صحابہ کرام ؓ کا ایمان

آخرت پر ایمان لانا

حضرت ابوہریر ہؓ فرماتے ہیںکہ ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں اور آخرت کی فکر والے بن جاتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوجاتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے، اور بیویوں اور بچوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم میرے پاس جس حالت پر ہو تے ہو اگر تم ہر وقت اس حالت پر رہو تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تم سے مصافحہ کر نے لگیں اور تمہارے گھر وں میںتم سے ملنے آئیں۔ اگرتم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لے آئیں گے جو گناہ کریں گے (اور استغفار کریں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہمیں جنت کے بارے میں بتائیں کہ اس کی عمارت کس چیز سے بنی ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ اس کا گارا خوب مہکتے ہوئے مشک کا ہے۔ اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے۔ جو جنت میں جائے گا وہ ہمیشہ عیش وعشرت میں رہے گا کبھی بدحال نہ ہوگا اور ہمیشہ رہے گا کبھی اسے موت نہیں آئے گی۔ اور نہ ہی اس کے کپڑے پرانے ہوںگے اور نہ کبھی اس کی جوانی ختم ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی: ایک عادل بادشاہ، دوسراروزہ دار جب تک روزہ نہ کھول لے، تیسرے مظلوم کی بددعا جسے بادلوں سے اوپر اٹھا لیا جاتا ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: میری عزت کی قسم! میں تیری مدد ضرور کروںگا اگرچہ اس میں کچھ دیر ہوجائے۔1 حضرت سُوَید بن غَفَلہؓکہتے ہیں کہ حضرت علیؓ پر ایک مرتبہ فاقہ آیا تو انھوں نے حضرت فاطمہؓ سے کہا: اگر تم حضورﷺ کی خدمت میں جاکر کچھ مانگ لو تو اچھا ہے۔ چناںچہ حضر ت فاطمہؓ حضورﷺ کے پاس گئیں۔ اس وقت حضورﷺ کے پاس حضرت اُمِ اَیمنؓ موجود تھیں۔ حضرت فاطمہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو حضورﷺ نے حضرت اُمِ اَیمن سے فرمایا: یہ کھٹکھٹاہٹ تو فاطمہ کی ہے۔ آج اس وقت آئی ہے پہلے تو کبھی اس وقت نہیں آیا کرتی۔ پھر حضرت فاطمہؓ اندر آگئیں اور انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ان فرشتوں کا کھا نا لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا ہے، ہمارا کھانا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے! محمد کے گھر انے کے کسی گھر میں تیس دن سے آگ نہیں جلی۔ ہمارے پاس چند بکریاں آئی ہیں اگر تم چاہو تو پانچ بکریاں تمھیں دے دوں اور اگر چاہو تو تمھیں وہ پانچ کلمات سکھادوں جو حضرت جبرئیل ؑ نے مجھے سکھائے ہیں۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا: نہیں، بلکہ مجھے تو وہی پانچ کلمات سکھادیں جو آپ کو حضرت جبرئیل ؑ نے سکھائے ہیں۔ حضورﷺ فرمایا: تم یہ کہا کرو: یَا أَوَّلَ الْأَوَّلِیْنَ! وَیَا آخِرَ الْاٰخَرِیْنَ! وَیَا ذَا الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنَ! وَیَا رَاحِمَ الْمَسَاکِیْنَ! وَیَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! پھر حضرت فاطمہ واپس چلی گئیں۔ جب حضرت علیؓ کے پاس پہنچیں تو حضرت علی نے پوچھا: کیاہوا؟ حضرت فاطمہ نے عرض کیا: میں آپ کے پاس سے دنیا لینے گئی تھی لیکن وہاں سے آخر ت لے کر آئی ہوں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: پھر تو یہ دن تمہارا سب سے بہترین دن ہے۔1 حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیںہم: لوگ ایک سفر میں حضر ت ابوموسیٰؓ کے ساتھ تھے۔ انھوں نے لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے اور فصیح و بلیغ گفتگوکر تے ہوئے سنا تو فرمایا: اے انس! مجھے ان کی باتوں سے کیا تعلق؟ آؤہم اپنے ربّ کاذکر کریں، کیوںکہ یہ لوگ تو اپنی زبان سے کھال ہی اتاردیں گے۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے انس! کس چیز نے ان لوگوں کو آخرت سے پیچھے کردیا اور کس چیز نے انھیں آخر ت سے روک دیا؟ میں نے عرض کیا: خواہشات نے اور شیطان نے۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم نہیں، بلکہ انھوں نے اس وجہ سے آخرت کو چھوڑ دیا کہ دنیا تو سامنے ہے اور آخرت بعد میں آئے گی۔ اگر یہ آنکھوں سے آخرت دیکھ لیتے تو اس سے نہ ہٹتے اور شک نہ کر تے۔1