صحابہ کرام ؓ کا ایمان

قبر اور عالمِ برزخ میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر ایمان لانا

حضرت عُبادہ بن نُسَی کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓکی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: میرے ان کپڑوں کو دھو کر مجھے ان ہی میں کفن دے دینا، کیوںکہ (مر نے کے بعد) تمہارے باپ کی دو حالتوں میں سے ایک حالت ضرور ہوگی: یا تو اسے اس سے بھی اچھے کپڑے (جنت کے) پہنائے جائیں گے، یا یہ کفن کے کپڑے بھی بری طرح چھین لیے جائیںگے۔3 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓکی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے (اظہارِ غم کے لیے) یہ شعر پڑھا: لَعَمْرُکَ مَا یُغنِيْ الثَّرَائُ عَنِ الْفَتٰی إِذَا حَشْرَجَتْ یَوْمًا وَضَاقَ بِھَا الصَّدْرُ آپ کی عمر کی قسم! جس دن موت کے وقت سانس اکھڑنے لگے اور اس کی وجہ سے سینہ گھٹنے لگے، تو اس وقت جوان آدمی کو مال کی کثرت نفع نہیں دیتی۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اے میری بِٹیا! ایسے نہ کہو، بلکہ یہ کہو: {وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ آیت کا نشان}1 اور موت کی سختی (قریب) آپہنچی۔ یہ (موت) وہ چیز ہے جس سے تو بِدکتاتھا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: میرے یہ دو کپڑے دیکھ لو، انھیں دھوکر مجھے ان ہی میں کفن دے دینا۔ کیوںکہ نئے کپڑے کی مُردے سے زیادہ زندہ کو ضرورت ہے، ان کپڑوں کو تو مُردے کے جسم کی پیپ اور خون ہی لگے گا (یا یہ کپڑے تو تھوڑی دیرکے لیے ہیں چند دن میں گل سڑ کر ختم ہو جائیں گے)۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓکی بیماری اور بڑھ گئی تو میں رونے لگی۔ پھر وہ بے ہوش ہوگئے تو میں نے یہ شعر پڑھا: مَنْ لَا یَزَالُ دَمْعُہٗ مُقَنَّعًا فَإِنَّہٗ مِنْ دَمْعِہٖ مَدْفُوْقٗ جس کے آنسو ہمیشہ رُکے رہے ہوں اس کے آنسو ایک دن ضرور بہیں گے۔ پھر ان کو ہوش آیا تو فرمایا: بات ویسے نہیں ہے جیسے تم نے کہی۔ بلکہ اے میری بِٹیا! صحیح بات وہ ہے جسے اس آیت میں بتایا گیا ہے: {وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ آیت کا نشان} پھرپوچھا: حضورﷺ کا کس دن انتقال ہو اتھا؟ میں نے عرض کیا:پیر کے دن۔ فرمایا: آج کو ن سا دن ہے؟ میں نے عرض کیا:پیر کا دن۔ فرمایا: مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اب سے لے کر رات تک کسی وقت میںاس دنیا سے چلا جاؤںگا۔ چناںچہ منگل کی رات کو ان کا انتقال ہوا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ حضورﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: ہم نے حضورﷺ کو یمن کی سحول کے بنے ہوئے تین سفید اور نئے کپڑوں میں کفن دیا تھا، ان کپڑوں میں نہ کُر تا تھا اور نہ عمامہ۔ انھوں نے فر مایا: میرے اس کپڑ ے پر زعفران کا دھبہ لگا ہوا ہے اسے دھولو، اور اس کے ساتھ دونئے کپڑے اور شامل کر لینا۔ میں نے عرض کیا: یہ کپڑا تو پرانا ہے۔ فرمایا: زندہ کو مُردے سے زیادہ نئے کپڑے کی ضرورت ہے۔کفن کے کپڑے تو جسم سے نکلنے والے خون اور پیپ سے خراب ہو جائیں گے۔1 حضرت یحییٰ بن ابی راشد نصری کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطّابؓکی وفات کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! جب مجھے موت آنے لگے تو میرے جسم کو (دائیں پہلوکی طرف) موڑدینا، اور اپنے دونوں گھٹنے میری کمر کے ساتھ لگا دینا، اور اپنا دایاں ہاتھ میری پیشانی پراور بایاں ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھ دینا۔ اور جب میری روح نکل جائے تو میری آنکھیں بند کر دینا اور مجھے درمیانے قسم کا کفن پہنا نا، کیوںکہ اگر مجھے اللہ کے ہاں خیر ملی تو پھر اللہ تعالیٰ مجھے اس سے بہتر کفن دے دیں گے، اور اگر میرے ساتھ کچھ اور ہو ا تو اللہ تعالیٰ اس کفن کو مجھ سے جلدی چھین لیںگے۔ اور میری قبر درمیانی قسم کی بنانا، کیوںکہ اگر مجھے اللہ کے ہاں خیر ملی تو پھر تو قبر کو تا حدِّ نگاہ کشادہ کردیا جائے گااور اگر معاملہ اس کے خلاف ہو ا تو پھر قبر میرے لیے اتنی تنگ کردی جا ئے گی کہ میری پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جائیںگی۔ میرے جنازے کے ساتھ کوئی عورت نہ جائے۔ اور جو خوبی مجھ میں نہیں ہے اسے مت بیان کر نا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ مجھے تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور جب تم میرے جنازے کو لے کر چلو تو تیز چلنا، کیوںکہ اگر مجھے اللہ کے ہاں سے خیر ملنے والی ہے تو مجھے اس خیر کی طرف لے جارہے ہو (اس لیے جلدی کرو) اور اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو تم ایک شرکو اٹھا کر لے جارہے ہو اسے اپنی گردن سے جلد اتارو۔2 ا مرِ خلافت کی صلاحیت رکھنے والے حضرات کے مشورے پر ا مرِ خلافت کو موقوف کردینے کے باب میں حضرت عمرؓ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب حضرت عمر ؓ نے سمجھ لیا کہ اب تو موت آنے والی ہے تو فرمایا: اب اگر میرے پاس ساری دنیا ہو تو میں اسے موت کے بعد آنے والے ہول ناک منظر کی گھبراہٹ کے بدلے میں دینے کو تیار ہوں۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عبداللہ بن عمر! میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو۔ (حضرت ابنِ عمرؓ کہتے ہیں) میں نے ان کا سر اپنی ران سے اٹھا کر اپنی پنڈلی پر رکھ دیا تو فرمایا: نہیں، میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو۔ چناںچہ انھوں نے اپنی ڈاڑھی اور رخسار کو اٹھا کر زمین پر رکھ دیا اور فرمایا: او عمر! اگر اللہ نے تیری مغفرت نہ کی تو پھر اے عمر! تیری بھی اور تیری ماں کی بھی ہلاکت ہے۔ اس کے بعد ان کی روح پرواز کرگئی۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ اس واقعہ کو طبرانی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے ایک لمبی حدیث میں نقل کیا ہے۔1 رونے کے باب میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حضرت ہانیکہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان ؓ کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ڈاڑھی تر ہوجاتی۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں تو نہیں روتے، لیکن قبر کو یاد کرکے روتے ہیں؟ آگے پوری حدیث ذکر کی۔ ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اسے حدیث حسن قرار دیا ہے۔ حضرت خالد بن ربیع کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہؓکی بیماری بڑھی تو یہ خبر ان کی جماعت اور انصار تک پہنچی۔ یہ لوگ آدھی رات کو یا صبح کے قریب حضرت حذیفہ ؓ کے پاس آئے (میں بھی ان کے ساتھ تھا)۔ حضرت حذیفہؓ نے پو چھا: اب کیا وقت ہے؟ ہم نے عرض کیا: آدھی رات ہے یا صبح کے قریب۔ انھوں نے فرمایا: میں جہنم کی صبح سے اللہ کی پناہ چاہتاہوں۔ کیا تم لوگ میرے کفن کے لیے کچھ لائے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا: کفن مہنگا نہ بنانا، کیوںکہ اگر اللہ کے ہاں میرے لیے خیر ہوئی تو مجھے اس کفن سے بہتر کپڑا مل جائے گا اور اگر دوسری صورت ہوئی تو یہ کفن مجھ سے جلدی چھین لیا جائے گا۔2 حضرت ابووائلکہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہؓکی بیماری بڑھ گئی تو بنوعبسکے کچھ لوگ ان کے پاس آئے۔ حضرت خالد بن ربیع عبسی نے مجھے بتایا: حضرت حذیفہؓ مدائن میں تھے ہم آدھی رات کو ان کے پاس گئے۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا ہے۔1 حضرت صِلہ بن زُفر کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہؓ نے مجھے اور حضرت ابو مسعود ؓ کو بھیجا۔ ہم نے ان کے کفن کے لیے دو دھاری دار منقَّش چادریں تین سو درہم میںخریدیں۔ انھوں نے ہم سے کہا: تم نے میرے لیے جو کفن خرید اہے وہ ذرا مجھے دکھاؤ۔ ہم نے انھیں وہ کفن دکھایا۔ انھوں نے کہا: یہ کفن تو میرے لیے (منا سب) نہیں ہے۔ میرے لیے تو دو سفید عام چادریں کافی تھیں ان کے ساتھ قمیص کی بھی ضرورت نہیں، کیوںکہ قبر میں تھوڑی ہی دیر گزرے گی کہ یا تو ان دوچادروں سے بہتر کفن مجھے مل جائے گا یا پھر ان سے بھی زیادہ برے کپڑے پہنادیے جائیں گے۔ چناںچہ ہم نے ان کے لیے دوسفید چادریں خریدیں۔2 ابو نُعیم کی دوسری روایت میںیہ مضمون ہے کہ حضرت حذیفہؓ نے کفن دیکھ کر فرمایا: تم اس کفن کا کیا کروگے؟ اگر تمہارا یہ ساتھی نیک ہو ا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں عمدہ کفن دے دیں گے اور اگر یہ نیک نہ ہو ا تو قبرکے دونو ں کنارے اسے قیامت تک (گیند کی طرح) پھینکتے رہیں گے۔3 حاکم کی روایت میں یہ ہے کہ اگرتمہارایہ ساتھی نیک نہ ہوا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ کفن قیامت کے دن اس کے چہرے پر ماریںگے۔ حضرت ضحاک بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو مو سیٰ اشعریؓکی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے جوانوں کو بلاکر ان سے کہا: جاؤ، اور میرے لیے خوب گہری اور چوڑی قبر کھودو۔ وہ گئے اور واپس آکر انھوں نے کہا کہ ہم خوب چوڑی اور گہری قبر کھود آئے ہیں۔ پھر انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! قبر میں دوقسم کے حالات میں سے ایک طرح کے حالات ضرور پیش آئیں گے: یا تو میری قبر کو اتنا کشادہ کردیا جائے گا کہ اس کا ہر کونہ چالیس ہاتھ لمباہوجائے گا۔ پھر میرے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا اور میں اس میں سے اپنی بیویوں، محلات اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے میرے اکرام واعزازکے لیے وہاں تیار کر رکھا ہے وہ سب کچھ دیکھوں گا۔ اور آج مجھے جتنا اپنے گھر کا راستہ آتا ہے اس سے زیادہ مجھے اپنے اس ٹھکا نے کا راستہ آتا ہوگا۔ اور قبر سے اٹھائے جا نے تک جنت کی ہوا اور راحت کا سامان مجھ تک پہنچتا رہے گا۔ اور اگر خدانخواستہ دوسری حالت ہوئی، اور اس سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، تو میری قبر کو مجھ پر اتنا تنگ کردیاجائے گا کہ جیسے نیزے کی لکڑی نیزے کے پھل میں تنگ ہوتی ہے، وہ قبر اس سے بھی زیادہ تنگ ہوگی۔ پھر میرے لیے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جائے گا اور میں اس میں سے اپنی زنجیروں، بیڑیوں اور جہنم کے قیدی ساتھیوں کو دیکھوں گا، اور آج مجھے جتنا اپنے گھر کا راستہ آتا ہے اس سے زیادہ مجھے جہنم میں اپنے ٹھکانے کا راستہ آتا ہوگا۔ اور قبر سے اٹھائے جانے تک جہنم کی گرم ہوا اور گرم پانی کا اثر مجھ تک پہنچتا رہے گا۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت اُسید بن حُضیرؓ فضیلت والے لوگوں میں سے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں تین حالتوں میں جیسا ہوتا ہوں اگر میں ہر وقت ویسا رہوں تو میں یقینا جنت والو ں میں سے ہو جاؤں اور مجھے اس میں کوئی شک نہ رہے۔ ایک وہ حالت جب کہ میں خود قرآن پڑھ رہا ہوں یا کوئی اور قرآن پڑھ رہاہو اور میں سن رہاہوں۔ دوسری وہ حالت جب کہ میں نبی کریمﷺ کا خطبہ سن رہا ہوں۔ تیسری وہ حالت جب کہ میں کسی جنازے میں شریک ہوں۔اور جب بھی میں کسی جنازے میں شریک ہوتا ہوں تو اپنے دل میں صرف یہی سوچتاہوں کہ اس جنازے کے ساتھ کیا ہوگا اور یہ جنازہ کہاں جارہا ہے؟2