صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نماز باجماعت کی تاکید اور اس کا اہتمام
حضرت عمر و بن اُمِّ مکتومؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میں نابینا ہوں، میرا گھر دُور ہے اور میرا ہاتھ پکڑ کر لے جانے والا تو ایک آدمی ہے، لیکن اس کا مجھ سے جوڑ نہیں وہ میری بات نہیں مانتا۔ تو کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: پھر اجازت دینے کی گنجایش نہیں۔4
امام احمد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابنِ اُمِ مکتومؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ مسجد تشریف لائے۔ آپ کو نمازیوں کی تعداد میں کچھ کمی نظر آئی توآپ نے فرمایا: میرا ارادہ ہورہا ہے کہ میں مسجد میں نماز باجماعت کے لیے لوگوں کا کسی کو امام بناؤں، اور خود مسجد سے باہر جاؤں اور جو آدمی مجھے نماز باجماعت چھوڑ کر گھر بیٹھا ہوا ملے اس کا گھر جلا دوں۔ اس پر میں نے عرض کیا: میرے اور مسجد کے درمیان کھجو ر کے درخت، اور کچھ اور قسم کے درخت ہیں، اور ہر وقت مجھے لے کر آنے والا ملتا نہیں، کیا میرے لیے اس بات کی گنجایش ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ حضورﷺ نے پوچھا: کیا تم اِقامت کی آواز سنتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر نماز کے لیے مسجد میں آیا کرو۔5
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اﷲ کی بارگاہ میں مسلمان بن کر حاضر ہو، اُسے چاہیے کہ وہ نمازوں کو اُس جگہ ادا کرنے کا اہتمام کرے جہاں اذان ہوتی ہے، یعنی مسجد میں۔ اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے ایسی سنتیں جاری فرمائی ہیں جو سراسر ہدایت ہیں۔ انھیں میں سے یہ جماعت کی نمازیں بھی ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو گے جیسا کہ فلاں شخص پڑھتا ہے، تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑنے والے بن جاؤ گے۔ اور اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑدو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ جو آدمی اچھی طرح وضو کرے اور پھر کسی مسجد کے ارادے سے چلے تو اﷲتعالیٰ ہر قدم پر اس کے لیے ایک نیکی لکھیں گے اور ایک درجہ بلند کریں گے اور ایک گناہ معاف کردیں گے۔ اور ہم تو اپنا یہ حال دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہوتا وہ تو جماعت سے رہ جاتا تھا (ورنہ حضورﷺ کے زمانے میں عام منافق کو بھی جماعت چھوڑنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی)۔ ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے گھسٹتا ہوا جاسکتا تھا وہ بھی لاکر صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا۔
دوسری روایت میں یہ ہے کہ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہوتا یا بیما ر ہوتا وہ تو جماعت سے رہ جاتا، ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے چل سکتا تھا وہ بھی نماز میں آجاتا تھا۔ پھر حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ نے ہمیں ایسی سنتیں سکھائی ہیں جو سراسر ہدایت ہیں۔ ان سنتوں میں سے ایک سنت اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جہاں اذان ہوتی ہو۔1
طیالسی کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے گھر میں نماز کی ایک جگہ بنارکھی ہے جس میں وہ نماز پڑھ رہا ہے۔ اگر تم لوگ مسجدوں کو چھوڑ کر گھروں میں نماز پڑھنے لگ جاؤ گے تو تم اپنے نبیﷺ کی سنت کو چھوڑنے والے ہوجاؤ گے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ وہ کل اﷲ کی بارگاہ میں امن کے ساتھ حاضر ہو وہ ان پانچوں نمازوں کو ایسی جگہ ادا کرے جہاں اذان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ کام ایسی سنتوں میں سے ہے جو سراسر ہدایت ہیں اور اسے تمہارے نبی کریم ﷺ نے سنت قرار دیا ہے۔ اور کوئی یہ نہ کہے کہ میرے گھر میں نماز کی جگہ ہے میںاس میں نماز پڑھا کروں گا، کیوںکہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑنے والے ہوجاؤ گے۔ اور اگر تم اپنے نبی کریم ﷺ کی سنت کو چھوڑدوگے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم اگر کسی کو فجر اور عشا میں مسجد میں نہ پاتے تو اس کے بارے میں ہمیں بدگمانی ہوجاتی۔2
حضرت ابو بکر بن سلیمان بن اَبی حثمہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے ایک دن حضرت سلیمان بن اَبی حثمہؓکو فجر کی نماز میں نہ پایا۔ پھر حضرت عمر ؓ بازار گئے، حضرت سلیمان ؓ کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا۔ حضرت عمر ؓ حضرت سلیمان کی والدہ حضرت شفاءؓ کے پاس سے گذرے تو ان سے فرمایا: آج صبح کی نماز میں میں نے سلیمان کو نہیں دیکھا۔ حضرت شفاءؓ نے کہا کہ وہ رات کو تہجد کی نماز پڑھتے رہے اس لیے صبح ان کی آنکھ لگ گئی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: فجر کی جماعت میں شریک ہونا مجھے ساری رات عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ 3
حضرت ابنِ ابی مُلیکہؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو عدی بن کعب کی حضرت شفاءؓ رمضان میں حضرت عمرؓکی پاس آئیں تو حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے آج میں نے صبح کی نماز میں (تمہارے خاوند) ابو حثمہ کو نہیں دیکھا؟ حضرت شفاءؓ نے کہا: آج رات انھوں نے اﷲ کی عبادت میں بہت زور لگایا جس کی وجہ سے وہ تھگ گئے اور سستی کی وجہ سے فجر کی نماز کے لیے مسجد نہ گئے گھر میں نماز پڑھ کر سو گئے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اﷲ کی قسم! ان کا صبح کی نماز میں شریک ہونا مجھے ساری رات عبادت میں زور لگانے سے زیادہ محبوب ہے۔1
حضرت شفاء بنت عبداﷲؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں حضرت عمر بن خطاب ؓ میرے پاس میرے گھر آئے اور انھوں نے میرے قریب دو مردوں کو سوتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے فرمایا: ان دونوں کو کیا ہوا؟ انھوں نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ میں نے کہا:اے امیر المؤمنین! ان دونوں نے لوگوں کے ساتھ عشا اور تراویح کی نماز پڑھی، اور صبح تک نماز پڑھتے رہے، اور پھر صبح کی نماز پڑھ کر سوگئے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا مجھے ساری رات عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔2
حضرت اُمِ درداءؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت ابودرداء ؓ میرے پاس آئے وہ غصہ میں بھرے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ کو غصہ کیوں آرہا ہے؟ انھوں نے فرمایا: اﷲ کی قسم! مجھے حضرت محمدﷺ کے دین میں سے صرف اسی عمل کا پتا ہے کہ مسلمان اکھٹے ہو کر جماعت سے نماز پڑھتے ہیں (اور اب اس میں سستی شروع ہوگئی ہے)۔3
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ کی عشا کی نماز باجماعت فوت ہوجاتی تو پھر وہ باقی ساری رات عبادت کرتے رہتے۔4
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابنِ عمرؓ کی کوئی نماز باجماعت فوت ہوجاتی تو اگلی نماز تک مسلسل نماز پڑھتے رہتے۔5
حضرت عَنْبَسہ بن اَزہر کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا دستور تھا کہ جب ان میں سے کسی کی شادی ہوتی تو وہ چند دن چھپا رہتا اور فجر کی نماز کے لیے باہر نہ آتا۔ تو حضورﷺ کے صحبت یافتہ صحابی حضرت حارث بن حسانؓ کی شادی ہوئی۔ وہ فجر کی نماز کے لیے گھر سے باہر آئے تو کسی نے ان سے کہا کہ آج رات ہی تو آپ کی رخصتی ہوئی ہے اور آپ نماز باجماعت کے لیے گھر سے باہر آرہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: اﷲ کی قسم! جو عورت مجھے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے سے رو کے وہ بری عورت ہے۔ 1