صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ کا نماز کا انتظار کرنا

حضرت علیؓ فرماتے ہیں: جب مسجد میں نماز کھڑی ہوتی تو حضورﷺ دیکھتے، اگر لوگ تھوڑے ہوتے تو آپ بیٹھ جاتے اور نماز نہ پڑھاتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوگئے ہیں تو نماز پڑھادیتے۔ 3 حضرت عبد اﷲ بن ابی اَوفیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب تک جوتے کی آہٹ سنتے رہتے اس وقت تک انتظار فرماتے رہتے۔4 حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک مرتبہ ایک لشکر تیار کیا اس میں آدھی رات ہوگئی۔ پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لائے اور فرمایا: اور لوگ تو نماز پڑھ کر گھروں کو واپس جاچکے ہیں لیکن تم نماز کا انتظار کررہے ہو۔ غور سے سنو! جب تک تم نماز کا انتظار کروگے اس وقت تک نماز ہی میں شمار ہوگے۔5 حضرت عبداﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے مغرب کی نماز پڑھائی، اس کے بعد کچھ لوگ واپس چلے گئے اور کچھ وہاں مسجد میں ٹھہرے رہے۔ پھر حضور ﷺ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ تمہارے ربّ نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا ہوا ہے اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر فرمارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے بندوں نے ایک فریضہ ادا کرلیا اور دوسرے کا انتظار کررہے ہیں۔1 حضرت ابواُمامہ ثقفیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد حضرت معاویہؓ دوبارہ مسجد میں آئے (ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے) اور لوگوں سے کہا: آپ لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہیں میں ابھی آتا ہوں۔ چناںچہ تھوڑی دیر بعد وہ پھر ہمارے پاس آئے، اس وقت انھوں نے چادر اوڑھ رکھی تھی۔ جب وہ عصر کی نماز پڑھا چکے تو انھوں نے کہا: کیا میںآپ لوگوں کو وہ کام نہ بتاؤںجو خود حضور ﷺ نے کیا ہے؟ ہم نے کہا: جی ضرور بتائیں۔ حضرت معاویہ نے کہا: ایک مرتبہ صحابۂ کرامؓ نے حضور ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد میں بیٹھے رہے۔پھر حضور ﷺ ان کے پاس سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ابھی تک تم لوگ مسجد سے گئے نہیں؟ انھوں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ نے فرمایا: چوںکہ تم نماز کا انتظار کررہے ہو، اس لیے کاش! تم دیکھ لیتے کہ تمہارے ربّ نے آسمان کا ایک دروازہ کھو لا اور پھر تمہاری وجہ سے فخر فرماتے ہوئے اپنے فرشتوں کو تمھیں بیٹھے ہوئے دکھایا۔2 حضرت انسؓفرماتے ہیں کہ ایک رات حضورﷺ نے عِشا کی نماز آدھی رات تک مؤخر فرمائی۔ پھر نماز پڑھانے کے بعد آپ ﷺ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اور لوگ تو نماز پڑھ کر سوچکے ہیں، لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کررہے ہو اس وقت سے تم نماز ہی میں شمار ہورہے ہو۔3 حضرت ابوہریرہؓکی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جب تک نماز کی وجہ سے مسجد میں رکا رہتا ہے اس وقت تک وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے رہتے ہیں: اے اﷲ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اﷲ! اس پر رحم فرما۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ سے کھڑا نہ ہوجائے یا اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔1 ’’مسلم‘‘ اور ’’ابوداود‘‘ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جب تک بندہ اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اس وقت تک وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے رہتے ہیں: اے اﷲ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اﷲ! اس پر رحم فرما۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ واپس نہ چلا جائے یا اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔ کسی نے پوچھا کہ وضو ٹوٹ جانے کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی ہوا آواز کے ساتھ یا بغیر آواز کے خارج ہوجائے۔2 حضرت جابر بن عبداﷲؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتاؤں جن کی وجہ سے اﷲتعالیٰ غلطیوں کو مٹادیتے ہیں اور گناہوں کو ختم کردیتے ہیں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ضرور بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ناگواریوں کے باوجود وضو پورا کرنا اور مسجد وں کی طرف قدم زیادہ اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی ہے دشمن کی سرحد پر پہرہ دینا (یہاں دشمن سے مراد شیطان ہے)۔3 حضرت داود بن صالح کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو سَلَمہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ آیت {اِصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا}4 خود صبر کرو اور مقابلہ میں صبر کرو اور مقابلہ کے لیے مستعد رہو۔ کس بارے میں نازل ہوئی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضورﷺ کے زمانہ میں دشمن کی سرحد پر پہرہ دینے کے لیے کوئی غزوہ نہیں ہوتا تھا(جس میں ہر وقت پہرہ دینے اور مقابلہ کے لیے مستعد رہنا پڑے)، بلکہ دشمن سے مقابلہ کے لیے ہر وقت مستعد رہنے کی صورت یہ تھی کہ ایک نماز کے بعد (مسجد میں بیٹھ کر) دوسری نماز کا انتظار کیا جائے۔1 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ}2 اُن کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ اُس نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جسے عَتَمَہ کہا جاتا ہے، یعنی نمازِ عشا۔3