صحابہ کرام ؓ کا ایمان

قیامت کے دن جو کچھ ہوگا اس پر ایمان لانا

حضرت عمران بن حُصَینؓ فرماتے ہیں کہ جب {یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ} سے لے کر { وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیدٌ آیت کا نشان} تک2 اے لوگو! اپنے ربّ سے ڈرو (کیوںکہ) یقینا قیامت (کے دن) کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہوگی۔ جس روز تم لوگ اس (زلزلہ) کو دیکھوگے تمام دودھ پلانے والیا ں (مارے ہیبت کے) اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائیں گی اور تمام حمل والیاں اپنا حمل (دن پورے ہونے سے پہلے) ڈال دیں گی اور (اے مخاطب!) تجھ کو لوگ نشہ کی سی حالت میں دکھائی دیں گے، حالاںکہ وہ (واقع میں) نشہ میں نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت چیز۔ دو آیتیں نازل ہوئیں تو اس وقت حضورﷺ سفر میں تھے۔ حضو ر ﷺنے فرمایا: تم لوگ جانتے ہو یہ کون سادن ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ سے فرمائیں گے: آگ میں جانے والوں کو بھیج دو۔ وہ عرض کریں گے: اے میرے ربّ! آگ میں جانے والے کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے نو سو ننانوے تو آگ میں جائیں گے اور ایک آدمی جنت میں جائے گا۔ یہ سن کر سارے مسلمان رونے لگ پڑے۔ حضورﷺ نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور ٹھیک ٹھیک چلتے رہو۔ ہرنبوت سے پہلے جاہلیت کا زمانہ ہواکر تا تھا تو پہلے یہ تعداد ان جاہلیت والوں سے پوری کی جائے گی، پھر منافقوں سے پوری کی جائے گی۔ تمہاری اور باقی تمام امتوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جانور کے پاؤں میں ابھر ی ہوئی غدود ہو، یا جیسے اونٹ کے پہلومیںتل ہو۔ پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ آپ لوگ جنت میں جانے والوںمیں سے چوتھائی ہوں گے۔ اس پر صحابہ نے اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا: مجھے امید ہے آپ لوگ جنت میں جانے والوں کا تہائی حصہ ہوں گے۔ اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ آپ لوگ جنت میں جانے والوں میں سے آدھے ہوں گے۔ صحابہ نے پھر اللہ اکبر کہا۔ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ حضورﷺ نے دوتہائی بھی فرمایا یا نہیں (لیکن طبرانی اور ترمذی کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ یہ امت جنت والوں کا دو تہائی ہوگی۔ یعنی اللہ نے حضور ﷺ کی امید سے زیادہ کردیا)۔1 اسی آیت کی تفسیر میں ’’بخاری‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے: اے آدم! وہ عرض کریں گے: اے ہمارے ربّ! میں حاضر ہوں،ہر خدمت کے لیے تیار ہوں۔ پھر ان کو بلند آواز سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ اپنی اولاد میں سے آگ میں جانے والوں کو نکالیں۔ حضرت آدم ؑ پوچھیں گے: آگ میں جانے والے کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ تو اس وقت ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور بچہ بوڑھا ہوجائے گا {وَتَرَی النَّاسَ سُکـٰـرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکـٰـرٰی وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ آیت کا نشان} (ترجمہ گزرچکا)۔ یہ سن کر صحابہ پر ایسا رنج وغم طاری ہو اکہ ان کے چہرے (غم کے مارے) بدل گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یاجوج و ماجوج میں سے نو سو ننانوے ہوںگے (جو جہنم میں جائیں گے) اور تم میں سے ایک ہوگا (جوجنت میں جائے گا)۔ تم باقی لوگوں میں ایسے ہو جیسے سفید بیل کے پہلو میں کالا بال، یا کالے بیل کے پہلومیں سفید بال۔ مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا چوتھائی حصہ ہوگے۔ اس پر ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: تم جنت والوں کا تہائی ہوگے۔ ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: تم جنت والوںکے آدھے ہوگے۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا۔2 ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ بات صحابہ پر بڑی گراں گزری اور ان پر رنج وغم طاری ہوگیا۔ حضرت ابنِ زبیرؓ فرماتے ہیں کہ جب { ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ آیت کا نشان}1 پھر قیامت کے روز تم مقدمات اپنے ربّ کے سامنے پیش کروگے (اس وقت عملی فیصلہ ہوجائے گا)۔ نازل ہوئی تو حضرت زبیر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مقدمات بار بار پیش کیے جائیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت زبیرؓ نے کہا: پھر تومعاملہ بڑا سخت ہوگا۔ ایسے ہی اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس میں مزید یہ مضمو ن بھی ہے کہ جب { ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ آیت کا نشان}2 پھر(اور بات سنو کہ) اس روزتم سب سے نعمتوں کی پوچھ ہوگی۔ نازل ہوئی تو حضرت زبیرؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم سے کس نعمت کا سوال ہوگا؟ ہمارے پاس تو صرف یہ دو سردارنعمتیں ہیں: کھجور اور پانی۔3 حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ سورت حضورﷺ پر نازل ہوئی: {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَآیت کا نشان ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَآیت کا نشان}4 آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے، پھر قیامت کے روز تم مقدمات اپنے ربّ کے سامنے پیش کروگے (اس وقت عملی فیصلہ ہوجائے گا)۔ تو حضرت زبیر بن عوام ؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! خاص خاص گناہوں کے ساتھ ہم پر وہ جھگڑے بھی باربار پیش کیے جائیں گے جو دنیا میں ہمارے آپس میں تھے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، یہ مقدما ت بار بار پیش کیے جاتے رہیں گے یہاں تک کہ ہر حق والے کو اس کا حق مل جائے۔ حضرت زبیرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔5 حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رونے لگے، پھر ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ ابنِ رواحہؓ نے کہا: تم کیوں رورہی ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا اس لیے میں بھی رونے لگی۔ حضرت ابنِ رواحہؓ نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آگیا: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا}1 اور تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا اس (جہنم) پرسے گزرنہ ہو۔ اب مجھے معلوم نہیں میں جہنم سے نجات پاسکوںگا یا نہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابنِ رواحہؓ اس وقت بیمار تھے۔2 حضرت عُبادہ بن محمد بن عُبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ جب حضرت عُبادہؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے فرمایا: میرا بستر گھر کے صحن میں باہر نکال دو۔ پھر فرمایا: میرے سارے غلام، خادم اور پڑوسی اور وہ تمام آدمی یہاں جمع کردو جو میرے پاس آیا کرتے تھے۔ جب یہ سب ان کے پاس جمع ہوگئے تو فرمایا: میرا تو یہی خیا ل ہے کہ آج کا دن میری دنیا کی زندگی کا آ خری دن ہے اور آج کی رات میری آخرت کی پہلی رات ہے۔ اور مجھے معلوم تو نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ میرے ہاتھ سے یا میری زبان سے تم لوگوں کے ساتھ کوئی زیادتی ہوگئی ہو اور اس ذ ات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! مجھے قیامت کے دن اس کا بدلہ دینا پڑے گا۔ میں پورے زور سے تم لوگوں سے درخواست کر تا ہوں کہ تم لوگوں میں سے کسی کے دل میں اگر ایسی کوئی بات ہو تو وہ میری جان کے نکلنے سے پہلے مجھ سے بدلہ لے لے۔ ان سب نے کہا: نہیں، آپ تو ہمارے لیے والد کی طرح تھے اور ہمیں ادب سکھا تے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی کسی خادم کو برا بھلا نہیں کہا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: جو کچھ بھی ہوا ہو کیا تم نے مجھے معاف کردیاہے؟ سب نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہوجا۔ پھر فرمایا: اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر میری وصیت یادرکھنا۔ میں پرزور تاکید کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بھی میرے مرنے پر ہرگزنہ روئے، بلکہ جب میری جان نکل جائے تو تم وضو کرنا اور اچھی طرح وضو کرنا، اور پھر تم میں سے ہر آدمی مسجد میں جاکر نماز پڑھے پھر عُبادہ کے لیے یعنی میرے لیے اور اپنے لیے استغفار کرے، کیوںکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ}1 صبر اور نماز سے سہارا حاصل کرو۔ پھر مجھے قبر کی طرف جلدی جلدی لے جانا۔ میرے جنازے کے پیچھے آگ لے کرنہ چلنا اور نہ میرے نیچے اَرغونی رنگ کا کپڑا ڈالنا۔2 بیتُ الما ل میں سے اپنے اوپر اور اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں احتیاط برتنے کے باب میں یہ قصہ گزرچکا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ سے چار ہزار درہم ادھار مانگے تو حضرت عبد الرحمن نے حضرت عمرؓ کے قاصد سے کہا: جاکر حضرت عمر سے کہہ دو کہ ابھی وہ بیتُ المال سے چار ہزار لے لیں پھر بعد میں واپس کردیں۔ جب قاصد نے واپس آکر حضرت عمرؓکو ان کا جواب بتایا تو حضرت عمرؓکو بڑی گرانی ہوئی۔ پھر جب حضرت عمر کی حضرت عبد الرحمن سے ملاقات ہوئی تو ان سے کہا: تم نے کہا تھا کہ عمر چار ہزار بیتُ المال سے ادھار لے لے، اگر میں (بیت الما ل سے ادھار لے کر تجارتی قافلہ کے ساتھ بھیج دوں اور پھر) تجارتی قافلے کی واپسی سے پہلے مرجاؤں، تو تم لوگ کہو گے کہ امیرالمؤمنین نے چار ہزار لیے تھے اب ان کا انتقال ہوگیا ہے، اس لیے یہ ان کے چار ہزار چھوڑدو۔ (تم لوگ تو چھوڑ دوگے) اور میں ان کے بدلے قیامت کے دن پکڑاجاؤںگا۔ اور عن قریب اللہ تعالیٰ کے علم سے اور اس کے رسولﷺ کے علم سے اثر لینے کے باب میں یہ قصہ آئے گا کہ جب حضرت ابوہریرہؓ قاری، عالم، مال دار اور اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے (اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے دوزخ میں جانے کے) فیصلے والی حدیث ذکر کرتے تو اتنا زیادہ روتے کہ بے ہوش ہو جاتے اور چہرے کے بل گرجاتے، یہاں تک کہ حضرت شُفَی اَصبحی انھیں سہارا دیتے اور بہت دیر تک ان کا یہی حال رہتا۔ اور حضرت معاویہؓ جب یہ حدیث سنتے تو اتنا زیادہ روتے کہ لوگ یہ سمجھتے کہ ان کی تو اب جان نکل جائے گی۔