جو مِل جائے اسی پر راضی رہنا
جو مِل جائے اسی پر راضی رہنا
حضرت عبداﷲ بن عبید ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت اَحنف ؓ کو ایک قمیض پہنے ہوئے دیکھا۔ حضرت عمر نے پوچھا: اے احنف! تم نے یہ قمیض کتنے میں خریدی؟ حضرت احنف نے کہا: بارہ درہم میں۔ حضرت عمر نے کہا: تمہارا بھلا ہو! کیا ہی اچھا ہوتا کہ تم چھ درہم کی قمیض خریدتے اور باقی چھ درہم کسی خیر کے کام میں خرچ کر دیتے جنھیں کہ تم جانتے ہو۔1
حضرت حسن بصری ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓکو یہ خط لکھا کہ دنیا میں جتنی روزی مل رہی ہے تم اس پر راضی رہو اور اسی پر قناعت کر لیا کرو، کیوںکہ رحمن نے اپنے بندوں کو کم زیادہ روزی دی ہے۔ اور یوں اﷲ تعالیٰ ہر ایک کو آزمانا چاہتے ہیں۔ جسے روزی زیادہ دی ہے اﷲتعالیٰ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے شکر ادا کرتا ہے؟ اور اﷲ تعالیٰ کا اصل شکر یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے جو دیا ہے اسے وہاں خرچ کرے جہاں اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں۔2
حضرت ابو جعفر ؓکہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ گھٹیا اور خشک کھجوریں کھائیں اور پھر پانی پیا۔ پھراپنے پیٹ پر ہاتھ مارکر فرمایا: جسے اس کا پیٹ جہنم میں داخل کرے اﷲ اسے اپنی رحمت سے دور رکھے۔ پھر یہ شعر پڑھا:
فَإِنَّکَ مَھْمَا تُعْطِ بَطْنَکَ سُؤْلَہٗ
وَفَرْجَکَ نَالَا مُنْتَہَی الذَّمِّ أَجْمَعَا
تم اپنے پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش جتنی بھی پوری کرو گے اتنی ان دونوں کو انتہائی درجے کی مذمت حاصل ہوگی۔1
حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے فرمایا: اے ابنِ آدم! تو آج کے دن کی فکر کر اور کل آیندہ کی فکر نہ کر۔ جلدی کرنے کی ضرورت نہیں، کیوںکہ اگر کل تجھے موت نہیں آنی ہے تو کل کی روزی تیرے پاس خود ہی آجائے گی۔ اور یہ اچھی طرح سمجھ لے کہ تو اپنی ضرورت سے زیادہ جتنا مال کما رہا ہے وہ تودوسروں کے لیے جمع کر رہا ہے۔2
حضرت سعد ؓ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹے! جب تم غنا حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ تمھیں قناعت سے ملے گی، کیوںکہ جس میں قناعت نہیں ہوتی اسے کتنا بھی مال مل جائے اسے غنا حاصل نہیں ہو سکتی۔3