حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا
حضرت صفوان بن اُمیّہ ؓ کے اسلام لانے کا قصہ
حضرت عبداللہ بن زُبیرؓ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن صفوان بن اُمیّہ کی بیوی حضرت بغوم بنت مُعَدَّل مسلمان ہوگئیں۔ان کا تعلق قبیلہ کنانہ سے تھا، لیکن خود صفوان بن اُمیَّہ مکہ سے بھاگ کر ایک گھاٹی میں چھپ گئے تھے۔ ان کے ساتھ صرف ان کا غلام یسار ہی تھا۔ اس کو انھوں نے کہا: تیرا ناس ہو! دیکھو کون آرہا ہے؟ اس نے کہا: یہ عمیر بن وہب آرہے ہیں۔ صفوان نے کہا: میں عمیر کے ساتھ کیا کروں؟ اللہ کی قسم! یہ تو مجھے قتل کرنے کے اِرادے سے ہی آرہے ہیں۔انھوں نے تو میرے خلاف محمد ( ؑ) کی مدد کی ہے۔ اتنے میں حضرت عمیرؓ وہاں پہنچ گئے تو اُن سے صفوان نے کہا: اتنا کچھ میرے ساتھ کر گزرنے کے بعد بھی تمہیں چین نہ آیا، اپنے قرض اور اپنے اَہل وعیال کی ذمہ داری تم نے مجھ پر ڈالی تھی (وہ سب میں نے برداشت کی) اور اب تم مجھے قتل کرنے آگئے ہو۔ حضرت عمیر نے کہا: اے ابو وہب! (یہ صفوان کی کنیت ہے) میں تم پر قربان ہوں! میں تمہارے پاس ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ جوڑ لینے والے ہیں۔
حضرت عمیر نے آنے سے پہلے حضورﷺ سے کہا تھا: یا رسول اللہ! میری قوم کا سردار (صفوان ) سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے بھاگ گیا ہے اور اسے ڈر تھا کہ آپ اسے اَمن نہیں دیں گے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ اسے اَمن دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے اسے اَمن دے دیا۔ چناں چہ یہ اُن کی تلاش میں چل پڑے اور صفوان سے کہا: رسول اللہ ﷺ تمہیں اَمن دے چکے ہیں۔صفوان نے کہا: نہیں، میں اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ (مکہ) واپس نہیں جاؤں گا جب تک تم ایسی نشانی نہیں لے آتے جس کو میں پہچانتا ہوں۔ (چناں چہ حضرت عمیر ؓ نے واپس جاکر حضور ﷺ سے کسی نشانی کے دینے کی درخواست کی) حضورﷺ نے فرمایا: لو میری پگڑی لے جاؤ۔ وہ پگڑی لے کر حضرت عمیر صفوان کے پاس واپس آئے۔ یہ پگڑی وہ دھاری دار چادر تھی جسے باندھے ہوئے حضور ﷺ (مکہ میں) داخل ہوئے تھے۔
چناںچہ حضرت عمیر صفوان کی تلاش میں دوبارہ نکلے اور اُن سے کہا: اے ابو وہب! تمہارے پاس میں ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہترین اور سب سے زیادہ جوڑ لینے والے اور سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ بُردبار ہیں۔ اُن کی شرافت تمہاری شرافت ہے، اُن کی عزت تمہاری عزت ہے، اور اُن کا ملک تمہارا ملک ہے۔ تمہارے ہی خاندان کے آدمی ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ صفوان نے اُن سے کہا: مجھے اپنے قتل ہونے کا خوف ہے۔ حضرت عمیر نے کہا: حضور ﷺ تو تمہیں اِسلام میں داخل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیںبہ خوشی یہ منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ تمہیں انھوں نے دو ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ اور جو پگڑی باندھ کر حضور ﷺ (مکہ میں) داخل ہوئے تھے تم اسے پہچانتے ہو؟ صفوان نے کہا: ہاں۔ چناں چہ حضر ت عمیر نے وہ پگڑی نکال کر دکھائی تو صفوان نے کہا: ہاں!یہ وہی ہے۔ چناںچہ صفوان وہاں سے چل کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ حضور ﷺ اُس وقت مسجدِ حرام میں عصر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ یہ دونوں وہاں پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔
صفوان نے پوچھا: مسلمان دن رات میں کتنی نمازیں پڑھتے ہیں؟ حضرت عمیر نے کہا: پانچ نمازیں۔ صفوان نے کہا: کیا محمد ( ؑ ) ان کو نماز پڑھارہے ہیں؟ حضرت عمیر نے کہا:ہاں۔ جوںہی حضورﷺ نے نماز سے سلام پھیرا، صفوان نے بلند آواز سے کہا: اے محمد! عمیر بن وہب میرے پاس آپ کی پگڑی لے کر آئے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے پاس بلایا ہے کہ میں (اِسلام میں داخلہ پر) راضی ہوجاؤں تو ٹھیک ہے ورنہ آپ نے مجھے دو ماہ کی مہلت دے دی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو وہب! (سواری سے نیچے ) اُتر آؤ ۔انھوں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک آپ مجھے صاف صاف بیان نہ فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: دو ماہ چھوڑ تمہیںچار ماہ کی مہلت ہے۔ چناں چہ صفوان سواری سے اتر آئے۔
پھر حضور ﷺ (صحابہ ؓ کے لشکر کو لے کر) ہوازِن کی طرف تشریف لے گئے۔ (ا س سفر میں) حضورﷺ کے ساتھ صفوان بھی گئے، وہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضورﷺ نے ان سے ان کے ہتھیار بطور عاریت لینے کے لیے آدمی بھیجا ۔ انھوں نے حضورﷺ کو سو زِرہیں مع سارے سامان کے بطور عاریت دیں۔ انھوں نے کہا: مجھ سے یہ زِرہیں میری خوشی سے لینا چاہتے ہیں یا زبردستی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہم بطور ِعاریت لینا چاہتے ہیں جو واپس کردیں گے۔ چناںچہ انھوں نے وہ زِرہیں عاریتاً دے دیں۔ حضورﷺ کے فرمانے پر وہ یہ زِرہیں اپنی سواری پر لاد کر حنین لے گئے۔ وہ غزوۂ حنین و طائف میں شریک رہے پھر وہاں سے حضورﷺ جَعِرَّانہ واپس آئے۔ حضورﷺ چل پھر کر مالِ غنیمت کو دیکھ رہے تھے، صفوان بن اُمیَّہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ صفوان بن اُمیَّہ نے بھی دیکھنا شروع کیا کہ جَعِرَّانہ کی تمام گھاٹی جانوروں، بکریوں اور چرواہوں سے بھری ہوئی ہے اور بڑی دیر تک غور سے دیکھتے رہے۔ حضورﷺ بھی اُن کو کنکھیوں سے دیکھتے رہے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو وہب! کیا یہ (مالِ غنیمت سے بھری ہوئی) گھاٹی تمہیں پسند ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہ ساری گھاٹی تمہاری ہے اور اس میں جتنا مالِ غنیمت ہے وہ بھی تمہارا ہے۔ یہ سن کر صفوان نے کہا: اتنی بڑی سخاوت کی ہمت صرف نبی ہی کرسکتاہے اور کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ کر وہیں مسلمان ہوگئے۔1
حضرت صفوان بن اُمیَّہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ان سے زِرہیں غزوۂ حنین کے دن بطورِ عاریت کے طلب فرمائیں۔ انھوں نے کہا: اے محمد! کیا آپ چھین کر لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:نہیں، میں تو بطورِ عاریت کے اپنی ذمہ داری پر لینا چاہتا ہوں(اگر ضائع ہوں گی تو ان کا تاوان دوں گا)۔ چناں چہ کچھ زِرہیں ضائع ہوگئیں۔ حضورﷺ نے اُن کو تاوان دینا چاہا توحضرت صفوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آج تو میرے دل میں اِسلام کا شوق ہے (مال لینے کا نہیں ہے)۔ 1