صحابہ کرام ؓ کا ایمان

جنت اور جہنم پر ایمان لانا

حضرت حنظلہ کاتب اُسیدی ؓ جو حضورﷺ کے کاتبوں میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے پاس تھے، حضورﷺ نے ہمارے سامنے جنت اور جہنم کاذکر اس طرح فرمایا کہ گویا ہم دونوں کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر میں اٹھ کر بیوی بچوں کے پاس چلاگیا اور ان کے ساتھ ہنسنے کھیلنے لگ گیا۔ پھر مجھے وہ حالت یاد آئی جو (حضورﷺ کے سامنے) ہماری تھی (کہ ہم دنیا بھولے ہوئے تھے، اور جنت اور جہنم آنکھوں کے سامنے تھیں، اور اب وہ نہ رہی تھیں)۔ یہ سوچ کر میںباہر نکلا تو حضرت ابوبکر ؓ مجھے ملے۔ میں نے کہا: اے ابوبکر! میں تو منافق ہوگیا۔ انھوں نے کہا: کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس ہوتے ہیں، حضورﷺ ہمارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ گویا ہم دونوں کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب ہم آپ کے پاس سے باہر آجاتے ہیں، اور بیوی بچوں اور کام کاج میں لگ جاتے ہیں تو ہم (جنت جہنم سب) بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: ہمارا بھی یہی حال ہے۔ پھر میںنے جاکر حضورﷺ کی خدمت میں یہ ساری بات ذکر کی۔ آپ نے فرمایا: اے حنظلہ! تمہاری جوحالت میرے پاس ہوتی ہے وہی اگر گھر والوں کے پاس جاکر بھی رہے تو فرشتے تم سے بستروں پر اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں، لیکن حنظلہ! بات یہ ہے کہ گاہے گاہے گاہے گاہے۔1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے حضورﷺ کے پاس جاگ کر گزاری اور صبح ہم حضورﷺ کی خدمت میں گئے۔ آپ نے فرمایا: آج رات مجھے خواب میں انبیا ؑ اور ان کی تابع دار امتیں دکھائی گئیں۔ ایک ایک نبی میرے پاس سے گزرتا تھا۔ کوئی نبی ایک جماعت میں ہوتا، کسی کے ساتھ تین آدمی ہوتے، کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ ہو تا۔ حضرت قتادہؓ نے یہ آیت پڑھی: {اَلَیْسََ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ آیت کا نشان}2 کیا تم میں کوئی بھی (معقول آدمی اور) بھلا مانس نہیں؟ پھر حضورﷺ نے فرمایا: پھر میرے پاس سے حضرت موسیٰ بن عمران ؑ بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ گزر ے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ آپ کے بھائی حضرت موسی بن عمران اور ان کے تابع دار امتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے میرے ربّ! میری اُمت کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اپنی دائیں طرف ٹیلوں میں دیکھو۔ میں نے وہاں دیکھا تو بہت سے آدمیوں کے چہرے نظر آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا آپ راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں راضی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب اپنی بائیں طرف آسمان کے کنارے میں دیکھو۔ میں نے دیکھا تو بہت سے آدمیوں کے چہرے نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کیا آپ راضی ہو گئے؟ میں نے کہا:ا ے میرے ربّ! میں راضی ہوگیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ان کے ساتھ ستّر ہزار اور بھی ہیں جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہوں گے۔ پھر قبیلہ بنو اسد کے حضرت عُکاشہ بن مِحصَنؓ جو کہ بدری تھے وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن میں شامل کردے۔ حضورﷺ نے دعا فرمائی:اے اللہ! اسے ان میں شامل فر مادے۔ پھر ایک اور آ دمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کردے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس دعا میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ پھر حضورﷺ نے صحا بہ سے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! اگر تم ستّر ہزار والوں میں سے ہوسکتے ہو تو ان میں سے ضرور ہوجاؤ۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو تم ٹیلوں والوں میں سے ہوجاؤ۔اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر ان میں سے ہوجاؤ جن کو میں نے آسمان کے کنارے میں دیکھا تھا۔ کیوںکہ میں نے ایسے بہت سے آدمی دیکھے ہیں جن کے حالات ان تین قسم کے انسانوں کے خلاف ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا چوتھائی حصہ ہوگے۔ اس پر ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنت والوں کا تہائی حصہ ہوگے۔ ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنت والو ں میں آدھے ہوگے۔ ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ پھر حضورﷺ نے یہ آیت پڑھی: {ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ آیت کا نشان وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِینَ آیت کا نشان}1 (اَصحابُ الیمین) کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میںہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میںسے ہوگا۔ حضرت عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں یہ با ت کرنے لگے کہ یہ ستّر ہزار کون ہیں؟ ہم نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میںپیدا ہو ئے اور انھوں نے زندگی میںکبھی شرک نہیں کیا۔ ہوتے ہوتے یہ بات حضورﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: نہیں یہ تو وہ لوگ ہیں جو (علاج کے لیے) جسم پر داغ نہیں لگا ئیں گے اور کبھی منتر نہیں پڑھیں گے اور نہ کبھی بد فالی لیں گے اور اپنے ربّ پر تو کل کریں گے۔1 حضرت سُلیم بن عامر کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہؓ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیہاتی لوگوں کے سوالات سے بڑا نفع پہنچاتے ہیں۔ چناںچہ ایک دن ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا: یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ایسے درخت کا ذکر کیا ہے جس سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔ حضورﷺ نے پوچھا: وہ کون سا درخت ہے؟ اس نے کہا بیری کا درخت، کیوںکہ اس میں تکلیف دہ کانٹے ہوتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ آیت کا نشان}2 وہ ان باغوںمیں ہوںگے جہاں بے خار بیریاں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے کا نٹے دور کر دیے ہیں اور ہرکا نٹے کی جگہ پھل لگا دیا ہے۔ اس درخت میں ایسے پھل لگیں گے کہ ہر پھل میں بہتّر قسم کے ذائقے ہوں گے اور ہر ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوگا۔3 حضرت عتبہ بن عبد سُلَمیؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہو ا تھا کہ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے جنت میں ایک ایسے درخت کا ذکر سنا ہے کہ میرے خیال میں اس سے زیادہ کانٹے والا درخت اور کوئی نہیں ہوگا، یعنی ببول کا درخت۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے ہر کانٹے کی جگہ بھر ے ہو ئے گوشت والے بکرے کے خُصیہ کے برابر پھل لگادیںگے اور اس پھل میں ستّر قسم کے ذائقے ہوںگے، ہر ذائقہ دوسرے سے مختلف ہوگا۔1 حضرت عُتبہ بن عبد سُلَمی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضورﷺ کی خدمت میں آیا، اور اس نے حضورﷺ سے حوض کے بارے میں پوچھا اور جنت کا تذکر ہ کیا۔پھر اس دیہاتی نے کہا:کیا اس میں پھل بھی ہوںگے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، اس میںایک درخت ہے جسے طوبیٰ کہا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے کسی اور چیز کا بھی ذکر فرمایا لیکن مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کیا چیز تھی۔ اس دیہاتی نے کہا: ہمارے علاقہ کے کس درخت کے مشابہ ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے علاقے کے کسی درخت کے مشابہ نہیں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم شام گئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ شام کے ایک درخت کے مشابہ ہے جس کو اخروٹ کہاجاتا ہے۔ ایک تنے پر اُگتا ہے اور اس کی اوپر والی شاخیں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ پھر اس دیہاتی نے کہا: گچھا کتنا بڑا ہوگا؟ حضورﷺ نے فرمایا: سیاہ سفید داغوں والا کو ّا بغیر رُکے ایک مہینہ مسلسل اڑکر جتنا فاصلہ طے کر تا ہے وہ گچھا اس فاصلے کے برابر ہو گا۔ پھر اس دیہاتی نے کہا: اس درخت کی جڑ کتنی موٹی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: تمہارے گھر والوں کے اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ چلنا شروع کرے اور چلتے چلتے بوڑھا ہوجائے اور بوڑھا ہونے کی وجہ سے اس کی ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر بھی وہ اس کی جڑ کا ایک چکر نہیں لگا سکے گا۔ پھر اس دیہاتی نے پوچھا: کیا جنت میں انگور ہوںگے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے پوچھا: انگور کا دانہ کتنا بڑ ا ہو گا؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تیرے باپ نے کبھی اپنی بکریوں میں سے بڑ ا بکرا ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی کیاہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: پھر اس نے اس کی کھال اتار کر تیری ماں کو دے دی ہو اور اس سے کہا ہو کہ اس کھال کا ہمارے لیے ڈول بنا دے۔ اس دیہاتی نے کہا:جی ہاں (حضورﷺ نے فرمایا: وہ دانہ اس ڈول کے برابر ہوگا)۔ پھر دیہاتی نے کہا:(جب وہ دانہ ڈول کے برابر ہوگا) تو پھر ایک دانے سے میرا اور میرے گھر والوں کا پیٹ بھر جائے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، بلکہ تیرے سارے خاندان کا پیٹ بھر جائے گا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حبشہ کا ایک آدمی حضورﷺ کے پاس آیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جو چاہو پوچھو۔ ا س نے کہا: یارسول اللہ! آپ کو شکل وصورت، رنگ اور نبوت کی وجہ سے ہم پر فضیلت حاصل ہے، ذرا یہ بتائیں کہ اگر میں ان چیزوں پر ایمان لے آؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور وہ تمام عمل کروں جو آپ کر رہے ہیں، تو کیا میں بھی جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: بالکل ضرور، اس ذات کی قسم کے قبضہ میں میری جان ہے! کالے حبشی کی سفیدی جنت میں ہزار سال کی مسافت سے نظر آئے گی۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: جو آدمی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے۔ اور جو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کہے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاک ہوںگے؟ حضورﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی اتنے اعمال لے کر آئے گا کہ اگر وہ اعمال کسی پہاڑ پر رکھ دیے جائیں تو پہاڑ کو بھاری لگنے لگیں۔ پھر ان اعمال کے مقابلہ میں اللہ کی نعمتیں آئیں گی اور وہ ان سارے اعمال کو ختم کرنے کے قریب ہوںگی۔ البتہ اگر اللہ اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے تو اس کے اعمال بچ سکیں گے۔ اور جب یہ سورت {ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھرِ} سے لے کر {مُلْکًا کَبِیْراًآیت کا نشان} تک2 بے شک انسان پر زمانہ میں ایک وقت ایسا بھی آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابلِ تذکرہ نہ تھا (یعنی انسان نہ تھا بلکہ نطفہ تھا)۔ نازل ہوئی تو اس حبشی نے کہا:میری آنکھیں بھی وہ سب کچھ جنت میںدیکھیں گی جو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر (خوشی کے مارے) وہ رونے لگا اور اتنا رویا کہ اس کی جان نکل گئی۔ حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ اپنے ہاتھ سے اسے قبر میں اتاررہے تھے۔ 1 حضرت عبداللہ بن وہب کہتے ہیںکہ حضرت ابنِ زید ؓ نے ہمیں بتایا کہ جب حضور ﷺ پر {ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ} والی سورت نازل ہوئی تو اس وقت آپ کے پاس ایک کالا آدمی بیٹھا ہواتھا۔ حضورﷺ نے یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ جب حضور ﷺ اس سورت میں جنت کی نعمتوں کے ذکر پر پہنچے تو اس نے ایک لمبا سانس زور سے لیا اور اس کی جان نکل گئی۔ حضورﷺ نے فرمایا: جنت کے شوق نے تمہارے ساتھی اور بھائی کی جان لے لی۔2 حضرت ابو مطر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓکو فرماتے ہوئے سناکہ جب حضرت عمر بن خطّابؓکو ابو لؤلؤ نے زخمی کیا تو میں ان کے پاس گیا وہ رو رہے تھے۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کیوں رورہے ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں آسمان کے فیصلے کی وجہ سے رورہا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ مجھے جنت میں لے جایا جائے گا یا جہنم میں؟ میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی بشارت ہو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو بے شمار دفعہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابوبکر وعمر جنت کے بڑی عمر کے لوگوں کے سردار ہیں اور دونوں بہت عمدہ آدمی ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے علی! کیا تم میرے جنتی ہونے کے گواہ ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اور اے حسن! تم اپنے باپ کے گواہ رہنا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ عمر جنت والوں میں سے ہے۔3 حضرت عمرؓکے زُہد کے باب میں گزرچکا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک ضیافت کے موقع پر فرمایا کہ ہمیں تو یہ کھانا مل گیا، لیکن وہ مسلمان فُقرا جن کا اس حال میں انتقال ہو اکہ ان کو پیٹ بھر جَو کی روٹی بھی نہ ملتی تھی ان کو کیا ملے گا؟ حضرت عمر بن ولید نے کہا: انھیں جنت ملے گی۔ یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور فرمایا:اگر ہمارے حصہ میں دنیا کا یہ مال ومتاع ہے اور وہ جنت لے جائیں، تو وہ ہم سے بہت آگے نکل گئے اور بڑی فضیلت حاصل کر لی۔ 1 حضرت مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ جب میرے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ) کی جان نکل رہی تھی، ان کا سر میری گود میں تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: اے میرے بیٹے! کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: آپ کے مقام کی وجہ سے اور آپ کو مرتے ہوئے دیکھ کر رورہا ہوں۔ میرے والد نے مجھے کہا: مت روئیں ،کیوںکہ اللہ تعالیٰ مجھے کبھی عذاب نہیں دیںگے اور میں یقیناً جنت والوں میں سے ہوں۔ اور مؤمن بندے جب تک اللہ کے لیے عمل کریں گے اللہ ان کی نیکیوں کا بدلہ دے گا اور کفار کی نیکیوں کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ اور مؤمنین کے وہ عمل جو انھوں نے اللہ کے لیے کیے تھے جب وہ ختم ہوجائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: جس کے لیے عمل کیا تھا ہر ایک اس کا ثواب بھی اسی سے لے لے۔2 حضرت ابنِ شماسہ َمہری کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمرو بن عاص ؓکی خدمت میں گئے اور ان کی جان نکل رہی تھی۔ انھوں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیرلیا اور کافی دیر تک روتے رہے۔ان کا بیٹا انھیں کہتا رہا: آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا آپ کو حضورﷺ نے یہ اور یہ بشارت نہیں دی؟ لیکن وہ دیوار کی طرف منہ کر کے روتے رہے۔ پھر ہماری طرف منہ کر کے فرمایا: تم جو میرے فضائل شمار کر رہے ہو، ان سب سے افضل تو کلمہ ٔ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِہے، لیکن میری زندگی کے تین دور ہیں: پہلا دور تو وہ ہے کہ مجھے اس زمانے میں حضورﷺ سے زیادہ مبغوض کوئی نہیں تھا، اور حضورﷺ پر قابوپاکر قتل کردینے سے زیادہ محبوب اور کوئی کام نہیں تھا۔ اگر میں اس حال میں مرجاتا تو میں جہنم والوں میں سے ہوتا۔ پھر اللہ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت ڈال دی اور میں بیعت ہو نے کے لیے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ سے بیعت ہوجاؤں۔ حضورﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھا دیا، میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عمرو! تمھیں کیا ہو ا؟ میں نے کہا: میں کچھ شرط لگانا چاہتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ شرط لگا نا چاہتاہوں کہ میری مغفرت ہو جائے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام اپنے سے پہلے کے گناہوں کو مٹادیتا ہے اور ہجرت کرنے سے بھی پہلے کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور حج کرنے سے بھی پہلے کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ اور پھر میرا یہ حال ہوگیا کہ حضورﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں تھا، اور میری نگاہ میں حضورﷺ سے زیادہ اور کوئی عظمت والا نہیں تھا۔ اگر کوئی مجھ سے کہتا کہ حضورﷺ کا حلیہ بیان کرو تو میں بیان نہیں کر سکتا تھا، کیوںکہ میں حضورﷺ کی عظمت اور ہیبت کی وجہ سے آپ کو آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتاتھا۔ اگر میں اس حالت پر مر تا تو مجھے یقین تھا کہ میں جنت والوں میں سے ہوتا۔ اس کے بعد ہمیں بہت سے کام کرنے پڑ ے، اب مجھے معلوم نہیں کہ ان کاموں کے کرنے کے بعد اب میرا کیا حال ہوگا؟ لہٰذا جب میں مرجاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی عورت جائے اور نہ آگ۔ اور جب تم مجھے دفن کر لو تو میرے اوپر اچھی طرح مٹی ڈالنا اور دفن کر کے میری قبر کے پاس اتنی دیر ٹھہر ے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔ تم لوگوں کے قریب ہونے سے مجھے انس رہے گا، یہاں تک کہ مجھے پتا چل جائے گا کہ میں اپنے ربّ کے قاصدوں کے سوالوں کا کیا جواب دیتا ہوں۔1 حضرت عبد الرحمن بن شَماسہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمرو بن عاص ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے۔ ان سے ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ موت سے گھبر ارہے ہیں؟ حضرت عمروؓ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! نہیں۔ (موت کی وجہ سے نہیں رورہاہوں) بلکہ موت کے بعد جو حالات آنے والے ہیں ان کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ حضرت عبد اللہ ؓنے ان سے کہا: آپ نے تو خیر کا زمانہ گزارا ہے۔ پھر حضرت عبد اللہ ؓ انھیں یاد کرانے لگے کہ آپ حضورﷺ کے ساتھ رہے ہیں، آ پ نے شام میں بڑی فتوحات حاصل کی ہیں۔ حضرت عمرو ؓ نے فرمایا: تم نے ان سب سے افضل چیز کو توچھوڑ دیا اور وہ ہے کلمۂ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ۔پھر آگے حدیث کو مختصر ذکرکیا اور اس کے آخر میں یہ مضمون ہے کہ جب میں مرجاؤں تو کوئی عورت مجھ پر بَین نہ کر ے اور نہ کوئی تعریف کرنے والا میرے جنازے کے ساتھ جائے اور نہ (جاہلیت کے دستور کے مطابق) میرے جنازے کے ساتھ آگ ہو۔ اب میری لنگی اچھی طرح مضبو طی سے باندھ دو،کیوںکہ (جان نکالتے وقت) فرشتے مجھ سے جھگڑ ا کریں گے (تو کہیں اس حالت میں ستر نہ کھل جائے)۔ اور میرے اوپر دونوں طرف اچھی طرح مٹی ڈالنا، کیوںکہ میرا دایاں پہلو بائیں پہلو سے زیادہ مٹی کا حق دار نہیں ہے۔ اور میری قبر میں کوئی لکڑی اور پتھر استعمال نہ کرنا (تاکہ قبر شان دار نہ بنے) ۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت عمرو ؓ نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا اور کہنے لگے: اے اللہ! تُو نے ہمیں بہت سے حکم دیے، لیکن ہم نے تیری نافرمانی کی اور وہ حکم پورے نہ کیے۔ اور تو نے ہمیں بہت سے کاموں سے روکا لیکن ہم نہ رکے۔ اس لیے ہماری نجات کی بس ایک ہی صور ت ہے تو ہمیں معاف کردے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انھوں نے اپنا ہاتھ اپنے گلے پر اس طرح رکھا جیسے کہ گلے میں طوق ڈالا جاتا ہے، پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا: اے اللہ! میں طاقت وربھی نہیں کہ بدلہ لے سکوں،اور نہ بے قصور ہوں کہ عذر پیش کرسکوں، اور نہ ہی مجھے اپنی غلطیوں اور گناہوں سے انکار ہے، بلکہ میں تو اِستغفار کرتا ہوں: لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ۔وہ یہ کلمات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ اور ابنِ سعد کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر حضرت عمرو ؓ نے کہا:اے اللہ! تو نے ہمیں بہت سے حکم دیے جنھیں ہم نے پورا نہ کیا۔ اور تو نے ہمیں برے کاموں سے روکا لیکن ہم نے اپنے آپ کو ضائع کر دیا۔ نہ تو میں بے قصور ہوں کہ عذرپیش کروں اور نہ ایسا زور دار ہو ں کہ بدلہ لے سکوں لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، انتقال تک ان ہی کلمات کودہراتے رہے۔2 ’’نصرت‘‘ کے باب میں گزرچکاہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار سے فرمایا: تمہارے اوپر جو ہماری نصرت کا حق تھا وہ تم نے پورا پورا ادا کردیا۔ اب اگر تم چاہو تو یوں کرلو کہ اپنا خیبر کا حصہ خوشی خوشی مہاجرین کو دے دو اور (مدینہ کے باغات کے) سارے پھل خود رکھ لیا کرو (اور مہاجرین کو اب ان میں سے کچھ نہ دیا کرو۔ یوں مدینہ کا ساراپھل تمہارا اور خیبر کا سارا پھل مہاجرین کا ہوجائے گا)۔ انصار نے کہا: (ہمیں منظور ہے) آپ نے ہمارے ذمہ اپنے کئی کام لگائے تھے وہ ہم نے سارے کردیے، اب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری چیز ہمیں مل جائے۔ حضو ر ﷺ نے فرمایا: وہ جنت تمھیں ضرور ملے گی۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے۔ اور’’ جہاد‘‘ کے باب میں یہ گزرچکاہے کہ بدر کے دن حضورﷺ نے لڑنے کے لیے اُبھارا تو حضرت عمیرؓ نے کہا: واہ واہ! کیا میرے اور جنت میں داخل ہونے کے درمیان صرف یہی چیز حائل ہے کہ یہ (کافر) لوگ مجھے قتل کردیں؟ یہ کہہ کر کھجور یں ہاتھ سے پھینک دیں اور تلوار لے کر کافروں سے لڑ نا شروع کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم واہ واہ کیوں کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: یارسول اللہ! اللہ کی قسم! صرف اس اُمید پر کہہ رہا ہوں کہ میں بھی جنت والوں میں سے ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا: تم جنت والوں سے ہو۔ پھر وہ اپنی جھولی میں سے کھجور یں نکال کر کھانے لگے۔ پھر کہنے لگے: ان کھجوروں کے کھانے تک میں زندہ رہوں یہ تو بڑی لمبی زندگی ہے۔ یہ کہہ کر ان کھجوروں کو پھینک دیا اور شہید ہونے تک کافروں سے لڑتے رہے۔ اس حدیث کو امام احمد وغیر ہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور ’’جہاد‘‘ کے باب میں ’’زخمی ہونے‘‘ کے عنوان میں یہ گزرچکا ہے کہ حضرت انس بن نَضَرؓ نے کہا: واہ واہ! جنت کی خوش بودار ہوا کیا ہی عمدہ ہے جو مجھے اُحد پہاڑ کے پیچھے سے آرہی ہے۔ پھر انھوں نے کافروں سے جنگ شروع کردی یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ اور’’ صحابۂ کرام ؓ کے اللہ کے راستے میں شہید ہونے کے شوق‘‘ میں یہ گزرچکا ہے کہ جب حضرت سعد بن خیثمہؓ سے ان کے والد نے کہا: اب ہم دونوں میں سے ایک کا یہاں رہنا ضروری ہوگیاہے۔ تو حضرت سعد ؓ نے کہا: اگر جنت کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتی تو میں (حضورﷺ کے ساتھ جانے میں) آپ کو اپنے سے آگے رکھتا۔ میں اپنے اس سفر میں شہادت کی اُمید لگائے ہوئے ہوں۔ اور حضرت سعد بن ربیعؓکا قصہ بھی گزرچکا ہے کہ جب حضرت زید بن ثابتؓ نے ان سے کہا کہ اللہ کے رسول تمھیں سلام کہتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ تم اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو؟ تو حضرت سعد ؓ نے ان سے کہا: تم حضورﷺ سے کہہ دینا کہ یا رسول اللہ! میر ا حال یہ ہے کہ میں جنت کی خوش بو پارہا ہوں۔ اور یہ بھی گزرچکاہے کہ غزوۂ بیر َمعُونہ کے دن حضرت حرام بن مِلْحانؓ نے کہا تھا کہ ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ یعنی جنت ملنے کی کامیابی مل گئی۔ اور ’’حضرت عمار بن یاسرؓ کی بہادری‘‘ کے عنوان میں یہ گزرچکا کہ حضرت عمارؓ نے کہا: اے ہاشم! آگے بڑھو، جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے اور موت نیزوں کے کناروں میں ہے۔ جنت کے دروازے کھولے جاچکے ہیں اور بڑی آنکھوں والی حوریں آراستہ ہو چکی ہیں۔ آج میں اپنے محبوب دوستوں حضرت محمد ﷺ اور اُن کی جماعت سے ملوں گا۔ پھر حضرت عمار اور ہاشمؓ دونوں نے زوردار حملہ کیا اور دونوں شہید ہوگئے۔ اور ’’حضرت عمار ؓ کی بہادری‘‘ کے عنوان میں یہ بھی گزرچکا ہے کہ حضرت عمارؓ نے کہا: اے مسلمانو! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں۔ کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، میری طرف آؤ۔ اور ’’امارت قبول کرنے سے انکار کرنے‘‘ کے باب میں یہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا کہ اس سے پہلے کبھی میرے دل میں دنیا کا خیال نہیں آیا تھا۔ میں نے سوچا کہ ان سے جاکر یہ کہوں کہ اس خلافت کی اُمیدوطمع وہ کر رہا ہے جس نے آپ کو اور آپ کے باپ کو اسلام کی وجہ سے مارا تھا، اور (مارمارکر) تم دونوں کو اسلام میں داخل کیا تھا (اس سے حضرت ابنِ عمر ؓ اپنی ذات مراد لے رہے ہیں)، لیکن پھر مجھے جنتیں اور نعمتیں یاد آگئیں تو میں نے ان سے یہ بات کہنے کا ارادہ چھوڑدیا۔ حضرت ابنِ عمرؓ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب دَومۃُ الجندل میں حضرت معاویہؓ نے کہا: کون خلافت کی طمع اور اُمیدرکھتا ہے؟ اور حضرت سعید بن عامرؓ کاقصہ پہلے گزرچکاہے کہ جب انھوں نے صدقہ کیا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کے گھروالوں کا آپ پر حق ہے، آپ کے سسرال والوں کا بھی آپ پر حق ہے۔ تو حضرت سعیدؓ نے کہا: میں نے ان کے حقوق کی ادائیگی میں کبھی کسی کو ان پر ترجیح نہیں دی۔ میں موٹی آنکھوں والی حوریں حاصل کرنا چاہتاہوں، تو اس لیے میں کسی بھی انسان کو اس طرح خوش نہیں کرناچاہتا کہ اس سے حوروں کے ملنے میں کمی آئے یاوہ نہ مل سکیں۔ کیوںکہ اگر جنت کی ایک بھی حور آسمان سے جھانک لے تو اس کی وجہ سے ساری زمین ایسے چمکنے لگے گی جیسے سورج چمکتا ہے۔ دوسری روایت میں یہ آیا ہے کہ حضرت سعیدؓ نے اپنی بیوی سے کہا: ایسے ہی آرام سے بیٹھی رہو، میرے کچھ ساتھی تھے جو تھوڑا عرصہ پہلے مجھ سے جدا ہوگئے (ا س دنیا سے چلے گئے)۔اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے توبھی مجھے ان کا راستہ چھوڑنا پسند نہیں ہے۔ اگر جنت کی خوب صورت حوروں میں سے ایک حور آسمانِ دنیا سے جھانک لے تو ساری زمین اس کے نور سے روشن ہوجائے اور اس کے چہرے کا نور چاند سورج کی روشنی پر غالب آجائے۔ اور جو دوپٹہ اسے پہنایا جاتا ہے وہ دنیا ومافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔ اب میرے لیے یہ تو آسان ہے کہ ان حوروں کی خاطر تجھے چھوڑدوں، لیکن تیری خاطر ان کو نہیں چھوڑ سکتا۔یہ سن کر وہ نرم پڑ گئی اور راضی ہوگئی۔ ’’بیماریوں پر صبر کرنے‘‘ کے باب میں یہ قصہ گزر چکاہے کہ جب حضورﷺ نے ایک انصاری عورت سے یہ فرمایا: تمھیں ان دوباتوں میں سے کو ن سی بات پسند ہے: ایک یہ کہ میں تمہارے لیے دعا کروں اور تمہارا بخار چلا جائے، دوسری یہ کہ تم صبر کرو اور تمہارے لیے جنت واجب ہو جائے؟ تو اس انصاری عورت نے تین دفعہ کہا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں صبر کروں گی۔ اور پھر کہا: میں اللہ کی جنت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔ حضرت ابو الدرداءؓ کا قصہ بھی گزر چکا ہے کہ جب وہ بیمارہوئے تو ان کے ساتھیوں نے ان کو کہا:آپ کیا چاہتے ہیں؟ حضرت ابوالدرداء ؓ نے کہا: میں جنت چاہتا ہوں۔ اور ’’اولاد کے مرنے پر صبر کر نے‘‘ کے باب میں حضرت اُمِّ حارثہ ؓ کا قصہ گزر چکا کہ جب ان کا بیٹا حضرت حارثہؓ بدر کے دن شہید ہوا تو انھوں نے کہا: یارسول اللہ! آپ مجھے بتائیں حارثہ کہاںہے؟ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر وں گی، ورنہ اللہ تعا لیٰ بھی دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں یعنی کتنا نوحہ کرتی ہوں۔ اس وقت تک نوحہ کر نا حرام نہیں ہو اتھا۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت اُمِ حارثہ ؓ نے کہا: یارسول اللہ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں نہ روؤں گی اور نہ غم کا اظہار کروں گی، اور اگر وہ جہنم میں ہے تو میں جب تک دنیا میں زندہ رہو ں گی روتی رہوں گی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمِ حارثہ! وہاں ایک جنت نہیں بلکہ کئی جنتیں ہیں اور (تمہارا بیٹا) حارث (پیارکی وجہ سے حارثہ کی جگہ حارث فرمایا) تو فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔ اس پر وہ ہنستی ہوئی واپس چلی گئیں اور کہہ رہی تھیں: واہ واہ! اے حارث! تیرے کیا کہنے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں جہنم کو یاد کر کے رونے لگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: جہنم کو یاد کر کے رورہی ہوں۔ کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: تین جگہوں پر کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا: ایک تو اعمال کے ترازو کے پاس، جب تک یہ نہ معلوم ہوجائے کہ اس کا ترازو (نیک اعمال کی وجہ سے) ہلکا ہوگا یا (گناہوں کی وجہ سے) بھاری۔ دوسرے اعمال نامے ملنے کے وقت، جسے دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ کہے گا: لو میر ا اعمال نامہ پڑھ لو، یہاں تک کہ اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں آئے گا یا بائیں میںاور (سامنے سے ملے گا) یاپشت کے پیچھے سے۔ تیسرے پلِ صراط کے پاس، جب پلِ صراط جہنم کی پشت پر رکھا جائے گا۔ اس کے دونوں کناروں پر بہت سارے آنکڑے اور کانٹے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہیں گے ان آنکڑوں اور کانٹوں میں پھنسا کرروک لیں گے، یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس سے نجات پاتا ہے یا نہیں۔1 حضرت عبد العزیز بن ابی روّاد کہتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضورﷺ نے یہ آیت پڑھی: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ}1 اے ایمان والوں! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو (دوزخ کی) اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں۔ اس وقت حضورﷺ کے پاس کچھ صحابہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے، اُن میں ایک بڑے میاں بھی تھے۔ بڑے میاں نے کہا: یارسول اللہ! جہنم کے پتھر دنیا کے پتھر جیسے ہوں گے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جہنم کی چٹانوں میں سے ایک چٹان دنیا کے تمام پہاڑوں سے زیادہ بڑی ہے۔ یہ سن کر وہ بڑے میاں بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ حضورﷺ نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ زندہ تھا۔ حضورﷺ نے اسے پکار کر کہا: اے بڑے میا ں! لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھو۔ اس نے کلمہ پڑھا۔ حضورﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی۔ حضورﷺ کے صحابہ نے کہا: یہ بشارت ہم میں سے صرف اسی کے لیے ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِآیت کا نشان}2 یہ ہر اس شخص کے لیے (عام) ہے جو میرے روبرو کھڑا ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔3 حاکم کی ایک روایت میں بڑے میاں کی بجائے ایک نوجوان کے بے ہوش ہوکر گرنے کا ذکر ہے۔ ’’اللہ سے ڈرنے‘‘ کے باب میں یہ قصہ گزر چکا ہے کہ ایک انصاری نوجوان کے دل میں اللہ کا ڈر اتنا زیادہ بیٹھ گیا تھا کہ جب بھی اس کے سامنے جہنم کا ذکر ہو تا تو وہ رونے لگ جاتا اور اس کیفیت کے غلبہ کی وجہ سے وہ ہر وقت گھر ہی رہنے لگا باہر نکلنا چھوڑدیا۔ کسی نے حضور ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ اس کے گھر تشریف لے گئے۔ جب اس نوجوان کی حضورﷺ پر نگاہ پڑی تو وہ کھڑے ہوکر حضورﷺ کے گلے لگ گیا اور اسی حال میں اس کی جان نکل گئی اور وہ مرکر نیچے گر پڑا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی تجہیز وتکفین کرو، جہنم کے ڈر نے اس کے جگر کے ٹکڑے کردیے۔1 اور شدّاد بن اَوسؓ کا قصہ بھی گزرچکا ہے کہ جب وہ بستر پر لیٹتے تو کروٹیں بدلتے رہتے اور ان کو نیند نہ آتی اور یوں فرماتے: اے اللہ! جہنم نے میری نیند اڑادی ہے۔ پھر کھڑے ہوکر نماز شروع کردیتے اورصبح تک اس میں مشغول رہتے۔ اس باب کے کچھ قصے ’’حضورﷺ کے صحابہؓ کے رونے‘‘ کے باب میں گزرچکے ہیں۔ اور ’’غزؤہ مُوتہ کے دن کے واقعات‘‘ میں یہ گزرچکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رونے لگے اور کہنے لگے کہ غور سے سنو! اللہ کی قسم! نہ تو میرے دل میں دنیا کی محبت ہے، اور نہ تم لوگوں سے تعلق اور لگاؤ۔بلکہ میں نے حضورﷺ کو قرآن کی اس آیت کو پڑ ھتے ہوئے سنا جس میں دوزخ کی آگ کا تذکرہ ہے: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا آیت کا نشان}2 اور تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا اس پر سے گزر نہ ہو۔ یہ آپ کے ربّ کے اعتبار سے لازم ہے جو (ضرور) پورا ہوکر رہے گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ اس آگ پر پہنچنے کے بعد واپسی کس طرح ہوگی۔