صحابہ کرام ؓ کا ایمان
اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین
حضرت نِیاربن مکرم اسلمی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
{الٓـمّٓآیت کا نشان غُلِبَتِ الرُّوْمُآیت کا نشان فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنآیت کا نشان فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ}3
الٓـمّ، اہلِ روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عن قریب تین سال سے لے کر نو سال کے اندر اندر غالب آجائیں گے۔
تو اس وقت فارس والے روم والوں پر غالب آئے ہوئے تھے اور مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم والے فارس والوں پر غالب آجائیں، کیوںکہ مسلمان اور روم والے اہلِ کتاب تھے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فر مان ہے:
{وَیَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَآیت کا نشان بِنَصْر ِاللّٰہِط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُط وَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ آیت کا نشان}1
اس روز مسلمان اللہ تعالیٰ کی اس امداد پر خوش ہوںگے۔ وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبردست ہے (اور) رحیم ہے۔
اور قریش چاہتے تھے کہ فارس والے روم والو ں پر غالب رہیں، کیوںکہ قریش اور فارس والے دونوں نہ تو اہلِ کتاب تھے، اور نہ انھیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا یقین تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو حضرت ابو بکرؓمکہ کے مختلف علاقوں میں جاکر بلند آواز سے یہ آیت پڑھنے لگے، تو قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا: یہ آیت ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گی۔ آپ کے حضرت یہ کہتے ہیں کہ روم والے فارس والوں پر تین سے لے کرنو سال کے اندر اندر غالب آجائیں گے، کیا ہم آپ کے ساتھ اس بات پر شرط نہ لگا لیں؟ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: ٹھیک ہے۔ اور یہ شرط لگانے کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ چناںچہ حضرت ابوبکرؓ اور مشرکوں نے شرط لگائی، اور ہارنے پر جو چیز دینی پڑے گی اسے طے کیا۔ اور مشرکوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا: آپ تین سال سے لے کر نو سال تک کی مدت میں سے کتنے سال طے کرتے ہیں؟ آپ ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت طے کردیں، تاکہ اس کے پورا ہونے پر پتا چلے کہ شرط میں کون ہارتا ہے اور کون جیتتا ہے۔ چناںچہ انھوں نے چھ سال متعین کردیے۔ پھر چھ سال گزرنے پر بھی رومی لوگ غلبہ نہ پا سکے تو مشرکین نے حضرت ابوبکرؓکی شرط لگائی ہوئی چیز لے لی۔ پھر جب ساتواں سال شروع ہوا تو روم والے فارس والوں پر غالب آگئے۔ مسلمان حضرت ابوبکرؓ پر چھ سال مقرر کرنے پر اب اعتراض کرنے لگے کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہاتھا کہ تین سال سے نوسال کے اندراندر۔ جب نو سال سے پہلے پہلے روم والوں نے فارس والوں پر غلبہ حاصل کرلیا تو اس پر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔1
حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ جب {الٓـمّٓ آیت کا نشان غُلِبَتِ الرُّوْمُآیت کا نشان فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَآیت کا نشان} نازل ہوئی تو مشرکوں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا:کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ آپ کے حضرت کیا کہہ رہے ہیں؟ یوں کہہ رہے ہیں کہ روم والے فارس والوں پر غالب آجائیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرما یا: میرے حضرت بالکل سچ کہتے ہیں۔ ان مشرکوں نے کہا: کیا آپ ہم سے اس پر شرط لگا نے کو تیار ہیں؟ چناںچہ حضرت ابوبکرؓ نے روم والوں کے غالب آنے کی مدت مقرر کر دی، لیکن وہ مدت گزر گئی اور رومی فارس والوں پر غالب نہ آسکے۔ جب حضورﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے ناگواری کا اظہار فرمایا۔ یہ شرط لگاکر سال مقرر کر دینا حضورﷺ کو پسند نہ آیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا: میں نے اللہ اور اس کے رسول کو سچا سمجھتے ہوئے ایسا کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اب مشرکوں کے پاس جاؤ، اور شرط میں جو چیز مقرر کی ہے اس کی مقدار بھی بڑھا دو اور مدت بھی بڑھا دو۔ چناںچہ حضرت ابوبکرؓ نے جاکر مشرکوں سے کہا: کیا آپ لوگ دوبارہ شرط لگاؤ گے؟ کیوںکہ دوبارہ شرط پہلے سے زیادہ اچھی ہوگی۔ مشرکوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ (چناںچہ دوبارہ جو مدت متعین کی تھی) اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے ہی روم نے فارس پر غلبہ پالیا اور انھوں نے اپنے گھوڑے مدائن میں باندھ دیے اور رُومیہ شہر کی بنیاد رکھی۔ پھر حضرت ابو بکرؓ شرط والا مال لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ یہ حرام مال ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دوسروں کو دے دو۔ 2
حضرت کعب بن عدیؓ فرماتے ہیں کہ میں اہلِ حیرہ کے وفد کے ساتھ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ہم پر اسلام پیش کیا ہم مسلمان ہو گئے اور حیرہ واپس آگئے۔ چند دن گزرے تھے کہ حضورﷺ کی وفات کی خبر آگئی۔ جس سے میرے ساتھی تو شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے: اگر وہ نبی ہوتے تو ان کا انتقال نہ ہوتا۔ میں نے کہا:نہیں،ان سے پہلے اور اَنبیاکا بھی تو انتقال ہوچکا ہے۔ میں اسلام پر پکارہا۔ پھر میں مدینہ کے ارادے سے چل پڑا۔ راستے میں میرا گزر ایک راہب کے پاس سے ہوا۔ ہم اس سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ میںنے جاکر اسے کہا: جس کام کا میں نے ارادہ کیا ہے اس کے بارے میں بتاؤ، اس بارے میں میرے دل میں کچھ کھٹک سی ہے۔ اس راہب نے کہا: اپنے نام کی کوئی چیزلاؤ۔ میں ٹخنے کی ہڈی لایا۔ (عربی میں ٹخنے کی ہڈی کو کعب کہتے ہیں اور ان کا نام بھی کعب تھا) اس نے کچھ بال نکالے اور کہا: اس ہڈی کو ان بالوں میں ڈال دو۔ میں نے وہ ہڈی ان بالوں میں ڈال دی تو مجھے حضورﷺ بالکل اسی صورت میں نظر آئے جس میں میں نے آپ کو دیکھا تھا اور مجھے آپ کی موت کا منظر بھی سارا اسی طرح نظر آیا جس طرح ہوا تھا۔ (بظاہر جادو کے زور سے یہ سب کچھ نظر آیا) اس سے میرے ایمان کی بصیرت اور بڑھ گئی۔
میں نے حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ سارا قصہ سنایا اور میں ان کے پاس ٹھہرگیا۔ پھر انھوں نے مجھے (اِسکندریہ کے بادشاہ) مُقَوقِس کے پاس بھیجا۔ وہاں سے واپس آیا تو پھر حضرت عمرنے مجھے مقوقس کے پاس بھیجا اور جنگِ یَرموک کے بعد حضرت عمر ؓ کا خط لے کر مقوقس کے پاس پہنچا۔ مجھے جنگِ یرموک کی اس وقت تک خبر نہیں تھی۔ مقوقس نے کہا:مجھے پتا چلا ہے کہ رومیوں نے عربوں کو قتل کردیا ہے اور انھیں شکست دے دی ہے۔ میں نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس نے کہا:کیوں؟ میں نے کہا: کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان کو تمام دینوں پر غالب کریں گے اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اس پر اس نے کہا: اللہ کہ قسم! عربوں نے رومیوں کو ایسے قتل کیا ہے جیسے قومِ عاد کو قتل کیاگیا تھا اور تمہارے نبیﷺ نے بالکل سچ کہا۔ پھر اس نے مجھ سے بڑے بڑے صحابہ کے بارے میںپوچھا اورمجھے ان کے لیے ہدیے دیے۔ میں نے کہا: اس نبی (ﷺ) کے چچا حضرت عباس ؓ زندہ ہیں، اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اور صلہ رحمی کرو۔ حضرت کعب ؓ کہتے ہیں: میں تجارت وغیرہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا شریک تھا۔ جب حضرت عمر ؓ نے عطایا کا رجسٹر بنایا تو مجھے (اپنے خاندان) بنو عدی بن کعب میںشمار کر کے میرا بھی حصہ مقرر کیا۔1
’’مرتدین سے جنگ کرنے‘‘ کے باب میں حضرت ابوبکر ؓ کا یہ قول گزرچکا ہے کہ اللہ کی قسم! میں اللہ کی بات کو لے کر کھڑا رہوں گا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتارہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو پورا فرمادیں اور اپنے عہد کو ہمارے لیے پورا فرمادیں۔ چناںچہ ہم میں سے جو مارا جائے گا وہ شہید ہو کر جنت میں جائے گا، اور ہم میںسے جو باقی رہے گا وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اللہ کی عبادت کا وارث بن کر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو مضبوط فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ان کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ}2
(اے مجموعۂ اُمّت!) تم میں جولوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں، ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اِتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطافرمائے گا، جیسا کہ ان سے پہلے (اہلِ ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی۔
اور ’’حضرت عمر ؓ کا جہاد اور نفر فی سبیل اللہ کے لیے ترغیب دینے‘‘ کے باب میں ان کا یہ فرمان گزرچکا ہے کہ جو مہاجر ین اللہ کے دین کے لیے ایک دم دوڑ کر آیا کرتے تھے وہ آج اللہ کے وعدے سے کہاں دُور جا پڑے ہیں؟ تم اس سر زمین میں جہاد کے لیے چلو جس کے بارے میں اللہ نے تم سے قرآن میں وعدہ کیا ہے کہ وہ تمھیں اس زمین کا وارث بنائے گا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}1
تاکہ اس کو تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے۔
اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضرور غالب کریںگے اور اپنے مددگار کو عزت دیںگے اور اپنے دین والوں کو تمام قوموں کا وارث بنا ئیں گے۔ اللہ کے نیک بندے کہاں ہیں؟
اور ’’جہاد کے لیے ترغیب دینے‘‘ کے باب میں حضر ت سعدؓ کا یہ قول گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق ہیں اور بادشاہت میں ان کا کوئی شریک نہیں، ان کی کسی بات کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ آیت کا نشان}2
اور ہم (سب آسمانی) کتابوں میں لوحِ محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔
یہ زمین تمہاری میراث ہے اور تمہارے ربّ نے تمھیںیہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور تین سال سے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین کو استعمال کرنے کا موقع دیا ہوا ہے۔ تم خود بھی اس میں سے کھارہے ہو اور دوسروں کو بھی کھلارہے ہو۔ اور یہاں کے رہنے والوں کو قتل کررہے ہو اور ان کا مال سمیٹ رہے ہو۔ اور آج تک ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کررہے ہو۔ غرض یہ کہ گزشتہ تمام جنگوں میں تمہارے ناموروں نے ان کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اب تمہارے سامنے ان کا بہت بڑا لشکر جمع ہوکر آگیا ہے (اس لشکر کی تعداد دولاکھ بتائی جاتی ہے)۔ اور تم عرب کے سردار اور معزز لوگ ہو، اور تم میں سے ہر ایک اپنے قبیلے کا بہترین آدمی ہے، اور تمہارے پیچھے رہ جانے والوں کی عزت تم سے ہی وابستہ ہے۔ اگر تم دنیا کی بے رغبتی اور آخرت کا شوق اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمھیں دنیا اور آخرت دونوں دے دیں گے۔