تنہائی اور گوشہ نشینی

تنہائی اور گوشہ نشینی

حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تنہا رہنے سے برے ساتھیوں سے راحت ملتی ہے۔2 حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اپنے اوقات میں خلوت اور تنہائی میں بیٹھنے کا حصہ بھی رکھا کرو۔3 حضرت معافیٰ بن عمران ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے تھے جسے اﷲ کے کسی معاملہ میں سزا ہوئی تھی، تو حضرت عمر نے فرمایا: ان چہروں کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے جو صرف شر کے موقع پر نظر آتے ہیں۔4 حضرت عدسہ طائی ؓ کہتے ہیں کہ میں سَرِف مقام پر تھا کہ حضرت عبداﷲؓ ہمارے ہاں تشریف فرما ہوئے۔ میرے گھر والوں نے مجھے کچھ چیزیں دے کر ان کی خدمت میں بھیجا۔ ہمارے جو غلام اونٹوں کی خدمت میں تھے وہ چار دن کی مسافت سے ایک پرندہ پکڑکر لائے۔ میں وہ پرندہ لے کر ان کی خدمت میں گیا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا: تم یہ پرندہ کہاں سے لائے ہو؟ میں نے کہا: ہمارے چند غلام اونٹوں کی خدمت میں تھے، وہ چار دن کی مسافت سے یہ پرندہ لائے ہیں۔ حضرت عبداﷲ نے فرمایا: میری دلی آرزو یہ ہے کہ یہ پرندہ جہاں سے شکار کر کے لایا گیا ہے میں وہاں (تنہا) رہا کروں، نہ میں کسی سے کسی معاملہ میں کوئی بات کروں اور نہ کوئی مجھ سے بات کرے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ سے جا ملوں۔1 حضرت قاسم ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبد اﷲ ؓ کی خدمت میں عرض کیا: آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیں۔ حضرت عبد اﷲ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں رہا کرو (باہر نہ جایا کرو) اور اپنی زبان کو (لا یعنی اور بے کار باتوں سے) روک کر رکھا کرو اور اپنی خطائیں یاد کر کے رویا کرو۔2 حضرت اسماعیل بن ابی خالد ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعودؓ نے اپنے بیٹے حضرت ابو عبیدہ کو تین وصیتیں کیں۔ فرمایا: میں تمھیں اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، اور تم اپنے گھر میں ہی رہا کرو، اور اپنی خطائوں پر رو یا کرو۔3 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میری دلی آرزو یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسا آدمی مل جائے جو میرے کاروبار کو سنبھال لے اور میں دروازہ بند کر کے گھر میں رہا کروں، نہ کوئی میرے پاس آئے نہ میں کسی کے پاس جائوں، یہاں تک کہ میں (اسی حال میں) اﷲ سے جا ملوں۔4 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگر وسواس (شیطان) کا ڈر نہ ہوتا تو میں ایسے علاقہ میں چلا جاتا جہاں کوئی جان پہچان والا، دل لگانے والا نہ ہوتا (اور تنہائی اختیار کر لیتا)، کیوںکہ انسان کو برے انسان ہی بگاڑتے ہیں۔5 حضرت مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یحییٰ بن سعید ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابو الجہم بن حارث بن صِمّہؓ انصار کے ساتھ نہیں بیٹھا کرتے تھے۔ جب ان سے اکیلے رہنے کے بارے میں کوئی تذکرہ کرتا (کہ آپ الگ تھلگ کیوں رہتے ہیں؟) تو فرماتے کہ لوگوںکا شر اکیلے رہنے سے زیادہ ہے۔1 حضرت ابو درداء ؓ نے فرمایا: مسلمان کے لیے بہترین عبادت گاہ اس کا گھر ہے جس میں رہ کر وہ اپنے نفس، نگاہ اور شرم گاہ کو (برے کاموں سے) روکے رکھتا ہے۔ اور بازار میں بیٹھنے سے بچو، کیوںکہ اس سے انسان غفلت میں پڑ جاتا ہے اور لغو کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے۔2 حضرت عبداﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں حضرت معاذ بن جبل ؓ کے پاس سے گزرا تو وہ اپنے دروازے پر کھڑے ہوئے ہاتھ سے ایسے اشارے کر رہے تھے گویا کہ اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن! کیا بات ہے؟ آپ اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں۔ حضرت معاذ نے فرمایا: معلوم نہیں کیا بات ہے؟ اﷲ کا دشمن یعنی شیطان مجھے ان کاموں سے ہٹانا چاہتا ہے جو میں نے حضورﷺ سے سنے ہیں۔ شیطان یوں کہتا ہے کہ آپ زندگی بھر یوں ہی گھر میں بیٹھ کر مشقت اٹھاتے رہو گے، آپ باہر جا کر لوگوں کی مجلس میں کیوں نہیں بیٹھتے؟ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اﷲ کے راستہ میں نکلتا ہے وہ اﷲ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے، اور جو کسی بیمار کی عیادت کرنے جاتا ہے وہ بھی اﷲ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے، اور جو صبح یا شام کو مسجد جاتا ہے وہ بھی اﷲ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے، اور جو مدد کرنے کے لیے امام کے پاس جاتا ہے وہ بھی اﷲ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے، اور جو گھر بیٹھ جاتا ہے اور کسی کی برائی اور غیبت نہیں کرتا وہ بھی اﷲ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے۔ اﷲ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ میں گھر سے باہر نکلوں اور لوگوں کی مجلس میں بیٹھا کروں۔3