نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
حضرت ابو الدرداءؓ کا اپنی بیٹی درداءؓ کی ایک غریب سادہ مسلمان سے شادی کرنا
حضرت ثابت بنانی ؓ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ نے حضرت ابو الدرداءؓکو اُن کی بیٹی حضرت در داء سے شادی کا پیغام دیا، تو حضرت ابو الدرداء نے ان کو انکار کر دیا۔ یزید کے ہم نشینوں میں سے ایک آدمی نے یزید سے کہا: اﷲ آپ کی اصلاح فرمائے! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں حضرت درداء سے شادی کرلوں؟ یزید نے کہا: تیرا ناس ہو! دفع ہوجا۔ اس آدمی نے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے! آپ مجھے اجازت دے دیں۔ یزید نے کہا: اچھا۔ چناںچہ اس آدمی نے حضرت درداء سے شادی کا پیغام دیا تو حضرت ابو الدرداء نے اس آدمی سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ اس پر لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ یزید نے حضرت ابو الدرداء کو بیٹی سے شادی کا پیغام دیا تو اسے توانکار کر دیا اور ایک عام غریب مسلمان نے اسی بیٹی سے شادی کا پیغام دیا تو اس سے شادی کر دی۔ اس پر حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا: میں نے ایسا اپنی بیٹی کے فائدے کی وجہ سے کیا۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ (اگر میں درداء کی شادی یزید سے کر دیتا تو) ہر وقت اس کے سر پر خواجہ سرایعنی خصّی غلام (خدمت کے لیے) کھڑے رہتے، اور گھروں پر نگاہ ڈالتی تو (سونے چاندی کی کثرت کی وجہ سے) اس کی آنکھیں چکا چوند ہو جاتیں، لیکن پھر اس کا دین کیسے باقی رہتا (بس ہر وقت دنیا میں لگی رہتی)۔2