صحابہ کرام ؓ کا ایمان
اللہ اور رسول ﷺ کی بات کو سچا ماننا، اور اس کے مقابلہ میں انسانی تجربات اور اپنے مشاہدات کو غلط سمجھنا
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میرے بھا ئی کو دست آرہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے شہد پِلاؤ (کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فر مایاہے کہ شہدمیں لوگوں کے لیے شِفا ہے)۔ وہ آدمی گیا اور اس نے جا کر اپنے بھائی کو شہد پلایا اور پھر آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسے شہد پلا یا اس سے تو دست اور زیادہ آنے لگے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جاؤاور اسے شہد پلاؤ۔ اس نے جاکر شہد پلایا اور پھر آکر عرض کیا: یارسول اللہ! اس کو تو دست اور زیادہ آنے لگے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ سچ فرماتے ہیں اور تمہارے بھائی کا پیٹ غلط کہتا ہے۔ جاؤ اسے شہد پلاؤ۔ اب جا کر اس نے بھائی کو شہد پلایا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔3
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی بیوی حضرت ز ینب ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ جب ضرورت پوری کرکے گھر واپس آتے اور دروازے پر پہنچتے تو کھنکار تے اور تھوکتے تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک اندر آئیں اور ہمیں کسی نامناسب حالت میں دیکھ لیں۔ چناںچہ وہ ایک دن آئے اور انھوں نے کھنکار ا اس وقت میرے پاس ایک بوڑھی عورت تھی جو پِتْ کا منتر پڑھ کر مجھ پردم کر رہی تھی۔ میں نے اسے پلنگ کے نیچے چھپادیا۔ حضرت عبد اللہ اندر آکر میرے پاس بیٹھ گئے۔ ان کو میری گردن میں ایک دھاگہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا:یہ دھاگہ کیسا ہے؟ میں نے کہا: اس پر منتر پڑھ کر کسی نے مجھے دیا ہے۔ انھوں نے دھاگہ پکڑ کر کاٹ دیا اور فرمایا: عبد اللہ کے گھر والوں کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرما تے ہوئے سنا کہ منتر، تعویز اور گنڈا یہ سب شرک ہے (بشرطیکہ ان چیز وں کو ہی خود اثر کرنے والا سمجھے)۔ میں نے ان سے کہا: آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ میری آنکھ دکھنے آتی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی وہ د م کیا کرتا تھا، جب بھی وہ دم کر تا میری آنکھ ٹھیک ہوجاتی۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: یہ سب کچھ شیطان کی طرف سے تھا۔ شیطان تمہاری آنکھ پر ہاتھ سے کوچا مارتا تھا (جس سے آنکھ دُکھنے لگ جاتی تھی)۔ جب وہ یہودی دم کرتا تو وہ اپنا ہاتھ پیچھے ہٹالیتا (جس سے آنکھ ٹھیک ہوجاتی)۔ تمھیں یہ کافی تھا کہ تم اس موقع پر یہ دعا پڑھ لیتیں جو کہ حضورﷺ پڑھا کرتے تھے: أَذْھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ وَأَنتَ الشَّافِيْ لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَماً۔1
حضرت عِکرِمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ رواحہ ؓ اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے ان کی باندی گھر کے کونے میں (سورہی) تھی۔ یہ اٹھ کر اس کے پاس چلے گئے اور اس میں مشغول ہوگئے۔ ان کی بیوی گھبرا کر اٹھی اور ان کو بستر پر نہ پایا تو وہ اٹھ کر باہر چلی گئی اور انھیں باندی میں مشغول دیکھا۔ وہ اندر واپس آئی اور چھری لے کر باہر نکلی۔ اتنے میں یہ فارغ ہو کر کھڑے ہوچکے تھے اور اپنی بیوی کو راستے میں ملے۔ بیوی نے چھری اٹھا ئی ہوئی تھی۔ انھوں نے پوچھا:کیا بات ہے؟ بیوی نے کہا: ہاں کیابات ہے! اگر میں تمھیں وہاں پالیتی جہاں میں نے تمھیں دیکھا تھا تو میں تمہارے کندھوں کے درمیان یہ چھری گھونپ دیتی۔ حضرت ابنِ رواحہ نے کہا: تم نے مجھے کہاں دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے تمھیں باندی کے پاس دیکھا تھا۔ حضرت ابنِ رواحہ نے کہا: تم نے مجھے وہاں نہیں دیکھا تھا (میں باندی کے پاس نہیں گیا، میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ اگر میں نے اس کے ساتھ کچھ کیا ہوتا تو میں جنبی ہوتا) اور حضورﷺ نے حالتِ جنابت میں قرآن پڑھنے سے ہمیں منع فرمایا ہے (اور میں ابھی قرآن پڑھ کر تمھیں سنادیتا ہوں)۔ ان کی بیوی نے کہا: اچھا، قرآن پڑھو۔ انھوں نے یہ اشعار (اس طرح سے) پڑھے کہ ان کی بیوی قرآن سمجھتی رہی (محبت بڑھانے کے لیے میاں بیوی کا آپس میں جھوٹ بولنا جائز ہے):
أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ یَتْلُوْ کِتَابَہٗ
کَمَا لَاحَ مَشْھُوْرٌ مِّنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
ہمارے پاس اللہ کے رسول(ﷺ) آئے جو اللہ کی ایسی کتاب پڑھتے ہیں جوکہ روشن اور چمک دار صبح کی طرح چمکتی ہے۔
أَتَی بِالْھُدَی بَعْدَ الْعَمَی فَقُلُوْبُنَا
بِہِ مُوْقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ
آپ لوگوں کے اندھے پن کے بعد ہدایت لے کر آئے اور ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ ہو کررہے گا۔
یَبِیْتُ یُجَافِيْ جَنْبُہُ عَنْ فِرَاشِہِ
إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِکِیْنَ الْمَضَاجِعُ
جب مشرکین بستروں پر گہر ی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت آپ عبادت میں ساری رات گزاردیتے ہیں اور آپ کا پہلو بستر سے دور رہتا ہے۔
یہ اشعار سن کر ان کی بیوی نے کہا: میں اللہ پر ایمان لاتی ہوں اور میں اپنی نگاہ کو غلط قرار دیتی ہوں۔ پھر صبح کو حضرت ابنِ رواحہ نے حضورﷺ کی خدمت میں جاکر یہ واقعہ سنایا تو حضورﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دند انِ مبارک نظر آنے لگے۔1
حضرت حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل ؓ سے کچھ پو چھنے گیا۔ انھوں نے کہا:ہم جنگِ صِفّین میں تھے تو ایک آدمی نے کہا: کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی کتاب کی طرف بلائے جارہے ہیں؟ اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا: ہاں (میں نے انھیں دیکھا ہے)۔ حضرت سہل بن حُنیف ؓ نے (اس آدمی کو) کہا:اپنے آپ کو قصور وار ٹھہراؤ، کیوںکہ ہم نے صلحِ حدیبیہ کے دن جس دن حضورﷺ اور مشرکوں کے درمیان صلح ہوئی تھی، یہ دیکھا تھا کہ اگر ہم لڑنا مفید سمجھتے تو ہم مشرکوں سے لڑسکتے تھے (لیکن ہم نے مفید نہ سمجھا۔ صلح کے بعد) حضرت عمر ؓ نے (حضورﷺ کی خدمت میں) عرض کیا:کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: پھر ہمیں ہمارے دین میں کیوں دبایا جارہا ہے؟ اور ابھی اللہ نے ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا تو ہم واپس کیوں جارہے ہیں؟ حضورﷺ نے فر مایا: اے ابنِ خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں،مجھے اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں ہونے دیںگے۔ (اس سے حضرت عمر کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا، بلکہ) وہ غصہ میں بھرے سیدھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے اوران سے کہا: اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور یہ مشرک باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں ہر گز ضائع نہیں ہونے دیںگے۔ پھر سورۃ الفتح نازل ہوئی۔1
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت سہل بن حُنیف ؓ نے کہا: اے لوگو! اپنی رائے کو ناقص سمجھو، میں نے حضرت ابو جندل ؓ (کے مشرکوں کی طرف واپس کیے جانے) کے دن دیکھا (کہ جب حضورﷺ نے انھیں مشرکوں کی طرف واپس کرنے کو مان لیا تو مجھے اس سے اتنی زیادہ گرانی ہوئی) کہ حضورﷺ کی بات کے انکا رکی اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو اس دن میں ضرور انکا ر کردیتا۔ ایک روایت میں ہے کہ پھر سورتِ فتح نازل ہوئی تو حضورﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو بلایا اور انھیں سورتِ فتح پڑھ کر سنائی۔2
اور ’’دعوت الی اللہ‘‘ کے باب میں صلحِ حدیبیہ کے قصہ میں ’’بخاری‘‘ کی لمبی حدیث گذرچکی ہے جسے حضرت مِسور بن مخرمہ اور حضرت مروان ؓ روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوجندلؓ نے کہا: اے مسلمانو! میں تو مسلمان ہوکر آیا تھا اور اب مجھے مشرکوں کی طرف واپس کیا جارہا ہے۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ میں کتنی مصیبتیں اٹھا رہا ہوں؟ اور واقعی انھیں اللہ کی خاطر سخت مصیبتیں پہنچائی گئی تھیں۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضو ر ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ کیا آپ اللہ کے بر حق نبی نہیں ہیں؟ حضو ر ﷺ نے فرمایا: ہو ں۔ پھر میں نے کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے عرض کیا: پھر ہم کیوں اتنا دب کر صلح کریں؟ آ پ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافر مانی نہیں کر سکتااور وہی میرا مدد گار ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیتُ اللہ جاکر اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے کہا تھا، لیکن کیا میں نے تم کو یہ بھی کہاتھا کہ ہم اسی سال بیتُ اللہ جائیں گے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرما یا: تم بیتُ اللہ ضرور جاؤگے اور اس کا طواف کروگے۔
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے بر حق نبی نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا:ہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کہا: پھر ہم کیوں اتنا دب کر صلح کریں؟ حضرت ابوبکر نے کہا: اے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتے، اور اللہ ان کا مددگارہے۔ تم ان کا دامن مضبوطی سے تھا مے رکھو، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا انھوں نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیتُ اللہ جاکر اس کاطواف کریں گے؟ انھوں نے کہا: ہاں، انھوں نے کہا تھا، لیکن کیا انھوں نے تم سے یہ بھی کہاتھا کہ تم اسی سال بیتُ اللہ جاؤگے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم بیتُ اللہ ضرور جاؤگے اور اس کا طواف کروگے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں: میں نے اپنی اس گستاخی کی معافی کے لیے بہت سے اعمالِ خیر کیے۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ سے واپسی پر نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی:
{لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ}1
تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمادے۔
حضورﷺ نے فرمایا: آج مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے روئے زمین کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر حضورﷺ نے صحابہؓ کو یہ آیت سنائی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو یہ خو ش خبری مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے، لیکن یہ نہ پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے۔ اس پر حضورﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی:
{لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ} سے لے کر {فَوْزًا عَظِیْمًاآیت کا نشان} تک۔2
تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشت میں داخل کرے جن کے نیچے نہر یں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ کو رہیں گے، اور تاکہ ان کے گناہ دور کردے، اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حُدیبیہ سے واپسی میں یہ آیت حضورﷺ پر نازل ہوئی:
{اِنَّا فَتَحْنَا لَکََ فَتْحًا مُّبِیْنًاآیت کا نشان}4
بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی۔
حضورﷺ نے صحابہ کو (بیتُ اللہ کے قریب پہنچ کر) عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا، اور حضور ﷺ اور صحابہ ؓ نے حدیبیہ میں قربانی کے جانور ذبح کردیے تھے، اور سب پر بہت زیادہ رنج وغم طاری تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ اور پھر حضورﷺ نے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًاآیت کا نشان لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تاَخَّرَ} سے لے کر {عَزِیْزًاآیت کا نشان}تک۔ حضور ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ کو مبارک ہو۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔1
حضرت مُجمِّع بن جاریہ انصاری ؓ پورا قرآن پڑھے ہوئے قاریوں میں سے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم صلحِ حدیبیہ کے وقت موجود تھے۔ جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اونٹوں کو دوڑا رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے دوسرے سے پوچھا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا؟ (یہ اونٹ اتنے تیز کیوں دوڑارہے ہیں؟) ان لوگوں نے بتایا کہ حضورﷺ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ تو ہم بھی اُن لوگوں کے ساتھ سواریاں تیزدوڑانے لگے۔ جب حضورﷺ کے پاس پہنچے تو حضورﷺ کُراعُ الغمیم مقام کے نزدیک اپنی سواری پر تشریف فرماتھے۔ آہستہ آہستہ لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ پھر آپ نے { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًاآیت کا نشان} پڑھ کر سنائی۔ حضورﷺ کے پاس صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ فتح تھی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! یہ یقینا زبردست فتح تھی۔آگے او ربھی حدیث ہے۔2
حضرت براء ؓ فرما تے ہیں کہ تم لوگ فتح مکہ کو بڑی فتح سمجھتے ہو۔ فتحِ مکہ بھی بڑی فتح ہے، لیکن ہم صلحِ حدیبیہ کے دن جو بیعتُ الرضوان ہوئی تھی اسے سب سے بڑی فتح سمجھتے ہیں۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔3
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: ہم بڑی فتح صرف صلحِ حدیبیہ کو ہی شمار کر تے تھے۔
حضرت قیس بن حجّاج اپنے ایک استاد سے نقل کر تے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مصر فتح کر لیا اور مصری مہینوں میں سے بُونہ نامی مہینہ شروع ہو گیا، تو مسلمانوںکے امیر حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس مصر والے آئے اور انھوں نے کہا: اے امیر صاحب! ہمارے اس دریائے نیل کے جاری رہنے کے لیے ایک پرانی رسم ہے۔ وہ رسم ہم ادانہ کر یں تودریائے نیل کا پانی خشک ہوجاتا ہے۔ حضر ت عمرو نے فر مایا: وہ رسم کیا ہے؟ مصر والوں نے کہا: وہ رسم یہ ہے جب اس (بُونہ) مہینے کی بارہ تاریخ ہو جاتی ہے تو ہم ایک کنواری لڑکی کو تلاش کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ کے پاس رہتی ہو۔ اس کے ماںباپ کو (بہت سامال دے کر) راضی کر تے ہیں، پھر اس لڑکی کو سب سے عمدہ زیور اور کپڑے پہنا تے ہیں، اور پھر اسے دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمرو ؓ نے ان سے فرمایا: یہ کام اسلام میں نہیں ہو سکتا۔ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام غلط کا موں کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ مصری لوگ بُونہ مہینے میں وہاں ہی رہے۔ دریائے نیل میں پانی بالکل نہیں تھا، بالآخر مصریوں نے مصر چھوڑ کرجانے کا ارادہ کر لیا۔ حضرت عمرو نے حضرت عمر بن خطابؓ کو خط میں یہ ساری تفصیل لکھ کر بھیجی۔ حضرت عمر نے جواب میں یہ لکھا کہ تم نے جو کیا وہ بالکل ٹھیک ہے اور میں اس خط کے ساتھ ایک پرچہ بھیج رہا ہوں اسے دریائے نیل میں ڈال دو۔ پھر آگے اور حدیث بھی ہے جیسے کہ تائیداتِ غیبیہ کے باب میں دریاؤں کے مسخر ہونے کے ذیل میں آئے گی۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ حضرت عمروؓ نے وہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیا (یہ جمعہ کا دن تھا)۔ ہفتہ کے دن صبح کو لوگوں نے جاکر دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کہ ایک ہی رات میں اللہ تعا لیٰ نے دریائے نیل میں سولہ ہاتھ پانی چڑھا دیا تھا، اور یوں اللہ تعالیٰ نے مصر والوں کی اس غلط رسم کو ختم کرا دیا اور آج تک وہ رسم ختم ہے (اس کے بغیر ہی دریائے نیل میں مسلسل پانی چل رہا ہے)۔1
حضرت سہم بن منجاب کہتے ہیں کہ ہم حضرت عَلاء بن حضرمی ؓ کے ساتھ ایک غزوے میں گئے۔ ہم چلتے چلتے دارین (جزیرے) کے پاس پہنچ گئے۔ ہمارے اور دارین والوں کے درمیان سمندرتھا۔ حضرت عَلاء نے یہ دعا مانگی:
یَا عَلِیْمُ یَا حَلِیْمُ یَا عَلِيُّ یَا عَظِیْمُ! ہم تیرے بندے ہیں اور تیرے راستہ میں ہیں۔ تیرے دشمن سے جنگ کر نے آئے ہیں۔ اے اللہ! دشمن تک پہنچنے کا ہمارے لیے راستہ بنادے۔
اس کے بعد حضرت عَلاء ہمیں لے کر سمند ر میں اتر گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گھس گئے، لیکن سمندر کاپانی ہماری زین کے نَمدوں تک بھی نہیں پہنچا اور ہم لوگ اُن تک پہنچ گئے۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی اس جیسی حدیث منقول ہے۔ اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ کسریٰ کے گورنر ابن مُکَعْبِر نے جب ہمیں (یوں سمندر پر چل کر آتے ہوئے) دیکھا تو اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم ان لو گوں سے نہیں لڑ سکتے (ان کے ساتھ اللہ کی غیبی مدد ہے)۔ پھر وہ کشتی میںبیٹھ کر فارس چلا گیا۔2
اور عن قریب جنگِ قادسیہ کے دن حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے دریائے دجلہ پار کرنے کے بارے میںاحادیث آئیں گی۔ اور ان میں حضرت حُجر بن عدی ؓ کا یہ قول بھی آئے گا کہ آپ لوگوں کو پار کر کے دشمن تک پہنچنے سے صرف پانی کی یہ بوند یعنی دریائے دجلہ روک رہا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی:
{وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلاً}3
اور کسی شخص کو موت آنا ممکن نہیں بدون حکم اللہ تعا لیٰ کے، اس طور سے کہ اس کی میعاد معیّن لکھی ہوئی رہتی ہے۔
پھر حضرت حُجر بن عدی ؓ نے اپنا گھوڑا دریا ئے دجلہ میں ڈال دیا۔ جب انھوں نے ڈالا تو تمام لوگوں نے اپنے جانوردریامیں ڈال دیے۔ جب دشمن کے لوگوں نے ان کو (یوں دریاپر چل کر) آتے ہوئے دیکھا تو وہ کہنے لگے: دیو آگئے دیو آگئے۔ اور دشمن کے لوگ (آخر کار) بھاگ گئے۔4
حضرت معاویہ بن حَرمل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (مدینہ منورہ کے پتھر یلے میدان) حرہ میں آگ نکلی تو حضرت عمرؓ حضرت تمیمؓ کے پاس گئے، اور ان سے فرمایا کہ اٹھو اور اس آگ کا انتظام کرو۔ حضرت تمیم نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں کون ہوں؟ میں کیا ہوں؟ (تواضع کرنے لگے)۔ حضرت عمر اُن پر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت تمیم کھڑے ہوئے اور دونوں آگ کی طرف چل پڑ ے اور میں ان کے پیچھے چلنے لگا۔ وہاں پہنچ کر حضرت تمیم آگ کو اپنے ہاتھ سے دھکا دیتے رہے یہاں تک کہ وہ آگ (اس) گھاٹی میں داخل ہوگئی (جس میں سے نکل کر آئی تھی) اور آگ کے پیچھے حضرت تمیم بھی گھاٹی کے اندر چلے گئے۔ یہ دیکھ کر حضر ت عمر فرمانے لگے کہ جس نے یہ منظر نہیں دیکھا وہ دیکھنے والے کے برابر نہیں ہو سکتا (کیوںکہ اسے دیکھ کر ایمان تازہ ہوگیا ہے)۔1
بحرین کے ایک صاحب ابو سکینہ نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کر تے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو (خندق کھود تے ہوئے) صحابہ ؓ کے سامنے ایک چٹان آگئی جس نے صحابہ کو خندق کھود نے سے روک دیا۔ حضورﷺ خندق کے ایک کنارے چادر رکھ کر کھڑے ہوئے اور کدال لے کر یہ آیت پڑھی:
{وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًاط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖج وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ آیت کا نشان}2
اور آپ کے ربّ کا کلام واقفیت اور اعتدال کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلام کا کوئی بدلنے والا نہیںاور وہ خوب سن رہے ہیں خوب جان رہے ہیں۔
اور آپ نے زور سے کدال چٹان پر ماری اس سے چٹان کا تہائی حصہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ حضرت سلمان فارسیؓکھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ حضورﷺ کے کدال مارنے کے سا تھ ایک چمک ظاہر ہوئی۔ پھر آپ نے دوبارہ وہی آیت پڑ ھ کر کدال ماری تو چٹان کا دوسرا تہائی حصہ بھی ٹوٹ کر گرپڑا اور پھر دوبارہ ایک چمک ظاہر ہوئی جسے حضرت سلمان نے دیکھا۔ حضورﷺ نے تیسری مرتبہ وہی آیت پڑھ کر کدال ماری تو چٹان کا آخری تیسرا حصہ بھی ٹوٹ کر گرپڑا۔ پھر حضورﷺ خندق سے باہر تشریف لائے اور اپنی چادر لے کر بیٹھ گئے۔
حضرت سلمان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ آپ جب بھی چٹان پر چوٹ مارتے تو اس کے ساتھ ایک چمک ظاہر ہو تی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے سلمان! کیا تم نے اسے دیکھ لیا؟ حضرت سلمان نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ حق دے کر بھیجا ہے! ہاں، میں نے اسے دیکھا ہے۔ حضورﷺ نے فرما یا: جب میں نے پہلی دفعہ چوٹ ماری تھی تو اس وقت کسریٰ کا شہر مدائن، اور اس کے آس پاس کے علاقے اور بہت سارے شہر میرے سامنے ظاہر کردیے گئے جنھیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہا ں جو صحابہ اس وقت موجود تھے انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ! آپ اللہ سے یہ دعا کر یں کہ وہ یہ تمام شہر فتح کرکے ہمیں دے دے اور ان کی اولاد کو ہمارے لیے مالِ غنیمت بنادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں اجاڑدے۔ چناںچہ آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی اور فر مایا: پھر میں نے دوسری مرتبہ چوٹ ماری تو قیصر کے شہرا ور آس پاس کے علاقے میرے سامنے ظاہر کردیے گئے جنھیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ اللہ سے یہ دعا کریں کہ وہ یہ تمام علاقے فتح کر کے ہمیں دے دے اور ان کی اولاد کو ہمارے لیے مالِ غنیمت بنادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں اجاڑدے۔ چناں چہ آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی اور فرمایا: پھر میں نے تیسری مرتبہ چوٹ ماری تو حبشہ کے شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے میرے سامنے ظاہر کیے گئے جنھیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: جب تک حبشہ والے تمھیں چھوڑ ے رکھیں تم بھی انھیں چھوڑ ے رکھو اور جب تک تُرک تمھیں چھوڑے رکھیں تم بھی انھیں چھوڑے رکھو۔ یہ حکم شروع میں تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا (اور ہر ملک میں جانے کا حکم آگیا)۔1
حضرت عمرو بن عوف مُزنی ؓ ایک حدیث ذکر فرماتے ہیں جس میں یہ مضمون ہے کہ پھر حضور ﷺ تشریف لائے اور حضرت سلمان ؓ سے کدال لے کر اس زور سے ماری کہ چٹان ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، اور اس میں سے ایک روشنی نکلی جس سے سارا مدینہ روشن ہو گیا اور ایسے لگا کہ جیسے اندھیری رات میں چراغ جل رہا ہو، اور حضورﷺ نے ایسے تکبیر کہی جیسے دشمن پر فتح کے وقت کہی جاتی ہے اور مسلمانوں نے بھی تکبیر کہی۔ حضورﷺ نے دوبارہ کدال ماری تو پھر ایسے ہی ہوا۔ حضورﷺ نے تیسری مرتبہ کدال ماری تو پھر ایسے ہی ہوا۔ پھر حضرت سلمان اور مسلمانوں نے حضورﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اور اس روشنی کے بارے میں حضورﷺ سے پوچھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: پہلی چوٹ لگا نے سے میرے سامنے حِیرہ مقام کے محل اور کسریٰ کا مدائن ایسے روشن ہوگئے جیسے کتے کے نوک دار دانت چمکتے ہیں، اور حضرت جبرائیل ؑ نے مجھے بتایا کہ میری اُمت ان پر غلبہ حاصل کرے گی۔ اور دوسری چوٹ لگانے سے روم کے سرخ محل ایسے روشن ہو گئے جیسے کہ کتے کے نوک دار دانت چمکتے ہیں، اور حضرت جبرئیل ؑ نے مجھے بتایا کہ میری اُمت ان پر غلبہ حاصل کرے گی۔ اور تیسری مرتبہ چوٹ لگا نے سے صنعاء کے محل ایسے روشن ہوگئے جیسے کہ کتے کے نوک دار دانت چمکتے ہیں، اور حضرت جبرائیل ؑ نے مجھے بتایا کہ میری اُمت ان پر غلبہ حاصل کرے گی، اس لیے تم سب خوش خبری حاصل کرو۔ یہ سن کر تمام مسلمان بہت خوش ہوئے اور انھوں نے کہا: الحمد للہ! سچا وعدہ ہے۔ اور جب کفار کی جماعتیں خندق پر پہنچیں تو مسلمانوں نے کہا: یہ تو وہ ہورہا ہے جس کی ہمیں اللہ اور اس کے رسولﷺ نے خبردی تھی، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے سچ فرمایا تھا۔ (اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) اس واقعہ نے مسلمانوں کے ایمان اور اطاعت کو اور بڑھا دیا۔ اور منافقوں نے کہا: تمہارے رسول تمھیں یہ بتارہے ہیں کہ وہ یثرب یعنی مدینہ سے ہی حِیرہ کے محل اور کسریٰ کا مدائن دیکھ رہے ہیں، اور وہ فتح ہوکر تمھیںملیںگے، اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم لوگ خندق کھود رہے ہو اور تم لوگ تو میدان میں ان کے سامنے جا ہی نہیں سکتے۔ اس پر منافقوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْراً آیت کا نشان}1
اور جب کہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ نے اور اس کے رسول نے محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔1
’’تائیداتِ غیبیہ ‘‘کے باب میں غزوات میں کھانے کی برکت کے عنوان میں حضرت ابنِ عباس ؓ کی ایک لمبی حدیث آرہی ہے۔ جس میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے چھوڑو، سب سے پہلے میں اس پتھر پر چوٹ ماروں گا۔ چناںچہ آ پ نے بسم اللہ پڑھی اور اس پتھر پر ایسی چوٹ ماری جس سے اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ کرگر گیا اور آپ نے فرمایا: اللہ اکبر! ربِّ کعبہ کی قسم! روم کے محلات۔ آپ نے پھر اس پر ایسی چوٹ ماری جس سے ایک اور ٹکڑا ٹوٹ کرگرپڑا۔آپ نے فرمایا: اللہ اکبر! ربِّ کعبہ کی قسم! فارس کے محلات۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ ہم تو (اپنی جان بچانے کے لیے) اپنے ارد گرد خندق کھود رہے ہیں، اور یہ ہم سے فارس اور روم کے محلات کا وعدہ کررہے ہیں۔2
اور عن قریب ’’تائیداتِ غیبیہ ‘‘ کے باب میں زہر کے اثر نہ ہونے کے عنوان میں یہ مضمون آئے گا کہ حضرت خالد ؓ نے زہر پیا اور فرمایا: کوئی انسان اپنے وقت سے پہلے نہیں مرسکتا۔ اور یہ بھی آئے گا کہ عمرو ؓ نے کہا: اے عربوں کی جماعت! جب تک تمہارے طبقہ (صحابہ) کا ایک فرد بھی باقی رہے گا، تم جس کام یا ملک کا ارادہ کروگے اس کے مالک بن جاؤگے۔ اوریہ بھی آئے گا کہ عمروؓ نے حِیرہ والوں سے کہا: میں نے آج جیسا واضح دلیل والا دن کبھی نہیں دیکھا۔ اور نصرتِ خداوندی کے اسباب کے باب میں آئے گا کہ حضرت ثابت بن اقرمؓ نے کہا: اے ابوہریر ہ! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ دشمن کی بہت زیادہ فوجیں دیکھ رہے ہیں؟ (حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں) میں نے کہا:جی ہاں۔ حضرت ثابت نے کہا: آپ ہمارے ساتھ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے؟(اللہ کی طرف سے) ہماری مدد تعداد کی کثرت کی وجہ سے نہیں ہوتی (وہ تو ایمان واعمال اور داعیانہ جذبات کی وجہ سے ہوتی ہے) اور یہ بھی آئے گا کہ ایک آدمی نے حضرت خالدؓ سے کہا: آج رومی کتنے زیادہ اور مسلمان کتنے کم ہیں۔ حضرت خالد نے کہا: نہیں، رومی کتنے کم اور مسلمان کتنے زیادہ ہیں۔ لشکر نصرتِ خداوندی سے زیادہ ہوتے ہیں اور نصرتِ خداوندی سے محروم ہوں توکم ہوجاتے ہیں۔ کثرت اور قلت کا دارومدار انسانوں کی تعداد پر نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میرا اَشقَرنامی گھوڑا تندرست ہوجائے اور رومیوں کی تعداد دگنی ہوجائے۔ اور یہ بھی آئے گا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمرو بن العاص ؓکو یہ خط لکھا:
اما بعد! تمہارا خط میرے پاس آیا جس میں تم نے لکھا ہے کہ رومیوں کے لشکر بہت زیادہ جمع ہوگئے ہیں۔ یادرکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ہماری مدد سامان کی کثرت اور لشکروں کی کثرت کی وجہ سے نہیں کی تھی۔ ہم حضورﷺ کے ساتھ غزوے میںجایا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑ ے ہوتے تھے۔ اور بعض غزوات میں اونٹ اتنے کم ہو تے تھے کہ ہم باری باری اُن پر سوار ہوتے تھے۔ اور جنگِ اُحد کے دن ہم حضورﷺ کے ساتھ تھے، ہمارے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر حضورﷺ سوار تھے اور اللہ تعالیٰ ہمارے تمام مخالفوں کے خلاف ہماری پشت پناہی کرتے تھے۔
اور پہلے یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے بڑے سخت حالات کے باوجود حضرت اسامہ ؓ کا لشکر روانہ فرمایا تھا۔ ہر طرف سے عرب ان پر ٹوٹ پڑے تھے، (چند قبائل کے سوا) سارے عرب والے مرتد ہوگئے تھے، اور نفاق ظاہر ہو گیا تھا، اور یہودیت اور نصرانیت گردن اٹھانے لگی تھی۔ اور چوںکہ حضورﷺ کے حادثۂ اِنتقال کا صدمہ تازہ تھا، اور صحابہ کی تعداد کم اور دشمن کی تعداد زیادہ تھی، اس وجہ سے صحابہ کی حالت اس بکر ی جیسی تھی جو سخت سردی والی رات میں بارش میں بھیگ گئی ہو۔ اور صحابہ نے حضرت ابوبکر ؓ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حضرت اسامہ ؓ کے لشکر کو روک لیں، لیکن حضرت ابو بکر چوںکہ صحابہ میں سب سے زیادہ سمجھ دار اور دور اندیش تھے اس وجہ سے انھوں نے کہا: کیا میں اس لشکر کو روک لوں جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا؟ اگر میں ایسا کروں تو یہ میری بہت بڑی جسارت ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! سارے عرب مجھ پر ٹوٹ پڑیں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس لشکر کو جانے سے روک دوں جسے حضورﷺ نے روانہ فرمایا تھا۔ اے اسامہ! تم اپنے لشکر کو لے کر وہاں جاؤ جہاں جانے کا تمھیں حکم ہوا تھا اور فلسطین کے جس علاقہ میں جاکر لڑنے کا حضورﷺ نے تمھیں حکم دیا تھا وہاں جاکر اہلِ موتہ سے لڑو۔ تم جنھیں یہاں چھوڑکر جارہے ہو اللہ ان کے لیے کافی ہے۔
اور غزوہ ٔ مُوتہ کے دن کے بیان میں یہ گزرچکاہے کہ جب دشمن کی تعداد دولاکھ ہوگئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی قسم! جس شہادت کو تم ناپسند کر رہے ہو (حقیقت میں) تم اسی کی تلاش میں نکلے ہو۔ ہم لوگوں سے جنگ تعداد، طاقت اور کثرت کی بنیاد پر نہیں کر تے، بلکہ ہم تولوگوں سے جنگ اس دین کی بنیاد پر کر تے ہیں جس کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزت عطافرمائی ہے۔ لہٰذا چلو دوکامیابیوں میں سے ایک کامیابی تو ضرور ملے گی، یا تو دشمن پر غلبہ یا اللہ کے راستہ کی شہادت۔ اس پر لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ابنِ رواحہ نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ اس بارے میں صحابہ ؓکے کتنے قصے اس کتاب میںجگہ جگہ موجود ہیں، بلکہ احادیثِ غزوات اور سیرت کی کتابوں میں بھی کثر ت سے موجود ہیں، لہٰذا انھیں دوبارہ ذکر کر کے ہم اس کتاب کو مزید لمبا نہیں کرنا چاہتے۔