نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

حضرت علی بن ابی طالبؓ کا اپنی بیٹی حضرت اُمّ کلثوم ؓ سے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی شادی کرنا

حضرت ابو جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت علیؓکو ان کی بیٹی سے شادی کا پیغام دیا۔ حضرت علی نے کہا: وہ تو چھوٹی ہے۔ کسی نے حضرت عمر سے کہا: (وہ چھوٹی نہیں ہے) بلکہ حضرت علی یہ کہہ کر انکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے ان سے دوبارہ بات کی (تو حضرت علیؓ راضی ہوگئے اور انھوں نے حضرت عمرؓ سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا) اور انھوں نے کہا: میں اسے آپ کے پاس بھیجتا ہوں، اگر آپ کو پسند آگئی تو وہ آپ کی بیوی ہے ہی۔ چناںچہ حضرت علی نے حضرت اُمّ کلثوم کو حضرت عمر کے پاس بھیجا تو حضرت عمر نے ان کی پنڈلی سے کپڑا ہٹانا چاہا، تو انھوں نے کہا: کپڑا نیچے ہی رہنے دیں اگر آپ امیر المؤمنین نہ ہوتے تو میں آپ کی آنکھ پر تھپڑ مارتی۔ (واپس جا کر حضرت اُمّ کلثوم نے حضرت علی کو ساری بات بتائی تو حضرت علی نے فرمایا: وہ ایسا کر سکتے ہیں، کیوںکہ وہ تمہارے خاوند ہیں)۔1 حضرت محمد (بن علی) ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓکو (ان کی بیٹی) حضرت اُمّ کلثومؓ سے شادی کا پیغام دیا، تو حضرت علی نے کہا: میں نے تو یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اپنی تمام بیٹیوں کی شادی صرف (اپنے بھائی) حضرت جعفر (بن ابی طالب) ؓ کے بیٹوں سے کروں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، آپ اس کی مجھ سے شادی کر دیں۔ اﷲ کی قسم! روئے زمین پر کوئی مرد ایسا نہیں ہے جو اس کے اکرام کا اتنا اہتمام کر سکے جتنا میں کروں گا۔ حضرت علی نے کہا: اچھا! میں نے (اس بیٹی کا نکاح آپ سے) کر دیا۔ حضرت عمر نے آکر مہاجرین سے کہا: مجھے شادی کی مبارک باد دو! انھوں نے انھیں مبارک باد دی اور پوچھا: آپ نے کس سے شادی کی ہے؟ حضرت عمر نے کہا: حضرت علی کی بیٹی سے، کیوںکہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے رشتہ اور تعلق کے علاوہ ہر رشتہ اور تعلق قیامت کے دن ختم ہو جائے گا۔ میں نے اپنی بیٹی کی شادی تو حضورﷺ سے کی تھی اب میں نے چاہا کہ حضورﷺ کی نواسی سے میری شادی ہو جائے تو مزید رشتہ کا تعلق حاصل ہو جائے۔ حضرت عطاء خراسانی ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت اُمّ کلثومؓ کو مہر میں چالیس ہزار دیے۔2