگو جسے تم نیکی سمجھتے تھے، اور جب تک تمہارا عالم تمہارے سامنے حق بات کہتا رہے اور اس کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔4
حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں: اگرچہ میں ایک نیکی پر عمل نہیں کر رہا ہوتا ہوں، لیکن میں دوسروں کو اس نیکی کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور مجھے اس پر اﷲ سے اجر ملنے کی امید ہے۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمرؓ لوگوں کو کسی کام سے روکنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے گھر والوں سے پہل فرماتے اور فرماتے: تم میں سے جس کے بارے میں مجھے پتا چلا کہ اس نے وہ کام کیا ہے جس سے میں نے روکا ہے تو میں اس کو دگنی سزا دوں گا ۔2
حضرت ابنِ شہاب ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزامؓ اپنے ساتھ چند لوگوں کی جماعت بنا کر امر بالمعروف کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کو جب کسی برائی کی خبر ملتی تو فرماتے: جب تک میں اور ہشام زندہ ہیں یہ برائی نہیں ہو سکے گی۔3
حضرت ابو جعفر خطمی ؓ کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت عمیر بن حبیب بن خماشہؓ کو بلوغت کے وقت سے حضورﷺ کی صحبت حاصل ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرمائی : اے بیٹے! بے وقوفوں کے پاس بیٹھنے سے بچو، کیوںکہ ان کے پاس بیٹھنا بیماری ہے۔ جو بے وقوف کی برداشت کرتا ہے وہ خوش رہتا ہے، اور جو اس کی غلط باتوں کا جواب دے گا اسے آخر میں ندامت اٹھانی پڑے گی۔ اور جو بے وقوف کی تھوڑی تکلیف کو برداشت نہیں کرتا اسے پھر زیادہ برداشت کرنی پڑتی ہے۔ جب تم میں سے کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیفوں پر صبر کرنے کی عادت ڈالے اور اﷲ تعالیٰ سے ثواب ملنے کا یقین رکھے، کیوںکہ جسے اﷲ سے ثواب ملنے کا یقین ہوگا اسے تکلیفوں کے پیش آنے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔4
حضرت عبدالعزیز بن ابی بکرہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہؓ نے قبیلہ بنو غُدَانہ کی ایک عورت سے شادی کی ۔ پھر اس عورت کا انتقال ہو گیا۔ وہ اس کے جنازے کو اٹھا کر قبرستان لے گئے۔ اس عورت کے بھائیوں نے کہا: ہم اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔ حضرت ابوبکرہ نے ان سے فرمایا: ایسے نہ کرو، کیوںکہ میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا تم سے زیادہ حق دار ہوں۔ ان بھائیوں نے کہا: حضورﷺ کے صحابی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ چناںچہ انھوں نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھروہ قبر میں داخل ہونے لگے تو لوگوں نے اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ زمین پر گرگئے اور بے ہوش ہو گئے۔ پھرانھیں اٹھا کر گھر لایا گیا۔ وہاں ان کے بیس بیٹوں اور بیٹیوں کی چیخیں نکل گئیں۔ میں ان بیس میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب انھیں ہوش آیا تو فرمایا: تم مجھ پر زور زور سے مت رئوو۔ اﷲ کی قسم! مجھے ابو بکرہ کی جان سے زیادہ اور کسی کی جان کا نکلنا محبوب نہیں ہے۔ یہ سن کر ہم سب گھبرا گئے اور ہم نے کہا: اے ابا جان! کیوں؟ (آپ دنیا سے کیوں جانا چاہتے ہیں؟) انھوں نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ایسا زمانہ میری زندگی میں نہ آجائے جس میں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کر سکوں اور اس زمانے میں کوئی خیر نہ ہوگی۔1
حضرت علی بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں حجاج کے ساتھ محل میں تھا، وہ ابنِ اشعث کی وجہ سے لوگوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ اتنے میں حضرت انس بن مالک ؓ تشریف لائے۔ جب وہ نزدیک آئے تو حجاج نے کہا: او خبیث! او فتنوں میں چکر لگانے والے! کہو، تم کبھی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ ہوتے ہو اور کبھی ابنِ زبیرؓ کے ساتھ اور کبھی ابنِ اشعث کے ساتھ۔ غور سے سنو! میں تمھیں ایسے جڑ سے اکھیڑ دوں گا جیسے گوند کو اکھیڑا جاتا ہے اور میں تمہاری کھال ایسے اتاروں گا جیسے گوہ کی کھال اتاری جاتی ہے۔ حضرت انس نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ امیر کی اصلاح فرمائے! وہ اس کلام سے کس کو خطاب کر رہے ہیں؟ حجاج نے کہا: میں تمھیں خطاب کر رہا ہوں۔ اﷲ تمہارے کانوں کو بہرہ کرے! اس پر حضرت انس ؓ نے إِنَّا لِلّٰہِپڑھی اور وہاں سے باہر آگئے اور فرمایا: اگر مجھے اپنے بچے یاد نہ آجاتے جن پر مجھے اس حجاج کی طرف سے خطرہ ہے تو آج میں کھڑے کھڑے اسی جگہ اسے ایسی کھری کھری سناتا کہ وہ مجھے بالکل جواب نہ دے سکتا۔2
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ اس نے ایسی بات کہہ دی جو مجھے بالکل غلط نظر آئی۔ میں نے اسے ٹوکنا چاہا لیکن پھر مجھے حضورﷺ کا فرمان یاد آگیا کہ کسی مؤمن کے لیے اپنے نفس کو ذلیل کرنا مناسب نہیں۔ میں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! مؤمن اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو ایسے امتحان کے لیے پیش کر دے کہ جس کی اس میں طاقت نہ ہو۔1