نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت

عورتوں، مردوں اور بچوں کی معاشرت اور آپس میں رہن سہن

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آٹا، دودھ یا گھی ملا کر حضورﷺ کے لیے حریرہ پکایا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ حضورﷺ میرے اور حضرت سودہؓ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے حضرت سودہ سے کہا: آپ بھی کھالیں۔ انھوں نے انکار کیا تو میں نے کہا: یا توآپ کھائیں ورنہ میں آپ کے منہ پر مل دوں گی۔ انھوں نے پھر بھی انکار کیا تو میں نے حریرہ میں ہاتھ ڈال کر ان کے چہرے پر لیپ دیا، اس پر حضورﷺ ہنس پڑے۔ پھر حضور ﷺ نے ان کا ہاتھ حریرہ میں ڈال کر کہا: تم عائشہ کے چہرے پر مل دو۔ چناںچہ انھوں نے میرے چہرے پر مل دیا تو حضورﷺ اس پر بھی ہنسے۔ اتنے میں حضرت عمرؓ وہاں سے گزرے وہ کسی کو پکارتے ہوئے اے عبد اﷲ! اے عبد اﷲ! کہہ رہے تھے۔ حضورﷺ سمجھے کہ حضرت عمر اندر آئیں گے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: (عمر اندر آرہے ہیں) تم دونوں اُٹھو اور اپنے منہ دھو لو۔ چوںکہ حضورﷺ نے حضرت عمرؓ کا اتنا خیال فرمایا اس وجہ سے میں ہمیشہ ان سے ڈرتی تھی۔1 اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے حضرت سودہ ؓ کی خاطر اپنا گھٹنا نیچے کردیا تاکہ وہ مجھ سے بدلہ لے سکیں۔ چناںچہ انھوں نے پیالے میں سے کچھ حریرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا اور حضورﷺ ہنس رہے تھے۔ حضورﷺ کی آزادکر دہ باندی حضرت رزینہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ یمانیہؓ حضرت عائشہؓکو ملنے آئیں۔ حضرت عائشہ کے پاس حضرت حفصہ بنتِ عمرؓ بھی تھیں۔ حضرت سودہ خوب بنائو سنگھار کر کے بڑی اچھی شکل وصورت میں آئی تھیں، انھوں نے یمنی چادر اور یمنی اوڑھنی اوڑھی ہوئی تھی۔ انھوں نے گوشہ چشم کے قریب ایلوے اور زعفران کے دو بڑے بڑے نشان لگا رکھے تھے جو گردن کے پھوڑے کے برابر تھے۔ حضرت عُلَیلہ راویہ کہتی ہیں کہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اِیلوا، زعفران وغیرہ زینت کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے کہا: اے اُمّ المؤمنین! حضورﷺ تشریف لائیں گے اور یہ ہمارے درمیان چمک رہی ہوں گی۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ نے کہا: اے حفصہ! اﷲ سے ڈرو۔ حضرت حفصہ نے کہا: نہیں، میں تو ان کا بنائو سنگھار سارا ضرور خراب کروں گی۔ حضرت سودہ اونچا سنتی تھیں۔ انھوں نے پوچھا: تم دونوں کیا باتیں کر رہی ہو؟ حضرت حفصہؓ نے ان سے کہا: اے سودہ! کانا (دجال) نکل آیا ہے۔ انھوں نے کہا: اچھا! یہ سن کر بہت زیادہ گھبرا گئیں اور کانپنے لگیں۔ پھرانھوں نے کہا: میں کہاں چھپوں؟ حضرت حفصہ نے کہا: اس خیمہ میں چھپ جائو۔ وہاں کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک خیمہ تھا جس میں لوگ چھپتے تھے۔ یہ جا کر اس میں چھپ گئیں، اس میں گرد وغبار اور مکڑی کے جالے بہت تھے۔ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لے آئے تو دیکھا کہ یہ دونوں ہنس رہی ہیں اور ہنسی کے مارے دونوں سے بولا نہیں جا رہا ہے۔ حضورﷺ نے تین مرتبہ پوچھا: اتنا کیوں ہنس رہی ہو؟ تو دونوں نے ہاتھ سے اس خیمہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت سودہ کانپ رہی ہیں۔ حضورﷺ نے ان سے پوچھا: اے سودہ! تمھیں کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! کانا نکل آیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ ابھی نہیںنکلا، لیکن نکلے گا ضرور۔ وہ ابھی نہیں نکلا، لیکن نکلے گا ضرور۔ پھر حضورﷺ نے انھیں باہر نکالا اور ان کے کپڑوں اور جسم سے گرد وغبار اور مکڑی کے جالے صاف کیے۔1 طبرانی کی روایت میں مضمون اس طرح ہے کہ حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائیں گے ہم میلی کچیلینظر آئیں گی اور یہ ہمارے درمیان چمک رہی ہوں گی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں انھوں نے لوگوں اور بچوں کے شور کی آواز سنی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور لوگ اس کے اِردگرد جمع ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! ادھر آئو اور ذرا دیکھو۔ میں حضور ﷺ کے کندھوں پر اپنا رخسار رکھ کر کندھے اور سر کے درمیان سے دیکھنے لگی۔ آپ پوچھتے: اے عائشہ! ابھی تمہارا دل نہیں بھرا؟ میں کہہ دیتی: نہیں۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ حضورﷺ کے ہاں میرا درجہ کتنا ہے؟ میں اتنی دیر یوں کھڑی دیکھتی رہی کہ حضورﷺ تھک گئے۔ اور کبھی ایک پائو ں پر آرام کرتے اور کبھی دوسرے پر۔ اتنے میں حضرت عمر ؓ آگئے تو سارے لوگ اور بچے اِدھر اُدھر چلے گئے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ عمر کے آنے پر انسانوں اور جنات کے شیطان سب بھاگ گئے۔1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوتے اور مسجد (کے صحن) میں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے ہوتے اور آپ میرے لیے اپنی چادر سے پردہ کرتے تاکہ میں حضورﷺ کے کان اور کندھے کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھ سکوں۔ پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہتے یہاں تک کہ میں دیکھنا بس کرتی۔ آپ لوگ خود ہی اندازہ لگالیں کہ ایک نوعمر کھیل کود کی شوقین لڑکی کے دیکھنے کی مقدار کیا ہوگی۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ حضرت زینب بنتِ جحشؓ کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں شہد پیا کرتے۔ (اس پر مجھے رشک آیا) میں نے اور حضرت حفصہؓ نے آپس میں طے کیا کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس حضورﷺ تشریف لائیں وہ حضورﷺ سے یہ کہے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ (مغافیرایک بودار گوند ہے، یعنی آپ نے جو شہد پیا ہے اس کی مکھی نے مغافیر کے درخت سے رس چوس لیا ہوگا۔ اور بو دار چیز حضورﷺ فرشتوں کی وجہ سے استعمال نہیں فرماتے تھے) چناںچہ ہم دونوں میں سے ایک کے پاس حضورﷺ تشریف لائے اور اس نے یہ بات حضورﷺ سے کہہ دی۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، میں نے مغافیر نہیں کھائی۔ البتہ میں نے زینب بنتِ جحش کے ہاں شہد پیا ہے وہ بھی آیندہ کبھی نہیں پیوں گا۔ پھر یہ آیات نازل ہوئیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} سے لے کر {اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا}تک۔ ان الفاظ سے حضرت عائشہ، حضرت حفصہ کو خطّاب ہے۔ ان میں یہ آیت بھی ہے: {وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا} اس آیت سے مراد یہی ہے جو حضو ر ﷺ نے فرمایا کہ میں نے مغافیر نہیں کھائی البتہ شہد پیا ہے۔ ابراہیم بن موسیٰ ہشام سے نقل کرتے ہیں: اس آیت سے مراد حضورﷺ کا یہ فرمان ہے کہ میں آیندہ ہرگز شہد نہیں پیوں گا، میں نے قسم کھالی ہے۔ (اے حفصہ!) تم یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ آیات کا ترجمہ : اے نبی! جس چیز کو اﷲنے آپ کے لیے حلال کیا ہے آپ (قسم کھا کر) اس کو (اپنے اوپر) کیوں حرام فرماتے ہیں؟ پھر وہ بھی اپنی بیبیوں کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے۔ اور اﷲتعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے۔ اﷲتعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا (یعنی قسم توڑنے کے بعد اس کے کفارہ کا طریقہ) مقرر فرما دیا ہے، اور اﷲ تعالیٰ تمہارا کار سازہے، اور وہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ اور جب کہ پیغمبر(ﷺ) نے اپنی کسی بیوی سے ایک بات چپکے سے فرمائی، پھر جب اس بی بی نے وہ بات (دوسری بی بی کو) بتلادی اور پیغمبر کو اﷲ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر کر دی تو پیغمبر نے (اس ظاہر کر دینے والی بی بی کو) تھوڑی سی بات تو جتلا دی اور تھوڑی سی بات کو ٹال گئے۔ سو جب پیغمبر نے اس بی بی کو وہ بات جتلائی وہ کہنے لگی: آپ کو اس کی کس نے خبر کردی؟ آپ نے فرمایا: مجھ کو بڑے جاننے والے، خبر رکھنے والے (یعنی خدا) نے خبر کر دی۔ اے (پیغمبر کی) دونوں بیبیو! اگر تم اﷲ کے سامنے توبہ کر لو تو تمہارے دل مائل ہو رہے ہیں۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کو حلوا اور شہد پسند تھا۔ جب عصر پڑھ کر آتے تو اپنی بیویوں کے ہاں جاتے اور پہلے کسی ایک کے پاس چلے جاتے۔ چناںچہ ایک دن آپ حضرت حفصہ بنتِ عمرؓ کے ہاں گئے اور روزانہ جتنا ان کے ہاں ٹھہرتے تھے اس سے زیادہ ٹھہر ے، اس پر مجھے غیرت آئی۔ میں نے اس کی وجہ معلوم کی تو کسی نے مجھے بتایا کہ حضرت حفصہ کی قوم کی ایک عورت نے انھیں شہد کی ایک کپّی ہدیہ میں دی تھی توحضرت حفصہ نے اس میں سے کچھ شہد حضورﷺ کو پلایا ہے (اس وجہ سے حضورﷺ کو وہاں دیر لگ گئی)۔ میں نے کہا: غور سے سنو! اﷲ کی قسم! ہم حضورﷺ کے لیے ضرور کوئی تدبیر کریں گی (تاکہ حضور ﷺ آیندہ حضرت حفصہؓ کے ہاں زیادہ دیر نہ لگایا کریں)۔ میں نے حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ سے کہا کہ حضورﷺ آپ کے ہاں آئیں گے۔ حضورﷺ جب تشریف لائیں تو آپ ان سے کہیں کہ آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ وہ فرمائیں گے: نہیں۔ تو آپ ان سے کہیں: تو یہ بو کیسی ہے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے؟ حضورﷺ نے فرمائیںگے: مجھے حفصہ نے شہد پلایا ہے، تو آپ کہہ دینا کہ اس شہد کی مکھی نے عُرفُط درخت سے رس چوسا ہوگا (جس کی وجہ سے مغافیر والی بو شہد میں آگئی ہوگی)۔ میں بھی حضورﷺ کو یہی بات کہوں گی۔ اے صفیہ! تم بھی حضورﷺ کو یہی بات کہنا۔ حضرت سودہ کہتی ہیں: اﷲ کی قسم! (اے عائشہ!) تمہاری بات ختم ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں حضور ﷺ میرے دروازے پر تشریف لے آئے تو تمہارے ڈر کی وجہ سے میں حضورﷺ کو تمہاری بات اونچی آواز سے وہیں دروازے پر ہی کہہ دینے لگی تھی لیکن میں نے خود کو روکا۔ جب حضورﷺ میرے پاس پہنچ گئے تو میں نے کہا: یا رسول اﷲ! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تو پھر یہ بو کیسی ہے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔ میں نے کہا: شاید اس شہد کی مکھی نے عُرفُط درخت کا رس چوسا ہوگا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی یہی کہا، جب حضورﷺ حضرت صفیہ ؓ کے ہاں گئے تو انھوں نے بھی یہی کہا۔ پھر حضورﷺ جب حضرت حفصہ کے ہاں گئے تو انھوں نے حضورﷺ سے کہا: یا رسول اﷲ! کیا میں آپ کو اس شہد میں سے پلائوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت سودہ نے کہا: اﷲ کی قسم! ہم نے حضورﷺ کو شہد پینے سے روکا ہے۔ میں نے ان سے کہا: آپ خاموش رہیں۔1 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: میرے دل میں بڑی آرزو تھی کہ میں حضرت عمر ؓ سے حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے {اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا} فرمایا ہے، لیکن بہت عرصہ تک مجھے پوچھنے کا موقع نہ ملا۔ آخر ایک مرتبہ حضرت عمر حج پر تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ حج پر گیا۔ ہم لوگ سفر کر رہے تھے کہ حضرت عمر ضرورت سے راستے سے ایک طرف کو چلے گئے، میں بھی پانی کا برتن لے کر ان کے ساتھ ہو لیا۔ آپ ضرورت سے فارغ ہو کر میرے پاس واپس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے {اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا} فرمایا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: اے ابنِ عباس ! تم پر تعجب ہے ( کہ علم میں اتنے مشہور ہو اور پھر تمھیں معلوم نہیں کہ یہ عورتیںکون ہیں؟) حضرت زُہری کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کو اس سوال پر تعجب تو ہوا، لیکن پھر انھوں نے سارا قصہ سنایا کچھ نہیں چھپایا۔ اور فرمایا: وہ دونوں حفصہ اور عائشہ ہیں۔ پھر تفصیل سے سارا قصہ سنانے لگے اور فرمایا: ہم قریش قبیلہ والے عورتوں پر غالب تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو دیکھا کہ یہاں کے مردوں پر عورتیں غالب ہیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے سیکھنے لگیں۔ میرا گھر عوالی میں قبیلہ بنو اُمیہ بن زید میں تھا۔ میں ایک دن اپنی بیوی پر ذرا ناراض ہوا تو وہ آگے سے جواب دینے لگی، میں اس کے یوں جواب دینے سے بڑا حیران ہوا میرے لیے بالکل نئی بات تھی۔ وہ کہنے لگی: آپ میرے جواب دینے سے کیوں حیران ہو رہے ہیں؟ وہ تو اﷲ کی قسم! حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں، بلکہ بعض تو ناراض ہو کر حضورﷺ کو سارا دن رات تک چھوڑے رکھتی ہیں۔ میں یہ سن کر گھر سے چلا اور حفصہ کے پاس گیا اور میں نے کہا: کیا تم رسول اﷲ ﷺکو جواب دے دیتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: تم میں کچھ عورتیں حضورﷺ کو سارا دن رات تک چھوڑے رکھتی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔میں نے کہا: تم میں سے جو بھی ایسا کرے گی وہ تو اپنا بڑا نقصان کرے گی۔ اور اگر اﷲ کے رسولﷺ کے ناراض ہونے کی وجہ سے اﷲ ناراض ہو گئے تو پھر تو وہ ہلاک وبرباد ہو جائے گی، اس لیے آیندہ کبھی حضورﷺ کو آگے سے جواب نہ دینا اور ان سے کچھ نہ مانگنا اور مجھ سے جو چاہے مانگ لینا۔ اور تم اپنی پڑوسن یعنی حضرت عائشہؓ سے دھوکہ نہ کھائو (کہ وہ حضورﷺ کو آگے سے جواب دیتی ہے اور حضورﷺ سے ناراض ہو جاتی ہے۔ وہ ایسا کر سکتی ہے) کیوںکہ وہ تم سے زیادہ خوب صورت ہے اور حضورﷺ کو اس سے تم سے زیادہ محبت ہے (تم ایسا نہ کرو)۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم دونوں باری باری حضورﷺ کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا اور سارے دن میں جو وحی نازل ہوتی یا اور کوئی بات پیش آتی وہ شام کو آکر مجھے بتا دیتا، اور ایک دن میں جاتا اور شام کو واپس آکر سب کچھ اسے بتا دیتا۔ ان دنوں ہمارے ہاں اس کا بہت چرچا تھا کہ قبیلہ غسان ہم پر چڑھائی کر نے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔چناںچہ ایک دن میرا یہ پڑوسی حضورﷺ کی خدمت میں گیا اور عشاء میں میرے پاس واپس آیا۔ اس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی۔ میں باہر آیا اس نے کہا: ایک بہت بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا: کیا ہوا؟ کیا غسان نے چڑھائی کر دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا اور زیادہ پریشان کن حادثہ پیش آیا ہے۔ حضورﷺ نے اپنی ازواجِ مطہّرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ تو نامراد ہوگئی اور گھاٹے میں پڑگئی، اور مجھے تو پہلے ہی خطرہ تھا کہ ایسا ہو جائے گا ۔ صبح کی نماز پڑھ کر میں نے کپڑے پہنے اور مدینہ گیا، وہاں سیدھا حفصہ کے ہاں گیا۔ وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا حضورﷺ نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے، البتہ حضورﷺ ہم سے الگ ہو کر اس بالاخانہ میں تشریف فرما ہیں۔ پھر میں آپ کے سیاہ غلام کے پاس آیا اور اس سے کہا: عمر کو اندر آنے کی اجازت لے دو۔ وہ غلام اندر گیا اور باہر آیا، پھر اس نے کہا: میں نے حضورﷺ سے آپ کا ذکر کیا لیکن حضورﷺ خاموش رہے۔ پھر میں (مسجد) چلا گیا۔ جب میں منبر کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ رو رہے ہیں۔میں کچھ دیر بیٹھا رہا، پھر جب میری بے چینی بڑھی تو میں نے جا کر پھر اس غلام سے کہا: عمر کو اجازت لے دو۔ و ہ غلام اندرگیا، پھر اس نے باہر آکر کہا کہ میں نے حضورﷺ سے آ پ کا ذکر کیا لیکن حضورﷺ خاموش رہے۔ میں پھر منبر کے پاس جا کر بیٹھ گیا، لیکن بیٹھا نہ گیا۔ میں نے جا کر پھر غلام سے کہا: عمر کواجازت لے دو۔ وہ اندر گیا، پھر اس نے باہر آکر کہا: میں نے حضورﷺ سے آپ کا ذکر کیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں لوٹنے لگا تو غلام نے مجھے بلایا اور کہا: آپ اندر چلے جائیں حضور ﷺ نے اجازت دے دی ہے۔ میں نے اندر جاکر حضورﷺ کو سلام کیا۔ آپ ایک خالی بوریے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور بوریے کے نشانات آپ کے جسمِ اطہر پر اُبھرے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیاـ: یا رسول اﷲ! آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضور ﷺ نے میری طرف سر اُٹھا کر فرمایا: نہیں۔ میں نے (خوشی کی وجہ سے) کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ یا رسول اﷲ! آپ نے ہمیں دیکھا ہوگا کہ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے، جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے سیکھنے لگیں۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ آگے سے مجھے جواب دینے لگی۔ میں اس کے جواب دینے پر بڑا حیران ہوا۔ اس نے کہا: آپ میرے جواب دینے پر کیا حیران ہو رہے ہیں؟ حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات حضورﷺکو جواب دیتی ہیں، بلکہ سارا دن رات تک حضورﷺ کو چھوڑے رکھتی ہیں۔ میں نے کہا: ان میں سے جو بھی ایسا کرے گی وہ نامراد ہوگی اور گھاٹے میں رہے گی۔ اگر اﷲ کے رسول کے ناراض ہونے کی وجہ سے اﷲ ناراض ہو گئے تو وہ تو ہلاک وبرباد ہو جائے گی۔ اس پر حضورﷺ مسکرانے لگے۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! پھر میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے اسے کہا: تم اپنی پڑوسن (حضرت عائشہؓ) سے دھوکہ نہ کھانا وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور حضورﷺ کو اس سے تم سے زیادہ محبت ہے۔ حضور ﷺ دوبارہ مسکرائے۔میں نے کہا: یا رسول اﷲ! جی لگانے کی اور بات کروں؟ آپ نے فرمایا: کرو۔ پھر میں بیٹھ گیا اور سر اُٹھا کر حضورﷺ کے گھر پر نظر ڈالی تو اﷲ کی قسم! مجھے صرف تین کھالیں بغیر رنگی ہوئی نظر آئیں۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! آپ دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کی اُمت پر وسعت فرما دے۔ اﷲ تعالیٰ نے روم اور فارس پر وسعت کر رکھی ہے حالاںکہ وہ اﷲ کی عبادت نہیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! کیا تم ابھی تک شک میں ہو؟ ان لوگوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! میرے لیے استغفار فرما دیں۔ چوںکہ حضورﷺ کو اپنی ازواجِ مطہّرات پر زیادہ غصہ آگیا تھا اس وجہ سے آپ نے قسم کھالی تھی کہ ایک مہینہ تک ان کے پاس نہیں جائیں گے۔ آخر اﷲ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو متنبہ فرمایا۔1 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطّابؓ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار فرمالی تو میں مسجد میں گیا اور دیکھا کہ صحابہ سوچ میں پڑے ہوئے ہیں اور کنکریاں اُلٹ پلٹ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اور یہ واقعہ پردے کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ میں اس طلاق والی بات کا پتا ضرور چلائوں گا (کہ حضورﷺ نے دی ہے یا نہیں)۔ پھر حضرت عمرنے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ کے پاس جا کر انھیں نصیحت کرنے کی تفصیل بتائی، پھر فرمایا: میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو آپ کے غلام حضرت رباحؓ بالاخانے کی دہلیز پر موجود تھے۔ میں نے آواز دے کر کہا: اے رباح! مجھے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت لے دو۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر فرمایا۔پھر فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! عورتوں کا معاملہ آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے، اگر آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو کوئی فکر اور پریشانی کی بات نہیں ہے، کیوںکہ اﷲ آپ کے ساتھ ہیں اور اﷲ کے فرشتے، حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، میں، حضرت ابوبکر اور سارے مسلمان آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں اس بات پر اﷲ کی تعریف کرتا ہوں کہ جب بھی میں کوئی بات کہا کرتا تھا تو مجھے اُمید ہوتی تھی کہ اﷲتعالیٰ ضرور میری بات کی تصدیق فرمائیں گے۔ چناںچہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی: {عَسٰی رَبُّہٗ اِن طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْـدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْْرًا مِّنْکُنَّ} اور یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنْ تَظٰـہَرَا عَلَیْْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلٰئہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓـئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ o}1 اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دے دے گا۔ اور اگر (اسی طرح) پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں کاروائیاں کرتی رہیں تو یاد رکھو کہ پیغمبر کا رفیق اﷲ ہے اور جبرائیل ہے اور نیک مسلمان ہیں، اور ان کے علاوہ فرشتے (آپ کے) مددگار ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے انھیں طلاق دے دی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر میں نے مسجد کے دروازے میں کھڑے ہو کر زور سے اُونچی آواز میں اعلان کیا کہ حضور ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَآئَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖج وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ}2 اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہے خواہ امن ہو یا خوف تو اس کو مشہور کر دیتے ہیں، اور اگر یہ لوگ اس کو رسول کے اور جو اِن میں ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان کے اوپر حوالہ رکھتے تو اس کو وہ حضرات پہچان ہی لیتے جو اِن میں اس کی تحقیق کر لیا کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: اس طلاق کے بارے میں میں نے ہی تحقیق کی تھی۔3 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اپنے مکان میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضور ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ آئے اور انھوں نے اندر جانے کی اجازت مانگی لیکن انھیں نہ ملی۔ پھر حضرت عمر ؓ نے آکر اجازت مانگی تو انھیں بھی نہ ملی، لیکن تھوڑی دیر کے بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی۔ دونوں حضرات اندر گئے تو حضورﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اِردگرد آپ کی ازواجِ مطہّرات بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ بالکل خاموش تھے۔ حضرت عمرنے اپنے دل میں کہا کہ میں ضرور ایسی بات کروں گا جس سے حضورﷺ کو ہنسی آجائے، تو انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! اگر آپ دیکھتے کہ میری بیوی بنتِ زید نے ابھی مجھ سے خرچہ مانگا تھا تو میں نے اس کی گردن پر مارا تھا۔ یہ سن کر حضورﷺ ہنس پڑے اور اتنے ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: یہ بھی میرے چاروں طرف بیٹھی ہوئی مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر حضرت عائشہؓکو مارنے کے لیے ان کی طرف اٹھے، اور حضرت عمر حضرت حفصہؓ کی طرف اُٹھے۔ دونوں کہہ رہے تھے: تم دونوں حضورﷺ سے وہ کچھ مانگتی ہو جو اِن کے پاس نہیں ہے۔ حضورﷺ نے ان دونوں حضرات کو مارنے سے روک دیا تو آپ کی ازواجِ مطہّرات کہنے لگیں: اﷲ کی قسم! اس مجلس کے بعد ہم کبھی حضورﷺ سے ایسی چیز نہیں مانگیں گی جو حضورﷺ کے پاس نہ ہو۔ پھر اﷲ نے اختیار دینے والی آیت نازل فرمائی جس میںا زواجِ مطہّرات کو حضور ﷺ کے پاس رہنے، نہ رہنے میں اﷲ نے اختیار دیا ہے۔ حضورﷺ سب سے پہلے حضرت عائشہ کے پاس گئے اور ان سے فرمایا: میں تمہارے سامنے ایک بات رکھوں گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے کوئی فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ حضورﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لّاَِزْوَاجِکَ}1 اے نبی! آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجیے کہ تم اگر دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو توآئو! میں تم کو کچھ مال ومتاع (دنیوی) دے دوں اور تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں۔ اور اگر تم اﷲ کو چاہتی ہو اور اس کے رسول کو اور عالمِ آخرت کو تو تم میں نیک کرداروں کے لیے اﷲ تعالیٰ نے اجرِ عظیم مہیا کر رکھا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: کیا میں آپ کے بارے میں والدین سے مشورہ کروں؟ ہرگز نہیں، بلکہ میں تو اﷲ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کروں گی۔ اور میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو نہ بتائیں کہ میں نے کیا اختیار کیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا بلکہ سکھانے والا اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے، تمہارے اختیار کے بارے میں جو عورت بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا۔1 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب اختیار والی آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ نے اپنی بیویوں میں سے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا: میں تمہارے سامنے ایک بات رکھوں گا تم اس میں جلدی فیصلہ نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے فیصلہ کرنا۔ حضورﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے حضورﷺ کے چھوڑنے کا ہرگز مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا ہے: { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لّاَِزْوَاجِکَ}(دو آیتیں)۔ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ ہرگز نہیں۔ میں تو اﷲ، اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں۔ پھر حضورﷺ نے اپنی تمام بیویوں کو اختیار دیا لیکن سب نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہؓ نے دیا تھا۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ہم ازواجِ مطہّرات کو (اپنے پاس رہنے، نہ رہنے میں) اختیار دیا تھا اور ہم نے آپﷺ کے پاس رہنے کو ہی اختیار کیا تھا اور حضور ﷺ نے اسے ہم پر کوئی طلاق وغیرہ شمار نہ کیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو (اگرچہ تم دونوں حالتیں مجھ سے چھپاتی ہو لیکن) مجھے پتا چل جاتا ہے۔ میں نے کہا: آپ کو اس کا کیسے پتا چلتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو توکہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! میں نے کہا: جی ہاں۔ اﷲ کی قسم! یا رسول اﷲ!میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں، دل میں آپ کی محبت میں کمی نہیں ہوتی۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں حضورﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھی۔ میں نے دوڑ میں حضورﷺ سے مقابلہ کیا تو میں حضورﷺ سے آگے نکل گئی اور یہ مقابلہ پیدل دوڑنے میں ہوا تھا۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہوگیا تو پھر میں نے آپ سے دوڑ میں مقابلہ کیا لیکن اس مرتبہ حضورﷺ مجھ سے آگے نکل گئے اور آپ نے فرمایا: میری یہ جیت تمہاری اس جیت کے بدلہ میں ہے۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت میمونہؓ (خالہ جان) کا مہمان بنا اور اس رات حضرت میمونہ نے (حیض کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھنی تھی۔ لیٹتے وقت وہ ایک چادر لائیں پھر دوسری چادر لائیں جسے بستر کے سرہانے رکھ دیا۔ پھر انھوں نے لیٹ کر اپنے اوپر چادر ڈال لی اور اپنے پہلو میں میرے لیے بھی ایک بستر بچھا دیا، اور میں ان کے پاس ان کے تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ پھر حضورﷺ تشریف لائے آپ عشاء کی نماز پڑھ چکے تھے۔ بستر کے پاس آکر سرہانے سے وہ چادر اٹھائی اور اسے لنگی کے طور پر باندھا اور اپنے دونوں کپڑے اُتار کر ٹانگ دیے پھر حضرت میمونہ کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹ گئے۔ آخر رات میں آپ کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف گئے۔ آپﷺ نے اسے کھو لا اور اس سے وضو کرنے لگے۔ میرا ارادہ ہوا کہ میں کھڑے ہو کر پانی ڈالوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس طرح حضورﷺ کو پتا چل جائے گا کہ میں جاگ رہا ہوں اور شاید یہ آپ کو اچھا نہ لگے۔ پھر آپ بستر کے پاس آئے اور وہ لنگی اتار کر دونوں کپڑے پہن لیے، پھر نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ پھر میں بھی اٹھا اور وضو کر کے آپ کے بائیں طرف آکر کھڑا ہو گیا۔ آپ نے پیچھے سے ہاتھ سے مجھے پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں میں نے بھی آپ کے ساتھ تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپ بیٹھ گئے میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر آپ کو اونگھ آگئی جس کی وجہ سے آپ کا رخسار مبارک میرے رخسار کے قریب آگیا اور مجھے آپ کے سانس کی آواز ایسے سنائی دے رہی تھی جیسے کہ سونے والے کی ہوتی ہے۔ پھرحضرت بلالؓ نے آکر کہا: نماز یارسول اﷲ! حضور ﷺ کھڑے ہو کر مسجد تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، حضرت بلال نے نماز کے لیے اقامت کہی۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک بڑھیا حضورﷺ کی خدمت میں آئی۔ حضورﷺ نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جثّامہ مُزنیہ۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، آج سے تمہارا نام حسّانہ مُزنیہ ہے۔ تم کیسی ہو؟ تمہارا کیا حال ہے ؟ ہمارے بعد تم لوگ کیسے رہے؟ اس نے کہا: یا رسول اﷲ! خیریت ہے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! جب وہ باہر چلی گئی تو میں نے کہا: یا رسول اﷲ! آپ نے اس بڑھیا پر بڑی توجہ فرمائی؟ حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ خدیجہ(ؓ) کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی اور پرانے تعلقات کی رعایت کرنا ایمان میں سے ہے۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک بڑھیا حضورﷺ کے پاس آیا کرتی تھی، حضورﷺ اس کے آنے سے بہت خوش ہوتے تھے اور اس کا اِکرام فرماتے تھے۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ اس بڑھیا کا جتنا خیال فرماتے ہیں اتنا کسی اور کا نہیں فرماتے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ خدیجہ(ؓ) کے پاس آیا کرتی تھی، اور کیا تمھیں معلوم نہیں کہ تعلق اور محبت والے کا اکرام کرنا ایمان میں سے ہے۔3 حضرت ابو الطفیلؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ جِعِرّانہ میں گوشت تقسیم فرما رہے تھے۔ میں اس وقت نو عمر لڑکا تھا اور اُونٹ کا ایک عضو اٹھا سکتا تھا کہ اتنے میں ایک عورت حضورﷺ کے پاس آئی۔ حضورﷺ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ حضورﷺ نے بتایا: یہ ان کی وہ ماں ہیں جنھوں نے آپ کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا حبشی لڑکا حضورﷺ کی کمر دبا رہا ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اﷲ! کیا آپ کو کوئی تکلیف ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: اُونٹنی نے آج رات مجھے گرا دیا تھا۔1 حضرت قاسم بن عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ حضورﷺ کو جوتی پہنایا کرتے تھے۔ پھر لاٹھی لے کر حضورﷺ کے آگے چلتے۔ جب حضورﷺ اپنی مجلس میں پہنچ جاتے تو وہ حضورﷺ کی دونوں جوتیاں اُتار کر اپنے بازئووں میں ڈال لیتے اور حضور ﷺ کو لاٹھی دے دیتے۔ پھر آپ جب مجلس سے اٹھنے لگتے تو حضرت عبد اﷲ حضور ﷺ کو جوتی پہناتے، پھر لاٹھی لے کر حضورﷺ کے آگے چلتے یہاں تک کہ وہ حضورﷺ سے پہلے حجرے میں داخل ہوتے۔2 حضرت ابو ملیح ؓکہتے ہیں کہ جب حضورﷺ غسل فرماتے تو حضرت عبد اﷲؓ آپ کے لیے پردہ کرتے، اورجب آپ سو جاتے تو حضرت عبد اﷲ آپ کو اٹھاتے اور آپ کے ساتھ اکیلے چلتے۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت میری عمر دس سال تھی، اور جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت میری عمر بیس سال تھی، اور میری والدہ اور خالائیں وغیرہ مجھے حضورﷺ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔4 حضرت ثمامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت انسؓ سے کہا: کیا آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ حضرت انس نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! میں غزوۂ بدر سے کہاں غائب رہ سکتا تھا۔ حضرت محمد بن عبد اﷲانصاری ؓکہتے ہیں کہ جب حضورﷺ بدر تشریف لے گئے تو حضرت انس بن مالکؓ بھی حضورﷺ کے ساتھ گئے اس وقت وہ نو عمر لڑکے تھے اور حضورﷺ کی خدمت کیا کر تے تھے۔5 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ بیس انصار ی نوجوان مختلف ضرورتوں کے لیے ہر وقت حضور ﷺ کے ساتھ رہاکرتے تھے، جب آپ کو کوئی کام پیش آتا تو اس کے لیے انھیں بھیج دیتے۔1 حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ چار یا پانچ صحابی نبی کریمﷺ سے یا حضور ﷺ کے دروازے سے کبھی جدا نہ ہوتے تھے بلکہ ہر وقت پڑے رہتے تھے۔2 حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ باری باری حضورﷺکی خدمت میں رہا کرتے تھے کہ آپ کو کوئی ضرورت ہوگی یا آپ کسی کام کے لیے ہمیں بھیج دیں گے۔ اس طرح آخرت کے ثواب کی اُمید میں باری باری خدمت کرنے والے بہت ہوگئے۔ چناںچہ ایک دن حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اس وقت ہم لوگ آپس میں دجال کا تذکرہ کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہ کیا سرگوشی ہو رہی ہے؟ کیا میں نے تمھیں سرگوشی کرنے سے منع نہیں فرمایا؟3 حضرت عاصم بن سفیان ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو درداءؓ یا حضرت ابوذر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضورﷺ سے اس بات کی اجازت مانگی کہ میں آپ کے دروازے پر رات گزاروں تاکہ آپ کو رات میں جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے تو آپ مجھے اٹھا لیں۔ حضورﷺ نے اجازت دے دی اور میں نے وہ رات وہاں گزاری۔4 حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رمضان کے مہینہ میں حضورﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ کھڑے ہو کر نہانے لگے تو میں نے آپ کے لیے پردہ کیا۔ (غسل کے بعد) برتن میں کچھ پانی بچ گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اسی سے غسل کرلو، اور چاہو تواور ملا لو۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! آپ کا بچا ہوا یہ پانی مجھے اور پانی سے زیا دہ محبوب ہے۔ چناںچہ میں نے اسی سے غسل کیا اور حضورﷺ میرے لیے پردہ کرنے لگے تو میں نے کہا: آپ میرے لیے پردہ نہ کریں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، جس طرح تم نے میرے لیے پردہ کیا اسی طرح میں بھی تمہارے لیے ضرور پردہ کروں گا۔1 حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے زیادہ بچوں پر شفیق اور مہربان کوئی نہیں دیکھا۔ مدینہ کی عوالی بستیوں میں (آپ کے صاحب زادے) حضرت ابراہیمؓ کے لیے دودھ پینے کا انتظام ہوا تھا۔ حضورﷺ وہاں تشریف لے جاتے ہم آپ کے ساتھ ہوتے۔ آپ گھر کے اندر تشریف لے جاتے حالاںکہ اندر دھواں ہوتا تھا کیوںکہ دودھ پلانے والی عورت کے خاوند لوہار تھے۔ آپ حضرت ابراہیم کو لے کر چومتے اور پھر واپس کر دیتے۔ جب حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، دودھ پینے کے زمانے میں اس کا انتقال ہوا ہے، اس کے لیے دودھ پلانے والی دو حوریں مقرر ہوئی ہیں جو جنت میں اس کے دودھ پینے کی باقی مدّت پوری کریں گی ۔2 حضرت عبد اﷲ بن حارثؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ حضرت عبد اﷲ، حضرت عبید اﷲ اور کثیر بن عباس ؓکو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے: تم میں سے جو پہلے میرے پاس آئے گا اسے یہ انعام ملے گا۔ تو وہ سارے حضورﷺ کے پاس پہلے پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور آکر آپ کی کمر اور سینے پر گرتے۔ حضورﷺ انھیں چومتے اور اپنے سے چمٹا لیتے۔3 حضرت عبد اﷲ بن جعفرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ کے خاندان کے بچے آپ کے استقبال کے لیے مدینہ سے باہر جاتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ آپ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے گھر والے پہلے باہر لے گئے تو آپ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا۔ پھر لوگ حضرت فاطمہؓ کے دو بیٹوں حضرت حسن اور حضرت حسینؓ میں سے ایک کو لائے، انھیں حضورﷺ نے اپنے پیچھے بٹھا لیا، تو اس طرح ہم تین آدمی ایک سواری پر سوار مدینہ میں داخل ہوئے۔4 حضرت عبد اﷲ بن جعفرؓ فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اتنے میں حضورﷺ میرے پاس سے سواری پر گزرے، آپ نے مجھے اور حضرت عباس ؓ کے ایک نو عمر بیٹے کو سواری پر بٹھا لیا، اس طرح ہم سواری پر تین آدمی ہوگئے۔1 حضرت عبد اﷲ بن جعفرؓ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ دیکھنے کے قابل تھا کہ میں، حضرت عبیداﷲ بن عباس اور حضرت قُثم بن عباسؓ بچے تھے اور ہم لوگ کھیل رہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ سواری پر ہمارے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا: (اے لوگو!) یہ بچہ اٹھا کر مجھے دے دو۔ چناںچہ حضورﷺ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا۔ پھر فرمایا: (قُثم) کو بھی اٹھا کر مجھے دے دو۔ (لوگوں نے اٹھا کر دیا) اور انھیں اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ حضرت عباسؓکو حضرت عبیداﷲ سے محبت حضرت قُثمسے زیادہ تھی۔ آپ نے حضرت عبید اﷲ کو رہنے دیا اور حضرت قُثم کو بٹھا لیا تو اس میں اپنے چچا کی زیادہ محبت کا خیال نہ کیا اور ان سے کوئی شرم محسوس نہ کی۔ پھر آپ نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیر ا۔ جب بھی آپ سر پر ہاتھ پھیرتے تو فرماتے: اے اﷲ! تو جعفر کی اولاد میں جعفر کا خلیفہ بن جا (یعنی وہ تو شہید ہو کر دنیا سے جا چکے اب تو ہی ان کے بچوں کو سنبھال لے)۔2 حضرت عمر بن خطّابؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن اور حضرت حسینؓ کو حضورﷺ کے کندھوں پر دیکھا تو میں نے کہا: تم دونوں کے نیچے کتنا عمدہ گھوڑا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: دونوں گھوڑے سوار بھی تو کتنے عمدہ ہیں۔3 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ حضرت حسنؓکو کندھے پر اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے، تو ایک آدمی نے کہا: ارے میاں! تم بڑی عمدہ سواری پر سوار ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ سوار بھی تو بہت عمدہ ہے۔4 حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن اور حضرت حسینؓ دونوں یا دونوں میں سے ایک آئے اور آکر حضورﷺ (سجدہ میں تھے وہ حضورﷺ) کی پشت پر سوار ہوئے۔ حضورﷺ نے جب (سجدہ سے) سر اُٹھایا تو انھیں ہاتھ سے تھامے رکھا اور (نماز کے بعد) فرمایا: تمہاری سواری کتنی عمدہ ہے۔1 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضورﷺ اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں پر چل رہے ہیں اور حضرت حسن اور حضرت حسینؓ آپ کی کمر پر بیٹھے ہوئے تھے اور فرما ر ہے ہیں: تم دونوں کا اونٹ بڑا عمدہ ہے اور تم دونوں بہت اچھا بوجھ ہو۔2 حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت اُمّ ایمنؓ آئیں اور انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! حسن اور حسینؓ گم ہوگئے ہیں۔ اس وقت دن چڑھ چکا تھا۔ حضورﷺ نے صحابہ سے فرمایا: اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو۔ چناںچہ ہر آدمی نے اپنا راستہ لیا اور چل پڑا، اور میں حضورﷺ کا راستہ لے کر چل پڑا۔ حضورﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین دونوں ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے کھڑے ہیں اور پاس ہی ایک کالا ناگ اپنی دم پر کھڑا ہے جس کے منہ سے آگ کی چنگاریاں نکل رہی ہیں (غالباً اﷲ نے ناگ بھیجا تاکہ بچوں کو آگے جانے سے روکے)۔ حضورﷺ جلدی سے اس ناگ کی طرف بڑھے، اس ناگ نے حضورﷺکو مڑ کر دیکھا اور چل پڑا اور ایک سوراخ میں داخل ہوگیا۔ پھر حضورﷺ دونوں کے پاس گئے اور دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا اور دونوں کے چہرے پر ہاتھ پھیر ا اور فرمایا: میرے ماں باپ تم دونوں پر قربان ہوں! تم دونوں اﷲ کے ہاں کتنے قابلِ اکرام ہو۔ پھر ایک کو دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا۔ میں نے کہا: تم دونوں کو خوش خبری ہو کہ تمہاری سواری بہت ہی عمدہ ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دونوں بہت عمدہ سوار ہیں اور ان کے والدان دونوں سے بہتر ہیں۔1 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ تھے ہمیں کسی نے کھانے کے لیے بلایا۔ (ہم حضورﷺ کے ساتھ کھانے کے لیے چلے تو) راستہ میں حضرت حسینؓ ملے جو بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضورﷺ جلدی سے لوگوں سے آگے بڑھے اور انھیں پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ حضرت حسین اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ حضورﷺ اور حضرت حسین آپس میںہنسنے لگے۔ آخر حضورﷺ نے انھیں پکڑ لیا اور ایک ہاتھ اُن کی ٹھوڑی پر اور دوسرا ان کے سر اور کانوں کے درمیان رکھا اور اپنے سے چمٹا کر ان کا بوسہ لیا پھر فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو اِن سے محبت کرے اﷲ اس سے محبت کرے، حسن اور حسین دونوں نواسوں میں سے ہیں۔2