نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت
نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت
حضرت ابو اسحاق سُبَیعِی ؓکہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعونؓکی بیوی میلی کچیلی پرانے کپڑوں میں حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات کے پاس آئیں۔ انھوں نے پوچھا: تمھیں کیا ہوا ہے جو تم نے ایسی شکل وصورت بنا رکھی ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: حضرت عثمان رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن بھر روزہ رکھتے ہیں۔ کسی نے یہ بات حضورﷺکو بتائی۔ جب حضورﷺ کی حضرت عثمان بن مظعون سے ملا قات ہوئی تو آپ ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا: کیا تم میرے نمونہ پرنہیں چلتے ہو؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ اﷲ مجھے آپ پر قربان کرے! اس کے بعد ان کی بیوی اچھی شکل وصورت میں عمدہ خوش بو لگا کر آئیں۔ اور جب حضرت عثمانؓ کا انتقال ہوا تو انھوں نے یہ اشعار کہے: یَا عَیْنَ جُوْدِيْ بِدَمْعٍ غَیْرِ مَمْنُوْنٖ
عَلٰی رَزِیَّۃِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٖ
اے آنکھ !عثما ن بن مظعون کی (وفات کی ) مصیبت پر ایسے آنسو بہا جو کبھی نہ رکیں۔
عَلَی امْرِئٍ بَاتَ فِيْ رِضْوَانِ خَالِقِہٖ
طُوْبٰی لَہٗ مِنْ فَقِیْدِ الشَّخْصِ مَدْفُوْنِ
ایسے شخص پر آنسو بہا جو اپنے خالق کو راضی کرنے میں ساری رات گزار دیتا تھا، یہ دفن ہو کر گم ہوگئے ہیں، ان کے لیے جنت کا طوبیٰ درخت ہے۔
طَابَ الْبَقِیْعُ لَہٗ سُکْنٰی وَغَرْقَدُہٗ
وَأَشْرَقَتْ أَرْضُہٗ مِنْ بَعْدِ تَفْتِیْنِ
بقیع اور اس کے غرقد درختوں میں اس کا ٹھکانا بہت ہی عمدہ بنا ہے، اور بقیع کی زمین کفار کے دفن ہونے کی وجہ سے فتنہ والی تھی، اب حضرت عثمان کے دفن ہونے سے وہ روشن ہو گئی۔
وَأُوْرِثُ الْقَلْبَ حُزْنًا لَا انْقِطَاعَ لَہٗ
حَتَّی الْمَمَاتِ فَمَا تَرْقیٰ لَہٗ شُوْنِيْ
اور ان کی موت سے دل میں ایسا غم پیدا ہوا ہے جو موت تک ختم نہیں ہوگا، اوران کے لیے آنسوئوں کی رگیں کبھی خشک نہ ہوں گی۔1
حضرت عروہ ؓکی روایت میں حضرت عثمانؓکی بیوی کا نام خولہ بنتِ حکیمؓ بتایا گیا ہے اور یہ کہ وہ حضرت عائشہؓ کے پاس گئی تھیں۔ اور ان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اے عثمان! رہبانیت کو ہمارے لیے قابلِ اجر عبادت نہیںبنایا گیا۔ کیا میں تمہارے لیے اچھا نمونہ نہیں ہوں؟ اﷲ کی قسم! تم لوگوں میں اﷲ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں۔
حضرت عبد اﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے قریش کی ایک عورت سے میری شادی کی۔ جب وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس کی کوئی پروا نہ کی، کیوںکہ مجھے نماز، روزے، عبادت کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ (میرے والد) حضرت عمرو بن عاص اپنی بہو (یعنی میری بیوی) کے پاس گئے اور اس سے پوچھا: تم نے اپنے خاوند کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: وہ اچھے آدمی ہیں، یا کہا: اچھے خاوند ہیں، لیکن ابھی تک انھوں نے ہمارے کسی پہلو کو کھول کردیکھا نہیں اور ہمارے بستر کے قریب ہی نہیں آئے۔ حضرت عمرو میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے خوب برا بھلا کہا اور کہا کہ میں نے قریش کی خاندانی عورت سے تیری شادی کی اور تونے اسے بیچ میں لٹکا رکھا ہے (تو اس کے پاس جاتا ہی نہیں)۔ پھرانھوں نے جاکر حضور ﷺ سے میری شکایت کر دی۔ حضورﷺ نے آدمی بھیج کر مجھے بلایا،میں حضو ر ﷺ کی خدمت میں گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم دن بھر روزہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: لیکن میںتو کبھی روزہ رکھتا ہوں، اورکبھی افطار کرتا ہوں اور رات کو کبھی نماز پڑھتا ہوں اور کبھی سوتا ہوں، اور بیویوں کے پاس بھی جاتا ہوں۔ ( یہ میری سنت ہے) اور جو میری سنت سے اِعراض کرے وہ مجھ سے نہیں (اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے)۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: مہینہ میں ایک قرآن ختم کر لیا کرو، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: دس دن میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: اچھا تین دن میں ختم کر لیا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: ہر مہینے تین دن روزہ رکھا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ دن بڑھاتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو، کیوںکہ یہ بہترین روزے ہیں، اور یہ میرے بھائی داؤد ؑ کے روزے ہیں۔
حضرت حصین کی حدیث میں یہ ہے کہ پھر حضورﷺ نے فرمایا: عبادت کے ہر شوقین پر کچھ عرصہ ایسا آتا ہے جس میں اسے عبادت کا بہت جوش وجذبہ ہوتا ہے اور جوش وجذبہ کچھ عرصہ چلتا ہے پھر اس میں کمی آجاتی ہے۔ جب کمی آتی ہے تو کوئی اس وقت سنت طریقہ اختیار کر تا ہے اور کوئی بدعت طریقہ کو۔ جس نے جوش وجذبہ کی کمی کے زمانے میں سنت طریقہ کو اختیار کیا وہ ہدایت پا گیا، اور جو کسی اور طرف چلا گیا وہ تباہ وبرباد ہو گیا۔
حضرت مجاہد ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن عمروؓ جب بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو وہ کئی دن مسلسل روزے رکھتے، پھر اس کے بعد کچھ دن نہ رکھتے تاکہ کچھ طاقت آجائے۔ اور اسی طرح وہ قرآن کی منزل پڑھا کرتے کبھی زیادہ پڑھتے اور کبھی کم، لیکن تین یا سات دن میں مقدار پوری کر لیا کرتے۔ پھر اس کے بعد کمزوری بڑھ جانے کے زمانے میں کہا کرتے تھے کہ میں اگر حضورﷺ کی رخصت قبول کر لیتا تو یہ مجھے اس کثرتِ عبادت سے زیادہ محبوب ہوتا جسے میں نے اختیار کیا ہے، لیکن میں ایک طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے حضورﷺ سے جدا ہوا ہوں اب مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں اسے چھوڑ کر اور کوئی طریقہ اختیار کروں (یعنی حضورﷺ کی زندگی میں آپ کے انتقال تک جو معمولات میں نے روزانہ تلاوت کے بنالیے تھے اب میں ان میں کمی کرنا اچھا نہیں سمجھتا، چاہے مجھے کتنی مشقت اختیار کرنی پڑے میں کروںگا)۔1
حضرت ابو جحیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؓ نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابودرداءؓ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ ایک دن حضرت سلمان حضرت ابو درداء کو ملنے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ حضرت اُمّ درداءؓ نے پرانے سادہ سے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ تو ان سے کہا: تمھیں کیا ہوا؟ (تم نے ایسے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟) انھوں نے کہا: آپ کے بھائی حضرت ابو الدرداء کو دنیا کی رغبت بالکل نہیں ہے۔ اتنے میںحضرت ابو درداء آگئے اور انھوں نے حضرت سلمان کے لیے کھانا تیار کیا اور ان سے کہا: آپ کھائیں میرا تو روزہ ہے۔ حضرت سلمان نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے میں نہیں کھائوں گا۔ چناںچہ حضرت ابوالدرداء نے کھانا کھا لیا۔ جب رات ہوئی تو حضرت ابو الدرداء عبادت کے لیے کھڑے ہونے لگے۔ حضرت سلمان نے کہا: ابھی تو سو جائو۔ چناںچہ وہ سو گئے۔ کچھ دیر کے بعد پھر کھڑے ہونے لگے تو حضرت سلمان نے کہا: ابھی اور سو جائو۔ جب اخیر رات ہوئی تو حضرت سلمان نے کہا: اب کھڑے ہو جائو۔ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ پھر حضرت سلمان نے ان سے فرمایا: آپ کے رب کا بھی آپ پر حق ہے، لیکن آپ کے نفس کا بھی آپ پر حق ہے اور آپ کے گھر والوں کا بھی آپ پر حق ہے، ہر حق والے کو اس کا حق دو۔ پھر حضرت ابو الدرداء نے جاکر حضورﷺ کو یہ ساری بات بتائی تو حضورﷺ نے فرمایا: سلمان نے ٹھیک کہا۔2
حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ حضرت زبیرؓ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس زمین تھی اور ایک گھوڑا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس نہ کوئی مال تھا، نہ غلام اور نہ کوئی اور چیز۔ گھوڑے کی خدمت کے سارے کام حضرت زبیر کے بجائے میں ہی کرتی تھی۔ اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، اس کے لیے گھاس چارہ وغیرہ لاتی تھی، اور کنوئیں سے پانی کھینچنے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیا ں کو ٹتی تھی، اس کے لیے گھاس وغیرہ لاتی تھی، اسے پانی پلاتی تھی اور کنوئیں سے پانی نکالنے کے بڑے ڈول کو خود ہی سیتی تھی، اور گھر کا آٹا بھی گوندھتی تھی لیکن مجھے روٹی اچھی پکانی نہیں آتی تھی، اس لیے میری انصاری پڑوسن عورتیں روٹی پکا دیا کرتی تھیں۔ وہ بڑی سچی اور مخلص عورتیں تھیں۔ اور حضورﷺ نے حضرت زبیر کو جو زمین دی تھی وہ مدینہ سے دو تہائی فرسخ یعنی دو میل دور تھی۔ میں وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاد کر لاتی تھی۔
چناںچہ میں ایک دن گٹھلیاں سر پر رکھے ہوئے آرہی تھی کہ راستہ میں حضورﷺ (اُونٹ پر سوار) مجھے مل گئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی۔ حضورﷺ نے مجھے بلایا اور (اُونٹ کو بٹھانے کے لیے) إِخْ إِخْ فرمایا تاکہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں۔ مجھے لوگوں کے ساتھ چلنے سے شرم آئی اور مجھے حضرت زبیر کی غیرت یاد آئی کیوںکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غیرت والے تھے۔ حضورﷺ سمجھ گئے کہ مجھے شرم آرہی ہے اس لیے آپ تشریف لے گئے۔ میں نے جا کر حضرت زبیرکو بتایا کہ میں سر پر گٹھلیاںلے کر آرہی تھی راستہ میں مجھے حضور ﷺ ملے، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی۔ حضورﷺ اُونٹ بٹھانے لگے تاکہ میں آپ کے ساتھ سوار ہو جائوں لیکن مجھے شرم آگئی اور آپ کی غیرت کا خیال آگیا۔ حضرت زبیر نے کہا: اﷲ کی قسم! تم حضورﷺ کے ساتھ سوار ہو جاتیں اس سے مجھے اتنی گرانی نہ ہوتی جتنی مجھے تمہارے گٹھلیا ں سر پر لانے سے ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے میرے پاس ایک باندی بھیجی جس نے گھوڑے کی دیکھ بھال اور خدمت کے تمام کام سنبھال لیے، تو مجھے ایسے لگا کہ جیسے انھوں نے مجھے قید سے آزاد کر دیا ہو۔1
حضرت عکرمہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ حضرت زبیر بن عوّام ؓ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت زبیران پر سختی کیا کرتے تھے۔ حضرت اسماء نے جا کر اپنے ابا جان سے حضرت زبیر کی شکایت کی۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے میری بیٹی! صبرکرو، کیوںکہ جب کسی عورت کا نیک خاوند ہو، پھر وہ خاوند مر جائے اور وہ عورت اس کے بعد اور شادی نہ کرے تو ان دونوں کو جنت میں جمع کر دیا جائے گا۔1
حضرت کہمس ہلالی ؓکہتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک عورت آکر حضرت عمر کے پاس بیٹھ گئی۔ اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے خاوند کا شر بڑھ گیا ہے اور اس کی خیرکم ہوگئی ہے۔حضرت عمر نے پوچھا: تمہارا خاوند کون ہے؟ اس نے کہا: حضرت ابوسلمہؓ۔ حضرت عمر نے فرمایا: انھیں تو حضورﷺ کی صحبت حاصل ہے اور وہ سچے آدمی ہیں۔ حضرت عمر کے پاس ایک آدمی بیٹھاہوا تھا اس سے حضرت عمر نے فرمایا: کیا وہ آدمی ایسے نہیں ہیں؟ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے ان کے بارے میں جو کہا ہے ہمیں بھی یہی معلوم ہے۔ پھر حضرت عمر نے ایک آدمی سے کہا: جائو ابوسلمہ کو میرے پاس بلا کر لائو۔ جب حضرت عمر نے اس عورت کے خاوند کے پاس آدمی بھیجا تو وہ عورت اٹھ کر حضرت عمر کے پیچھے آکر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر میں وہ آدمی اس عورت کے خاوند حضرت ابو سلمہ کو بلا کر لے آیا اور وہ آکر حضرت عمر کے سامنے بیٹھ گئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ میرے پیچھے بیٹھی ہوئی عورت کیا کہہ رہی ہے؟
حضرت ابو سلمہ نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! یہ عورت کون ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ حضرت ابو سلمہ نے کہا: یہ کیا کہہ رہی ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: یہ کہہ رہی ہے کہ آپ کی خیر کم ہوگئی ہے اور آپ کا شر زیادہ ہو گیا ہے۔ حضرت ابو سلمہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس نے بہت بری بات کہی ہے۔ یہ اپنے قبیلہ کی نیک عورتوں میں سے ہے، لیکن اس کے پاس کپڑے ان سب عورتوں سے زیادہ ہیں، اور گھر میں سہولت اور راحت کا سامان بھی سب سے زیادہ ہے، بس اتنی بات ہے کہ اس کا خاوند بوڑھا ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے اس عورت سے کہا: اب تم کیا کہتی ہو؟ اس نے کہا: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ حضرت عمر کوڑا لے کر اس عورت کی طرف بڑھے اور کوڑے سے اس کی خبر لی۔ پھر فرمایا: اے اپنی جان کی دشمن! تو اس کا سارا مال کھاگئی اور اس کی جوانی فنا کر دی اور اب اس کی ایسی شکایت لگا رہی ہے جو اس میں نہیں ہے۔ اس عورت نے کہا: اے امیر المؤ منین! آپ جلدی نہ کریں۔ اﷲ کی قسم! آیندہ میں کبھی (شکایت کی) اس مجلس میں نہیں بیٹھوں گی (یعنی کبھی شکایت نہیں لگائوں گی)۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اس عورت کو تین کپڑے دیے جائیں۔ اور اس عورت سے کہا: میں نے جو تجھے مارا ہے یہ کپڑے اس کے بدلے میں لے لو۔
راوی کہتے ہیں کہ وہ قصہ مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا کہ میں اب بھی اس عورت کو کپڑے لے کر اٹھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ پھرحضرت عمر نے اس عورت کے خاوند کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم نے جو مجھے اس کو سزا دیتے ہوئے دیکھا ہے اس کی وجہ سے تم اس کے ساتھ برا سلوک نہ شروع کر دینا۔ انھوں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ چناںچہ وہ میاں بیوی دونوں واپس چلے گئے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری اُمت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں ہوں، پھر دوسرا زمانہ، پھر تیسرا زمانہ، پھر اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو گواہی دینے سے پہلے ہی قسمیں کھانے لگ جائیں گے اور ابھی ان سے گواہی مانگی نہ جائے گی کہ وہ پہلے ہی گواہی دینے لگ جائیں گے اور بازاروں میں شور مچاتے پھریں گے۔1
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر بن خطابؓ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میں آپ کے پاس ایسے آدمی کی شکایت کرنے آئی ہوں جو تمام دنیا والوں سے زیادہ بہتر ہیں، ان سے بہتر وہی آدمی ہو سکتا ہے جو اِن سے زیادہ عمل کرے یا ان کے برابر عمل کرے۔ وہ رات سے صبح تک عبادت کرتے ہیں اور صبح سے شام تک روزہ رکھتے ہیں۔ اتنا بتانے کے بعد اس عورت کو شرم آگئی اور اس نے کہا: اے امیرالمؤ منین! آپ مجھے معاف فرما دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اﷲ تمھیں جزائے خیر عطا فرمائے! تم نے اس آدمی کی بہت اچھی تعریف کی ہے۔ میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے۔ جب وہ عورت چلی گئی تو حضرت کعب بن سُور ؓنے کہا: اے امیر المؤمنین! اس عورت نے آپ سے شکایت کرنے میں کمال کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس نے کیا شکایت کی ہے؟ حضرت کعب نے کہا: اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اس عورت کو میرے پاس لائو۔ اور اسی طرح آدمی بھیج کر اس کے خاوند کو بھی بلایا۔ جب وہ دونوں آگئے تو حضرت عمر نے حضرت کعب سے کہا: تم ان دونوںمیں فیصلہ کرو۔ حضرت کعب نے کہا: آپ کے ہوتے ہوئے میں فیصلہ کروں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: تم اس کی شکایت کو سمجھ گئے میں نہ سمجھ سکا اس لیے تم ہی فیصلہ کرو۔ حضرت کعب نے کہا: اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَـکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ}1
اور عورتوں میںسے جو تم کو پسند ہوں نکاح کر لو دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔
اس کے خاوند سے کہا: تم تین دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کرو، اور اس کے پاس رہاکرو۔ اور تین رات نفل عبادت کیا کرو اور ایک رات اس کے ساتھ گزارا کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہارا یہ فیصلہ تو مجھے تمہاری پہلی بات سے بھی زیادہ پسند آیا ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت کعب کو بصرہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔2
یشکری نے حضرت شعبی ؓ سے یہی واقعہ اس سے زیادہ لمبا نقل کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس عورت سے کہا: تم مجھے سچ بات بتائو اور حق بات کے ظاہر کرنے میں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے کہا: اے امیر المؤ منین! میں ایک عورت ہوں، مجھ میں بھی وہ خواہش ہے جو عورتوں میں ہوا کرتی ہے۔
عبد الرزاق ؓ حضرت قتادہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر حضرت عمر سے کہا: میرا خاوند رات بھر عبادت کرتا ہے اور دن بھر روزہ رکھتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اسے رات کی عبادت سے اور دن کے روزے سے روک دوں؟ وہ عورت چلی گئی۔ دوبارہ آکر اس نے وہی بات پھر کہی۔ حضرت عمر نے پھر وہی جواب دیا۔ اس پر حضرت کعب بن سور ؓنے کہا: اے امیر المؤمنین! اس عورت کا بھی حق ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا حق ہے؟ حضرت کعب نے کہا: اﷲ تعالیٰ نے اس کے خاوند کے لیے چار بیویاں حلال قرار دی ہیں تو آپ اس عورت کو چار بیویوں میں سے ایک شمار کرلیں، اسے ہر چار راتوں میں سے ایک رات اور ہر چار دنوں میں سے ایک دن ملنا چاہیے۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس کے خاوند کو بلا کر کہا کہ ہر چار راتوں میں سے ایک رات اپنی بیوی کے پاس گزارا کرو اور ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کی وجہ سے روزہ نہ رکھا کرو۔1
حضرت ابو غرزہؓ حضرت ابنِ ارقمؓ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی بیوی کے پاس لے گئے اور اس سے کہا: کیا تم مجھ سے بغض رکھتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت ابنِ ارقم نے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو غرزہ نے کہا: کیوںکہ لوگ میرے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ حضرت ابنِ اَرقم نے جا کر حضرت عمر بن خطابؓکو یہ بات بتائی۔ حضرت عمر نے حضرت ابو غرزہ کو بلا کر کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو غرزہ نے کہا: کیوںکہ لوگ میرے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ حضرت عمر نے حضرت ابو غرزہ کی بیوی کو بلایا، وہ بھی آئی اور اس کے ساتھ ایک پھوپھی بھی آئی جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھوپھی نے اس سے کہا: اگر حضرت عمر تم سے پوچھیں کہ تم نے ایسا صاف جواب کیوں دیا ؟ تو تم کہہ دینا کہ انھوں نے قسم دے کر مجھ سے پوچھا تھا (کہ کیا تم مجھ سے بغض رکھتی ہو ؟) اس لیے جھوٹ بولنا مجھے برا لگا۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس سے پوچھا: تم نے یہ بات کیوں کہی؟ حضرت ابو غرزہ کی بیوی نے کہا کہ انھوں نے مجھے قسم دے کر پوچھا تھا اس لیے جھوٹ بولنا میں نے مناسب نہ سمجھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، تمھیں جھوٹ بول دینا چاہیے تھا اور کوئی اچھی بات کہہ دینی چاہیے تھی۔ (میاں بیوی تعلقات اچھے رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے جھوٹی محبت کا اظہار کر سکتے ہیں) کیوںکہ تمام گھروں میں حسنِ معاشرت کی بنیاد (میاں بیوی کی) محبت ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض گھروں میں (میاں بیوی میں محبت نہیں ہوتی لیکن حسنِ معاشرت کی) بنیاد خاندانی شرافت اور اسلام ہوتا ہے۔1
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عاتکہ بنتِ زید بن عمرو بن طفیلؓ حضرت عبد اﷲ بن ابی بکر صدیق ؓ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت عبد اﷲ کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی۔ حضرت عبد اﷲ نے ان کو ایک باغ اس شرط پر دیا کہ وہ ان کے مرنے کے بعد کسی سے شادی نہیں کریں گی۔ غزوۂ طائف میں حضرت عبد اﷲ کو ایک تیر لگا تھا جس کا زخم اس وقت تو ٹھیک ہوگیا، لیکن حضورﷺ کی وفات کے چالیس دن بعد وہ زخم پھر ہرا ہو گیا جس سے حضرت عبد اﷲ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی بیوی حضرت عاتکہ نے مرثیہ میں یہ اشعار کہے:
وَآلَیْتُ لَا تَنْفَکُّ عَیْنِيْ سَخِیْنَۃً
عَلَیْکَ وَلَا یَنْفَکُّ جِلْدِیْ أَغْبَرَا
مَدَی الدَّ ھْرِ مَا غَنَّتْ حَمَامَۃُ أَیْکَۃٍ
وَمَا طَرَدَ اللَّیْلَ الصَّبَاحُ الْمُنَوَّرَا
اور میں نے قسم کھائی ہے کہ زندگی بھر اس وقت تک میری آنکھیں آپ پر گرم آنسو بہاتی رہیں گی (غم کے آنسو گرم ہوتے ہیں) اور میرا جسم گرد آلود رہے گا (یعنی میں زیب و زینت نہیں کروں گی) جب تک گھنے جنگل کی کبوتری گاتی رہے گی اور رات کے بعد روشن صبح آتی رہے گی، یعنی ہمیشہ روتی رہوں گی۔
پھر حضرت عمر بن خطّابؓ نے ان کو شادی کا پیغام دیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ حضرت عبد اﷲ نے مجھے اس شرط پر ایک باغ دیا تھا کہ میں ان کے بعد شادی نہ کروں گی۔ حضرت عمر نے کہلوا دیا کہ کسی عالم سے شادی کے بارے میں مسئلہ پوچھ لو۔ تو انھوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے پوچھا۔ حضرت علی نے فرمایا: حضرت عبد اﷲ کے ورثا کو باغ واپس کر دو اور شادی کر لو (چناںچہ انھوں نے باغ واپس کر دیا اور) حضرت عمر سے شادی کرلی۔ اور حضورﷺ کے چند صحابہ کو ایک آدمی بھیج کر ولیمہ کے لیے بلایا۔ ان صحابہ میں حضرت علی بن ابی طالب بھی تھے اور حضورﷺ کے صحابہ میں سے حضرت علی کا حضرت عبد اﷲ بن ابی بکر سے بھائی چارہ کا تعلق تھا۔ حضرت علی نے حضرت عمر سے کہا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں حضرت عاتکہ سے کچھ بات کر لوں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کرلو۔ حضرت علی نے کہا: اے عاتکہ! (تم نے یہ شعر کہا تھا اب اس کے خلاف کرلیا)
وَآلَیْتُ لَا تَنْفَکُّ عَیْنِيْ سَخِیْنَۃً
عَلَیْکَ وَلَا یَنْفَکُّ جِلْدِیْ أَصْفَرَا
میں نے قسم کھائی ہے کہ میری آنکھیں آپ پر گرم آنسو بہاتی رہیں گی اور میرا جسم گردآلود رہے گا۔
(یہ سن کر حضرت عاتکہؓ زور سے رو پڑیں) حضرت عمرؓ نے فرمایا: اﷲ آپ کو معاف کرے! میری بیوی کا ذہن خراب نہ کریں۔1
حضرت میمونہ ؓکی آزادکر دہ باندی حضرت نُدبہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت میمونہ نے مجھے (اپنے بھانجے) حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس گئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے گھر میں دو بستر بچھے ہوئے ہیں (ایک ان کا اور ایک ان کی بیوی کا)۔ میں نے واپس جاکر حضرت میمونہ سے کہا: میرے خیال میں تو حضرت ابنِ عباس نے اپنی بیوی کو چھوڑ رکھا ہے۔ حضرت میمونہ نے حضرت ابنِ عباس کی بیوی بنتِ سرج کندی کو پیغام بھیج کر بلایا اور ان سے پوچھا (کیا تمھیں حضرت ابنِ عباس نے چھوڑ رکھا ہے؟) حضرت بنتِ سرج نے کہا: نہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے، وہ تو آج کل مجھے حیض آرہا ہے (اس لیے بستر الگ الگ کر رکھے ہیں)۔ اس پر حضرت میمونہ نے حضرت ابنِ عباس کو یہ پیغام بھیجا کہ تم حضورﷺ کی سنت سے اِعراض کر رہے ہو۔ حضورﷺ حالتِ حیض میں بھی اپنی بیویوں کے ساتھ لیٹا کر تے تھے۔ البتہ آپ کی بیویاں گھٹنے یا آدھی پنڈلی تک کپڑا ڈال لیا کرتی تھیں۔2
حضرت عکرمہ ؓکہتے ہیں: یہ مجھے پتا نہ چل سکا کہ کھانا کس نے دوسرے کے لیے تیار کیا تھا، حضرت ابنِ عباسؓ نے یا ان کے چچازاد بھائی نے۔ بہرحال یہ حضرات کھانا کھا رہے تھے اور ایک باندی ان کے سامنے کام کر رہی تھی کھانا وغیرہ لارہی تھی کہ ان میں سے کسی نے اس باندی سے کہا: او زانیہ! تو حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: ایسے نہ کہو، اگر اس باندی کی وجہ سے تمھیں دنیا میں حدِ شرعی نہ لگ سکی تو آخرت میں تو ضرور لگے گی۔ اس آدمی نے کہا: اگر بات واقعی ایسی ہی ہو جیسی میں نے کہی ہے تو؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: (اگر بات ایسی ہو بھی سہی تو بھری مجلس میں کہنی نہیںچاہیے، کیوںکہ) اﷲ تعالیٰ فحش گو اور قصداً بدکلامی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔ اورفحش گو اور بد کلامی والے کو اﷲ کے پسند نہ کرنے کی بات حضرت ابنِ عباس نے خود کہی تھی۔1
حضرت ابو عمران فلسطینی ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاصؓکی بیوی ان کے سر میں سے جوئیں نکال رہی تھی۔ ان کی بیوی نے اپنی باندی کو آواز دی۔ باندی نے آنے میں دیر کردی تو ان کی بیوی نے کہا: او زانیہ! حضرت عمرو نے کہا: کیا تم نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرو نے کہا: اﷲ کی قسم! تمھیں اس باندی کی وجہ سے قیامت کے دن اسّی کوڑے مارے جائیں گے۔ ان کی بیوی نے اس باندی سے معافی مانگی، باندی نے معاف کر دیا۔ حضرت عمرو نے کہا: یہ بے چاری تمھیں کیوں معاف نہ کرے؟ یہ تمہاری ماتحت جو ہے، اسے آزاد کرو۔ ان کی بیوی نے کہا: کیا یہ آزاد کرنا کافی ہو جائے گا؟ (پھر مجھے آخرت میں سزا تو نہیں ملے گی؟) حضرت عمروؓ نے کہا: ہاں! اُمید ہے۔2
حضرت ابو المتوکل ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓکی ایک حبشن باندی تھی جس کی کسی حرکت کی وجہ سے تمام گھر والے بڑے غمگین اور پریشان تھے۔ ایک دن حضرت ابو ہریرہ نے اسے مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا لیکن پھر فرمایا: اگرمجھے قیامت کے دن کے بدلے کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھے اس کوڑے سے مار مار کر بے ہوش کر دیتا، لیکن اب میں تجھے ایسے کے ہاتھ بیچوں گا جو تیری قیمت پوری پوری دے گا (یعنی اﷲ تعالیٰ)۔جا تو اﷲ کے لیے آزاد ہے۔3
حضرت عبد اﷲ بن قیس یا ابنِ ابی قیس ؓکہتے ہیں: جب حضرت عمرؓ ملکِ شام تشریف لائے تھے تو میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے حضرت ابو عبیدہؓ کے ساتھ ان کا استقبال کیا تھا۔ حضرت عمر چل رہے تھے کہ انھیں اَذرُعات شہر کے کرتب دکھانے والے لوگ تلواریں اور نیزے لیے ہوئے ملے۔ حضرت عمر نے کہا: ٹھہرو، انھیں روکو اور واپس کرو۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: اے امیر المؤ منین! یہ ان عجمیوں کا رواج ہے (کہ امیر کے آنے پر اظہارِ خوشی کے لیے اپنے کرتب دکھاتے ہیں)۔ اگر آپ ان کو اس سے روکیں گے تو یہ لوگ سمجھیں گے کہ آپ ان کا امن کا معاہدہ توڑنا چاہتے ہیں (اس معاہدہ میں ان کو اپنے رواج پر چلنے کی اجازت حاصل ہے)۔ حضرت عمر نے فرمایاـ: پھر ان کو چھوڑدو، کیوںکہ اس وقت عمر اور آلِ عمر سب کو حضرت ابو عبیدہ کی اطاعت کرنی پڑے گی۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت زبیرؓ سے دوڑ میں مقابلہ کیا تو حضرت زبیر آگے نکل گئے اور انھوں نے کہا: ربّ کعبہ کی قسم! میں آپ سے آگے نکل گیا۔ پھر حضرت عمر نے ان سے دوبارہ مقابلہ کیا، اس مرتبہ حضرت عمر آگے نکل گئے تو انھوں نے کہا: ربّ کعبہ کی قسم! میں آپ سے آگے نکل گیا۔2
حضرت سلیم بن حنظلہ ؓکہتے ہیں کہ ہم حدیثیں سننے کے لیے حضرت اُبیّ بن کعب ؓ کے پاس گئے۔ جب (حدیثیں) سنا کر حضرت اُبیّ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوکر چلنے لگے۔ حضرت عمرؓ ان سے ملے اور انھوں نے فرمایا: ـکیا تمھیں اس بات کا خیال نہیں ہے کہ لوگوں کا تمہارے ساتھ چلنا خود تمہارے لیے فتنے اور بگڑنے کا سبب ہے اور ان کے لیے ذلت کا ذریعہ۔3
حضرت ابو البَخْترَِی ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت سلمانؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا: آج لوگوں کا معاملہ کتنا عمدہ ہے۔ میں سفر سے آرہا ہوں، اﷲ کی قسم! میں جس کے ہاں بھی ٹھہرا مجھے ایسے لگا کہ جیسے کہ میں اپنے باپ کے بیٹے کے ہاں ٹھہرا ہوں، ہر ایک نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا اور بڑی مہر بانی سے پیش آیا۔ حضرت سلمان نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! یہ ایمان کے تازہ او ر عمدہ ہونے کی نشانی ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جب جانور پر سامان لادا جائے (اور سفر قریب کا ہو، جانور بھی تازہ دم ہو) تو پھر جانور سامان لے کرخوب تیز چلتا ہے۔ اور جب سفر لمبا ہو (اور جانور تھک چکا ہو) تو پھر جانور رُک رُک کر چلتا ہے اور پیچھے رہ جاتا ہے (اس لیے ایمان کو تازہ کرتے رہو اور اسے عمدہ بناتے رہو)۔1
حضرت حیّہ بنتِ ابی حیّہؓکہتی ہیں کہ ایک دن عین دوپہر کے وقت ایک آدمی میرے پاس اندر آیا۔ میں نے کہا: اے اﷲ کے بندے! تمھیں کیا ضرورت پیش آگئی؟ انھوں نے کہا: میں اور میرا ایک ساتھی ہم دونوں اپنے اُونٹ ڈھونڈنے آئے ہیں۔ میرا ساتھی اُونٹ تلاش کرنے چلا گیا ہے اور میں یہاں سایہ میں آیا ہوں تاکہ کچھ دیر سائے میں بیٹھ جائوں اور کچھ پی بھی لوں۔ میں نے کھڑے ہو کر انھیں تھوڑی سی لسی پلائی اور انھیں پہچاننے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: اے اﷲکے بندے! آپ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: ابوبکر۔ میں نے کہا: وہی ابوبکر جو حضورﷺ کے خاص صحابی ہیں جن کا میں سن بھی چکی ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میں نے انھیں بتایا کہ زمانۂ جاہلیت میں ہماری قبیلہ خثعم کے ساتھ لڑائی رہتی تھی اور ہم آپس میں بھی لڑتے رہتے تھے، لیکن اب اﷲ تعالیٰ نے ہمیں آپس میں اُلفت ومحبت نصیب فرما دی (یہ سب اسلام کی برکت ہے)۔ میں نے کہا: اے اﷲ کے بندے! لوگوں میں یہ اُلفت ومحبت کب تک رہے گی؟ انھوں نے فرمایا: جب تک امام سیدھے رہیں گے۔ میں نے پوچھا: امام کون ہوتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہر قبیلہ میں ایک سر دار ہوتا ہے جس کے پیچھے لوگ چلتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں؟ یہی وہ لوگ ہیں، جب تک یہ ٹھیک چلتے رہیں گے لوگوں میں تمام کام ٹھیک رہیں گے۔2
حضرت حارث بن معاویہؓ کہتے ہیں کہ میں (ملکِ شام سے) حضرت عمر خطّاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھ سے حضرت عمر نے پوچھا: تم نے شام والوں کو کس حال میں چھوڑا؟ میں نے انھیں شام والوں کا حال بتایا تو انھوں نے اﷲ کا شکر ادا کیا اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: شاید تم لوگ مشرکوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ میں نے کہا: نہیںاے امیر المؤمنین! حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم مشرکوں کے ساتھ بیٹھنے لگو گے تو تم ان کے ساتھ کھانے پینے لگ جائو گے، اور تم لوگ اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تم یہ (ان کے ساتھ کھانے پینے کا) کام نہیں کرو گے۔1
حضرت عیاض ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓکو اس بات کا حکم دیا کہ وہ اپنا سارا لین دین کھال کے ایک ٹکڑے پر لکھ کر حضرت عمر کو پیش کریں۔ حضرت ابو موسیٰ کا ایک نصرانی منشی تھا، اس نے سارا حساب لکھ کر حضرت عمر کو پیش کیاجو حضرت عمر کو بہت پسند آیا۔ اور حضرت عمر نے فرمایا: اس کا حافظہ بڑا تیز ہے۔ (پھر اس منشی سے کہا:) ہمارے پاس ملکِ شام سے ایک خط آیا ہے، کیا تم چل کر مسجد میں ہمیں وہ خط پڑھ دو گے؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: یہ تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ حضرت عمر نے فرمایا:کیوں، کیا یہ جنبی ہے؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: نہیں، یہ تو نصرانی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مار کر کہا: اسے یہاں سے نکال دو۔ پھر یہ آیت پڑھی: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰی اَوْلِیَآئَ}2
اے ایمان والو! تم یہود ونصارٰی کو دوست مت بنانا۔3